ہائپر ٹینشن

ہائی بلڈ پریشر ہائپرٹینشن ڈپریشن

خون کا دباؤ یا بلڈ پریشر جسے مختصراً بی پی (B.P) بھی کہتے ہیں اس دباؤ کا نام ہے جس کا سامنا دل کو اپنے سکڑتے اور پھیلتے وقت خون کی نالیوں کی مذاحمت کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے…..

دراصل خون کی نالیاں جتنی تنگ ہونگی خون کو ان میں سے گزرتے وقت اتنی ہی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا…جب خون کا دباؤ ایک معیاری حد سے بڑھ جائے تو ایسی کیفیّت کو ہائی بلڈ پریشر یا ہائپرٹینشن (Hypertention) کہتے ہیں.

دل کو سکڑتے وقت جس دباؤ کا سامنا ہوتا ہے اسے #سِسٹولک_بلڈ_پریشر (Systolic_Blood_Pressure#) کہتے ہیں ….اور اسے پھیلتے وقت جس دباؤ کا سامنا ہوتا ہے اسے #ڈایا_سٹولک_بلڈ_پریشر (#Diastolic_Blood_Presure) کہتے ہیں

دل کے سکڑنے کا معیاری دباؤ 120 ملی میٹر مرکری جبکہ پھیلنے کا معیاری دباؤ 80 ملی میٹر مرکری ہوتا ہے….اگر یہ دونوں دباؤ یا ان میں سے کوئی ایک بھی زیادہ یا کم ہو تو پھر بی پی کنٹرول کرنے کے طریقے اپنانا انتہائی ضروری ہوجاتا ہے۔

بعض اوقات عارضی طور پر بی پی کم یا زیادہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میڈیکیشنز کی ضرورت نہیں ہوتی …کیونکہ یہ کسی وقتی طبیعت کی خرابی یا جذباتی کیفیّت کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے لہٰذا اس کیفیّت کے نارمل ہو جانے پر یہ خود بخود اپنی معیاری حالت پر آجاتا ہے۔

اگر مستقل بلڈ پریشر کا لیول High رہے اور اسکو کنٹرول نا کیا جائے تو یہ بہت سی سیریس کمپلیکیشنز جیسا کہ ہارٹ اٹیک اور فالج و دیگر سنگین مسائل کا موجب بن سکتا ہے

لہٰذا درج ذیل علامات سامنے آنے پر فوراً ڈاکٹر کے پاس تشریف لے جائیں …..👇

👈 سر میں درد
👈 سانس کا پھولنا
👈 ناک کی نکسیر پھوٹنا
👈 بہت زیادہ پسینہ بہنا
👈 چکر آنا
👈 سینے کا درد
👈 نظر دھندھلانا
👈اور پیشاب میں خون آنا!!
👈 بی پی کنٹرول کرنے کے لئے درج ذیل طریقہ کار ہوتے ہیں
👈 بزریعہ میڈیکیشنز
👈 بزریعہ احتیاط اور طرزِ زندگی میں تبدیلی

دراصل طبّی معائنہ اور میڈیکل ہسٹری جاننے کے بعد ہی یہ ڈیساِئڈ کیا جاتا ہے کہ اسکو کیسے کنٹرول کیا جائے ….بعض اوقات نمک اور کولیسٹرول والی اشیاء سے پرہیز اور ورزش وغیرہ سے کافی بہتری ملتی ہے۔ لیکن اگر بلڈ پریشر کے ہائی رہنے کی وجہ جسم میں موجود کوئی بیماری ہے تو سب سے پہلے اس بیماری کا علاج کیا جاتا ہے …پھر محض احتیاط اور طرزِ زندگی کی تبدیلی سے کافی نہیں ہوتی اسلئے پھر ساتھ ہی ساتھ بی پی کنٹرول کرنے کی ادویات بھی تجویز کی جاتی ہیں…!

میڈیکیشنز تھراپیز

ایلوپیتھک میں درج ذیل میڈیکیشنز تھراپیز کے ذریعے بلڈ پریشر کو کنٹرول کیا جاتا ہے

👈 بیٹا بلوکر (Beta-Blockers)

اس کی وجہ سے خون کی نالیوں میں کم خون جاتا ہے جو ان نالیوں کے دباؤ میں کمی کا باعث بنتا ہے..

👈 پیشاب آور یا ڈائی یوریٹک آدویات (Diuretic)

جسم میں سوڈیم اور سیال مادوں کی زیادہ مقدار بی پی کے بڑھنے کی ایک وجہ ہوتی ہے… پیشاب آور ادویات گردوں سے سوڈیم کی زیادہ مقدار خارج کرنے میں مدد دیکر اور پیشاب کی مقدار بڑھاکر جسم سے فالتو سیال مادوں کے اخراج میں اضافہ کرکے بی پی میں کمی لاتی ہیں….!

👈 مانع اینجیوٹینسن (Angiotensin inhibitors)

انجیو ٹینسن ہمارے جسم میں موجود ایک ایسا کیمیکل ہے جو خون کی نالیوں کو سخت اور تنگ کرتا ہے….مانع انجیو ٹینسن ادویات اس کیمیکل کی پیداوار میں رکاوٹ ڈال کر نالیوں کو پھیلنے میں مدد دے کر ان کی گنجائش میں اضافہ کرکے بی پی میں کمی لانے میں مددگار ہوتی ہیں….ان کے علاوہ اور بھی کئی اقسام کی ادویات جیسے کہ مانع انجیوٹینسن ٹو ریسیپٹر(Angiotensin II Receptor Blockers)..کیلشیئم چینل بلوکر (Calcium Channel Blockers)…اور الفا ٹو ایگونسٹ (Alpha-2 Agonists) بلڈ پریشر کم کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔

اسکے علاوہ اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی اور بی پی کنٹرول کرنے اور دل کو صحتمند رکھنے کے طریقے اور غذائیں درج ذیل ہیں۔

👈 پھل اور سبزیاں….
👈 چھلکے سمیت اناج کے دانے….
👈 اور زیادہ چربیلے گوشت کی بجائے پرندوں اور مچھلی کے گوشت کا استعمال…
👈 ہلکی ورزش کا معمول اپنانا….
👈 وزن کو کنٹرول کرنا….
👈 مطمئن رہنا اور خوامخواہ کے ذہنی دباؤ… اور پریشانی سے بچنا…
👈 سگریٹ اور شراب نوشی سے پرہیز…
👈 پوری نیند اور اچھے سماجی تعلقات پر… استوار خوش و خُرّم زندگی گزارنا…..!!

👈#ہائپر_ٹینشن_کا_نیچرل_علاج

ہائپر ٹینشن کا نیچرل علاج #Apple ہے ….!!یہ ایک جادوئی پھل ہے جو اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز، فائبر اور پولی فینولز کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے جو صحت کے لیے انتہائی زبردست فوائد کے حامل ہیں

پولی فینولز بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لاتا ہے اور کولیسٹرول کو کم کرتا ہے….اور یہ Anti-Atherosclerosis خصوصیات کا حامل ہے جو شریانوں اور وریدوں کے اندر موجود سختی کو کم کر کے دل کے امراض سے محفوظ رکھتا ہے…اسکے علاوہ دماغی ٹرانسمیٹر Acetylcholine کو تحفظ فراہم کرکے الزائمر کے خطرات کو کم کرتا ہے۔

سیب کینسر اور دمہ جیسی امراض سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں مبتلا مریضوں کو ان سے لڑنے میں بھی انتہائی مدد فراہم ہے …یہ زیابیطس کے لیے بھی انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے اور زیابیطس ٹائپ 2 کے خطرات کو بھی کم کرتا ہے۔

روزانہ ایک سیب استعمال کرنے کا اثر ان میڈیسنز جیسا ہوتا ہے جو بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں….اسی لئے مشہور کہاوت ہے کہ”An Apple a Day keeps the Doctor Away”..!!

نوٹ: یہ تحریر مبین احمد کی تصنیف ہے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں