ہندوستان کی حالیہ معاشیت پہ ایک نگاہ

مضمون نگار : ابرار مجیب

, ہندوستان کی حالیہ معاشیت پہ ایک نگاہ

ہندوستان میں کارپوریٹ سیکٹر میں ٹیکس کو کم کرکے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ہندوستان میں کارپوریٹ سیکٹر میں ٹیکس ایشیا کے تمام ملکوں سے کم ہو تاکہ لڑکھڑاتی ہوئی معشیت کو کچھ سہارا دیا جا سکے اور اسٹاک ایکسچینج میں تیزی لائی جائے. اس کٹوتی سے کمپنیوں کے لیے کارپوریٹ ٹیکسوں کی بنیادی شرح تیس سے کم ہو کر بائیس ہو جائے گی۔ اس کٹوتی سے بھارتی حکومت کو یہ امید ہے کہ ہندوستان میں غیر ملکی سرمایہ کار پھر سے سرمایہ کاری کرنے کے لیے ہندوستان کا رخ کریں گے ۔

جس تیزی سے پچھلی چند دہائیوں میں ہندوستان نے ترقی کی تھی اس کی وجہ سے ہندوستانی معیشت کو بڑی معشیت سمجھا جاتا تھا لیکن موجودہ وقت میں مسلسل تیزی سے گرتی معشیت نے اس سے یہ عہدہ چھین لیا ہے اور اب یہ فخر چین کو حاصل ہے ۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا(پی ٹی آئی) کے مطابق بھارتی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری لانے اور مقامی صنعت کو فروغ دینے کی خاطر نئی کمپنیوں کے لیے ٹیکس کی شرح 25 سے کم کر کے 15 کر دی جائے گی۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمارے ٹیکسوں کی نئی شرح کا جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے کم شرح کے ساتھ موازنہ کیا جا سکے گا۔ہندوستانی وزیر خزانہ کے اس اعلان کے بعد سٹاک ایکسچینج کے شیئرز میں پانچ فیصد سے زیادہ کا اچھال درج کیا گیا ہے ۔ تھوڑی راحت کی بات یہ ہے کہ اس سے ڈالر کے مقابلے میں بھارتی روپیہ پہلے سے کچھ مستحکم ہوا ہے۔

سینٹرل بینک کے ڈپٹی گورنر نے بڑے واضح الفاظ میں نشاندہی کی ہے کہ بڑے اور لونگ ٹرم کے حکومتی قرضوں کا اثر این بی ایف سی ( نان بینکنگ فنانس کمپنیوں) پر بہت زیادہ پڑتا ہے جو گزشتہ سال آئی ایل ایف ایس (انفراسٹرکچر لیزنگ اینڈ فنانشل سروسز ) کے دم توڑنے کے بعد لیکوئیڈٹی کے شدید نقصان کا سامنا کر رہی ہیں۔ اس بحران کی اہم وجہ اثاثوں اور قرضوں میں یکسانیت نہ ہونا ہے ۔


آج ہندوستانی مارکیٹ میں لانگ ٹرم قرضوں کی ڈیمانڈ بیحد کم ہے ۔ اس لئے این بی ایف سی کو یہ زور دیا جا رہا ہے کہ وہ کم مدتی قرضوں کے بجائے طویل المدتی قرض کے لیے اپنے کسمٹر کی ذہن سازی کرے ۔

سینٹرل بینک کے ڈپٹی گورنر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب کسٹمر کا رجحان این بی ایف سی کا طویل المدتی قرض حاصل کرنے کے بجائے کم مدتی قرضوں کی جانب زیادہ ہے ۔ ایسا رجحان حکومت کے قرضوں میں اضافے کی وجہ سے آیا ہے ۔ اب کسٹمر کے کل قرضے لینے کی شرح بھی بہت کم ہوئی ہیں ۔ اس سے مالیاتی شعبہ کمزور ہوتا ہے ۔

شیئر کریں
ابرار مجیب کا تعلق جمشید پور ، جھارکھنڈ سے ہے ، پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں لیکن اردو اور انگریزی ادب میں یکساں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ان کا افسانوی مجموعہ رات کا منظر نامہ شائع ہوکر موضوع بحث بن چکا ہے جب کہ ان کے تنقیدی مضامین ادبی حلقے میں ہنگامہ کا سبب بن جاتے ہیں۔ان کی شاعری بھی بیحد منفرد ہے گوکہ شاعری پر ان کی توجہ کم لیکن ان کی بعض نظمیں بیحد اہم ہیں ۔ ان کا ناول "ایک تازہ مدینے کی تلاش" جلد ہی منظر عام پہ آنے والا ہے

کمنٹ کریں