میں حجاب کیوں پہنوں؟

Why wear Hijab? حجاب کیوں پہنوں

میں شاید کسی “باغی” کے پیش قیاسی تصور میں فٹ نہیں ہوں۔ میرے پاس ٹیٹوز نہیں ہیں اور میں نے اپنے جسم کو بلا وجہ چھیدا نہیں ہے ۔ میرے پاس چمڑے کی جیکٹ نہیں ہے۔دراصل ، جب زیادہ تر لوگ میری طرف دیکھتے ہیں تو ، ان کے تصور میں صدیوں پرانی روایتی عورت ہووتی ہے ۔ کچھ افراد جنہوں نے بہادری دکھاتے ہوئےمجھ سے میرے لباس کے بارے میں یہ سوال کئے :
“کیا آپ کے والدین آپ کو اس نئے زمانے میں بھی یہ لباس پہناتے ہیں؟”
” یا “کیا آپ کو یہ واقعی غیر منصفانہ نہیں لگتا؟

کچھ دیر پہلے مونٹریال میں لڑکیوں کے ایک جوڑے کو ڈریسنگ کی وجہ سے اسکول سے نکال دیا گیا صرف ان کا قصور یہ تھا کہ ان کے لباس مجھ جیسے تھے۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ کپڑے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اس طرح کے تنازعہ کو جنم دے گا۔ شاید خوف یہ ہے کہ میں اپنے اس لباس کی تہ میں اپنی حیا کی حفاظت کر رہی ہوں ۔ یقینا ، یہ معاملہ صرف کپڑے کے ٹکڑے سے زیادہ ہے۔ میں ایک مسلمان عورت ہوں جو پوری دنیا کی لاکھوں دوسری مسلمان خواتین کی طرح حجاب پہننے کو ترجیح دیتی ہیں ۔

میرے خیال سے عام رائے کے برخلاف حجاب کا تصور دراصل خواتین کو بااختیار بنانے کا سب سے بنیادی پہلو ہے ۔جب میں اپنے آپ کو ڈھانپتی ہوں تو ، میں لوگوں کے لئے ان کی نگاہ کے مطابق اپنے جسم کے پیچ و خم کے لئے فیصلہ کرنا عملی طور پر ناممکن بنا دیتی ہوں۔ اپنی جسمانی کشش یا اس کی کمی کی وجہ سے میرے لئے درجہ بندی کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔

آج کے معاشرتی زندگی سے اس بات کا موازنہ کریں: ہم اپنے لباس ، زیورات ، بالوں اور میک اپ کی بنا پر مستقل طور پر ایک ڈمی کی شکل میں تبدیل ہو رہے ہیں ۔ اس طرح کی دنیا میں کس طرح کی گہرائی ہوسکتی ہے؟ ہاں ، میرے پاس ایک جسم ہے ، اس زمین پر جسم ایک مظہر ہے۔ جسم ایک ذہین ذہن اور مضبوط روح کا برتن ہے۔

بیئر سے لے کر کاروں تک سب کچھ بیچنے کے لئے نسوانی خدوخال کا اشتہار لگانا یا اشتہارات میں عورت کے جسم کا استعمال کرنا صحیع نہیں ہے ۔ ان اشتہارات نے ہمیں ایک بازار کی شئے بنا دیا ہے ۔ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں اس کی سطحی زمین کی وجہ سے خاررجی نمائش کی اہمت کچھ بھی نہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ آج کی نئی دنیا خواتین کو پوری آزادی حاصل ہے مگر یہ کیسی آزادی ہے جب ایک عورت اپنے جسم کو نمائشی چئے بنائے بغیر سڑک پہ نہیں چل سکتی ۔

جب میں حجاب پہنتی ہوں تو میں خود کو محفوظ محسوس کرتی ہوں۔ میں یقین دلا سکتی ہوں کہ کوئی بھی میرے اسکرٹ کی لمبائی سے میرے جسم کا اندازہ نہیں لگا سکتا اور نہ میرے لباس سے میرے کردار کے بارے میں قیاس آرائیاں کر رہا ہے۔ میرے اور ان لوگوں کے مابین جو ہمارا استحصال کرتے آ رہے ہیں میرا لباس ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔ میں بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک اہم انسان ہوں اور کسی بھی انسان کی برابری کر سکتی ہوں ، اور اپنی جنسی نوعیت کی وجہ سے کمزور نہیں ہوں۔

ہمارے وقت کی سب سے افسوسناک سچائی خوبصورتی کی دل آویز داستان اور خواتین کی خود نمائی ہے ۔ آپ مشہور رسائل پڑھ کر ،یا سوشل میڈیا پہ سرچ کرکے فوری طور پر معلوم کرسکتے ہیں کہ جسمانی حسن کا پیمانہ کیا ہے کس طرح کا جسمانی حسن بازار میں سکہ رائج الوقت ہے یا چلن سے باہر ہے ۔ اور اگر آپ کا جسمانی حسن اس پیمانے پہ پورا نہین اترتا تو آپ اپنے جسمانی خدوخال کو کس طرح تبدیل کرکے بازار کے مطالبے کے مطابق بنا سکتے ہیں ۔

کوئی بھی اشتہار اٹھا کر دیکھئے کیا عورت کو مصنوعات بیچنے کے لئے استعمال نہیںکیا جارہا ہے؟ اس عورت کی کیا عمر ہے؟ وہ کتنی پرکشش ہے؟ اس نے کیا پہنا ہے؟ اکثر عورتیں 20 سال سے زیادہ عمر کی نہیں ملیں گی ۔ لمبی لمبی ٹانگیں ، پتلی کمر ، ابھرے ہوئے پستان اور برائے نام لباس پہنے ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ خواتین خود کو اس طرح سے منڈی کا حصہ بنانے کی اجازت کیوں دیتے ہیں؟

خواتین کو زبردستی ایک مخصوص سانچے میں ڈھالا جا رہا ہے ۔ ۔ اسے خود کو بیچنے ، سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس 13 سالہ لڑکیاں گلے سے نیچے سر عام چیتھڑے باندھ رہی ہیں اور زیادہ وزن والی یا زیادہ عمر کی خواتین نے اپنے آپ کو پھانسی پر لٹکا دیا ہے۔وہ کیا چاہتی ہے کس طرح جینا چاہتی ہے کیا پہننا چاہتی اس سے دنیا کو مطلب نہیں ہے ۔

جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا مجھے مظلومیت کا احساس ہوتا ہے ، تو میں ایمانداری سے اس بات کو قبول نہیں کر پاتی ہوں کہ میں نے اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کیا۔ مجھے اس حقیقت کا ادراک ہے کہ میری پسند کیا ہے اور کیا جس طرح دوسرے لوگوں نے مجھے سمجھا ہے میں اس پہ پوری اترتی ہوں کہ نہیں۔ میں اس بات سے لطف اندوز ہوتی ہوں کہ میں کسی کو دیکھنے کے لئے کچھ مہیا نہیں کرتی ۔ اور یہ کہ میں نے فیشن انڈسٹری اور خواتین کا استحصال کرنے والے دوسرے اداروں کے جھولتے ہوئے پینڈلم کی غلامی سے خود کو آزاد کروا لیا ہے۔

میں اپنے جسم کی مالک خود ہوں کوئی مجھے نہیں بتا سکتا کہ مجھے کس طرح نظر آنا چاہئے یا میں خوبصورت ہوں یا نہیں۔ میں جانتی ہوں کہ میرے پاس جسم سے بڑھ کر اور بھی بہت کچھ ہے جو میں دنیا کو دکھا سکتی ہوں ۔ جب لوگ مجھ سے سوال کریں تو میں آرام سے “نہیں” کہنے کے قابل ہوں ۔ میں خود کو عورت نہیں ایک عام انسان سمجھتی ہوں ۔ میں نے جنسی تفریق پہ قابو پا لیا ہے ۔ میں شکر گزار ہوں کہ مجھے کبھی وزن کم کرنے یا مناسب جگہوں کےوزن بڑھانے کی کوشش نہیں کرنی پڑی ۔ مجھے اپنے چہرے پہ رنگ و روغن ملنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں پرکشش ہوں تو صرف اپنے لئے ۔ میری ترجیحات اپنا ظاہری حسن بڑھانے کی نہیں ہے ۔۔

تو اگلی بار آپ جب بھی مجھے دیکھیں گے میری طرف ہمدردی سے نہیں دیکھ پائیں گے ۔میں عربی صحراؤں میں وحشت کی شکار یا مردوں کی محکوم نہیں ہوں ۔میں آزاد ہوا ہوں !

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں