انٹرویو : مستنصر حسین تارڑ

انٹرویو نگار : ڈاکٹر قرۃالعین طاہرہ

, انٹرویو : مستنصر حسین تارڑ

اک مسافر کہ جسے تری طلب ہے
مستنصر حسین تارڑ
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے۔۔۔
****

سوال : پکھیرو کے بعد کوئی اور پنجابی تخلیق سامنے نہیں آئی، وجہ؟
جواب : میں سمجھتا ہوں کہ مجھے بہاؤ اور راکھ پنجابی میں لکھنے چاہیے تھے۔ اُردو میری اپنی زبان نہیں ہے۔ اپنائی ہوئی زبان ہے۔ لیکن بہاؤ اور راکھ میں نے پنجابی میں نہیں اُردو میں لکھے۔ اس کے پیچھے وہ خواہش تھی کہ میں اتنی محنت کر رہا تھا تو میں چاہتا تھا کہ یہ زیادہ لوگوں کے ہاتھوں میں جائے۔ زیادہ ذہنوں تک اس کی رسائی ہو۔ پنجابی میں لکھ کر میں اپنی تخلیق کو محدود نہیں کرنا چاہتا تھا۔ دوسرا میں سمجھتا ہوں کہ پکھیرو پنجابی میں لکھ کر میں نے اپنا حصہ شامل کر لیا ہے۔ میں نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔ اب پچھلے چند سالوں سے میں محسوس کر رہا ہوں اور بہت شدت سے محسوس کر رہا ہوں کہ اُردو کا شمار بڑی زبانوں میں نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے ہم زیادہ لوگوں تک نہیں پہنچ رہے۔ بڑی زبان میں لکھنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ زیادہ لوگوں تک زیادہ ملکوں تک اس کا دائرہ پھیلتا جاتا ہے، اور اس کی دور دراز ممالک تک رسائی ہونے لگتی ہے۔ پرشین، عربی، فرانسیسی، جرمن اور انگریزی، ظاہر ہے اُردو ان کے برابر نہیں پہنچ سکتی۔ اسی لیے وہ زیادہ لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہی۔ مجھے اکثر غیر ملکی ادب پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ میں اس ادیب سے تو بہتر لکھ رہا ہوں، لیکن زبان کی محدودیت کی بنا پر پہنچ نہیں پا رہا۔ بی بی سی پر ’’بہاؤ‘‘ سے متعلق گفتگو ہوئی تو گارسیا مارکیز کے حوالے سے بھی بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔ اب اس شخص کو تو پتہ تھا کہ بہاؤ کیا ہے لیکن عام پڑھنے والے تو نہیں جانتے کہ میں نے کیا لکھا ہے۔ عبداللہ حسین نے اُردو میں اداس نسلیں لکھا، پھر اس نے چائنیز میں ترجمہ شائع کیا۔ فلم بھی بنی۔ پورے انگلستان میں دھوم ہے اس کی۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ پوری دنیا جانتی ہے اس لیے نتیجتاً اب عبداللہ حسین انگریزی میں لکھ رہا ہے، کیونکہ وہ زیادہ لوگوں تک پہنچنا چاہتا ہے۔


سوال : پنجابی زبان کو سب سے زیادہ نقصان پنجابیوں ہی نے پہنچایا۔ آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب : پنجابی اظہار کی بے پناہ قوت رکھتی ہے۔ بڑی زبان ہے۔ مشرقی پنجاب میں اس میں پی۔ ایچ۔ ڈی بھی ہو رہی ہے۔ سائنس پڑھائی جا رہی ہے۔ تحریک پاکستان اور پھر قیام پاکستان کے بعد اُردو کو اپنایا گیا کہ یہ قوم کی ضرورت تھی، چنانچہ پنجابیوں نے اپنے ماضی کو، اپنی زبان کو ڈِس اون کیا۔ وطن کی محبت میں، اُردو کی محبت میں ڈاکٹر سید عبداللہ نے کبھی پنجابی میں بات نہیں کی تھی جبکہ میں ہمیشہ انہیں چڑانے کے لیے ہی شاید ہمیشہ ان سے پنجابی میں بات کرتا تھا۔ مختار مسعود گجرات کے رہنے والے ہیں۔ وہ کبھی پنجابی میں بات نہیں کرتے۔ ڈاکٹر عبدالسلام سے پوچھا کہ پنجابی کیوں نہیں بولتے۔ کہنے لگے کہ میں جو کام کر رہا ہوں اس کے لیے مجھے پنجابی کو بھولنا لازمی ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں پنجابی میں لکھتا تو زیادہ بہتر لکھتا۔ ہمیں پنجابی ہونے میں یہ آسانی تھی کہ ہم اہلِ زبان ہیں۔ میری والدہ بہت خوبصورت اور بر محل محاورے بولا کرتی تھیں، ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔


سوال : تشبیہیں، استعارے اور علامات کہانی کو خوبصورت بنانے کے لیے یا اپنی بات کی وضاحت اور شدت ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں؟
جواب : عبارت کو خوبصورت بنانے کا قائل نہیں ہوں۔ میرے کردار شدت پسند ہیں۔ وہ انکسار رکھنے والے اور دھیمے لوگ نہیں ہیں۔ چنانچہ میری تحریروں میں استعارے اور محاورے کم ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں اردو کا محاورہ متروک ہو چکا ہے۔ آج کے حوالے سے ختم ہو چکا ہے جو اُردو کے محاورے تھے، وہ سب سرحد پار رہ گئے۔ وہ پھل وہ پرندے وہ درخت وہ ماحول سب اُدھر رہ گیا۔ آج اگر میں لکھتا ہوں کہ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی، تو میں نہیں جانتا کہ رادھا کون تھی۔ یا الٹے بانس بریلی کو تو مجھے نہیں معلوم کہ اس کے پیچھے کیا کہاوت یا رمز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں شعوری طور پر محاورے سے اجتناب برتتا ہوں۔ البتہ مزاح لکھتے ہوئے محاورے استعمال کرتا ہوں اور اس سے نئی نئی شکلیں سامنے آتی ہیں پھر میرا خیال کہ وہ تخلیق کار محاورہ استعمال کرتا ہے جسے اپنی تحریر پر اعتماد نہیں ہوتا۔ وہ محاورے کی مدد سے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی، سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔


سوال : آپ نے ناول بہاؤ کا مرکزی خیال پہلے چار صفحوں میں ایک پرندے کی علامت کے ذریعے بیان کر دیا ہے۔۔۔
’’اس کی خواہش الگ تھی اور اس کی اُڑان کا راستہ اس سے جدا تھا‘‘ (صفحہ ۸)
انسان تمام زندگی اسی طور گزارتا ہے۔۔۔ جو وہ کرنا چاہتا ہے وہ کبھی نہیں کر پاتا اور جو کچھ وہ تمام زندگی کرتا رہتا ہے، وہ کرنا نہیں چاہتا تھا۔ کیا اشرف المخلوقات کی تقدیر یہی ہے؟
جواب : میں اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا کہ تقدیر کیا ہے۔۔۔ خواہش الگ ہوتی ہے۔ اختیار الگ۔۔ وہی بات ہے کہ جو چاہیں سو آپ کریں ہم کو عبث بدنام کیا۔ پرندہ کہیں اور جانا چاہتا ہے۔ موت اسے کہیں اور لے جاتی ہے۔ بہاؤ اور راکھ کے کردار بہادر ہیں لیکن بے بسی موجود ہے۔ ملاح کی نا اہلی کے باعث جہاز ڈوب رہا ہے اور مسافر بے بس ہیں۔۔۔ یہی زندگی ہے۔


سوال : قرۃالعین حیدر کے آگ کے دریا اور مستنصر حسین تارڑ کے بہاؤ میں کیا فرق ہے؟
جواب : آگ کا دریا کلاسیک کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ بہاؤ اور آگ کا دریا کا موازنہ نہیں ہو سکتا، ہونا بھی نہیں چاہے۔۔۔ بہاؤ کو ابھی صرف چھ برس ہوئے ہیں۔۔۔ آگ کا دریا ایک بڑا ناول ہے۔۔۔ اس بات کو تسلیم کیا جا چکا ہے۔۔۔ بہاؤ کی آج کیا اہمیت ہے اور آئندہ کیا اہمیت ہے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ بعض مرتبہ دس پندرہ بیس برس بعد کسی تخلیق کی قدر و قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بعض مرتبہ اس کی اہمیت صفر رہ جاتی ہے۔۔۔ بہرحال ان دونوں کا موازنہ مشکل ہے۔۔۔ بنیادی طور پر جب میں نے بہاؤ لکھنے کا ارادہ کیا تو خیال تھا کہ ایک تہذیب کے خاتمے کے بعد اس کا دوسرا حصہ جو میں شروع کروں گا وہ ۱۹۹۲ء تک آ جائے گا یعنی قدیم اور جدید کے درمیان جو درمیانی عرصہ ہے اسے نہیں چھیڑوں گا۔ پلان میرا یہی تھا لیکن پھر صرف یہ سوچ کر کہ ہمارے ہاں موازنہ کرنے کی ریت موجود ہے۔۔۔ اگر میں اپنے پلان کے مطابق ناول کو تشکیل دیتا تو اس کا فوراً آگ کا دریا کے ساتھ موازنہ شروع ہو جاتا کہ وہ بھی عہدِ قدیم سے آج کے عہد تک جاتا ہے۔۔۔ چنانچہ میں نے اس کا دوسرا حصہ بالکل الگ کر کے ’’راکھ‘‘ کے عنوان سے لکھا۔۔۔ پھر میرے اور قرۃ العین کے درمیان فرق ہے۔۔۔ میری اس زمین سے گہری وابستگی ہے۔ میں اپنی مٹی سے مواد اخذ کرتا ہوں ان کی رسائی سمر و قند و بخارا تک ہے۔۔۔ میرا ذہنی و قلبی رشتہ صرف اس سر زمین سے ہے۔۔۔ ہمارا مقابلہ کسی صورت میں نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ ہم مختلف راہوں کے مسافر ہیں۔۔۔


سوال : دیہی زندگی کا مشاہدہ گہرا ہے یا تہذیبی تاریخ کا مطالعہ ڈوب کر کیا ہے۔۔۔ جزئیات کے بیان میں اس بات کا احساس ہوتا ہے۔۔۔ مثلاً پودوں، جھاڑیوں ہی کا تذکرہ ہو تو اس میں پھوگ، کندن، سرکنڈے، دھامن، کھیل لانا۔۔۔ سروٹ، کاہی، سلما چھپری کی بوٹی وغیرہ؟
جواب : میں محسوس کرتا ہوں کہ اُردو ادب میں قطعی طور پر ہماری فصلیں، پھل، جھاڑیاں، درخت، پھول یا پانی کی جو مختلف شکلیں اور رنگ ہیں انھیں بیان نہیں کیا گیا۔ ہمارا ادیب زراعت سے نابلد ہے۔ زراعتی ملک سے تعلق ہے لیکن نہیں جانتا کہ فصل میں سٹہ کیسے پڑتا ہے۔ کب پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کی اپنی سرزمین سے واقفیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ترکی کا مصنف یا شرکمال اپنی سرزمین پر اتنا گھوما ہے کہ اگر اس کا کردار کبھی جنگل میں کسی ندی نالے سے پانی بھی پیتا ہے تو لمحہ بھر کے اس مشاہدے میں وہ تمام جڑی بوٹیوں، کیڑے مکوڑوں اور جھاڑیوں کو بیان کر جاتا ہے۔۔۔ ہمارے ادیبوں کے نزدیک لینڈ سکیپ کی قطعی اہمیت نہیں ہے۔۔۔ ہمارے ادیبوں نے اگر کبھی لکھا بھی تو لکھنوی انداز میں، اجنبیت کے ساتھ لکھا ہے۔۔۔ جذب ہو کر نہیں لکھا۔۔ مقامی تہذیب سے اجتناب برتا ہے۔۔۔ جہاں تک میرا تعلق ہے۔۔۔ میں کسان ہوں۔۔۔ میرے دادا ہل چلاتے تھے۔۔۔ میرے والد نے زراعت کے بارے میں ۲۰، ۲۵ کتابیں لکھی ہیں۔۔۔۔ والدہ روز مرہ کی گفتگو میں بے تکلف محاورے کا استعمال کرتی تھیں اور ان تمام محاوروں کا تعلق زمین سے، پرندوں اور درختوں سے ہوتا تھا۔۔۔۔ میرے اندر یہ تمام چیزیں موجود ہیں یہ تو باتیں ہوئیں اپنے تجربے کی… تو بہاؤ کے لیے مجھے جھاڑیوں کے ناموں کے لیے بہت تحقیق کرنا پڑی۔ کون سی جھاڑیاں اس زمانے میں تھیں۔ بہاؤ کی بستی میں نے خود آباد کی تھی۔۔۔ وہاں کے جنگل بیلے میں نے تخلیق کیے تھے۔۔۔ درخت جانور جھاڑیاں دلدل، دریا سب میری تخلیق تھے اور اس تخلیق میں مجھے تحقیق سے بہت مدد لینی پڑی۔۔۔


سوال : بہاؤ ایک تحقیقاتی تخلیق ہے، چونکہ یہ ناول ہے اس لیے آپ نے حوالہ جات کی، کتب کی فہرست نہیں دی، لیکن قاری مطالعے کے دوران اس حقیقت سے آشنا ہوتا ہے کہ آپ نے گہرے مطالعے کھوج اور تحقیق کے بعد اسے تخلیق کیا ہے۔ کیا آپ بتانا چاہیں گے کہ آپ کے ماخذ کیا تھے۔ جبکہ یہ بات بھی علم میں ہے کہ ’’بہاؤ‘‘ کا عہد لکھی ہوئی تاریخ سے باہر کا ہے۔ یعنی یہ تاریخ نہیں تخلیق ہے۔ ایسی تخلیق جو تاریخ کا حصہ ہے؟
جواب : بہاؤ کے علاوہ بھی جو اسی قسم کے ’’تحقیقی ناول ‘‘ لکھے گئے ہیں۔ اس میں ناول نگار کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی ساری تحقیق ناول میں کھپا دے اور یوں قاری کو متاثر کرنے کے لیے وہ سارے ہی حوالے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایک ایسی چیز تھی کہ میں اس سے بچنا چاہتا تھا۔ یعنی میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ قاری کو یہ احساس ہو کہ ناول نگار نے بہت زیادہ تحقیق کی ہے۔ بلکہ ہلکا سا احساس ہو، شائبہ ہو، تحقیق تخلیق سے الگ ہو کر اپنا تعارف نہ کروانے لگ جائے۔ وہ ماحول کا جزو بن کر کہانی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھے۔ اب رہی یہ بات کہ اس کے تحقیقی ماخذ کون سے تھے تو ایک تو جناب ابن حنیف، ملتان نے میری بہت رہنمائی کی۔ ویدوں کے انگریزی ترجموں سے، خصوصاً ً دریاؤں کے حوالے سے، اس سے مجھے بہت مدد ملی۔ دریائے سرسوتی ہے یا مختلف دریا اور شہر ہیں جو نابود ہو چکے ہیں۔ ان سے متعلق بہت کچھ پڑھا۔ سندھ کی تہذیب پر جو کتابیں تھیں یا مصری تہذیب کے بارے میں جو تحقیق تھی، پھر یہ تہذیب زمین تک ہی محدود نہ تھی۔۔۔ میں نے پرانے مذاہب کا بھی مطالعہ کیا۔۔۔ خوابوں کی تعبیریں کیا کی جاتی تھیں۔۔۔ سبھی حوالوں سے میں نے پڑھا۔۔۔


سوال : بہاؤ تاریخ اور تخیل کا کرشمہ ہے۔۔ گہرا تخیلاتی مشاہدہ اور مطالعہ اس تخلیق کا باعث ہوئے۔ آپ کیا کہتے ہی؟
جواب : بہاؤ متھ ہے، تاریخ نہیں ہے۔ یہ متھ میں نے خود تخلیق کی ہے اور متھ تبھی تخلیق کی جا سکتی ہے جب حقائق پر بنیاد رکھی جاتی ہے۔ کہیں نہ کہیں حقیقت ہوتی ہے۔ سرسوتی خشک ہو گیا۔ یہ حقیقت تھی اور یہی حقیقت بہاؤ کی بنیاد ہے۔۔۔


سوال : برتن بنانے کے لیے مٹی کتنے مراحل سے گزرتی ہے۔ اس کا تفصیلی تذکرہ اس ناول (بہاؤ) میں موجود ہے کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ معلومات دینے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ یہ سب تفصیل، واقعات کا حصہ معلوم ہوتی ہے پھر برتنوں کی اقسام کے نام بھی موجود ہیں۔ جزئیات نگاری اس ناول کا وصف قرار پاتا ہے یا اکتاہٹ عطا کرتا ہے۔ اپنے ہی قاری کی حیثیت سے آپ کیا کہیں گے، جب کہ ایک عام قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ آپ خود اس زمانے میں غیر مرئی روپ میں موجود تھے جو دیکھتے تھے لکھتے جاتے تھے ۔
جواب : کسی قدیم تہذیب کا مطالعہ کریں سب سے پہلے جو چیز سامنے آئے گی وہ برتن ہوں گے ۔ موہنجو ڈارو اور ہڑپہ سے جیسے برتن ملے ویسے ہی قلعہ دراوڑ سے ٹھیکریاں ملیں ۔ دوسری چیز ہے اینٹ ۔ ویسی اینٹ آج تک اس فارم میں نہیں بنی۔۔۔ برتن بنانے کا ہمارے گاؤں میں آج بھی وہی طریقہ ہے جو صدیوں بلکہ ہزاروں سال پہلے تھا۔ ہڑپہ، موہنجوڈارو چلے جائیں وہی گھڑا جو وہاں دستیاب ہوا تھا آج بھی ہمارے کمہار ویسا ہی گھڑا بنا رہے ہیں۔۔ ہمارے ہاں بھی اکثر گھڑے پر مچھلی کی تصویر بنا دی جاتی ہے۔ چار ہزار سال پہلے کے گھڑے پر بھی مچھلی کی شبیہ موجود تھی۔۔۔ مچھلی سمبل ہے وہ لوگ بھی اس علامت کو سمجھتے تھے۔۔۔ ظاہر ہے مجھے تو ناول لکھتے ہوئے بھی اچھا لگ رہا تھا، پڑھتے ہوئے میں کیوں بے مزا ہوتا۔۔۔۔ رہی یہ بات کہ قاری سمجھتا ہے کہ میں ہزاروں سال پہلے وہاں غیر مرئی روپ میں موجود تھا تو یہ میرا اثبات ہے۔۔۔


سوال : بہاؤ کے ہر باب کے نمبر دے دیے جاتے یا عنوان قائم کر دیے جاتے تو کیا قاری کے لیے سہولت نہ ہو جاتی۔
جواب : بہاؤ کا مطلب ہی ختم ہو جاتا۔۔۔


سوال : قحط کا عذاب کس طرح پودوں، پرندوں، جانوروں اور انسانوں کو متاثر کرتا ہے۔۔۔ کس طرح سب فنا کی وادی میں اتر جاتے ہیں یا نقل مکانی کی کوشش کرتے ہیں اس کی وضاحت اچھے انداز میں کی گئی ہے۔۔۔ اس ناول میں ورچن کے زور دینے کے باوجود کہ اب یہاں صرف موت ہے پا روشنی وہی رہی۔۔۔ کیا عورت زمین کے ساتھ زیادہ وفادار ہے؟ جبکہ دوسری طرف سمرو بھی اپنے چھپر میں تنہا پڑا تھا۔۔ تو کیا وفا کا تعلق عورت یا مرد سے نہیں ہوتا بلکہ فرد کی انفرادیت سے ہوتا ہے۔۔۔
جواب : عورت گوڈس ہے۔۔۔ دھرتی ماتا ہے۔۔۔ وہی فیصلے کرنے کی قوت رکھتی ہے۔۔۔ پا روشنی تو زمین کا سمبل ہے۔۔۔ وہ تو کہیں جا ہی نہیں سکتی۔۔۔
وہ سوچ ہی نہیں سکتی کہ وہ اس سرزمین کو چھوڑ کر کہیں اور چلی جائے جہاں وہ دھرتی ماتا نہیں ہے۔۔۔ جو امید ہے وہ صرف پا روشنی کے پاس ہے۔۔۔ سمرو بھی ڈپریشن میں ہے۔۔۔ یا روشنی کی مٹھی میں چند دانے موجود ہیں۔ یہی امید ہے کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ ان چند دانوں سے نئی زندگی شروع کی جا سکتی ہے۔ سمرو اور پا روشنی کے تعلق سے نسل آگے چلے گی اور بستی ویران نہیں ہو گی۔۔۔


سوال : بہاؤ کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈاکٹر رشید امجد نے تین سوال اٹھائے ہیں:
۱۔ کیا بہاؤ صرف اپنی جڑوں کی تلاش کا ایک تصوراتی تخیلاتی سفر ہے؟
۲۔ ہزاروں سال پہلے دریائے گھاگرا، جسے ویدوں نے سرسوتی بنا دیا تھا، کے کنارے پر آباد بستی کا نوحہ ہے؟
۳۔ تاریخ کے غیر تحریری ریکارڈ کو درست کرنے کی ایک تخلیقی کاوش ہے؟
جواب : بہاؤ نوحہ نہیں ہے۔ یہ جڑوں کی تلاش بھی نہیں ہے۔ تلاش وہ کرتے ہیں جنھیں معلوم نہ ہو کہ ان کا ماضی کیا تھا۔ ان کے آباء و اجداد کون تھے۔۔۔ یہ روسیوں اور امریکیوں نے جڑوں کی تلاش کا رجحان پیدا کیا ہے جنھیں اپنے آبا کی خبر نہیں ہے۔ ہم تو تسلسل میں ہیں۔۔۔
اس سلسلے میں کہیں ابہام نہیں ہے کہ ہمارا سلسلہ کہاں سے شروع ہوا تھا۔ یوں بہاؤ، جڑوں کی تلاش بھی نہیں ہے۔۔ بہاؤ لکھتے ہوئے میں نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی کہ مجھے کیا ثابت کرنا ہے۔۔۔ میں تاریخ اور تحقیق کے حوالے سے صرف اتنی تصحیح کرنا چاہتا تھا کہ ہمارے ہاں سندھ تک محدود کر دیا گیا ہے Indus Valley Civilization کو۔۔۔ جان مارشل بھی Indus Valley Civilization نہیں کہتا بلکہ ہڑپہ کہتا ہے۔۔۔ انڈس یا مؤہنجو ڈارو نہیں۔۔۔ چولستان پنجاب کا حصہ ہے لیکن تاریخی حقیقت کو نظر انداز کر کے سب کچھ سندھ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ ۔ یہ سب لاعلمی کی وجہ سے ہوا۔۔۔


سوال : ’’راکھ‘‘ پاکستان کی پچاس سالہ تاریخ ہے۔۔۔ آپ ان پچاس سالوں میں کس دور کو پاکستان کا سنہری دور کہہ سکتے ہیں۔۔۔ کیا اہلِ پاکستان، جشن طلائی منانے میں حق بجانب تھے؟
جواب : کسی قسم کا جشن منانے میں حق بجانب نہیں ہیں۔ سنہری دور اتنی آسانی سے نہیں آ جاتا۔۔۔ سنہری دور کے لیے یہ دیکھا جانا چاہیے کہ کسی ملک کی اقتصادی، سیاسی یا ثقافتی صورت حال کیا ہے۔۔۔ پھر ان میں سے کون سا شعبہ بہتر ہے۔۔۔ پاکستان میں تو کسی دور کو بھی کسی شعبے کو بھی بہتر نہیں کہا جا سکتا۔۔۔ اس لیے سنہری دور کی اصطلاح ہی بے معنی ہے۔۔۔ سنہری دور تو وہ ہوتا ہے کہ جب آپ پوری دنیا کو اقتصادی طور پر، سیاسی طور پر ادبی طور پر متاثر کرتے ہیں۔۔۔ ہم تو اپنا نام بھی نہیں دے سکتے۔۔۔ ہم تو اپنی شناخت بھی قائم نہیں کر سکتے۔۔ پھر دوسری بات یہ کہ کیا اس پچاس سالہ تاریخ سے ہم نے مشرقی پاکستان کو الگ کر دیا ہے۔۔ اسے ابتدا ہی سے بنگلہ دیش کی حیثیت سے تسلیم کر رہے ہیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ۱۹۷۱ء سے ۱۹۹۸ تک ہماری تاریخ تو چھبیس سال بنتی ہے۔ ہم ۲۶، ۲۷ سال کا جشن تو منا سکتے ہیں، پچاس سال کا نہیں۔۔۔


سوال : راکھ کا ہیرو مشاہد، کہیں کہیں مستنصر معلوم ہوتا ہے۔۔۔ خصوصاً ً بچپن یا لڑکپن میں اور جوانی میں بھی کسی کسی مقام پر، آپ کیا کہیں گے؟
جواب : مجھے یہ نقصان ہوا کہ بیشتر لوگ جو میرے قاری ہیں۔۔۔ میری زندگی سے بہت واقف ہیں۔۔۔ میڈیا کا بھی حصہ ہے۔۔۔ ادبی صفحات اتنی تفصیل سے ادیبوں شاعروں کے بارے میں کہنے لگے ہیں۔۔۔ کیا لکھ رہے ہیں یہ الگ بحث ہے، تو قاری میرے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے۔۔۔ پھر سفرنامے اتنے لکھے ہیں جو آپ بیتیاں ہی ہیں تو پھر راکھ لکھتے ہوئے میں کہیں کہیں بھول گیا کہ میں ناول لکھ رہا ہوں، لیکن مشاہد بالکل مختلف شخص ہے مستنصر سے۔۔۔ مشاہد ایکٹو نہیں ہے۔۔۔ ری ایکٹ کرنا نہیں جانتا، جبکہ میرا کردار اس سے مختلف ہے۔۔۔ البتہ میرے بچپن کے تجربے اس میں آ گئے ہیں۔۔۔


سوال : تارڑ منٹو کے محلے میں رہتا تھا یا منٹو تارڑ کے محلے میں؟
جواب : تب میں تارڑ تھا ہی نہیں۔۔۔ میں تو ایک بچہ تھا۔۔۔ میں راکھ جیسے دس ناول اور بھی لکھ دوں تب بھی منٹو تک نہیں پہنچ سکتا۔۔۔ میں وہاں رہتا تھا۔۔۔ جہاں منٹو رہا کرتا تھا اور آئندہ بھی وہ منٹو کا ہی محلہ رہے گا۔۔۔


سوال : منٹو اور مشاہد، شیرازی ہوٹل میں، منٹو کا مشاہد کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرنا پیسٹریوں کا لالچ دینا۔۔۔ وجہ
’’منٹو صاحب مختلف لوگوں کو دوست بناتے ہیں اور پھر کسی کمزور لمحے میں سنائی ہوئی زندگی کی کہانی کو ایک افسانے میں بدل دیتے ہیں۔۔۔ اور وہ افسانہ پچیس روپے میں فروخت ہوتا ہے ‘‘ ۔۔۔
انجام کار مشاہد کو منٹو سے بڑی شدید قسم کی نفرت ہو گئی۔۔۔ کیا یہ نفرت ہمیشہ قائم رہی، جبکہ منٹو اکثر کہا کرتے تھے:
’’صفیہ یہ مشاہد ہے۔ یہ اچھا بچہ ہے۔ ‘‘
جواب : وہ نفرت بچے کاری ایکشن ہے۔ بچے کی زندگی میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب اسے اپنی والدہ اور والد سے بھی شدید نفرت ہونے لگتی ہے ۔۔ منٹو کے ساتھ بھی یہی وقتی ری ایکشن ہے۔۔۔ وہ تو منٹو سے ہمیشہ سے محبت کرتا رہا ہے بلکہ پہلا انڈی کیشن ملا ہی منٹو سے تخلیق کا۔۔۔


سوال : ؎ کریدتے ہو جواب راکھ جستجو کیا ہے۔ آپ غالب کے اس مصرع کے حصار میں ہیں۔ اس ناول کے علاوہ بھی اس نے آپ کے ذہن و دل کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے۔۔۔ وجہ؟
جواب : راکھ، بہاؤ کا تسلسل ہے۔۔۔ راکھ لکشمی مینشن شاہ عالمی کی عمارتوں سے اڑی اور ہمارے چہرے ڈھک گئے۔۔۔ ابھی اس کو پونچھ بھی نہ سکے تھے کہ مشرقی پاکستان کی راکھ نے پورے چہرے کو چھپا لیا۔۔۔ راکھ سمبل ہے تہذیب کے ختم ہونے کا۔۔۔ راکھ میں چنگاری ہوتی ہے۔۔۔ یعنی آس اور امید کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ۔۔۔ کسی نے کہا کہ یہ بربادی کا پیمبر ہے کہ ایسی پیش گوئی کرتا ہے۔۔ میں نے تو صرف خیال ظاہر کیا کہ پانی خشک ہو رہا ہے۔۔۔ بستی ویران ہو رہی ہے، لیکن امید ختم نہیں ہوئی۔۔۔ راکھ میں اظہار اور شوبھا کی شادی ہو جاتی ہے۔۔۔ اظہار مغربی پاکستان سے اور شوبھا مشرقی پاکستان کے حوالے سے۔۔۔ یعنی ہم تعلق ختم نہیں کر سکتے۔۔۔ اگر مشرقی پاکستان کو الگ کر دیں تو باقی کچھ نہیں رہ جاتا۔


سوال : لاہور شہر کا مکمل تعارف، اس وقت کے لاہور کے افراد، ان کی پسند، ان کے مسائل، نوجوانوں کا اداکاروں، کھلاڑیوں کے انداز اپنانا، غرض لاہور اور اس کے باسیوں کا مکمل تعارف ہے ۔ کیا آپ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا نہیں ہوا۔
جواب : ہمارے نثرنگاروں کے پاس تجربہ نہیں ہے۔ وہ زندگی سے اس طرح نہیں گزرے جیسے بیدی، کرشن، منٹو۔ اس لیے ان کی تحریر میں شدت نہیں ہے۔۔۔ کہانی بے شک مکمل ہو، لیکن جذبے کی شدت ہی اُسے بڑا بناتی ہے۔۔۔ ان کی تحریروں میں چار چفیرہ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔۔۔ شہر کی ڈسکرپشن نہیں ہے۔۔۔ ایک شہر ہے، وہ سیالکوٹ بھی ہو سکتا ہے شیخوپورہ بھی اور تربت بھی۔۔۔ اس کا کردار مال روڈ پر چلتا ہی نہیں۔۔۔ حقیقت پسندانہ کہانی میں بھی ہمارا جغرافیہ نہیں ہوتا۔۔۔ حالانکہ جغرافیہ کے بغیر کہانی یا ناول ادھورا ہے۔ باہر کے ناول نویس ہیں، صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈبلن، ماسکو، لینن گراڈ، قاہرہ، استنبول کس کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔۔۔ ہمارا تو کوئی شہر واضح نہیں ہے۔۔۔ شہر بھی ایک کردار ہے اور اس کردار کے بغیر دوسرے کردار زندہ نہیں رہ سکتے۔۔۔ سیاسی، ثقافتی، سماجی، ادبی زندگی اس کردار سے ہے۔ انار کلی، بھاٹی کی دکانوں کھمبوں، ایک ایک جزئیات کا تذکرہ ہو کہ کردار واضح ہو کر سامنے آئے۔۔۔ فرانسیسی ناول ہنچ بیک آف نوٹرڈیم میں پورا پیرس مل جاتا ہے، اگر میرے ناول میں میرے شہر آ گئے ہیں تو یہ کردار کے حوالے سے آئے ہیں۔۔۔ شوبھا، کراچی میں نہ رہتی۔۔۔ کالیا اسلام آباد میں نہ رہتا ۔ مشرقی پاکستان کا نام نہ لیتا تو میں اس کی علیحدگی کو کس طرح بیان کر سکتا ہوں۔۔۔ یہ بات کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔۔۔ یہ لاہور سے محبت کی بات ہی ہو سکتی ہے۔۔۔ اب میں نے لکھنؤ نہیں دیکھا تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں تہذیبی طور پر نا پختہ ہوں۔۔۔


سوال : آپ طویل جملے لکھنے کے عادی ہیں۔۔ راکھ میں اکثر مقامات پر ایک جملہ، ایک پیراگراف میں سموتا ہے۔۔۔ کیا طویل جملے لکھنا اور اسے نبھانا مشکل نہیں ہے؟
جواب : ہاں ! مجھے بھی اس بات کا احساس ہے۔ شاید سفر ناموں کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۔ میں کسی لینڈ سکیپ کے متعلق لکھ رہا ہوں ۔ وہ تصویر کسی ایک جگہ ختم نہیں ہوتی ۔ درمیان میں جو چیزیں ہیں ہر ایک کا آپس میں تعلق ہے اور سب کے متعلق میں بتانا چاہتا ہوں۔۔۔ مثلاً اگر ہم انسانی احساسات کو بھی فقروں میں بانٹنے لگیں تو تسلسل نہیں رہے گا ۔۔ میں چاہتا ہوں کہ میری تحریر پڑھتے ہوئے جھٹکا نہ لگے۔۔۔ پڑھتے ہوئے ایک بہاؤ کا احساس ہو۔۔۔ اب یہ بات کہ طویل جملہ پڑھنا مشکل ہے تو لکھنا بھی مشکل ہے، لیکن اگر آپ اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں تو آسانی ہو جائے گی۔ یولیسس میں چھ چھ صفحے کا ایک جملہ ہے اُردو میں اس کا تجربہ کم ہوا ہے۔۔۔


سوال : کہانی ہمیشہ زمانۂ ماضی میں کہی جاتی ہے لیکن آپ کی تحریر میں ماضی، بلکہ ماضی بعید کا شدید احساس ہے ۔ بہاؤ کے ہر صفحہ بلکہ ہر سطر پر اس کا گہرا اثر ہے۔۔۔ حال میں رہتے ہوئے ماضی میں زیست کرنا ماضی میں زندہ رہنے والوں کے ساتھ سانس لینا ان کے دکھ سکھ میں ان کا ساتھ دینا مشکل نہیں لگا؟
جواب : میں کچھ بھی تخلیق کر رہا ہوں میں اس ماحول میں رچنے بسنے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔ خود کو کردار کی جسمانی و نفسیاتی حالت میں ڈھلانے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔ سفر نامہ ہی لیجیے اگر میں روز چھے گھنٹے لکھنے میں صرف کرتا ہوں۔۔۔ ایران کی سیاحت کے باب میں اگلے دن صرف دس منٹ لکھتا ہوں اور وہ باب ختم ہو جاتا ہے۔۔۔ اب مجھے ترکی کا سفر نامہ لکھنا شروع کرنا ہے لیکن اس روز میں ترکی کے سفر کے متعلق کچھ نہ لکھ سکوں گا۔۔۔ مجھے ایران سے اپنا تعلق توڑنے میں کچھ وقت لگے گا۔۔۔ بہاؤ کے لیے مجھے ماضی میں جانا تھا اور میں گیا اور میں اس ماضی سے اس طرح وابستہ ہوا کہ میرا حال سے رشتہ منقطع ہو گیا۔۔۔ میرا جدید عہد کے ساتھ رابطہ برائے نام رہ گیا ۔۔ میں نے افسانے، ٹی وی، ڈرامے، سفرنامے کچھ نہیں لکھا۔ ۔۔۔ بہاؤ لکھنے کے بعد چار چھے ماہ لگے واپس دوبارہ آنے میں کیونکہ میں اس زمانے میں ان کرداروں کے ساتھ زندہ تھا، وہ کردار جو آج کے کرداروں سے مختلف تھے۔۔۔ تو مجھے پھر اس زندگی سے ناتا جوڑنے میں کچھ وقت لگا۔۔۔ ناول کے جب آخری دس بارہ صفحے لکھنے رہتے تھے، اس وقت میری پلاننگ یہ تھی کہ سو صفحے اور لکھوں گا میرے کردار میری پلاننگ کے مطابق چلتے رہتے تھے لیکن آخر میں وہ اتنے طاقتور ہو گئے تھے کہ میری گرفت سے نکل گئے۔۔۔ بعض مرتبہ وہ، وہ کچھ کہہ جاتے ہیں جو میں کبھی نہ کہہ پاتا تو میری پلاننگ میں تھا کہ میں ابھی سو صفحے اور لکھوں گا لیکن دس بارہ صفحے بعد اچانک مجھے محسوس ہوا کہ ناول کو اب یہیں ختم ہو جانا چاہیے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بسا اوقات ایک بہترین کہانی کے اختتامیہ جملوں کے باعث کہانی کا سارا حسن غارت ہو جاتا ہے، چنانچہ میں نے وہیں قلم ہاتھ سے رکھ دیا اب یہ سوال کہ ماضی میں رہنا مشکل نہیں لگا۔۔۔۔ نہیں بالکل نہیں لیکن ماضی سے واپس آنا مشکل لگا۔ اِس عہد کی چیزیں سیکھنے میں پھر وقت لگا۔۔۔


سوال : راکھ آپ بیتی ہے، جگ بیتی ہے، ناول نہیں ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب : میں اصناف پر سختی سے کار بند نہیں رہتا۔۔۔ میری تحریر حقائق کا ایک سلسلہ ہے۔ ۔ میں نے سفر کیے، سفرنامہ لکھا۔۔۔۔ جب آپ پورے ایک عہد کو سمیٹ رہے ہیں تو پھر اس ناول میں آپ بیتی بھی موجود ہو گی اور جگ بیتی بھی۔۔۔ دنیا میں جتنے بھی اچھے ناول لکھے گئے ہیں، سبھی سیمی آٹو بائیو گرافکل ہیں۔ وہ ناول جس میں مصنف غائب ہو جس نے زندگی گزاری ہی نہیں ہے اس کا اثر معلوم۔۔۔ اگر مصنف نے زندگی گزاری ہے تو پھر وہ اپنے تجربوں کو سامنے رکھ کر لکھے گا۔۔۔ لیوٹالسٹائی کی وار اینڈ پیس 99% آپ بیتی ہے۔۔۔ دستورِیفسکی کی جواری اس کی آپ بیتی ہے۔۔۔ گارسیامارکیز نے اپنے ناول میں اپنے پورے خاندان کی تاریخ بیان کر دی ہے۔۔۔ ناول تو ہے ہی تجربوں، آپ بیتیوں اور جگ بیتیوں کا نام۔ ۔۔ کافکا کا ٹرائل یا فلابئیر کے مادام بواری میں مصنف کا پتہ نہیں چلتا لیکن جو ان کا اہم ناول ہو گا وہ سیمی آٹو بائیو گرافی ہی ہو گا۔۔۔ سمرسٹ ماہم، ہیمنگوے کے ناول سیمی آٹو بائیو گرافکل ہیں۔۔۔ نجیب محفوظ نے اپنی زندگی کے مکمل واقعات تحریر کر دیے۔۔۔ وہ تو سڑکوں، قہوے خانوں، کرداروں کے نام تک نہیں بدلتا۔۔۔ میرا خیال ہے کہ مصنف اپنے تجربے زیادہ کامیابی سے بیان کر سکتا ہے۔۔۔


سوال : کچھ عرصہ پہلے تک افراد کے مخصوص نام یا یوں کہیے کہ عرف مشہور ہوا کرتے تھے ان میں مزاح تھا، تلخی نہ تھی۔۔۔ چھیڑخانی تھی حقارت نہ تھی۔ مثلاً بطخ، بکرا، لنگڑیاں، ہاتھی دانت وغیرہ کیا یہ بھی تعلق کا ایک انداز نہ تھا جس سے ہم آج محروم ہوتے جا رہے ہیں؟
جواب : صدر رفیق تارڑ صاحب ہمارے عزیزوں میں سے ہیں۔۔۔ ان کے بھائی سلیم تارڑ خوبصورت اور جوان رعنا تھے۔۔۔ فنون کے دلدادہ تھے۔۔۔ میری پسندیدہ شخصیت تھے۔۔۔ میں ان کے ساتھ مغل بچہ کی طرح رہا کرتا تھا۔۔۔ وہ اب عمر رسیدہ ہو چکے ہیں۔۔۔ ایک دن ان کا فون آیا انھوں نے اس بات کی تعریف کی کہ میں نے اس عہد کو زندہ کیا جو ان کا عہد تھا۔۔۔ کہنے لگے تارڑ تُو نے اس عہد کو میرے لیے زندہ کر دیا ہے۔۔۔ خالد حسن نے بھی کہا کہ میں شکر گزار ہوں کہ ۵۰ کے عہد کو تم نے کیپچر کیا۔۔۔ میں اس عہد کو معصومیت کا عہد کہتا ہوں۔۔۔ یہ وہ دور تھا کہ فلمیں معصوم، موسیقی معصوم، حتیٰ کہ گناہ بھی معصوم تھے، جو کہا جاتا تھا معصومیت سے کہا جاتا تھا اب یہی عرفیت کو لے لیجیے۔۔۔ ہم نے سب کے نام رکھے ہوئے تھے لیکن براہ راست کبھی اس شخصیت کے سامنے نہ کہتے تھے۔۔۔ آپس میں اکٹھے ہوتے تو عرف ہی سے ان کا ذکر کرتے۔۔۔ بے عزتی کا تصور بھی نہ تھا۔۔۔ سبھی کچھ معصومیت سے ہوتا تھا۔۔۔ کافی عرصہ پہلے کی بات ہے۔ حلقۂ اربابِ ذوق والے ’’ یوم منٹو ‘‘ منا رہے تھے۔۔۔ صفیہ آپا صدارت کر رہی تھیں۔۔۔ میں نے ’’ مینشن کا منٹو‘‘ خاکہ پڑھا۔۔۔ بچپن کی کچھ باتیں بھی اس میں آ گئی تھیں۔۔۔ صفیہ آپا کسی سطر پر ہنستی تھیں کسی پر روتی تھیں۔۔۔ انھوں نے مجھے بہت پیار کیا ۔۔ کہنے لگیں، مجھے آج معلوم ہوا ہے کہ یہ تم لڑکے تھے جو شرارتیں کرتے تھے۔ ۔ کبھی گملے اٹھا کر ادھر کر دیے، کبھی ادھر رکھ دیے۔۔۔ وہ معصومیت کا دور تھا۔۔۔ مذاق کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا۔۔۔ ہندو، مسلم، کرسچن، مرزئی، شیعہ، پارسی سبھی وہاں رہتے تھے ہمیں کبھی احساس نہ ہوا تھا کہ ہم میں فرق ہے یا ایک دوسرے سے اجتناب برتنا ہے۔۔۔ کرسمس پر والدہ تحائف بھیجتی تھیں۔۔۔ نو روز پرپارسیوں کے ہاں تحفے جاتے تھے لیکن افسوس کہ اب ہم سیانے ہو گئے ہیں۔۔۔ فراخدلی انسانیت کی دلیل تھی اب ہم جانور ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔


سوال : ایک تاثر یہ قائم تھا کہ آپ کے نزدیک حج فرد کا ذاتی رابطہ ہے جو اس کے اور رب کے درمیان ہے۔۔۔ اس میں کسی دوسرے کو شریک کر کے اس معاملے کو سب پر عیاں کرنا مناسب نہیں۔۔۔ آپ کے تازہ سفر نامے ’’منہ ول کعبہ شریف ‘‘ اور ’’غارِ حرا میں ایک رات ‘‘ کی تخلیق و اشاعت کے پس منظر میں کون سا جذبہ کار فرما تھا؟
جواب : بنیادی طور پر میرا اس سفر کو احاطۂ تحریر میں لانے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔۔۔ ایک سبب تو یہ تھا کہ ’’تقدس ‘‘ کے اصل معنی و مفاہیم شاید، کثرتِ استعمال کے باعث اپنی وقعت و اہمیت کھو چکے ہیں۔۔۔ دوسرے یہ کہ مجھ سے وہ کچھ نہ ہوا جو مجھ سے متوقع ہے تو لوگ مجھے پھانسی چڑھا دیں گے اور اگر کچھ نہ ہوا، کوئی روحانی بیداری کی لہر میرے جسم و جاں کو اپنی گرفت میں نہ لے سکی جبکہ اس سفر کا تقاضا تھا کہ ایسا ہو اور حقیقت میں ایسا کچھ ہوا بھی نہیں تو پھر میں اس مذہبی معاملے میں غلط بیانی کیوں کروں۔ دنیاوی فائدے کے سبب یہ مجھ سے نہ ہو گا۔
میرے نظریے کی تبدیلی کا سبب علی شریعنی کی کتاب ’’حج‘‘ بنی۔۔۔ اس کے مطالعے نے میری رہنمائی بھی بہت کی۔۔ کتاب میں ایک مقام پروہ لکھتے ہیں کہ انسان کا اصل حج تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ اپنے قبیلے میں اپنے لوگوں میں واپس آتا ہے ۔ وہاں کے ایک ایک لمحے کی تفصیل اس کے لوگ اس سے سننا چاہتے ہیں، ایسے میں وہ جس کیفیت اور احساس سے گزرتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اصل حج تو یہ ہے ۔ میں بھی جب سفر نامہ لکھتا ہوں تو پورا سفر Relive کرتا ہوں۔۔۔ وہ ناگا پربت کا کوئی گلیشئر ہو ۔ نیپال نگری کا کوئی مندر ہو، پیار کا پہلا شہر کا کوئی سٹیشن ہو۔۔۔ کے ٹو کہانی کا ڈاکیا محمد علی ہو ۔۔ غرض کوئی بھی کردار ہو یا منظر، میں اس سے دوبارہ ملتا ہوں۔۔۔ میں اس لمحہ میں ایک مرتبہ پھر جیتا ہوں اور جب اس ایک لمحہ کو لکھنے لگتا ہوں تو وہ دو گھنٹے پر محیط ہو جاتا ہے۔ غارِ حرا میں، میں ایک رات رہا لیکن لکھنے میں ایک سال لگا، جو ۲۹۶ صفحات پر محیط ہے اور مجھے یہ لگا کہ میں وہاں ایک رات نہیں ایک سال رہا تو یہ میرا اثبات ہے۔۔۔


سوال : آپ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میں شمال کے پتھروں پرسیکڑوں صفحات لکھ سکتا ہوں تو غارِ حرا کے پتھروں اور حجرِ اسود کے بارے میں کیا کچھ نہ لکھ جاؤں گا؟
جواب : مجھ میں صلاحیت تھی، اس لیے میں نے ایسا کہا۔۔۔


سوال : کیا آپ نے حج پر جانے سے پہلے حج کے سفر نامے پڑھے؟
جواب : نہیں !بالکل نہیں، میں اپنا حج کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اپنے جذبہ واحساس کے ساتھ حج پر جانا چاہتا تھا۔ مجھے دوسروں کی نظر سے ان مقامات کو نہیں دیکھنا تھا۔ دوسروں کے دل سے اسے محسوس نہیں کرنا تھا۔ ہاں سیرۃ النبی سے متعلق کتابیں سال بھر میرے مطالعے میں رہیں۔۔
سوال : ابھی آپ نے علی شریعتی کے سفرنامہ حج کا ذکر کیا ہے؟
٭٭ ہاں !وہ کتاب میں نے پڑھی۔۔۔ اس کے مطالعے نے میری ذہنی و قلبی کشادگی میں اہم کردار ادا کیا۔۔۔ بہت سی گرہیں سلجھائیں۔۔۔ نومسلم رچرڈ برٹن سراج الدین ابو بکر کا الف لیلہ کے علاوہ ایک اور اہم کارنامہ اس کا سفر نامۂ حج ہے جو اس نے ایک افغان کے روپ میں کیا۔۔۔ A pilgrimage to Mecca and Madina اس کا مطالعہ کیجیے تو اندازہ ہو گا کہ اس نے جتنی تفصیل مسجد نبوی کے بارے میں لکھی ہے۔۔۔ وہ کسی مسلمان مصنف کے ہاں بھی شاید نہیں ملے گی۔۔۔


سوال : تخلیقی مصروفیات…؟
جواب : ایک سفر نامہ ’’ الاسکا ہائی وے ‘‘ اشاعت کے مراحل میں ہے۔۔۔ دو ایک کالموں کی کتابیں بھی تیار ہیں۔۔۔ ایک ناول پر کام کر رہا ہوں۔۔۔


سوال : ناول کا نام…؟
جواب : ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن جس پر دل و دماغ متفق ہو رہے ہیں وہ ’’ جنوں میں جتنی بھی گزری بکار گزری ہے …‘‘
°°°°°°°°°
مکالمہ خاصا طویل ہو گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کی تصانیف نکلے تیری تلاش میں۔۔۔ اندلس میں اجنبی۔۔۔ خانہ بدوش۔۔۔ ہنزہ داستان۔۔۔ ناگا پربت۔۔۔ سفر شمال کے۔۔۔ کے ٹو کہانی۔۔۔ یاک سرائے۔۔۔ سنولیک۔۔۔ دیوسائی۔۔۔ برفیلی بلندیاں۔۔۔ چترال داستان۔۔۔ رتی گلی۔۔۔ بہاؤ۔۔۔ راکھ۔۔۔ قربت مرگ میں محبت۔۔۔ ڈاکیا اور جولاہا۔۔۔ قلعہ جنگی۔۔۔ پیار کا پہلا شہر۔۔۔ جپسی۔۔۔ دیس ہوئے پردیس۔۔۔یپال نگری۔۔۔ پرندے۔۔۔ پکھیرو۔۔ کارواں سرائے۔۔ ہزاروں ہیں شکوے۔۔ پرواز۔۔ مورت۔۔ کیلاش۔ گزارا نہیں ہوتا۔۔ چِک چُک ۔ اُلو ہمارے بھائی ہیں ۔ سنہری اُلو کا شہر۔۔ شہیر۔۔۔ ہزاروں راستے۔۔۔ سیاہ آنکھ میں تصویر۔۔۔۔ سورج کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔ شمشال بے مثال۔۔ شتر مرغ ریاست۔۔۔۔ پُتلی پیکنگ کی۔۔ بے عزتی خراب۔۔۔ گدھے ہمارے بھائی ہیں۔۔۔ برفیلی بلندیاں۔۔۔ غارِ حرا میں ایک رات۔۔۔ منہ ول کعبہ شریف۔۔۔ خس و خاشاک زمانے۔۔ جو سفر ناموں، ناول، افسانے، ڈرامے، کالم اور فکاہی ادب پر مشتمل ہیں، بیشتر پر بات نہ ہو سکی۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭
حوالہ : کتاب ، سلسلے تکلم کے از قرۃالعین طاہرہ
بشکریہ : بزم اردو لائبریری

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں