حق پر شاعری

حق اور سچ پر شاعری

ساری گواہیاں تو مرے حق میں آ گئیں
لیکن مرا بیان ہی میرے خلاف تھا
نفس انبالوی

میں دے رہا ہوں تجھے خود سے اختلاف کا حق
یہ اختلاف کا حق ہے مخالفت کا نہیں
ثناء اللہ ظہیر

یاد تو حق کی تجھے یاد ہے پر یاد رہے
یار دشوار ہے وہ یاد جو ہے یاد کا حق
عبدالرحمان احسان دہلوی

زندہ رہنے کا حق ملے گا اسے
جس میں مرنے کا حوصلہ ہوگا
سرفراز ابد

حق رکھے اس کو سلامت ہند میں
جس سے خوش لگتا ہے ہندوستاں مجھے
شیخ ظہور الدین حاتم

حق پر شاعری

بات حق ہے تو پھر قبول کرو
یہ نہ دیکھو کہ کون کہتا ہے
دواکر راہی

حق ادا کرنا محبت کا بہت دشوار ہے
حال بلبل کا سنا دیکھا ہے پروانے کو ہم
حسرتؔ عظیم آبادی

حق بات سر بزم بھی کہنے میں تأمل
حق بات سر دار کہو سوچتے کیا ہو
واحد پریمی

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا
جون ایلیا

راہ حق میں کھیل جاں بازی ہے او ظاہر پرست
کیا تماشا دار پر منصور نے نٹ کا کیا
ارشد علی خان قلق

حق پر شاعری

حق میں عشاق کے قیامت ہے
کیا کرم کیا عتاب کیا دشنام
سراج اورنگ آبادی

حق بات تو یہ ہے کہ اسی بت کے واسطے
زاہد کوئی ہوا تو کوئی برہمن ہوا
نظام رامپوری

آزادیوں کا حق نہ ادا ہم سے ہو سکا
انجام یہ ہوا کہ گرفتار ہو گئے
ناطقؔ لکھنوی

سمجھا ہے حق کو اپنے ہی جانب ہر ایک شخص
یہ چاند اس کے ساتھ چلا جو جدھر گیا
پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی

گر شیخ عزم منزل حق ہے تو آ ادھر
ہے دل کی راہ سیدھی و کعبے کی راہ کج
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

حق پر شاعری

حق محنت ان غریبوں کا سمجھتے گر امیر
اپنے رہنے کا مکاں دے ڈالتے مزدور کو
منور خان غافل

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
مرزا غالب

انسان تو ہے صورت حق کعبے میں کیا ہے
اے شیخ بھلا کیوں نہ کروں سجدے بتاں کو
جوشش عظیم آبادی

آشنا ہو کر بتوں کے ہو گئے حق آشنا
ہم نے کعبے کی بنا ڈالی ہے بت خانے کے بعد
جلیل مانک پوری

اسی کو جینے کا حق ہے جو اس زمانے میں
ادھر کا لگتا رہے اور ادھر کا ہو جائے
وسیم بریلوی

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں