انسان اور سروائیول کی جنگ

, انسان اور سروائیول کی جنگ

انسانی تاریخ کا اگر ہر پہلو سے مطالعہ کیا جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ انسان ہر دور میں اپنے سروائیول کی جنگ لڑتا آیا ہے اور سروائیول کی یہ جنگ بنیادی طور پہ خوراک کے حصول یعنی معاشیات سے جُڑی ہے۔ قدیم انسان کا یہ معاشی نظام hunter gatherer سوسائٹیز پہ مشتمل تھا اس لیے اس دور کا آرٹ جانوروں کی تصاویر پہ مشتمل ہے۔ شکاری سوسائٹی کے بعد فارمنگ سوسائٹی تشکیل ہوئی، جس میں انسانی نسل لاکھوں سالوں کی خانہ بدوش زندگی گزارنے کے بعد پہلی دفعہ مستقل سکونت والے طرزِ زندگی میں ایوالو ہوئی اور زراعت پہ مشتمل معاشی نظام وجود میں آیا۔ معاشیات کا انسانی بودوباش، آرٹ، سیاست اور مذہب پہ براہ راست اثر ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ معاشی نظام ہی دراصل ان کو تشکیل دیتا ہے۔ غاروں میں کھُدا ہؤا شکاری سوسائٹی کا آرٹ ہو یا فارمنگ سوسائٹی کا، قدیم تہذیبوں کی لکھی داستانیں ہوں یا موجودہ دور کے افسانے ہوں، ہر جگہ ایک بات عیاں ہے کہ معاشی نظام کی ایولیوشن سوسائٹی کو بدلتی چلی گئی۔ قدیم ادب میں موجود لوک داستانیں اُس دور کے مختلف معاشی پہلؤوں پہ بہت اچھی روشنی ڈالتی ہیں جو کہ بظاہر رومانوی داستانوں پہ مشتمل ہیں مگر درحقیقت مختلف معاشی گروہوں کی جدوجہد اور اس جدوجہد کے نتیجے میں معاشرے کے اپنائے گئے عمرانی طرزِ بودوباش کی بہترین عکاس ہیں۔

ریکارڈڈ تاریخ میں دل پسند عورت کے حصول پہ دو مردوں کے مابین جھگڑے کی سب سے قدیم داستان قریباً ساڑھے تین ہزار سال پرانے انانہ، تموز اور اِنکِمدو کے مکالمہ پہ مشتمل ہے۔ انانہ اور اِنکمدو جو کہ زراعت کا دیوتا ہے اور ایک کسان ہے، ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں، لیکن انانہ کا بھائی اوتو (سورج دیوتا) چاہتا ہے کہ انانہ تموز سے شادی کرے جو کہ ایک چرواہا ہے۔ یہ قصّہ دراصل دو پیشوں کی آپسی جنگ پہ مشتمل ہے، اور یہ دونوں شعبے ایک دوسرے پہ اپنی پیشہ ورانہ برتری چاہتے ہیں۔ زراعت بمقابلہ چرواہا گیری پہ مشتمل یہ داستان آنے والے دور کے لٹریچر میں بھی مختلف طریقوں سے نقل ہوتی رہی۔

ہابیل قابیل کی لڑائی، ٹروجن جنگ، رامائن میں سیتا، یا مہابھارت میں کنتی اور دروپدی کے سویمبر ہوں، یہ سب انانہ، تموز اور اِن کمدو کی کہانی سے متاثر داستانیں ہیں جو کہ تاجروں کی آمدوروفت کے ذریعہ دجلہ و فرات کی سرزمین سے نکل کر مشرقِ وسطٰی، برصغیر اور یونان تک پہنچی۔ بائبل میں ہابیل قابیل کے کردار تموز اور اِنکِمدو کے علاوہ سومیرئین چرواہا گیری کے دیوتا ایمیش اور زراعت کے دیوتا اینتن کی لڑائی سے بھی ماخوذ خیال کیے جاتے ہیں۔ جہاں قابیل کسان اور ہابیل چرواہے کے پیشے سے منسلک ہے۔

انانہ کی لو ٹرائ اینگل میں گو وہ خون خرابہ شامل نہیں جو درج بالا مثالوں میں ہے جس کی وجہ برونز ایج اور آئرن ایج کے سیاسی حالات کا فرق بھی ہے۔ یہ داستان جس کا ٹائٹل ہے ‏Inanna Prefers the Farmer

بدوانہ طرزِ زندگی اور مستقل سکونت والے لائف سٹائل کا موازنہ کرتے ہوئے آخر میں زراعت پہ چرواہا گیری کے شعبے کی جیت مقرر کرتی ہے۔

نظم کا جو حصہ پڑھنے کے قابل ہے وہ اوتو اور انانہ کے مکالمہ سے شروع ہوتا ہے جس میں اوتو انانہ کو تموز کے حوالے سے راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔۔

“O my sister, the much possessing shepherd,
O maid Inanna, why dost thou not favor?
His oil is good, his date-wine is good,
The shepherd, everything his hand touches is bright,
O Inanna, the much-possessing Dumuzi . . .,
Full of jewels and precious stones, why dost thou not favor?
His good oil he will eat with thee,
The protector of the king, why dost thou not favor?”

اوتو کے لائے رشتہ سے انانہ یہ کہہ کر انکار لر دیتی ہے

“The much-possessing shepherd I shall not marry,
In his new . . . I shall not walk,
In his new . . . I shall utter no praise,
I, the maid, the farmer I shall marry,
The farmer who makes plants grow abundantly,
The farmer who makes the grain grow abundantly.”

تاحال انانہ کا مکالمہ مکمل حالت میں دستیاب نہیں مگر تحریر کا اسلوب بتاتا ہے کہ وہ اگلی لائنز میں بھی اپنے انتخاب کے حق میں دلائل دے رہی ہے۔ اس کے بعد تموز انانہ کے پاس اپنا مدعا لے کر آتا ہے اور خود کے ٹھکرائے جانے پہ بالکل ویسے ہی احتجاج کرتا ہے جیسا آج کل کے ڈرامہ اور فلموں میں ایک عاشق خود کو ٹھکرائے جانے پہ محبوبہ سے مخاطب ہوتا ہے

“The farmer more than I, the farmer more than I, The farmer what has he more than I?
If he gives me his black garment, I give him, the farmer, my black ewe,
If he gives me his white garment, I give him, the farmer, my white ewe,
If he pours me his first date-wine, I pour him, the farmer, my yellow milk,
If he pours me his good date-wine, I pour him, the farmer, my kisim-milk
If he pours me his ‘heart-turning’ date-wine, I pour him, the farmer, my bubbling milk,
If he pours me his water-mixed date-wine, I pour him, the farmer, my plant-milk,
If he gives me his good portions, I give him, the farmer, my nitirda-milk,
If he gives me his good bread, I give him, the farmer, my honey-cheese,
If he gives me his small beans, I give him my small cheeses;
More than he can eat, more than he can drink,
I pour out for him much oil, I pour out for him much milk;
More than I, the farmer, what has he more than I?”

تموز کے اس بیان میں زراعت اور چرواہا گیری کی فیلڈز کا تقابلی موازنہ کیا گیا ہے کہ اِنکِمدو کی بنائی ہر اچھی چیز کا بہتر متبادل میرے پاس بھی موجود ہے۔اس کے بعد اِن کمدو تموز سے ملتجیانہ انداذ میں یوں مخاطب ہوتا ہے

“Thou, O shepherd, why dost thou start a quarrel?
O shepherd, Dumuzi, why dost thou start a quarrel?
Me with thee, O shepherd, me with thee why dost thou compare?
Let thy sheep eat the grass of the earth,
In my meadowland let thy sheep pasture,
In the fields of Zabalam let them eat grain,
Let all thy folds drink the water of my river Unun.”

اِنکمدو کی التجا اور پیشکش کا تموز پہ اثر نہیں ہوتا اور وہ پہلے سے زیادہ غصیلا ہو کر اسے یہ جواب دیتا ہے

“I, the shepherd, at my marriage do not enter, O farmer, as my friend,
O farmer, Enkimdu, as my friend, O farmer, as my friend, do not enter.”

آخرکار تموز کے غصہ کے آگے اِنکمدو ہار مان جاتا ہے اور یہ کہہ کر انانہ سے دست بردار ہو جاتا ہے کہ

“Wheat I shall bring thee, beans I shall bring thee,
Beans of . . . I shall bring thee,
The maid Inanna (and) whatever is pleasing to thee,
The maid Inanna . . . I shall bring thee.”

یوں اس نظم کا اختتام چرواہا گیری کے دیوتا کی فتح اور زراعت کے دیوتا کی شکست پہ ہوتا ہے۔ اس نظم کا ایک ممکنہ پسِ منظر اس دور کی سوسائٹی میں کھیتی باڑی کے شعبے سے منسلک سیٹلڈ آبادی اور خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے والے چرواہوں کی آپسی معاشی چپقلش بھی ہے۔ اسی agriculture v/s shepherd زندگی کے پسِ منظر پہ مبنی ایک اور سومیرئین قصہ “مارتُو” کی شادی کا بھی ہے۔ مارتُو بھی دیوتا کی اولاد اور خانہ بدوش کمیونٹی amurru کا دیوتا تھا۔ یہ وہ خانہ بدوش لوگ تھے جو پہاڑوں پہ مقیم تھے اور میدانی علاقوں کے کسان آباد کاروں پہ حملے کرتے تھے۔ یہ قصہ بھی تین ہزار سال قبل مسیح دور کا ہے اور اس قصہ کے آخر میں بھی فتح چرواہے کی ہی ہوتی ہے۔ The Marriage of Martuنامی یہ داستان یوں شروع ہوتی ہے

مارتو کے شہر نینَب میں دیوتا کو راشن دان کیا جاتا تھا۔ سنگل آدمی کو ایک آدمی کے حصہ کا، شادی شدہ کو دو کے حصے کا اور اولاد والے کو اولاد کی تعداد کے برابر راشن دیوتا کو چڑھانا ہوتا تھا۔ مارتو تھا تو غیر شادی شدہ مگر چونکہ وہ دیوتا تھا اس لیے اسے دو افراد کے حصہ کا راشن خیرات کرنا ہوتا تھا۔ ایک دن مارتو اپنی والدہ نن ہورسگ کے پاس گیا اور اسے کہا کہ میرے سب دوستوں کی شادی ہو گئی ہے، ان کے بچے پیدا ہو گئے ہیں اور سب دوستوں میں اک میں اکیلا غیر شادی شدہ ہوں، لیکن راشن سب سے زیادہ مجھے دینا ہوتا ہے۔ اگر تم مجھے بیوی لا دو تو میں اپنا راشن کا حصہ تمہیں دیا کروں گا۔ نِن ہورسگ مارتو سے کہتی ہے کہ اسے اجازت ہے کہ وہ اپنی پسند کی بیوی لے آئے۔ مارتو کے شہر نِینَب میں ایک میلہ لگتا ہے۔ اس میلہ میں کزالہ شہر کا دیوتا نومُشدہ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ شرکت کرتا ہے۔ میلہ میں مارتو اپنے سورمانہ جوہر دکھا کر نومُشدہ کا دل جیت لیتا ہے، نومُشدہ اسے جواہرات سے نوازنا چاہتا ہے مگر مارتُو اس سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگتا ہے جو نومُشدہ اور اس کی بیٹی منظور کر لیتے ہیں۔ نظم کے اس مقام پہ نومُشدہ کی بیٹی کی دوست مداخلت کرتی ہے اور یہ کہہ کر لڑکی کو مارتو سے شادی کرنے سے منع کرتی ہے

Now listen, their hands are destructive and their features are those of monkeys;
he is one who eats what Nanna forbids and does not show reverence.
They never stop roaming about ……, they are an abomination to the gods’ dwellings.
Their ideas are confused; they cause only disturbance.
He is clothed in sack-leather ……, lives in a tent, exposed to wind and rain, and cannot properly recite prayers.
He lives in the mountains and ignores the places of gods, digs up truffles in the foothills, does not know how to bend the knee, and eats raw flesh.
He has no house during his life, and when he dies he will be lied unburied.
My girlfriend, why would you marry Martu?”
Adjar-kidug replies to her girlfriend: “I will marry Martu!”

یوں اس نظم کے اختتام میں بھی نظم لکھنے والا شاعر چرواہانہ طرز زندگی کو شہری بودوباش پہ فتح دے جاتا ہے بالکل ویسے جیسے انانہ اور تموز کی شادی کے معاملہ میں چرواہا کسان سے جیت جاتا ہے۔ ان داستانوں میں عورت کا کردار ان قصوں کو محض romanticise کرنے کی حد تک ہے، اصل مرکزی خیال دو گروہوں میں سے ایک کی معاشی برتری دکھانا ہے، اور یقیناً یہ برتری اسی گروہ کی ہوئی ہے جس کے ہاتھ میں قلم تھا اور قلم اسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے جس کے پیچھے مقتدر حلقے کی سپورٹ ہو اور مقتدر حلقہ وہ ہوتا ہے جو معاشی نظام کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

تحریر: جون بخاری

شیئر کریں

کمنٹ کریں