ہندوستانی زبان کی لسانی تبدیلیاں

hindustani urdu لسانیات اردو ہندوستانی برج بھاشا

مغربی ہند اور اس کی بولیوں کھڑی، برج وغیرہ کی قدامت کا سب سے بڑا ثبوت وہ قدیم لسانی شہادتیں ہیں جو ہمیں مسلمانوں کی فتح دہلی کے فورا قبل یا بعد کے نمونوں میں ملتی ہیں۔

اب کھڑی بولی کی قدامت کے سلسلہ میں قدیم ہندوستانی ادبیات سے بعض ایسے نمونوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو مسلمانوں کے دہلی آنے سے پہلے کے ہیں۔ اپ بھرنش عہد میں دیو سین نام کا ایک جین مصنف ہوا۔ اس نے جو دوہے نقل کئے ان میں مندرجہ ذیل الفاظ استعمال ہوئے ہیں: جو، جن ، لو، کہو، کری۔

اسی زمانہ میں بدھ دھرم اپنی بگڑی ہوئی شکل میں ملک کے مشرقی حصوں میں عرصہ سے پھیلا ہوا تھا۔ بہار میں نالندہ کی مشہور درس گاہ بدھ سدھوں کا تعلیمی مرکز بنی ہوئی تھی۔ بختیار خلجی نے جب ان مقاموں کو اجاڑا تو یہ تتر بتر ہوگئے۔ ان بدھ سدھوں نے عوام پر اپنا اثر قائم رکھنے کےل ے سنسکرت تصانیف کے ساتھ اپ بھرنس ملی ہوئی ایسی بھاشا میں بھی دوہے لکھے ہیں۔ ان میں سب سے پرانے سدھ وہ ہیں جن کا زمانہ 800 عیسوی کا ابتدائی عہد ہے۔ انہوں نے مندرجہ ذیل الفاظ اپنے دوہوں میں استعمال کئے ہیں: نہ، ناہیں، کہیا، اندھارے وغیرہ۔۔۔ ہیم چند جو کہ اسی عہد کے مشہور گجراتی عالم تھے اپنی قواعد میں ایک دوہا دیتے ہیں جس کا پہلا مصرعہ یہ ہے


بھلا ہوا جو ماریا بہنی مہارا کنت
(بھلا ہوا جو مارا گیا اے بہن ہمارا پیارا)

اپ بھرنش عہد کے دوسرے نامور شاعر ودیادھر اور شارنگ ہیں جن کے یہاں ذیل کے الفاظ ملتے ہیں: بجیا، جگیا، لگیا وغیرہ۔۔۔

اپ بھرنش کے عہد کے بعد ہندوستانی ادب کا وہ دور آتا ہے جسے “ویر گاتھا کال” کہا جاتا ہے۔ “پرتھوی راج راسو” اسی عہد سے تعلق رکھتی ہے۔ راسو میں بھی کھڑی بوی ی شکلیں نظر آتی ہیں۔ اس میں عربی اور فارسی کے یہ الفاظ بھی ملتے ہیں: اسوار (سوار)، سہنائی، اربی (عربی)، ترکئی (ترکی)، کمان، پرتھوی راج راسو کے قتل کے نوے برس کے بعد خسرو نے شاعری شروع کی جو نہایت سادہ اور صاف اردو میں ہے۔ دراصل کھڑی بولی کی جن شکلوں کو ہم اپبھرنش میں دیکھ آئے ہیں ان کا پورا نکھار خسرو کے یہاں ہوجاتا ہے۔ راسو اور خسرو کے درمیان فارسی رسم الخط میں ادب کا کوئی نمونہ نہیں ملتا۔ ہندی رسم الخط میں جو نمونے ملتے ہیں وہ برج کی ابتدائی شکل کا پتہ دیتے ہیں۔

اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ خسرو نے بحیثیت ایک ماہر ِ لسانیات کے زبان کا سب سے مقبول روپ اپنی پہیلیوں اور مکرنیوں کے لئے منتخب کیا ہوگا۔ اس وقت دلی اور اس کے نواح میں برج ادبی زبان کی حیثیت سے رائج تھی اس لئے خسرو ہمیشہ خالص کھڑی بولی نہ لکھ سکے بلکہ اکثر اوقات انہوں نے شاعری کی معیاری زبان برج سے متاثر ہو کر اپنی زبان کو مخلوط بنا دیا ہے۔ چنانچہ خسرو کے ادب کا جائزہ لیا جائے تو دو قسم کی زبان ملتی ہے۔

1۔ ٹیٹھ کھڑی بولی جو اکثر پہیلیوں ، مکرنیوں اور دو سخنوں میں ملتی ہے۔
2۔ گیتوں کی عام زبان جو عام فہم برج بھاشا میں ہے اس سے خسرو اور کبیر دونوں کو کوئی مفر نہیں تھا۔

