حقوق نسواں یا معاشرتی اقدار کا جنازہ

تحریر : آفتاب سکندر

, حقوق نسواں یا معاشرتی اقدار کا جنازہ

حیا عورت کا زیور ہے. اوڑھنا بچھونا ہے. اس کی زینت ہے. عورت کی نصرت ہے. اس کی وصفی جبلت ہے. بے حیا عورت کے لئے معافی نسلوں کو بھگتنا پڑے گی. عورت مارچ، فہمنزم کے نام پر عورت کو مظلوم بنانا باعثِ شرمناک ہے. روایات و اقدار کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے. عورت پر ہمارے معاشرے میں ظلم و ستم، جبر نہیں ڈھایا جاتا ہے. ہر معاشرے میں کالی بھیڑیں ہوتی ہیں. جیسے اسلام کے نام پر دہشت گردی کا پرچار کرنے والے مسلمان نہیں یا اسلام کے ترجمان نہیں ہیں اور نہ ہی اسلام کی اصلی شکل ہیں. بالکل اسی طرح پسماندہ علاقوں میں عورت پر ستم ڈھانے والے ہمارے معاشرے کی تمام عورتوں کی عکاسی کرنے والی نہیں ہوسکتیں. آپ لاکھوں ایسے واقعات مل جائیں گے جن میں عورتوں سے بد تہذیبی، بد تمیزی، بد اخلاقی اور تضحیک آمیز سلوک کی وجہ سے مردوں کی پٹائی ہوئی ہوگی. مگر کبھی عورت کی غلطی پر عورت کی پٹائی کی نظیر نہیں ملے گی. مگر اس معاشرے میں عورتوں کو مظلوم ایسے بناکر دکھایا جاتا ہے جیسے ہر گھر میں عورتوں کو الٹا لٹکا کر پٹائی کی جاتی ہے.

یاد رہے کہ عورت کے معاملے میں مرد بہت حساس واقع ہوا ہے. اس کے لئے دل و جان لُٹانے والا اس لئے عورت پر وہ حق جتاتا ہے مگر عمر بھر وہ اس کی خدمت بھی تو کرتا ہے کبھی ماں کے روپ میں اس کے قدموں میں جنت تلاش کرتے ہوئے. کبھی بہن کے روپ میں اس کی حفاظت کرتے ہوئے. کبھی بیوی کے روپ میں اس کو رانی بناتے ہوئے. کبھی بیٹی کی شکل میں رحمت مانتے ہوئے. اس سے زیادہ کیا ہوگا اس کی خدمت میں جو وہ کرے. عورت کو جو حقوق اس معاشرے میں حاصل ہیں کیا اس سے زیادہ مرد کو حاصل ہیں.

عورت کی عزت کی بات کی جاتی ہے اس پر عزت کے معاملے میں روک ٹوک لگائی جاتی ہے اس سے کیا فرق پڑتا ہے. اگر یہ پابندیاں نہ لگائی جائیں تو عورت کی ایک نادانی کتنی ہی مردوں کی رسوائی کا سبب بن سکتی ہے. ایک نادانی ایک باپ کا منہ کالا کر دیتی ہے عمر بھر کے لئے. ایک نادانی بھائی کی عزت تارتار کردیتی ہے. پھر جو مرد ایسی غلیظ لعنت کو اپناتا ہے وہ بھی معاشرے میں تضحیک و تشنیع کی خانقاہ بن جاتا ہے پھر اُس غلیظ کے بدن سے جو پیدا ہوتا ہے وہ بھی عُمر بھر کے لیے رسوائی کو گلے لگوا لیتا ہے ایسے میں انصاف کی نگاہ ڈالی جائے تو مجرم کون ہے جو نسلوں تک رسوائی کا سبب بن سکتی ہے اُس کی حفاظت کے لئے حساس نہیں ہونگے تو پھر عمر بھر شرمسار ہوتے پھریں گے اور اوروں کا منہ بھی کالا کرواتے پھریں گے اس لئے اس کی بہتری کے لئے اس پر قدغن، روک ٹوک لگائی جاتی ہے. باخدا یہ بات لکھ کر رکھ لیجیے کہ بے حیا عورت کو معافی دینے سے نسلوں تک کو ذلیل ہونے پڑے گا. مرد جو ہے وہ ہوس پرست ہوتا ہے اپنی ہوس بجھانے کے لئے کمینگی کی انتہا تک کو گرجاتا ہے ایسے نہیں ہے کہ مرد میں برائی نہیں پائی جاتی ہے. بالکل برائی پائی جاتی ہے مگر اس کا یہ حل قطعاً نہیں ہے کہ عورت کے حقوق کے نام پر پروپیگنڈے کیے جاتے رہیں. یہ پروپیگنڈے عورت سے اس کی آزادی چھیننے کے ہیں اور ایسے ہی غلیظ ہوست مردوں کا نشانہ بنانے کے ہیں. ان پراپیگنڈوں اور ہتھکنڈوں سے نپٹنا اشد ضروری ہے اور اس کے لئے ہر حد تک جانا ہوگا.

وگرنہ دیر ہوجائے گی اور یوں آزادی نسواں کے نام پر دوسرے عزائم نکالے جائیں گے اور معاشرتی اقدار کا جنازہ نکال دیا جائے گا.

سعادت حسن منٹو ایک شرابی تھا ایسا نہیں ہے کہ وہ لکھاری اچھا نہیں تھا وہ لکھاری بہت اعلیٰ پائے کا تھا مگر ایک شرابی جس نے عمر بھر دوست احباب کے پیسوں سے شراب نوشی کی ہو اور بیٹی کے پیسوں سے بھی شرابی کی علت پوری کی ہو. عورت کو وہ کونسا مقام دے گا وہی ناں جو بے بس عورت کو دیا جانا چاہیے. اس کو طوائف تو قابلِ رحم نظر آتی رہے گی مگر خود کی بیٹی خود کی بے حسی کی وجہ سے مرتی نظر نہیں آتی ہوگی. جو شخص بیٹی کی دوائی کے پیسے بھی شراب نوشی میں اڑانے والا تھا وہ عورت کے حقوق کس منہ سے بیان کرنے کے قابل ہوگا.

دوسری طرف نظر دوڑائی جائے تو خلیل الرحمٰن قمر کی بات ہے جس نے محض تین سال کی قلیل مدت میں ستر کروڑ کماکر اپنی فیملی کو دیے خود فیصلہ کیجئے ایسا شخص عورت کے حقوق کا علمبردار ہوگا یا وہ جو بیٹی کی دوا کے پیسے بھی شراب نوشی میں اڑا دیتا ہوں.

منٹو کا دور اور تھا آج کا دور اور ہے آج کے دور میں عورت ٹک ٹاک سٹار کے روپ میں وفاقی وزراء کو دھمکاتی پھرتی ہے. ماڈل کے رنگ میں منی لانڈرنگ کرتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑا کر پوری عوام کے منہ پر تماچہ رسید کرتے ہوئے اپنی نصرت کا اعلان کرتی ہے.

شیئر کریں

کمنٹ کریں