ہم عصر اردو افسانہ کے فکری سروکار

مضمون نگار : شہاب ظفر اعظمی

, ہم عصر اردو افسانہ کے فکری سروکار

اردو فکشن کے سرمائے میں بنیادی حیثیت مختصر افسانے اور ناول کو حاصل رہی ہے۔ اِس لحاظ سے اردو فکشن نے اب تک تقریباً ڈیڑھ صدی کا لمبا سفر طئے کیا ہے۔ اِس مدت میں اس نے مزاجی اعتبار سے پانچ ادوار دیکھے ہیں۔ پہلا دور بیسویں۲۰ صدی کی ابتدا تک کا ہے جب فکشن ناول تک محدود تھا اور فنی وموضوعاتی سطح پر نذیر احمد کے ناولوں سے امراؤ جان ادا تک سارے تجربات اسی میں کئے جارہے تھے۔ دوسرے دور کو ۱۹۳۶ تک لے جایا جا سکتا ہے جب افسانہ منظرعام پر آیا اور اس میں اصلاح پسندی، حب الوطنی اور مثالیت پسندی کا رجحان غالب رہا۔ تیسرا دور ۱۹۳۶ سے ۱۹۶۰ء تک ہو سکتا ہے جس میں حقیقت نگاری، اشتراکیت اور رومان پسندی کی لہر ملتی ہے۔ چوتھے دور کو ۱۹۶۰ء سے ۱۹۸۰ء تک پھیلا سکتے ہیں جب فکشن بالخصوص افسانے میں داخلی حقیقت نگاری، علامت نگاری، ابہام، پیچیدگی، انسان کی بے چہرگی اور اقدار کی شکست وریخت کو بنیادی اہمیت حاصل رہی اور قاری کو بڑی حد تک نظر انداز کر دیا گیا۔ ۱۹۸۰ء کے بعد کا زمانہ مکمل طور پر نئی تلاش اور نئی بصیرت کا منظر نامہ سامنے لایا جسے اردو فکشن کی واپسی کا زمانہ بھی کہا جاتا ہے۔ اِس زمانے میں افسانہ نے غیر ضروری اور نامانوس علامتوں سے دامن چھڑا کر ایک نئے تیور کے ساتھ زندگی کا ہاتھ تھاما۔ انتظارحسین، قاضی عبدالستار، الیاس احمد گدی، شفیع جاوید، احمد یوسف، نیرمسعود، عابدسہیل، اقبال مجید، عبدالصمد، حسین الحق، مشتاق احمد نوری، شموئل احمد، شوکت حیات، صلاح الدین پرویز، پیغام آفاقی، سلام بن رزاق، جوگندرپال، مشرف عالم ذوقی، طارق چھتاری، ترنم ریاض، شفق، غضنفر، ساجد رشید، قاسم خورشید،مظہرالزماں خاں، غزال ضیغم، شاہداختر، عشرت ظفر، عبیدقمر ،بلراج بخشی ا ور رحمان عباس جیسے بہت سارے افسانہ نگاروں نے فکشن کی حسیت میں تبدیلی لانے کی شعوری کوشش کی۔ اِن سب نے مل کر تھیم، ہیئت اور محاورہ کا ایک بڑا حلقہ پیدا کیا جس نے اردو افسانہ کو اچانک ثروت مند اور مختلف بنادیا۔ عالمی ادب میں افسانے کی پیش رفت اور اس کے تخلیقی امکانات کی توثیق سے اس کی ادبی حیثیت مسلم ہوگئی۔ اب افسانہ محض تفنن طبع کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ اعلیٰ فن پاروں کی طرح زندگی، معاشرے اور کائنات کے رازہائے سربستہ کی بصیرت افروزی کا موثر وسیلہ بھی بن گیا۔ جدید افسانہ کا یہ دور اِس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ کہانی کا کینوس تمام برا عظموں تک پھیل گیا، جس سے ہمارا افسانہ نگار عالمی انسانی برادری کو ایک اکائی کے روپ میں دیکھنے، دکھانے پرکھنے اور تجربہ کرنے پر قادر ہوگیا ہے۔ یعنی یہ بات اب بہ آسانی کہی جا سکتی ہے کہ اُردو افسانہ اُس دور سے آگے نکل گیا ہے جسے ’’عبوری دور‘‘ سے موسوم کیا جاتا تھا۔ اردو افسانہ اب روبہ ترقی ہے اور ایک وقیع اور امکان خیز صنف کے طور پر اپنی انفرادی حیثیت اِس حد تک منوا چکا ہے کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے نئی صدی کو اردو فکشن کی صدی قرار دے دیا۔ اُن کے اِس بیان پر ایک بڑا حلقہ چیں بجبیں ہوا حالانکہ مجھے اِس بیان میں کوئی قابل اعتراض یا تعجب خیزوجہ نظر نہیں آتی۔ موجودہ صدی کو اردو فکشن کے نام معنون کرنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اردو شاعری کم رتبہ ہوگئی، یا آج اردو شاعری روبہ زوال ہے۔ ایسا ہوہی نہیں سکتا۔ شاعری کے بغیر ادب کا تصور نا ممکن ہے۔ ہماری شاعری کی مرکزیت غزل سے ہے اور غزل کو اردو میں وہی درجہ دیا جاتا ہے جو ہندوستانی تہذیب میں تاج محل کو حاصل ہے۔ سات آٹھ سوسالوں کے ہند اسلامی کلچر کی جو روح اردو شاعری بالخصوص غزل میں سمٹ آئی ہے اس کا جواب نہیں۔ لیکن آج غزل کے پہلو بہ پہلو افسانہ نے بھی اپنا مقام بنالیا ہے۔ کوئی ایک صنف ادب میں کسی دوسری صنف کو دباتی نہیں ہے، ادب کو مزید دولت مند بناتی ہے۔ غزل اور شاعری کی اہمیت بلاشبہ اپنی جگہ مسلم ہے لیکن آج فکشن کی اہمیت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اردو فقط شاعری کی زبان نہیں پریم چند، منٹو، عینی آپا، انتظارحسین، جوگندرپال، عبدالصمد، سلام بن رزّاق ، مشرف عالم ذوقی،طارق چھتاری،غضنفر،حسین الحق،شفیع جاوید،رحمان عباس ،صادقہ نواب سحر،شائستہ فاخری اور احمد صغیر کی زبان بھی ہے۔ اِس کا ہر گز یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ میں شاعری کو افسانہ سے کم رتبہ سمجھتا ہوں۔ دراصل میں ادب میں فوقی درجہ بندی کا قائل نہیں۔ ایسی اصناف ادب جو بنیادی طور سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ایک پیمانے سے جانچی نہیں جا سکتیں۔ ایسی تمام اصناف کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، خواہ وہ شاعری ہو، افسانہ ہو ، ڈرامہ ہو یا ناول !


ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ افسانہ یا کہانی کا کینوس بہت چھوٹا ہوتا ہے اس لئے یہ دوسرے درجے کا ادب ہے۔ اب بھلا حضرتِ معترض سے کون کہے کہ شاعری میں تو ہماری پہچان غزل سے ہے جس کا ہر شعر مفرد اور مکمل ہوتا ہے۔ اس سے چھوٹا پیمانہ اور کیا ہو سکتاہے؟ دوہا صرف دو مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہائیکو کے لئے تین مصرعے کافی ہیں۔ دراصل ادب کی شناخت چھوٹے بڑے پیمانوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی انفرادیت اور پیش کش اُسے شناخت عطاکرتی ہے۔ کوئی فن پارہ قاری کے جمالیاتی تقاضوں کی کس حد تک تکمیل کر رہا ہے؟ یا قاری کے تہذیبی اور جذباتی عناصر کی کس قدر نمائندگی کررہا ہے؟ یہ باتیں فن پارے کو پہچان دیتی ہیں۔ فکشن ہماری تہذیب، ہمارے جذبات اور ہمارے جمالیاتی تقاضوں کی تکمیل ہزاروں سال سے کررہا ہے اس لئے پیمانوں، اصولوں اور درجہ بندی وغیرہ کے اعتراضات سے اس کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ اِسے افسانے کا جادو ہی کہا جائے گا کہ وہ صنف جس میں اعلیٰ درجہ کے ادب کی تخلیق ناممکن قرار دی گئی تھی بعد میں تو جہ کامرکز بن گئی اور گذشتہ پندرہ بیس برسوں میں سب سے زیادہ سیمینار، مذاکرے ، جلسے ،افسانہ اور افسانے کی تنقید پر ہوئے جن میں ان لوگوں نے بھی حصہ لیا جو اسے قابل اعتناہی نہیں سمجھتے تھے۔ آج ہندستان اور پاکستان کی ادبی فضا میں افسانوی ادب کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی ہے اور کتب ورسائل کا بڑا حصہ افسانہ اور افسانے پر گفتگو کا احاطہ کر رہا ہے۔ نامور ناقداور دانشور شمس الرحمن فاروقی اعتراف کرتے ہیں کہ :


’’اردو معاشرے میں عمومی طور پر قرۃ العین حیدر، انتظار حسین اور عبداﷲحسین کا نفوذ ان کے معاصر شعرا سے بڑھ کر ہے۔ اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ منٹو کا کلیات آج سرحد کے دونوں طرف کے شعرا کے کلیات سے زیادہ فروخت ہوتا ہے……پڑھنے والوں کے مختلف حلقوں میں بہت زیادہ اور بہت دور تک پھیلنے کی صلاحیت رکھنے کے باعث فکشن میں بیان کردہ واقعات، صورت، حالات، کردار فوری سطح پر متوجہ اور برانگیخت کرتے ہیں اور پڑھنے والے ان کے بارے میں گفتگو بھی فوری سطح پر کرتے ہیں‘‘


چنانچہ آج جہاں ایک طرف انتظارحسین اور قاضی عبد الستارکے علاوہ جیلانی بانو، بانو قدسیہ، جوگندرپال، عبدالصمد، اقبال مجید، سلام بن رزاق، حسین الحق،عبدالصمد،شموئل احمد،غضنفر اور ذوقی وغیرہ جیسے اہم اور مقبول عام فکشن نگار شب وروز افسانے کی دنیا کو وسعت بخشنے میں مصروف ہیں وہیں پروفیسر گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، ، شمیم حنفی، سید محمد عقیل، مہدی جعفر، اسلم آزاد، اعجاز علی ارشد، ابوالکلام قاسمی، خورشید احمد، علی احمد فاطمی، ارتضٰی کریم،حقانی القاسمی، صغیرافراہیم ،کوثر مظہری،مولا بخش،اسلم جمشیدپوری سرورالہدیٰ اور معید رشیدی وغیرہ فکشن کی نظریاتی اور عملی تنقید کے نہایت عمدہ نمونے پیش کررہے ہیں اور یہ سلسلہ روز بروز قوی تر ہوتا جا رہا ہے۔


اردو افسانہ آج ایک نئی منزل سے ہم آغوش ہے ۔ اس کی دنیا نہایت وسیع ہو چکی ہے۔مسلسل نئے افسانوی مجموعے شایع ہو رہے ہیں۔مثال کے طورپر حسین الحق، شوکت حیات، شموئل احمد،عبدالصمد، جابرحسین ، شفیع جاوید، مشرف عالم ذوقی،غضنفر،احمد صغیر،قاسم خورشید،رحمان شاہی،شائستہ فاخری،اسلم جمشیدپوری،اختر آزاد،سید احمد قادری،شبیر احمد،رحمان عباس،بشیر مالیر کوٹلوی ،رخسانہ صدیقی اور اشرف جہاں وغیرہ کے نئے افسانوی مجموعے اپنے وسیع کینوس کی وجہ سے نہ صرف قاری کو متاثر کرتے ہیں بلکہ موضوعاتی طور پر ہمیں نئی دنیا اور نئے آفاق سے روشناس کراتے ہیں۔بم دھماکے،کشمیر کا مسئلہ،بڑھتی ہوئی آبادی،فرقہ واریت کے معاملات،گجرات اور مظفرنگر کے فسادات،ریپ کے انسانیت سوز واقعات،رشوت کی گرم ستانی،سیاسی قدروں کی پامالی،تشدداور جنسی تشدد کی بھیانک شکلیں،تیسری جنگ عظیم کا خطرہ،ملکی اور غیر ملکی سیاست کی خود غرضی،امریکہ کی دوسرے ملکوں کو محکوم بنانے کی چالیں،فلسطین پر یہودیوں کا ناجائز قبضہ،سیاسی بازیگروں کا لسانی تشدد کی بنا پر علاحدگی کی فضا قائم کرنا،ذات پات اور بھید بھاؤ کے نام پر عوام کو تقسیم کرنا ،بے ہودہ رسوم ورواج،نوجوان نسل کا تمام اخلاقی اقدار کو پامال کرنا،تعلیم اداروں میں نظم وضبط کی کمی،موبائل فون اور ٹی وی کا غلط استعمال،جنسی ہیجان انگیزی،منشیات کی سودے بازی،بے حیائی اور حرام کاری کی طرف انسان کے بڑھتے قدم،نمودونمائش اور حرام خوری ایسے موضوعات کو ہمارے افسانہ نگار اپنی کہانیوں میں بڑی شدت اور حقیقت کے ساتھ برت رہے ہیں۔اس لیے آج کا افسانہ پہلے کے افسانوں سے کافی حدتک مختلف ہے۔آج کا افسانہ نگار زندگی کے مختلف پہلوؤں کو کمال ہشیاری سے واشگاف کرنا چاہتاہے۔کہانی کا یہ نیا منظرنامہ نئے فلسفوں اور نئے حقائق کی تلاش میں سرگردا ں ہے۔یہ تلاش کہاں تک پہنچے گی ،ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔لیکن سچائی کے ساتھ یہ ٖضرور کہا جاسکتاہے کہ نئی کہانی سپاٹ بیانیہ کاشکار نہیں ہے اور نہ آئندہ ہوگی۔ایک طرف جدت اور حقیقت پسندی کے امتزاج سے نئے کولاژ تعمیر ہو رہے ہیں اور دوسری طرف تیزی سے بدلتی دنیائیں اردوکہانیوں کا موضوع بن رہی ہیں۔مشہور فلسفی روسو نے کہاتھاکہ کوئی بھی سماج یا کوئی بھی عہد صرف دو حالات میں سانس لیتاہے ،تبدیلی سے پہلے اور تبدیلی کے بعد۔شایدہمارا عہد اور اردو افسانہ دونوں ایک بڑی تبدیلی کے دور میں قدم رکھ چکے ہیں۔افسانے کا قاری بہت خاموشی سے اس بدلتے منظرنامے کو دیکھ رہا ہے،کون جانے وہ کس تبدیلی کو قبول کرتا ہے اور کسے رد کردیتا ہے۔


افسانہ لکھنے کے لیے جس سنجیدگی اور ریاضت کی ضرورت ہو تی ہے ،افسانے کی تنقیدو تفہیم بھی اتناہی صبر طلب اور مشکل کام ہے کیونکہ یہ ناقد سے متعدد تقاضے کرتی ہے۔ مثلاً پوری کہانی پر نظر ہونا، کہانی کی جزئیات، زبان، قصہ پن اور فن قصہ نگاری سے واقفیت، اسلوب اور موضوع میں ہم آہنگی وغیرہ افسانے کی تنقید کے اہم اجزا ہیں، جو ناقد سے گہرے اور مسلسل توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ کسی افسانہ نگار کی قدر سنجی کے لئے اس کی جملہ تخلیقات کے علاوہ پورے افسانوی ادب کا مطالعہ بھی خاصا وقت طلب اور پیچیدہ عمل ہے۔ شاید اسی لئے پروفیسرگوپی چند نارنگ نے لکھا ہے کہ
’’اچھے شعر کا معاملہ نسبتاً اتنا مشکل نہیں، اچھی کہانی کے ساتھ بہت کچھ جھیلنا پڑتا ہے‘‘


اس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ شاعری کی تنقید کم مایہ ہوتی ہے بلکہ اردو زبان وادب کی تاریخ وتہذیب نے وہ مخصوص ذہن پیدا کردیا ہے کہ ادب کی تعبیرو تفہیم کا عمل شاعری سے شروع ہوتا ہے اور اکثر شاعری پر ہی ختم ہوجاتا ہے۔ ایک عظیم کلاسیکی ورثے کے طور پر بھی شاعری نقادوں کے لئے ہمیشہ توجہ کا مرکز رہی ہے۔ شاید اسی لئے ہمارے بعض ناقدین فکشن کی تنقید میں بھی شاعری کی تنقید کی طرح اشاروں، کنایوں اور علامتوں میں بات کرنے کے فیشن میں متبلا نظر آتے ہیں جن کی تحریریں بعض اوقات علامتی افسانوں سے بھی زیادہ گنجلک اور ثقیل ہوجاتی ہیں۔ دوسری طرف بعض نقاد فکشن کی روح کو چھونے کے بجائے اسے نثری روپ میں منتقل کرکے اس کی تلخیص پیش کرنے کو ہی غایت نقد سمجھ بیٹھے ہیں جبکہ اصل مقصد یہ جاننا ہے کہ افسانہ یا ناول کن لسانی اور ہیئتی وسائل کو کام میں لے کر تخلیق کا درجہ حاصل کرسکا ہے۔ فکشن کے مطالعے کے ضمن میں کرداروں، واقعات، تہذیب ومعاشرے اور سماجی ونفسیاتی عوامل کے ساتھ کلیدی اہمیت اُس لسانی برتاؤ کو حاصل ہے جو کہانی کی تشکیل کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہانی کا ہر جملہ اور ہر لفظ اور اس کا محل استعمال اور اس کے سیاقی تلازمات تخلیقی تجربے کو متشکل کرتے ہیں۔ میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ ادب کو غیر ادب سے جو چیز امتیاز بخشتی ہے وہ ’’اسلوب‘‘ ہے۔ یہ بات فکشن پر سب سے زیادہ صادق اس لئے آتی ہے کہ فکشن نگار کا مقصد قاری تک صرف کہانی، کردار، فضا اور معاشرتی، بشریاتی اور ثقافتی معلومات پہنچانا نہیں بلکہ کہانی کے لسانی برتاؤ سے کرداروں کے اندرونی تضادات، جذباتی تہہ داریوں اور حیات وکائنات کی پیچیدہ اور مشکل سے مشکل آگہی سے اُسے باقاعدہ متعارف کرانا بھی ہے۔ چنانچہ نقاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ کہانی کا اسلوبیاتی ولسانی تجزیہ کرکے اُس تجربے کو بھی پہچاننے کی سعی کرے جس نے افسانے یا ناول کو تخلیقی شناخت عطا کیا ہے، اور جس نے کہانی میں طلسمی کیف واثر پیدا کردیا ہے۔ فکشن کی اسلوبیاتی ولسانی ساخت کا ایسا ہی مطالعہ تنقید کے تفاعل کو متعین کرتا ہے۔
یہ عہد متن ،لفظ اور معنی کے سلسلے میں نئے سوالات کا حامل ہے۔اس عہد کا افسانہ ایک بڑی دنیا کو لے کر آیا ہے،جس میں کمپیوٹر ،سوپر کمپیوٹر،سائبر اسپیس،اسمارٹ فون اور گلوبل ولیج کا تصور کلیدی صورت اختیار کر گیاہے۔فکشن کے نقاد کے لیے یہ امتحان کی گھڑی ہے کہ وہ اُن پرانے ٹولس سے ،جن سے وہ منٹو ،بیدی اور کرشن چندر کی کہانیوں کو پرکھتا تھا،اب جابر حسین،شوکت حیات،شموئل احمد،ذوقی،غضنفر،شائستہ فاخری،اختر آزاد،اسلم جمشیدپوری اور شموئل احمد وغیرہ کو نہیں پرکھ سکتا۔آج کے افسانوں نے اسلوب،تکنیک اور بیانیہ کی سطح پر جو تجربات کیے ہیں،اور عہد نو کی زندگی اور اس کے پرپیچ خط وخال کو افسانے کے ذریعہ جس طرح پیش کیاہے،وہ اپنی جگہ فکشن کا ایک نیا استعارہ ،نیا منظرنامہ ہے۔اس نئے استعارے اور منظرنامے کو جدید تنقید بغیر نئے ٹولس کے نہ تو گرفت میں لے سکتی ہے اور نہ اس کی نئی منزلوں کا عرفان پیش کر سکتی ہے

شیئر کریں
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی بھارت میں اردو فکشن کی تنقید کا ایک سنجیدہ اور معتبر نام ہے۔ان کی پیدائش یکم اپریل ۱۹۷۲ء کو گیا (بہار) میں ایک عالم دین مولانا عبدالبر اعظمی کے گھر میں ہوئی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم والد گرامی سے ہی حاصل کی ،اس کے بعد مگدھ یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔جون ۲۰۰۳ء میں ان کا تقرر شعبٔہ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی میں ہوا،جہاں ابھی وہ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسرتدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کے مضامین ملک و بیرون ملک کے موقر رسائل و جرائد میں شایع ہوتے رہے ہیں اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے درمیان توجہ اور انہماک سے پڑھے جاتے رہے ہیں۔ان کی اب تک چھ کتابیں (۱)ضیائے اشرفیہ،۱۹۹۰ء(۲)اسلام کا معاشرتی نظام،۱۹۹۲ء(اردو کے نثری اسالیب،۱۹۹۹ء(۴)فرات،مطالعہ ومحاسبہ،۲۰۰۴ء(۵)اردو ناول کے اسالیب،۲۰۰۶ء(۶)اور جہان فکشن،۲۰۰۸ء شایع ہو چکی ہیں۔ان میں اردو ناول کے اسالیب اور جہان فکشن کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ،بالخصوص اردو ناول کے اسالیب کو اترپردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے اول انعامات سے او ر جہان فکشن کو بہار اردو اکادمی کے اول انعام سے نوازا گیا۔پروفیسر وہاب اشرفی نے ’’تاریخ ادب اردو‘‘ میں اول الذکر کتاب کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ ’’کم ازکم میری نگاہ سے ایسا تحقیقی اور تنقیدی کام نہیں گذرا۔یہ تحقیقی و تنقیدی اعتبار سے نئے جہات سے مملوہے‘‘۔ڈاکٹر اعظمی اردو کی قومی اور بین الاقوامی مجلسوں ،سیمیناروں اور جلسوں میں شرکت کرکے بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔

کمنٹ کریں