ہشت پہلو زندگی

مضمون نگار : محمد عباس

ہشت پہلو زندگی

Tomasi Di Lampedusaکا اکلوتا ناول”The Leopard” پہلی دفعہ1957ء میں اٹالین زبان میں شائع ہوا۔ اس کے علاوہ Lampedusaکا ایک افسانہ ہے جو مکمل صورت میں ملتا ہے۔ مصنف کو اپنی زندگی میں ،باوجود کئی پبلشرز سے رابطہ کے، اس ناول کی مطبوعہ صورت دیکھنی نصیب نہیں ہوئی تھی۔ جب وہ بسترِ مرگ پر تھا، تب بھی اسے کسی پبلشر کی طرف سے نامنظوری کا خط وصول ہوا تھا۔ اس کی وفات کے بعد اس کے ایک دوست نے ناول شائع کروادیا۔ چھپنے کے بعد یہ ناول بہت زیادہ مشہور ہوا۔ پہلے چار مہینوں میں 52ایڈیشن فروخت ہو گئے تھے۔گو کہ اس ناول کی پذیرائی کے حوالے سے ناقدین میں کافی اختلاف رہا؛ اسے دائیں بازو کا رجعت پسند بیانیہ قرار دیا گیاجو جاگیرداری اقدار کے چہرے پہ غازہ تھوپتا ہے، اسے ترقی کے عمل کا انکار اور مایوسی کا اشتہار بھی کہا گیا جب کہ کسی نے اسے Lampedusaکی اپنے ہی اشرافیہ طبقے کے خلاف بے رحم اور ’’بائیں بازو‘‘ کی تنقید کہالیکن اس سب کے باوجود اس کی عوامی پذیرائی میں کوئی فرق نہیں آیا۔آج بھی اٹلی اور خاص طور پر سسلی میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والاناول یہی ہے۔


ناول کے واقعات کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب نیپلز اور سسلی کی بوربن ریاست ختم ہونے والی تھی۔ شاہ فرڈیننڈ کچھ مدت پہلے فوت ہوا ہے اور تمام اٹالین جزیرہ نما رومن سلطنت کے خاتمے کے بعد سے اب تک پہلی دفعہ ایک واحد ریاست کے طور پر اکٹھا ہونے والا ہے۔Risorgimentoیعنی Italian Reunification Movementطاقت پکڑ رہی ہے اور اس کی نظریں تمام اٹلی کو متحد کرنے پر ہیں ۔1860ء میں نامورجنرل Garibaldiاپنے ایک ہزار رضا کار سپاہیوں کے ساتھ Marsalaکے مقام پر اترا تا کہ اسے بوربن لوگوں سے آزاد کرا سکے۔تین ہفتوں میں اس نے دارالسلطنتPalermoفتح کر لیا۔ پھر اس نے مزید رضاکار بھرتی کیے اور پوری وادی پار کر کے تمام ساحلی علاقے کو زیرکر کے فاتحانہ اندازمیں نیپلزجا پہنچا۔اسی موسمِ خزاں میں بوربن فوج کو Volturnoکے مقام پر شکستِ فاش ہوئی اور Garibaldiنے بادشاہ فرانسس دوم کو Gaetaمیں قیدی بنا لیا۔ پھر جنوبی اٹلی کا یہ علاقہ بادشاہ وکٹر عمانوئیل کے حوالے کر دیا گیا۔اس کے بعد شوریٰ منعقد ہوئی اور جزیرہ نما کی ہر ریاست نے متحدہ ریاست میں شمولیت کا عندیہ دیا، صرف روم کی Papalریاست نے انکار کیا، اسے طاقت کے بل پر ساتھ ملانے کے لیے Garibaldiنے حملہ کیا لیکن اس کے زخمی ہونے پر Risorgimentoنے حکمتِ عملی سے کام لیا اور روم کو اٹلی کا دارالحکومت بنا کر معاملے کو نپٹا دیا۔


ناول کی تعمیر میں ناول نگار نے بہت سے کردار اور واقعات حقیقی استعمال کیے ہیں ۔کافی ایک کرداروں کی صراحت اس نے اپنے لے پالک بیٹے کے نام خط میں دے رکھی ہے۔ناول کے اس پہلوکا Cesar Antonio Molinaنے اپنے مضمون میں کافی تفصیل سے مطالعہ کیا ہے۔وہ سبھی واقعات کی حقیقت سے پردہ اٹھانے کے بعد یوں گویا ہوتے ہیں :
’’آج اٹالین مصنف کی یادوں کی دنیا میں گھومنے کا بہترین طریقہ اس کا ادب ہے جس میں وہ ہمیں ایسے سفر پر لے جاتا ہے اور ہر اس چیز سے روشناس کراتا ہے جس سے اس کا کلچر، اس کا زمانہ اور اس کی دنیا صورت پذیر ہوتی ہے۔‘‘٭۱


ناول کی کہانی عام کہانیوں کی طرح روایتی بہائو نہیں رکھتی۔واقعات کا دھارا تسلسل کے ساتھ آگے کی طرف نہیں بہتا ۔ آغاز میں ڈان فیبریزیو کا تعارفی باب ہے جس میں ڈان کے تمام گھر کے افراد اور معاملات کارسمی افسانوی انداز میں تعارف ہے۔ڈان خود ایک مضبوط، غیر معمولی حد تک قوی الجثہ آدمی ہے جس کے پاس اجداد سے ملی ہوئی ہزاروں ایکڑ زمین کے ساتھ ساتھ ایک بارعب شخصیت، ناقابلِ شکست اعتماد اور درست قوتِ فیصلہ ہے۔Salinaنام کی ریاست اس پر شاہی عطا ہے اور اس ریاست کا ریاستی نشانThe Leopardہے۔اسے اپنے شجرے پر ناز ہے ۔وہ اپنے خاندانی نام کی عزت رکھنے کو اپنی جدو جہدِزیست کا حاصل سمجھتا ہے۔ اس کی بیوی Maria Stellaبہت ہی پارسا اور حیا دار ہے، یہی وجہ ہے کہ سات بچوں کا باپ بن جانے کے باوجود وہ اپنی بیوی کی ناف تک نہیں دیکھ پایا۔ وہ اپنی بیوی سے پوری طرح مطمئن نہیں ہے اور قریبی قصبے میں اپنی جوانی کا ذائقہ بدلنے کے لیے جاتا رہتا ہے۔ناول کا دوسرا اہم کردار اس کا بھانجا Tancrediہے جس کی ماں مر چکی ہے اور باپ نے ساری جائیداد لٹا دی تھی ۔ بھانجا پھکڑ ہے اور ڈان کی بیوی چاہتی ہے کہ وہ ان کی منجھلی بیٹی Concetaکے ساتھ شادی کر لے۔یہاں یہ بھی بتایا گیا کہ اب جاگیرداری دور ختم ہونے والا ہے اورجنرلGaribaldi بادشاہ کے خلاف مسلح جدوجہد کاآغاز کر چکا ہے۔ڈان پریشان ہوتا بھی نہیں اور اسے یہ ضمانت بھی مل جاتی ہے کہ اس کی ریاست ضبط نہیں کی جائے گی۔ اُس کا اپنا بھانجا اِس تحریک سے متاثر ہو کراس فوج کا کیپٹن بھرتی ہو جاتاہے۔ دوسرے باب میں یہ پورا خاندان ڈونافوگاتا کے علاقے میں اپنی سالانہ چھٹیاں منانے جاتا ہے تووہاں Caregaroنام کے چھوٹے مگر ابھرتے ہوئے زمیندار کی اکلوتی وارث اور نامور حسینہ Angelica کو دیکھ کرTancredi اس پر فدا ہو جاتا ہے اور بعد ازاں اپنے ماموں کے ذریعے اس کارشتہ مانگ لیتا ہے۔ ڈان جو خود اپنی بیٹی اس کے ساتھ بیاہنے کے حق میں تھا، بھانجے کے بہتر مستقبل کے امکانات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کا رشتہ طے کروا دیتا ہے۔پورا گھرانہ اور ڈان کی بیٹی بھی جو کزن سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھی تھی، اس فیصلے کو خندہ پیشانی سے تسلیم کرلیتے ہیں ۔اس کے بعد ناول اپنے انجام کی طرف بڑھناشروع کر دیتا ہے۔فادر پیرون جو خاندانی پادری ہے، اپنے گائوں جاتا ہے تو اس کی زبانی سسلی اور اٹلی کے تمام حالات پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس سے اگلے باب میں ایک ڈانس کے ذریعے (انقلاب کے بعد)پورے خاندان کی مصروفیت اور خوشحالی دکھائی جاتی ہے۔(یہاں ایک باب نا مکمل بھی ہے جو پہلے ایڈیشن میں موجود نہیں تھا لیکن vintage edition 2007میں شامل ہے۔)ساتواں باب ڈان کی موت کے لیے مختص ہے اور آخری باب میں ڈان کی موت کے ستائیس سال بعد اس کی تینوں بیٹیوں کی زندگی کاایک منظر دکھایا گیا ہے۔ اس کہانی میں کوئی ڈرامائی تنائو نہیں ہے، نہ ہی آغاز ، کلائمیکس اور انجام والی کوئی صورت ہے۔کہانی کا مرکز قدیم طرزِ زندگی جو زمیندار اور مزارعین کے باہمی اشتراک پر مبنی ہے، کو سیاسی بیداری، پاپائے مخالف سیکولرزم،اور ابھرتے کاروباری طبقے سے لاحق خطرات پر مبنی ہے۔


عام طور پر کسی بھی ناول کی بنیادی خوبی اس کی کہانی ہوتی ہے۔ فنکارانہ گندھی ہوئی کہانی اور اس میں دلچسپی ناول کو کامیاب بناتے ہیں لیکن اس ناول کی بنیادی خوبی اس کی ساخت ہے۔ اس میں کہانی نام کا کوئی مسلسل عنصر نہیں ہے اور جو ہے، اسے بیان کرنے کے لیے جو طریقہ اپنایا گیا ہے، وہ بالکل انوکھا ہے۔ آٹھ مختلف ابواب میں مختلف واقعات دکھاکر جن میں سے آخری چار(اگر معاملہ صرف کہانی کی سطح تک محدود ہو تو) بلاشبہ ناول سے یک مشت کاٹ کر الگ کیے جا سکتے ہیں ، انہوں نے ایک اجتماعی صورتِ حال کی تصویر کشی میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کامیابی میں ناول کے کرداروں کے ساتھ ان کا ذاتی قلبی تعلق(ڈان فیبریزیو مصنف کے پردادا تھے)بھی کارفرماہے اور ان کاانتہائی اعلیٰ سطح کا ادبی ذوق بھی۔ اس تعلق کی بنا پر وہ جو بھی تصویر بناتے ہیں وہ اپنی جگہ مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے شیڈ ز بھی رکھتی ہے جو اس دور کی سماجی زندگی کا عکس بھرپور طریقے سے پیش کر دیتے ہیں جبکہ ادبی ذوق نے اس بیانیے کو ایک ایسی پیچیدگی عطا کی ہے جو ادبی حسن بھی رکھتی ہے اور تنوع بھی۔اسی لیے اس کی تخلیق کردہ دنیا بہت زندہ اور جاندار نظر آتی ہے۔آٹھ تصویریں ہیں جن کے ذریعے فنکار نے زندگی کو ہشت پہلوی انداز میں دکھا دیا ہے۔ اس ناول کے تخلیقی حسن کے متعلق ایک نقاد نے بہت خوبصورت رائے دی ہے:


ــــــ’’دی لامپے دوسا کا سسلی،وہاں کے کھٹملوں اور دھول کے ساتھ ساتھ فانوسوں اور خانگی گرجائوں کی بھی_ بھئی میں لکھنے کو تھا کہ_یاد دلانے لگتا ہے لیکن یہ سب چیزیں تو وہاں بعینہٖ اسی طرح موجود ہیں جیسے وہ مقام جہاں آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں ۔ رفتار نہ وقت ضائع کرتی ہے نہ عجلت دکھاتی ہے۔ امیجری تخلیقی حد تک کلیشے سے پاک ہے۔‘‘٭۲
ساخت کا حسن ناول کی دلکشی اور پذیرائی میں اضافہ کرتا ہے۔ایسی ہیئت ناول کی دنیا میں کم ہی اپنائی گئی ہے جہاں محض چند تصویروں کی مدد سے ناول مکمل ہو جاتا ہو۔ یہ تصاویر بھی اپنے دورانیے کے حوالے سے منفرد ہیں ۔ من پسند اوقات سے ایک ایک کڑی اٹھا کے اسے تصویر کی شکل میں ہمارے سامنے رکھ دیا گیا۔ان کے دورانیے مندرجہ ذیل ہیں ۔،۱۔مئی 1860ء،۲۔اگست 1860ء ۳۔اکتوبر1860ء، ۴۔نومبر1860ء،۵۔فروری 1861ء،۶۔نومبر1862ء،۷۔ جولائی 1883ء، ۸۔مئی 1910ء۔اور یہ بھی ہے کہ یہاں پورے مہینے کا نہیں ، بلکہ ایک ایک دن کی کارگزاری کا بیان ہے۔ان تصاویر کی سلیکشن میں بھی کوئی خاص ترتیب کارفرما نہیں ہے، بس مصنف کی ذاتی پسند کہی جا سکتی ہے۔البتہ ان من پسند تصویروں کی مدد سے ہی ناول نگار نے کمال طریقے سے ناول کے صفحات میں انیسویں صدی کے نصف آخر میں سسلی کی زندگی کو ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ سسلی جو اٹلی کا حصہ ہے، پڑھتے ہوئے آپ کے سامنے ایسے متحرک ہو جاتا ہے جیسے اپنے ہی کسی مقامی گائوں کا منظر دیکھ رہے ہوں ۔ خاص طور پر وہ منظر جہاں Tancrediاپنی ہونے والی بیویAngelicaکے ساتھ ڈان کی حویلی کے کمرے گھومتا ہے، جو اتنی زیادہ تعداد میں ہیں کہ ہفتوں خفیہ دوروں کے باوجود بھی سب دیکھے نہیں جا سکتے،تو اس کا دوست اور خاندان کے دوسرے لوگ بھی اسے یہ کہنے لگتے ہیں کہ یوں چھپ چھپ کر ملنے میں خاندان کے اونچے نام کو دھبہ لگ جائے گا۔چھٹے باب میں بال کا منظر اپنے مجموعی تاثر اور منظر نگاری کے فن کے حوالے سے یادگار ہے۔ ڈان جاگیرداری معاشرے کی روایات کا امین ہے، بال میں جو ڈانس جاری ہیں ، وہ اس کے ڈھلتے دماغ اور ڈھلتے جسم کے لیے موزوں نہیں ہیں ۔ ڈان تھک کر لائبریری میں بیٹھ جاتا ہے اور موت کے متعلق سوچنے لگتا ہے۔ موت جو اسے اکیس سال کے بعد آتی ہے لیکن یہاں موت کی یاد اصل میں ان جاگیرداری اقدار کے زوال کی نشانی ہے جو ڈان کے لیے مقصدِ حیات تھیں ۔ ڈان نئی اقدار کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا اور نہ انہیں روکنے کا خواہش مند ہے بلکہ ان کے جلوے کے سامنے وہ اپنی شکست تسلیم کر چکا ہے ۔ خود میں اس نئے زمانے کا سامنا کرنے کی ہمت نہ پاتے ہوئے وہ موت کے متعلق سوچتا ہے جو فطری طریقے سے پرانے زمانے کی اس نشانی کو منظر سے ہٹا دے گی۔ایک نقاد نے اس منظر کی وضاحت یوں کی ہے:


’’مختلف طبقے اور نسلیں بال میں ایک دوسرے سے مدغم ہیں ۔ ہم نہ صرف مکالمے اور باطنی خیالات بلکہ لباس، خوراک، آرائش، طرزِ تعمیر اور ہر محسوس چیز کے ذریعے کردار کی باطنی زندگی سے آگاہ ہوتے ہیں ۔ جزئیات نگاری باطن کی عکاس ہیں ۔‘‘٭۳
آخری دو تصاویر میں ڈان کی حقیقی موت اور اس کے خاندان کے زوال کے آخری لمحات کی منظر کشی ہے ۔ چھٹے اور ساتویں باب کے درمیان 19سال کا فرق ہے اور اتنے طویل دورانیے کے بعد پرنس کی موت کے منظر پر جا ٹھہرنا یہ بتاتا ہے کہ 1862میں بال کے دوران ڈان کے اپنی شکست تسلیم کرنے کے بعد اس کی عملی زندگی میں شمولیت ختم ہو چکی تھی سو اس کے متعلق مزید کچھ لکھنا بے معنی تھا۔ صرف اس کے نام پہ خطِ تنسیخ پھیرا گیا اور اس کے بعد زوال کے طویل عمل کو آخری ایک تصویر میں کھینچ دیا گیا لیکن اتنے خوبصورت انداز میں کہ پچھلے 27سال کے دورانیے میں ہونے والے تمام اہم واقعات کاخلاصہ بھی آ جاتا ہے اور Salinaخاندان کے آخری دنوں کی غیر جانبدارانہ تصویر بھی عمدگی سے بن جاتی ہے۔
ناول کا مرکزی کردار ڈان فیبریزیو ہی اس ناول کا حاصل ہے۔ طاقتور،پر غرور، خاندانی پس منظر پہ نازاں اور ہنوز بے تحاشا دولت و جائیداد کا مالک جس کے چوڑے شانوں اور پر غرور سر کو قدیم جاگیرداری اقدار کی پختگی تمکنت بخشتی ہے۔ ذات پات اور حسب نسب کو انسانی نجابت کی بنیاد سمجھتا ہے۔ اس کردار کی خاص بات یہ ہے کہ سیاسی اور سماجی حوالے سے غالب آتی نئی اقدار کی طرف اس کا رویہ بہت ہی مثبت ہے۔ وہ نہ تو گریہ کرتا ہے اور نہ ہی ان نئی اقدار کے بہتے دھارے کے سامنے سینہ سپر ہوتا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ خود وہ ان تبدیلیوں کے ساتھ چل کر ابن الوقتی یا مفاد پرستی کا مظاہرہ بھی نہیں کرتا۔ اس کے برعکس وہ خود تبدیل نہیں ہوتا اور اپنی وضع پر قائم رہتا ہے جب کہ تبدیلی کی نئی قوتوں کا خندہ پیشانی سے خیرمقدم کرتا ہے اور انہیں اپنے قدم جمانے میں مدد بھی دیتا ہے۔ دو فیصلے اس کے کردار کی اس وضع داری پر دال ہیں ۔ ایک وہ جب اپنی بیٹی کے مقابلے میں Angelicaکے ساتھ Tancrediکی شادی کے فیصلے کی توثیق کرتے وقت سوچتا ہے کہ Tancrediآگے چل کر بہت اونچے عہدے پرفائز ہو گا اور وہاں اس کا ساتھ دینے کے لیے اس کی اپنی بیٹی Concetaجیسی پرانی وضع پر کاربند لڑکی کی بجائے نئے انداز کی پروردہ لڑکی زیادہ مناسب ہو گی۔دوسرے جب اس کے پاس سیکرٹری ٹو دی پرفیکٹر Cavaliere Aimone Chevalleyاسے سینیٹر کی سیٹ دینے کے لیے آتا ہے اور ڈان اس کی پیش کش کے جواب میں اسے کہتا ہے کہ وہ اس قابل نہیں ، وہ پرانے انداز سے نظام چلا سکتا ہے، نیا نظام اس کے بس کی بات نہیں ۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اپنی جگہ اپنے سماجی رقیب کانام تجویز کر دیتا ہے کہ اس کے خیال میں وہی اس کام کے لیے مناسب ترین شخص ہے۔اپنی وضع پر چلتے اس آدمی کے وقار کو دیکھ کر فادر پیرونے کا اعلیٰ خاندان کے متعلق قول یاد آ جاتا ہے:


’’غصہ نجابت کی نشانی ہے، شکایات نہیں ۔درحقیقت میں تمہیں ایک ترکیب دے سکتا ہوں ۔ اگر تم ایسے جنٹل مین سے ملو جو جھگڑالو ہو، اس کے شجرہ نسب کو غور سے دیکھو، جلدہی تمہیں کوئی بریدہ شاخ مِل جائے گی۔‘‘٭۴


اس کردار کا رویہ بالکل حقیقت پسندانہ ہے۔سینیٹر بننے کے سوال پر پوری سسلین قوم کا مزاج بھی بتا دیتا ہے اور اسی وضاحت میں اس کے انکار کی وجہ بھی موجود ہے:
’’سسلین کبھی بھی تبدیل نہیں ہونا چاہتے۔ اس کی سادہ سی وجہ ہے کہ وہ خود کو مکمل سمجھتے ہیں ۔ ‘‘پرنس نے ایک ارسٹوکریٹ کو بتایا جو اسے ایک سینیٹر بننے کی ترغیب دے رہا تھا:’’ان کا غرور ، ان کی مصیبتوں سے زیادہ ہے، حتیٰ کہ کسی بھی بیرونی طاقت کی یلغار ان کی حاصل کردہ کاملیت کے التباس کو خراب کر دیتاہے۔‘‘٭۵


یہ کردار ہمارے سامنے اتنے حقیقی انداز میں آتا ہے کہ اس سے محبت ہونے لگتی ہے۔خاص طور پر مرتے وقت اس کی جو سپردگی اور حقیقت پسندی ہے، وہ کسی بھی حساس دل کو چھوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ مثلاً اپنی موت سے پہلے اپنا چہرہ دیکھ کراسے خیال آتا ہے کہ شیو بڑھی ہوئی ہے۔ ہیاں وہ کس طرح حقیقت پسندانہ انداز میں سوچتا ہے:
’’کسی حجام کو بلائو۔‘‘ اس نے فرانسسکو پائولو سے کہا۔ لیکن ساتھ ہی اس نے سوچا:’نہیں ، یہ کھیل کا ایک اصول ہے؛بے شک نفرت انگیز لیکن رسوماتی۔ وہ بعد میں میری شیو کریں گے ۔ ‘ اور اس نے بآوازِ بلند کہا:’’کوئی مسئلہ نہیں ۔ بعد میں کرلیں گے۔‘‘ ایک حجام کے بس میں آئی بے یارو مددگار لاش کے تصور نے اسے ذرا بھی پریشان نہ کیا۔‘‘٭۶


اتنا پرتمکنت آدمی موت کے وقت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ روئے زمین پر اس کا کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ گھر، نہ جائیداد اور نہ ہی دولت۔ وہ خیال کرتا ہے کہ حقیقی معنی میں جو اس کاہے، وہ صرف یہ بوسیدہ جسم ہے جو ڈوبے ہوئے جہازکے باقی ماندہ مسافر کی طرح تختے پر سوار اپنی قسمت کا منتظرہے۔ وہ خود کو ذرا بھی ناگزیر نہیں سمجھتا نہ ہی اس کا خیال ہے کہ اس کے بغیر دنیا کا نظام نہیں چلے گا۔ وہ تو اپنے متعلق یوں سوچتا ہے:
’’وہ خود ایک زود رنج دادا کی موہوم سی یاد بن جائے گا جو جولائی کی ایک دوپہر کو عین ایسے وقت مر گیا کہ لڑکا(Fabrizietto:پوتا) سمندر میں نہانے Livornoبھی نہ جانے پائے ۔ اس نے کہا تھا کہ ’سلینا‘ ہمیشہ ’سلینا‘ رہتے ہیں ۔ وہ غلط کہتا رہا تھا۔ آخری ’سلینا ‘وہ خود تھا۔یہ گیری بالڈی، یہ داڑھی والا Vulcanآخر کار جیت گیا تھا۔‘‘٭۷
“The Leopard”اپنی ان خوبیوں کی بدولت ایک خوبصورت ناول ہے۔ یہ اپنے ماحول، کردار اورتخلیقی حسن کی بدولت افسانوی دنیا میں ہمیشہ ایک یادگار ناول شمار کیا جائے گا اور بالخصوص اٹالین ناول کی روایت میں اس کا نام ایک شاہکار کے طور پر درج رہے گا۔
٭٭٭٭٭

حوالہ جات

  1. “Hence, nowadays, the best way of wandering through the places in the Italian writer’s memory is through his literature, in which he takes us on a journey and helps us to enter into a dialogue with everything that made up his world, his time, his culture. ” Qoute From:Article:”The Places of Giuseppe Tomasi di Lampedusa’s Infancy” by: César Antonio Molina, included in Quaderns de la Mediterrània, P:86
  2. “Di Lampedusa’s Sicily, its bed-bugs and dust as well as its chandeliers and chapels, are – well, I was going to write ‘evoked’, but it’s simply as ‘there’ as the location you are reading this in. The pace never dawdles and never hurries. The imagery is as clichéless as Creation.” Qout From: Article:”A Lyric, Elegiac Lament for a Lost World” By Illard Spiegelman included in “WALL STREETJOURNAL” (HTTP://WWW.WSJ.COM/ARTICLES/SB10001424052748704425804576220902487569990)
  3. “Classes and generations mingle at the ball. We learn about a character’s inner life through dialogue, and interior thoughts, but also through dress, food, décor, architecture and everything else that comes to us through the senses. Physical details reveal the soul.Qout From:Review byDavid Mitchell , published in Daily Telegraph. (http://www.telegraph.co.uk/culture/3649935/Book-choice-The-Leopard.html)
  4. “Rage is gentlemanly; complaints are not. I could give you a recipe, in fact: if you meet a ‘gentleman’ who’s querulous, look up his family tree; you’ll soon find a dead branch.” Qout From: “The Leopard”, Tomasi Di Lampidusa, Translated by: Archibald Colquhoun, Vintage Books, London, 2007. P:152
  5. “The Sicilians never want to improve for the simple reason that they think themselves perfect,” the prince tells a Piedmontese aristocrat who tries to persuade him to become a senator. “Their vanity is stronger than their misery; every invasion by outsiders … upsets their illusion of achieved perfection. Ibid, p:141.
  6. “Call a barber, will you?” he said to Francesco Paolo. But at once he thought, “No. It’s a rule of the game; hateful but formal. They’ll shave me afterward.” And he said out loud, “It doesn’t matter; we’ll think about that later.” The idea of the utter abandon of his corpse, with a barber crouched over it, did not disturb him.” Ibid, P:187
  7. ” And he himself would be merely a memory of a choleric old grandfather who had collapsed one July afternoon just in time to prevent the boy’s going off to Livorno for sea bathing. He had said that the Salinas would always remain the Salinas. He had been wrong. The last Salina was himself. That fellow Garibaldi, that bearded Vulcan, had won after all.” Ibid, p:190
شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں