اردو صحافت کی موجودہ صورت

اردو صحافت
اردو صحافت

ماضی تابناک ، حال رسوا اور مستقبل تاریک
ہندستان میں اردو صحافت کی موجودہ صورت

مضمون نگار : اشہر ہاشمی

ہندوستان میں اردو صحافت کی حقیقی صورت حال کتنی سنگین ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ بیشتر اخبارات میں خبر رساں ایجنسیوں سے آنے والی خبریں اخبار کے تازہ پن کو بری طرح متاثر کرتی ہیں ۔یہاں تک کہ دو ایک دن پرانی خبریں بھی صفحہ اول پر شان سے چھپی ہوئی ہو تی ہیں ۔ قاری کو اس کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ تازہ ترین صورتحال سے واقف نہیں ہو رہا ہے کیوں کہ تب تک وہ خبر بڑھ چکی ہو تی ہے ۔ چونکہ اخبارات کا بنیادی کام قارئین کو تازہ ترین واقعات سے آگاہ رکھنا ہے اور یہ بنیادی کام خبروں کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے مجروح ہو رہا ہے ۔ اس سنگینی کی طرف اس سے پہلے بھی ارباب حل و عقد کی توجہ مرکوز کرائی گئی ہے لیکن بگاڑ اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ اسے سدھار کے راستے پر لا نے کے لئے جس طرح کی شدید ، مسلسل ، دیانت دارانہ اور نتیجہ خیز کوشش کی ضرورت ہے ،اس کا احساس بھی بہت سے لوگوں کو نہیں ہو رہا ہے ۔

اخبار کی زبان معیاری زبان ہو تی ہے جس میں اس کا لحاظ ضرور رکھا جا تا ہے کہ ایسی ادق اور ثقیل نہ ہو سماج کے کم پڑھے لکھے طبقے کی فہم سے اوپر چلی جا ئے لیکن سلیس اور با محاورہ زبان لکھنے پر زور ہمیشہ رہا ہے ۔ یہ دوسری بات ہے کہ اب وہ نسل اپنے حصے کا بھلا برا کام کر کے ٹھکا نے لگ چکی ہے جو کسی تحریر میں ایک بھی عامیانہ لفظ یا کسی دوسری زبان یا بولی سے آیا ہوا غیر معیاری لفظ دیکھ کر بھنا اٹھے ۔ زبان سماج کا اثر لیتی ہے ۔ سماج سمجھوتے پر آمادہ ہو جا ئے تو اس کی جھلک زبان میں نظر آ جا تی ہے ۔ آج کے اردو صحافتی بیانیہ میں اردو زبان کی لچک ، نزاکت ،شگفتگی اور بے ساختگی کی کمی ہر اس شخص کو نظر آ تی ہے جس کی معیاری زبان سے شنا سائی ہے ۔ اسے نظر نہیں آ سکتی جس کے سامنے اردو کے معیاری بیانیہ کا کوئی نمونہ نہ ہو ۔

سماجی اور سیاسی سمجھوتے بازی نے صحافت پر اپنے انتہائی مضر اثرات ڈالے ہیں اور اردو صحافت کو تو سچ مچ زندہ در گور کر دیا ہے ۔ کوئی اخبار ایسا نہیں ملے گا جس میں معیاری زبان پر قائم رہنے کی ضد کی جھلکیا ں نظر آ ئیں ۔ البتہ در گزر یا تساہل کے جلوے ہر طرف بکھرے ہو تے ہیں ۔ پانچ کالمی سرخیوں میں بھی تذکیر اور تانیث کی غلطی اردو کا منھ چڑا تی ہو ئی نظر آ جا تی ہے ۔ ’’کوئلہ کان بل ‘‘بآسانی ’’کوئلہ خان بل‘‘ ہو جا تا ہے اور جلی سرخیوں میں رنگوں کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش ہو تے وقت ذرا بھی جھجھک محسوس نہیں کرتا کہ اردو کے کسی حقیقی دلدادہ کی آنکھوں میں کیل بھو نکنے جا رہا ہے ۔ وکاس سنگھ کا ترقی سنگھ ہونا ، کلپنا دیوی کا تصور دیوی ہونا پرانی بات ہے ۔ مہر تارڑ کو مہر طرار لکھنے کا مزا ہی کچھ اور ہے ۔

مشکل وہاں کھڑی ہوتی ہے جہاں مہر طرار لکھنے والا سب ایڈیٹر اس پر اعتراض کا جواب یہ دیتا ہے کہ میں نے جو لکھ دیا ہے وہی درست ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اپنے لکھے ہو ئے کو درست ما ننے یا میر کی زبان میں اپنے فرما ئے ہو ئے کو مستند قرار دینے کا یہ حوصلہ کن حالات میں اردو ایڈیٹر کی ڈسک تک پہنچ گیا جہاں پہنچنے کے لئے ایک صاف ستھری ، خوبصورت اور ذمہ دار زبان جا ننے کی شرط اولین شرط ہوا کرتی تھی ۔ اس میں کوئی دو را ئے نہیں کہ ابھی صرف تین دہا ئیوں پہلے تک اردو اخبار کی ڈسک پر بیٹھنے والے کو سب سے پہلے اس سوال کا جواب دینا پڑتا تھا کہ کیا آپ کو زبان آتی ہے ؟ان دہائیوں میں یہ سوال کسی سے نہیں پوچھا جا تا ۔ اگر کوئی ابجد جا نتا ہے تو وہ اردو کا قلم کار ہو گیا ۔ بیسوں ایسے کالم نگار اخبارات کے صفحات سیاہ کر رہے ہیں جن کا پورا سرمایہ ابجد شناسی اور انپیج پر کام کرنے کی اہلیت سے زیادہ کا نہیں ۔

یہ دو ایسی خصوصیات ہیں جو کسی کو بھی صحافی بنا سکتی ہیں ۔ اس کے لئے قطعی ضروری نہیں کہ وہ حالات حاضرہ پر نظر رکھتا ہو ، اپنے قومی اور ملی سرمایہ سے واقف ہو ، زبان اور ادب دونوں پر دسترس ہو اور اس بنیادی نکتے کو جا نتا ہو کہ صحافی کو کیا نہیں لکھنا ہے ۔ یہ صورت حال ان کالموں میں سمٹنے سے انکار کرتی ہے ۔ اسے اپنے بیان کے لئے دفتر کے دفتر چاہئے اور اس بگاڑ کے سدھار کے لئے دہائیوں کی دہا ئیاں کیونکہ صحافت کی زبان کو انپیج کے ماہرین وہاں لے آ ئے ہیں جہاں صرف ابجد شناسی صحافی بننے کے لئے کافی ہے ۔سرخی ، ابتدا ئیہ ،اصل خبر اور آخری جملے میں خبر کو سمٹنے کی اہلیت کو ئی معنیٰ نہیں رکھتی ۔ نہ صفحات کی سجاوٹ میں توازن کا دھیان ہے نہ سرخیوں میں لفظوں کی تعداد اور فونٹ سائز پر توجہ ۔ جو کیا جیسا کیا اچھا کیا والا معاملہ ہے ایسے میں درویش کی فغاں کوئی سننے والا نہیں ۔ اس لئے قہر درویش بر جان درویشo

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں