غزل

شاعر : حسن نوید

, غزل

میرا دیرینہ مسئلہ حل کر
ھجر آ کر مجھے مکمل کر


پیٹ خالی ہے میری آنکھوں کا
دید کے رزق کو مسلسل کر


میرے ویران گھر کو رونق بخش
تھوہر قسمت کو میری صندل کر


روشنی من میں یوں نہیں ہوتی
جانا پڑتا ہے خود تلک جل کر


حوصلہ خود کو دینا پڑتا ہے
پاگلا__! اپنے مسئلے حل کر


حوصلہ پر ہے اُڑنے کے واسطے
بے دلی راستہ نہ دلدل کر


بے بسی بے وجہ ستا نہ ہمیں
حوصلہ دے، نہ مجھ کو پاگل کر


اپنا لاشہ اٹھائے کاندھے پر
تھک گیا ہوں حسن میں چل چل کر

شیئر کریں

کمنٹ کریں