ایک تھا موتی سے بھرا۔۔۔ سب کے سر پر اوندھا دھرا
چاروں اور وہ تھالی پھرے۔۔۔ موتی اس سے ایک نہ گرے

ایک نارترور سے اتری ماں سے جنم نہ پاپو
باپ کا نام جو با سے پوچھیو آدھونائوں بتایو
آدھونائوں بتایو کھسرو کون دیس کی بولی
باکونائوں جو پوچھیو میں نے اپنی نائوں نہ بولی

ایک گنی نے یہ گن کینا ہریل پنجرے میں دے دینا
دیکھو جادوگر کا کمال ڈارے ہرا نکالے لال

ان پہیلیوں میں پہلی والی تو ٹیٹھ کھڑی بولی میں ہے جبکہ دوسرے نمبر والی برج بھاشا میں اور تیسرے نمبر والی دونوں بولیوں کی ملاوٹ میں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ برج اور کھڑی کا جھگڑا ابھی تک نہیں اٹھا تھا۔ البتہ برج ادبی زبان ہونے کی حیثیت سے زیادہ شائستہ سمجھی جاتی تھی۔ دراصل خسرو کے یہاں ہمیں سب سے پہلے زبان کا وہ ڈھانچہ ملتا ہے جو آج اپنی تکمی کو پہنچ چکا ہے۔

اسی عہد (چودھویں اور پندرہویں صدی) کے دوسرے نامور شاعر نادیو، کبیر اور نانک ہیں۔ مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ دلی اور اس کے نواح کی بولی، پورب پچھم اور دکنی ہندوستان میں پھیل جاتی ہے۔ اس زبان کی شکل نام دیو کے یہاں یہ تھی:

مائی نہ ہوتی، باپ نہ ہوتے کرم نہ ہوتا کایا
ہم نہیں ہوتے، تم نہیں ہوتے، کوں کہاتے آتا
چندر نہ ہوتا، سور نہ ہوتا، پانی پون ملایا
شاستر نہ ہوتا، وید نہ ہوتا، کرم کہاں تے آیا

اب اسی کا روپ کبیر اور نانک کے یہاں دیکھیے۔ ایک پورب کا رہنے والا ہے اور دوسرا پنجاب کا:

کبیر کہتا جات ہوں سنتا ہے سب کوئے
رام کہہ بھلا ہوگا نہیں تو بھلا نہ ہوئے
آئوں گا نہ جائوں گا، مروں گا نہ جیوں گا
گرو کے سبد رم رم رہوں گا

نانک کے اشعار دیکھیے:

اس رام را میں تو کیسے بھروسہ، آیا آیا نہ آیا آیا
یہ سنسار میں واسپنا کہیں دیکھا کہیں ناہیں دیکھا
سوچ وچار کرے مت من میں جس نے ڈھونڈا اس نے پایا
نانک بھگن وے پدہرے نس دن رام چرن چت لایا

مندرجہ بالا اقتباس سے اندازہ ہوجاتا ہےکہ برج، کھڑی اور ہریانی وغیرہ بولیوں کے بیچ اس وقت کی زبان میں پائے جاتے ہیں۔ البتہ برج کو اس وقت ممتاز حیثیت حاصل تھی۔ ابتداء میں کھڑی بولی برج بھاشا کی گود میں نظر آتی ہے۔ بعد کو خاص طور پر مسلمان صوفیائے کرام کی سرپرستی میں ایک علیحدہ ادبی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ دراصل مسلمانوں کے داخلہء دلی کی تاریخ ، جدید آریائی زبانوں کے طلوع کی تاریخ ہے۔

اسی ناپختہ زبان کو مسلمان لشکر دکن لے گئے جہاں وہ زبان کے اجنبی ماحول میں ارتقائی منزلیں طے نہ کرسکی۔ دلی کی قدیم زبان اور دکن میں زیادہ فرق نہ تھا۔ مگر شمال میں لسانی تبدیلیوں کی رفتار تیز رہی۔ چنانچہ دلی جب اپنی دکنی بولتے ہوئے دلی میں داخل ہوئے تو ان کو ایک ترقی یافتہ زبان سے واسطہ پڑا۔

لسانی نقطہ ء نظر سے دکن کا علاقہ، مہاراشٹر، ریاست حیدرآبادی، ریاست میسور، اندوراور تامل ناڈو کے بعض اضلاع پر مشتمل ہے۔ ان علاقوں میں مرہٹی، تلنگی، کنٹری اور تامل زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اس لیے دہلی کی زبان دکن پہنچ کر زبانوں کے اجنبی ماحول میں ایک علیحدہ ڈگر پر پنپتی رہی۔ “زبانِ دہلوی” کا پہلا مرکز دولت آباد تھا جو مرہٹی علاقے میں ہے بہمنی سلطنت کے قیام کے ساتھ دکن کا مرکز کنٹری علاقے میں گلبرگہ ہوجاتا ہے۔ سلطنت بہمنیہ کے جب ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے تو دکن کے دو نئے مراکز پیدا ہوئے، تلنگی کے علاقے میں گوالکنڈہ اور کنٹری کے علاقہ میں بیجاپور۔ دکنی ادب انہیں دو مرکزوں میں اپنے کمال کو پہنچتا ہے اور دہلی کی ناپختہ زبان قلی قطب شاہ ، وجہی اور نصڑتی کے ہاتھوں سے ادبی سطح تک پہنچتی ہے۔ ولی سے پہلے دکنی کی شکل کا اندازہ قلی قطب شاہ کے ان شعروں سے ہوگا:

پیاباج پیالا جائے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیا باج یک تل جیا جائے نا
قطب شہ نہ دے دوانے کو پند۔۔۔۔۔ دوانے کو کچ پند دیا جائے نا

شمالی ہند میں اسی زمانے میں ایک شاعر افضل کے بارہ ماسہ کی زبان یہ تھی جس سے اس کے ارتقاء کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ دکن اور شمالی ہندوستان کے لسانی اختلافات کی بہترین عکاسی ہمیں ولی کے دیوان میں ملتی ہے۔ ان کی زبان میں جو پرانا پن تھا اس کے خلاف اصلاح زبان کی تحریک دلی میں اٹھتی ہے۔ اردو کی یہ آخری ترقی یافتہ شکل متعین کرنے میں برج نے کافی حصہ لیا۔

شاہ جہاں کے دہلی آںے کے بعد زبان دہلوی کا نشاۃ الثانیہ شروع ہوتا ہے جس کی تکمیل اورنگ زیب اور دہلی کے عہد میں ہوتی ہے۔ اورنگ زیب کے آخری دور میں اورنگ آباد اور دہلی کے درمیان لسانی رشتے بہت گہرے ہوگئے تھے۔ اٹھارہویں صدی کے آغاز تک زبان دہلوی نے اودھی اور برج کو ٹکسال باہر کر دیا اور دوسری طرف بدیسی فارسی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

شہر دہلی میں اردو کی طرف لوگوں کی توجہ اس وقت زیادہ وئی جب دکنی قافلہ جوق در جوق اپنے ادبی سرمایہ کو لے کر دہلی پہنچا۔ سترہویں صدی کی پہلی دہائی میں فائز نے اپنا دیوان مرتب کیا۔ ان کے کلام سے اس کی شہادت ملتی ہے کہ دہلی کی زبان اور اندازِ بیان پر ولی کا سکہ بیٹھ چکا تھا لیکن جلد ہی دکنی زبان کے خلاف ردعمل شروع ہوگیا۔ اس تحریک کی قیادت کا سہرا مرزا جان جاناں مظہر کے سر رہا۔ حاتم نے سترویں صدی کے وسط میں اصلاح و معیار زبان کے ان اصولوں کو پیش ِ نظر رکھا۔

  1. جو کہ لاوے ریخے میں فارسی کے فعل و حرف لغو ہیں گے فعل اس کے ریختہ میں حرف ہے۔
  2. دہلی کا وہ روزمردہ استعمال کیا جائے جو فصحء کو منظور و قبول ہو۔
  3. مختلف بولیوں کے وہ الفاظ جو بھاکا کے ہوں ترک کر دیے جائیں۔
  4. وہ عربی اور فارسی الفاظ استعمال کیے جائیں جو آسانی سے سمجھ میں آ جائیں اور بہت زیادہ استعمال ہوں۔
  5. صرف وہ روزمرہ جو عام فہم مگر خاص پسند ہوں استعمال کیے جائیں۔

چنانچہ ان اصولوں کے تحت تسبی پر تسطیح، صحی پر صحیح، بگانہ پر بے گانہ کو ترجیح دی گئی۔ نین و جگ جیسے الفاظ متروک قرار دیے گئے۔ بھاکا کی جگہ عربی فارسی الفاظ نے لے لی۔ مثلا نین کی بجائےچشم، ساجن کی بجائے معشوق۔

میر و مرزا کی زبان میں ہندی کے متروک الفاظ اور دکنی زبان کے الفاظ و افعال جو نظر آتے ہیں ان کی صفائی لکھنئو جا کر ناسخ کے ہاتھوں ہوئی۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں