انتظار حسین اور طلسمی حقیقت نگاری

مضمون نگار : محمد عباس

انتظار حسین اور طلسمی حقیقت نگاری

جدید اردو افسانے پر بحث ہو تو انتظار حسین کی لیجنڈری شخصیت سے ہی آغاز ہوتا ہے۔انہوں نے اردو افسانے کو روایتی حیثیت سے لے کر علامتی اور تجریدی ہر طرح سے لکھا۔ اردو افسانے کی پرانی شکل سے لے کر جدید افسانے تک کی ہمراہی کا شرف انتظار حسین کو ہی حاصل ہے۔انتظار حسین کے فن میںسب سے بڑی خوبی موضوعات کا تنوع ہے۔ بظاہر ہجرت انتظار حسین کا سب سے اہم موضوعاتی حوالہ ہے۔ ایک شہرسے ہجرت، ایک ملک سے دوسرے ملک منتقلی اور وجود کی ایک حالت سے دوسری حالت میں نقل مکانی ان کے افسانوں کا بنیادی موضوع ہے۔ گزشتہ تہذیبوں کی بازیافت کی خواہش بھی ایک ایساموضوع ہے جو اس کے اندر سے ہی پھوٹتا ہے اور انتظار حسین کے افسانوں کو ہزار رنگ بناتا ہے۔ کبھی اسلامی تہذیب کی یاد اور کبھی قدیم ترین ہند و تہذیب کی گپھائوں کی یاترا اور اس خطۂ پاک کی اس ہفت پہلو تہذیب کے احیاء کی خواہش ، ان سبھی سے انتظار کے افسانے اور مضامین بھرے پڑے ہیں۔ان کا ایک اور نمایاں موضوع انسان کا وجود اور اس وجود کے واہمے بھی ہے۔ ’’پرچھائیں‘‘، ’’کایا کلپ‘‘ اور’’وہ جو کھوئے گئے ‘‘ جیسے افسانے ان کے اسی موضوع کی عطا ہیں۔ پہلی دو کتابیں ہجرت کے مسئلے اور اس کے مضمرات کو ہی ابھارتی ہیں لیکن اس کے بعد ان کے فن کی ترجیحات میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور ان کے ہاں سیاسی ، سماجی،ثقافتی اور وجودی مسائل پر افسانوی اظہار ملتا ہے۔ انتظار حسین کے فن کی دوسری خوبی ان کی زبان کا حسن ہے۔ ابلاغ کے حوالے سے ان کی زبان ایک معجزاتی سطح کی حامل ہے۔ افسانے کے موضوع کے لحاظ سے زبان کا بنیادی ڈھانچہ ہی تبدیل کر دینا انہی کے ساتھ مخصوص ہے۔یوں بہ آسانی کہا جا سکتا ہے کہ جدیداردو افسانے کے وہ تمام عناصر اور اسالیب انتظار حسین کے ہاں مل جاتے ہیں جن سے جدید افسانہ عبارت ہے ۔
انتظار حسین کا افسانوی ادب طلسمی حقیقت نگاری کے حوالے سے خاصا بھرواں سمجھا جاتا ہے۔اس شائبے کو تقویت یوں بھی ملتی ہے کہ وہ حقیقت نگار اسلوب کی سیدھی سادی لکیر کو اپنانے کی بجائے اپنی کہانیوں کو داستانوی ، اساطیری، دیومالائی اور رزمیہ نثر سے سنوارتے ہیں اور اس کے علاوہ مذہبی صحائف ، ملفوظات اور زبانی روایات کا اندازِ بیان اپنا کربھی انتظار حسین اپنی کہانیوں کو نطق عطا کرتے ہیں۔ زبان کے اس سحر سے بادی النظر میں یہی محسوس آتا ہے کہ انہوں نے طلسمی حقیقت نگارتکنیک اپنائی ہے۔ان کے اسلوب کی اس صفت سے متاثر ہو کر محمد عزیز لکھتے ہیں:


’’انتظار حسین کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ افراد اور تہذیب کے باطن میں جھانکنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔ اس نے اس ضمن میں داستان، اساطیر ، جاتک کہانیوں اور پنج تنتر سے مواد کشید کرنے کی کوشش کی ہے جن کے فوق الفطرت عناصر کو اس حقیقی دنیا میں پیش کر کے ہمارے باطن کے نئے معانی اور مطالب متعین کیے ہیں … انہوں نے کافکائی انداز اور برصغیر کی پرانی کہانیوں (پنج تنتر ، جاتک کہانیاں ، مہابھارت ، رامائن، اسلامی تہذیبی روایات)کے امتزاج سے اُس نئی روایت کی طرح ڈالی ہے جس کا اظہار بین الاقوامی ادب میں جادوئی حقیقت نگاری کی ذیل میں ہورہاتھا۔ ‘‘ ٭۱


انتظار حسین کے افسانوں میں جادوئی حقیقت نگاری پرجو بحث یہاں کی جائے گی، اس سے انتظار حسین صاحب کے فنی یا فکری مقام و مرتبے پر کوئی حرف لانا میرا مقصود نہیں ہے۔ مقالے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کسی فن کار کی بے جا توصیف نہیں ہونی چاہیے۔ ورنہ انتظارحسین صاحب نے نہ تو کہیں اس تکنیک کے استعمال پر فخر کا اظہار کیا اور نہ ہی انہوں نے کبھی اپنے تنقیدی مضامین میں اس تکنیک کی طرف اشارہ دیا۔جب انہیں اس پر فخر تھا ہی نہیں تو اس مضمون میں بھی ان کے افسانوں میں اس تکنیک کی عدم موجودگی کو ان کی فنی کمزوری ہر گز نہیں گردانا جائے گا۔ یہ مضمون محض ان لوگوں کے لیے ہے جو ان کے افسانوں میں سے زبردستی طلسمی حقیقت نگاری کشید کرتے ہیں۔
بحث کرنے سے پہلے چند نکات کی توضیح ضروری ہے ۔عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ جہاں کہانی میں مافوق الفطرت عناصر نظر آ جائیں، وہ طلسمی حقیقت نگاری ہوتی ہے۔یوں انتظار حسین کے ہاں جس کثرت سے ماورائے حقیقت اشیاء، واقعات اور عوامل پائے جاتے ہیں ، اس لحاظ سے تو ان کے نصف سے زیادہ افسانے حقیقت نگار افسانے ہی کہلائیں گے اور ایک دفتر اس موضوع پر الگ سے مرتب کرنا پڑے گالیکن طلسمی حقیقت نگاری محض ماورائے حقیقت عناصر کے استعمال کا نام نہیں ہے اور نہ ہی دو چار مافوق الفطرت واقعات پیش آ نے سے کوئی کہانی طلسمی حقیقت نگار قرار پاتی ہے ۔ اس لیے ہمیںپہلے یہ دیکھنا پڑے گا کہ طلسمی حقیقت نگاری کی نوعیت کیا ہے اور کون سی چیزیں ایسی ہیں جو طلسمی حقیقت نگاری کے مشابہہ ہیں لیکن در حقیقت طلسمی حقیقت نگاری نہیں ہوتیں۔ سب سے پہلے ہم طلسمی حقیقت نگاری کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔


یہ بات واضح ہے کہ طلسمی حقیقت نگاری میں جادو اور حقیقت کا امتزاج ہوتا ہے مگر اسی وضاحت نے ہمارے ہاں اس تصور کی حقیقت کو مسخ کیا ہے ۔ اردو دنیا میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جہاں کسی کہانی میں جادوئی عناصر آگئے ، جن بھوت، چڑیل، دور درازانوکھی سرزمینیں، مافوق الفطرت کردار اور ناقابلِ فہم واقعات آ گئے تو یہ طلسمی حقیقت نگاری کی تکنیک کہلائے گی اور اسی بنیاد ؟پر’’ طلسم ہوش ربا ‘‘، ’’بوستان خیال ‘‘، ’’الف لیلہ و لیلہ‘‘ ، ’’آرائشِ محفل‘‘، ’’بیتال پچیسی‘‘، ’’باغ و بہار‘‘ اور ’’فسانۂ عجائب ‘‘جیسی حقیقت سے کوسوں دور رہنے والی داستانوں کو بھی طلسمی حقیقت نگاری کے شاہکار قرار دیا جاتا ہے اور کئی ناقدین توبرصغیر پا ک و ہند کی کم مائیگی کا احساس کم کرنے کے لیے یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ طلسمی حقیقت نگاری تو ہماری داستانوں میں بکھری پڑی ہے اور مزید برآں طلسمی حقیقت نگاری ہمارے ہاں لاطینی امریکہ سے بھی پہلے موجود تھی وغیرہ وغیرہ ۔ طلسمی حقیقت نگاری کا نام ہی بتاتا ہے کہ یہ حقیقت نگاری کی ایک قسم ہے اور اس کی بنیاد وہی اٹھارہویں ؍انیسویں صدی کی حقیقت نگاری ہی ہے جہاں ماحول، معاشرہ اور انسان کی حقیقت سے قریب ترین تصویر کشی کی جاتی تھی۔ کردار ،واقعات ، ماحول ، مناظر جس طرح ہوتے ہیں، اسی طرح پیش کیے جاتے ہیں تا کہ قاری کو کوئی چیز حقیقت سے بعید نظر نہ آئے۔یوں اگر طلسمی حقیقت نگاری کی حتمی تعریف کرنے کی کوشش کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ طلسمی حقیقت نگاری بیانیہ کی ایک ایسی تکنیک ہے جس کے ذریعے مختلف مافوق الفطرت، ماورائے عقل ، ناقابلِ یقین واقعات کوحقیقت کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ یہ ملاپ فینٹیسی کی طرح نہیں ہوتا بلکہ یہاں یہ تمام چیزیں جانی پہچانی اور مانی ہوئی دنیا کا حصہ بن کر آتی ہیں ، ان کی پیش کش کا مقصد تحیر، خوف،سنسنی، دلچسپی یا دہشت پیدا کرنا نہیں ہوتابلکہ یہ اسی طرح افسانوی عمل کا ناگزیر حصہ ہوتی ہیں جس طرح باقی تمام حقیقت پسندانہ مظاہر افسانے/ناول میں شامل ہوتے ہیں۔ اس تکنیک میں یہ تمام واقعات افسانے ؍ناول کے اندر سبھی کرداروں کے لیے ایک روزمرہ حقیقت کی مانند قابلِ قبول ہوتے ہیں اور کسی طرف سے ان کے وقوع پر کوئی حیرت آمیز ردِّعمل ظاہر نہیں ہوتا۔ افسانے؍ناول میں تمام ذی ہوش لوگ ان کو برتتے ہیں اور انہیں معمول کا حصہ مانتے ہیں۔ بیانیے کے اندر ان واقعات کی سائنسی توضیح یا عقلی تشریح کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی اور پورے متن میں یہ واقعات اسی طرح ماورائے عقل رہتے ہیں اور اس کے باوصف مصنف، تمام کرداروں اور قاری سب کے لیے قابلِ قبول ہوتے ہیں۔
تعریف کے بعد ہم چند نکات کے ذریعے طلسمی حقیقت نگاری کی تحدید کر کے اسے مشابہہ تکنیکوں سے الگ کریں گے تا کہ انتظار حسین صاحب کے ہاں اس تکنیک کا مطالعہ زیادہ واضح ہو سکے۔


افسانوں میں طلسمی حقیقت نگا ری کا جائزہ لیتے وقت سب سے پہلے تو یہ چیز ملحوظ ر ہنی چاہیے کہ کہانی حقیقت نگار ہو۔ اپنی زمانی قیود یا مکانی حدود کے ذریعے واضح طور پر اس زمین سے تعلق رکھتی ہو اور ہم اس کے ماحول ، اس کی فضا کو اپنی روزمرہ زندگی میں شناخت کر سکیں۔ اگر کہانی حقیقت نگار نہیں ہے اور فینٹیسی اور تمثیل کی سطح پر جی رہی ہے تو اسے طلسمی حقیقت نگار کہانی کے طور پر نہیں لیا جائے گا کیوں کہ طلسمی حقیقت نگاری کی پہلی شرط ہی یہی ہے کہ حقیقت نگاری کے اندر رہتے ہوئے جادو کی چھوٹ پڑتی دکھائی دے۔ فینٹیسی ، تمثیل اور اسی قبیل کی دوسری تکنیکوں کے دوران طلسمی حقیقت نگاری تو نہیں البتہ طلسماتی ماحول مل سکتا ہے۔ بعدِ زمانی اور بعدِ مکانی حقیقت نگاری کی صفت نہیں ہے ، یہ فینٹیسی کے سہارے ہیں۔ اس نکتے کو سامنے رکھا جائے تو انتظار حسین کی بیشتر معرکہ آراء کہانیاں طلسمی حقیقت نگاری کی ذیل میں آتی ہی نہیں ۔ ’’آخری آدمی‘‘، ’’ زرد کتا‘‘، ’’کچھوے‘‘، ’’دوسرا گناہ‘‘، ’’نر ناری‘‘، ’’برہمن بکرا‘‘، ’’کایاکلپ‘‘، ’’سوئیاں‘‘، ’’سوت کے تار‘‘، ’’پورا گیان‘‘، ’’دسواں قدم‘‘، ’’پچھتاوا‘‘، ’’مشکند‘‘، ’’خیمے سے دور‘‘، ’’بندر کہانی‘‘اور ’’طوطا مینا کی کہانی‘‘ جیسی سبھی کہانیاں اپنے فنٹاسٹک ماحول کی وجہ سے حقیقت نگاری کی تکنیک سے علاقہ نہیں رکھتیں سو ان میں طلسمی حقیقت نگاری کو کشید کرنے کی کوشش فضول ہے۔ اس کے علاوہ ’’وہ جو دیوار کو نہ چاٹ سکے‘‘، ’’’وہ جو کھوئے گئے‘‘، ’’مشکوک لوگ‘‘، ’’شہرِ افسوس‘‘، ’’انتظار‘‘، ’’خواب اور تقدیر‘‘ اور کلیلہ و دمنہ کی پانچ کہانیاں جو ’’شہرزاد کے نام‘‘ میں شامل ہیں ، تمثیل کی ذیل میں آ جاتی ہیں۔ یہ بھی طلسمی حقیقت نگاری سے بالکل الگ ہیں۔


دوم ایسے واقعات کو قطعاً توجہ نہیں دی جائے گی جو کسی ایک آدمی کے ذاتی وہم پر مبنی ہوں ۔ انتظار حسین کے اکثر کردار کسی نہ کسی وہم کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جیسے ’’مایا ‘‘ افسانے میں سلیمہ آپا جس کو ہر وقت برے برے خیالات آتے ہیں، ’’ہڈیوں کا ڈھانچ‘‘ میں الٹے پیروں والے کا نظر آنا، ’’جنگل ‘‘ کے قمرل کو نظر آنے والا بندر جو لمبا ہوتا جاتا ہے،’’پرچھائیں ‘‘ کے راوی کو لمبا ہوتا آدمی نظر آنا۔ ایسے کردار یا ان کی سوچیں کیوں کہ محض فردِ واحد کے واہمے ہیں ، اس لیے ان کا بیان فریبِ نظر، Haulucination، شعور کی رو یا لاشعور کی کارفرمائی کے حوالے سے تو دیکھا جا سکتا ہے لیکن طلسمی حقیقت نگاری میں نہیں۔مثلاً ذیل کا واقعہ دیکھیے:


’’لو جی جب میں املی کے پیچھے سے نکلا ہوں تو مجھے لگا کہ کوئی پیچھے آ رہا ہے ۔ مڑ کر جو دیکھوں کوئی آدمی …‘‘
’’نہیں!‘‘
’’قسم اللہ پاک کی آدمی۔ میرا دل دھک سے رہ گیا کہ بے بندو آج تو مارا گیا ۔ پھر جی و ہ مجھ سے آگے نکل گیا اور لمبے لمبے ڈگ بھرنے لگا۔ پھر وہ لمباہونے لگا، اور لمبا ہوا، اور لمبا ہوا، اور لمباہوا۔ پھر جی وہ املی کے پیڑ کے برابر ہو گیا۔ بھیا میں نے دل ہی دل میں قل پڑھنی شروع کر دی۔ بس جی تین دفعہ پڑھی کہ سالا چھو ہو گیا تو میاں یو ہے قل کی برکت۔‘‘ ٭۲
طلسمی حقیقت نگاری کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس واقعے یا عنصر کا بیان ہو رہا ہو ، وہ کسی ایک کردار کی بجائے تمام کرداروں کے لیے، مصنف کے لیے، قاری کے لیے اور سب سے بڑھ کر جس ثقافتی ماحول میں سے کہانی اخذ کی گئی ہو، اس ماحول میں وہ حقیقت کے طورپر قبول کیا جا تا ہو، اگر کسی کو بھی اس کے حقیقت ہونے یا اس کے ہونے پر شک ہے تو پھر وہ طلسمی حقیقت نہ رہے گی بلکہ محض حقیقت نگاری کی ذیل میں آ جائے گی۔ جیسا کہ ’’ہڈیوں کا ڈھانچ‘‘ کے مرکزی کردار کی سوچ ہمارے اس نکتے کو واضح کر سکتی ہے:
’’اور اب اسے اس حماقت پر ہنسی آرہی تھی کہ بچپن میں بھی آدمی کیا کیا احمقانہ بات سوچتا ہے۔ جنگل میں چلتا ہوا ہر آدمی اسے جن نظر آتا ہے ۔ اس جنگل میں جو شہر سے ایسا دور نہیں تھا۔ سنسان دوپہریوں میں کوئی بڑا سا بندر اچانک درخت سے زمین پر کود پڑتا تو لگتا کہ آدمی ہے اور جتنا اس بندرسے ، جو آدمی معلوم ہوتا تھا، ڈر لگتا ، اس سے زیادہ آدمی کو دیکھ کر خوف ہوتا کہ کیا خبر ہے وہ آدمی نہ ہو ۔‘‘٭۳


اس اقتباس میں راوی واحد غائب اپنے واہموں پر خود بھی ہنس رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خود بھی واقف ہے کہ یہ حقیقت نہیں ہے۔اس طرح کے واقعات کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا جائے گا کیوں کہ اگر ایسے بیانات کو بھی طلسمی حقیقت نگار سمجھا جائے تو پھر شعور کی رو کے افسانوں سے لے کر خوفناک کہانیوں تک سبھی کو طلسمی حقیقت نگاری کے زمرے میں لانا پڑے گا جب کہ طلسمی حقیقت نگاری کا دامن خاصا تنگ ہے۔ اس میں اتنا کچھ نہیں سما سکتا۔


کسی کی ڈینگ بھی طلسمی حقیقت نگار بیانیے کا ثبوت نہیں ٹھہرتی۔ انتظار حسین کے اکثر کردارڈینگیں مارتے ہیں۔ کسی کو راہ چلتے کہیں کوئی جن نظر آرہا ہے ، کسی کی چڑیل سے مڈبھیڑ ہوگئی ہے، کوئی لمبے ہوتے آدمی کی کہانی سنا رہا ہے، کہیں ہڈیوں کا ڈھانچ کی لمبی چوڑی کہانی سنائی جا رہی ہے، کبھی درخت سے کودتا بندر آدمی بن رہا ہے، یہ سب طلسمی حقیقت نگاری نہیں ہے بلکہ حقیقت نگار تکنیک کے اندر کسی ایسے کردار کا بیان ہے جو لمبی چھوڑتا ہے۔ مثال کے طور پر انتظار حسین کے افسانے ’’ٹانگیں‘‘ میں ٹانگے والا یاسین اپنے متعلق جس طرح ڈینگیں چھوڑتا ہے:


’’… ایک رات میں راوی روڈ سواری لے گیا ،بڈھے دریا سے بھی آگے کی سواری تھی۔ خیر سواری کو تو میں اتار آیا پر راستے میں ہو گئی بارش۔ میں نے تانگہ ایک طرف ایک گھنے سے پیڑ کے نیچے کھڑا کر لیا۔ لو جی میں پیڑ کے نیچے گیا ہوں کہ اوپرسے دھم سے ایک مسٹنڈا نیچے کود پڑا۔ میں نے کہا کہ بے یاسین آج ڈاکو سے ٹکر ہو گئی۔ ہو جائیں ذرا دو دو ہاتھ ۔ میں جوانی کی ٹر میں تھا۔ تانگہ سے کود اس سے لپٹ گیا۔ تھوڑی دیر میں کیا دیکھوں کہ وہ لمبا ہو رہا ہے، میں حریان کہ یہ کیا چکرہے، لمبا ہوتے ہوتے اس کا سر درخت کی سب سے اوپر والی پھننگ سے جا لگا اور میں اس کی ٹانگوں سے لپٹا رہ گیا ۔ اور ٹانگیں اس کی بکرے کی… میں نے کہا کہ بے یاسین آج مارے گئے۔ پر جی میری کاٹھی اس وقت بنی ہوئی تھی۔ یا مولا کہہ کے میں اس سے لپٹ گیا۔ نہ میں گروں ، نہ وہ گرے آخر کو صبح ہو گئی۔ پھر اس کا زور ٹوٹنے لگا۔ میں نے کہا کہ بے یاسین اب اسے ڈھا لے ، پر وہ نکلا چالاک، اس نے مجھ سے صلح کر لی اور کہا کہ دیکھ بھئی تو میرے علاقہ میں مت آ میں تیرے علاقے میں نہیں آئوں گا۔ میں نے شرط مان لی۔ پر جی میں نے گھر آ کر جو چرپائی سے کمر لگائی ہے تو ہڈی ہڈی چورا ، تین دن تک بخار میں بھنتا رہا اور جب میں اٹھا اور ٹانگہ جوڑا تو اِسی سڑک پہ مجھے ایک آدمی ملا۔ دوپہری کا وقت تھا۔ سڑک بالکل خالی ۔ بولا کہ بھئی راوی روڈ گیا تھا میں ۔ وہاں والے نے تجھے سلامالیکم کہی ہے۔ بس جی میں نے ایک سیکنڈ سوچا اور کہا کہ اسے سامنے والے گنبد پہ رکھ دے۔ اس نے سلاما لیکم اس گنبد پر رکھ دی اور گنبد چٹاخ سے بولا۔ اس پہ دراڑیں ہی دراڑیں پڑ گئیں۔ اور وہ آدمی میانی صاحب کی طرف مڑ گیا۔ تو جی میں بال بال بچ گیا، کہیں سلاما لیکم لے لی ہوتی تو بوٹی بوٹی اڑ جاتی۔ ‘‘ ٭۴


اس سب بیان سے نظر آ رہا ہے کہ یاسین ڈینگ مار رہا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ موثر وہ جملہ ہے جو اس واقعے کے سننے پر مرکزی کردارکا ردِ عمل دکھاتا ہے ، یعنی’ اس نے زبان سے کچھ نہیں کہا مگر ایک شک بھری نظر سے یاسین کو سر سے پیر تک دیکھا۔‘یہ سب ثابت کرتا ہے کہ یہ بیان طلسمی حقیقت نگار نہیں ورنہ اس بیان پر کسی کو بھی شک نہ ہوتا۔ اس قسم کی ڈینگ جہاں جس افسانے میں ہو گی ، قابلِ اعتنا نہیں سمجھی جائے گی۔


شیزو فرینیا بیماری ہے جس کے مریض کو ذہنی انتشار کی وجہ سے مختلف واہمے مجسم ہو کر نظر آتے ہیں۔ناقدین اس چیز کو بھی جادوئی حقیقت نگار عامل ہی قرار دے دیتے ہیں، جب کہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ شیزو فرینیا تو محض شیزو فرینیا ہے اور وہ کسی ایک فرد کے لیے حقیقت ہوتا ہے جب کہ ہمیں ایسی افسانہ آمیز حقیقت درکار ہے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو بلکہ سب کے لیے عین حقیقت ہو۔ محمد عزیز انتظار حسین کے افسانوں پر جادوئی حقیقت نگاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں:


’’آخری آدمی کے افسانوں میں جادوئی حقیقت نگاری کے عناصر موجود ہیں ، ان میں ’’پرچھائیں‘‘، ’’ہڈیوں کا ڈھانچ‘‘، ’’ٹانگیں‘‘ اور’’ سوئیاں ‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ افسانے ’’پر چھائیں‘‘ میں واہمے کے ذریعے ایک بھید بھری فضا قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مذکورہ افسانے میں موجود کردار غیر معمولی واقعہ سے دو چار ہوتا ہے… کسی شخص کا دیکھتے ہی دیکھتے لمبے ہوتے چلے جانا عام زندگی میں ناممکن ہے لیکن اس افسانے کا کردار اس میں یقین پیدا کرنے کے لیے مذہبی عقیدے کا سہارا لیتا ہے اور قسم کھا کر اپنے خوف کی شیزو فرینیائی حالت کا یقین دلاتا ہے۔ اسی طرح کی ذہنی کیفیت کا شکار افسانہ ’’ہڈیوں کے ڈھانچ ‘‘ کا کردار بھی ہے جس کے ذہن میں غیر فطری واقعات کا سلسلہ در آیا ہے ۔ بھوکے شخص کے دوبارہ زندہ ہونے اور سامنے کے واقعات نے نہ صرف افسانے کے کردار کی ذہنی حالت کو واضح کیا ہے بلکہ افسانے کو پر اسرار بنانے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ پیٹ کی بھوک اور اشتہا کو بیان کرنے کے لیے ایک ماورائی قصے کا سہارا لیا گیا ہے جو افسانے کو جادوئی حقیقت کے قریب تر لے جاتا ہے۔‘‘ ٭۵


خواب کا کوئی منظر بھی طلسمی حقیقت نگار منظر نہیں سمجھا جائے گا۔ انتظار حسین کے اکثر کردار اپنے خواب سناتے ہیں اور خوابوں میں پیش آنے والے مافوق الفطرت واقعات سے کہانی آگے چلتی ہے ، مثال کے طور پر:


’’میری الٹی آنکھ صبح سے پھڑک رہی تھی اور دل ڈوبا جاوے میں کئوں کہ کیا بات ہے ، رات کو میں نے بڑا ڈرائونا خواب دیکھا…میں نے دیکھا کہ میری پتنگ ٹوٹ گئی ہے اور میں کوٹھوں کوٹھوں اس کے پیچھے دوڑ ا چلا جا رہا ہوں۔ میں دوڑے دوڑے گیا ، پھر کیا دیکھوں ہوں کہ ایک میدان ہے، چٹیل میدان، سنسان بیابان، آدمی نہ آدمی زاد اور پتنگ غائب۔ میری پٹ سے آنکھ کھل گئی۔ ‘‘ ٭۶


خواب جاگیر ہے لاشعور جیسے مطلق العنان حکمران کی ، یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے مگر جو بھی ہو گا اس کا بیان طلسمی حقیقت نگار نہ ہو گا بلکہ حقیقت نگار ہو گا ۔ خواب میں مافوق الفطرت عناصر نظر آسکتے ہیں۔ یہ عین حقیقت ہے اور جو عین ہو اس کا بیان طلسمی حقیقت نگاری نہیں بلکہ کسی ایسے ماورائے حقیقت واقعہ کا بیان طلسمی حقیقت نگاری ہے جو بظاہر حقیقت نہ ہو سکتا ہو لیکن فن پارے کے اندر وہ سبھی کو حقیقت ہی لگتا ہے اور اس کے وقوع پذیر ہونے کی کوئی توضیح نہ پیش کی جائے بلکہ اسے تمام طلسماتی تاثر سمیت حقیقت تسلیم کر لیا جائے۔


کوئی ایسا واقعہ جس کی بنیاد کسی آدمی کے ذاتی عقیدے پہ ہو اور افسانے کے اندر اس کو حقیقت تسلیم کرنے میں کچھ لوگوں کو عار ہو یا قاری کے سامنے اسے کسی غیر معمولی واقعے کی صورت ہی پیش کیا جائے تو یہ بھی طلسمی حقیقت نگاری نہیں سمجھی جائے گی۔ طلسمی حقیقت نگاری میں کسی مافوق الفطرت واقعے کی ماورائیت کی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ اسے ایک عام سا روزمرہ واقعہ سمجھ کر بیان کر دیا جاتا ہے جیسے افسانہ نگار اس کو اتنا معمولی سمجھتا ہے کہ قابلِ وضاحت بھی نہیں گردانتا جیسے ’’تنہائی کے سو سال‘‘ میں جوزے ارکیدو بوئندا کی وفات پہ پورے ماکوندو میں پھول برستے ہیں اور مارکیز نے اسے ایسے معمولی انداز میں لکھا ہے جیسے یہ کوئی ناگزیر رسم ہو۔ انتظار حسین کے کچھ کردار کبھی کبھی عام سی چیزوں کو بھی مافوق الفطرت بنا دیتے ہیں لیکن وہاں موجود دوسرے کردار اس کی حقیقی توضیح کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ مثلاً ذیل کا واقعہ ملاحظہ کیجیے:


’’ایک دفعہ وہ چلتے چلتے واقعی حیرت سے رک کر کھڑ اہو گیا۔ نور، قمرل، اور شرافت باتیں کرتے کرتے پیچھے رہ گئے ۔ اس نے مڑ کر آواز دی۔ ’’ابے یار یاں آئیو۔ دیکھنا کتنا بڑا پیر ہے۔ ‘‘ نور، قمرل اور شرافت لپکے ہوئے آئے اور سب کی نگاہیں پیر کے ایک بڑے سے نشان پہ جم گئیں اور سب کی نگاہوں میں تحیر کی ایک کیفیت تیرنے لگی۔
نور حیرت سے بولا:’’یار بہت بڑا پیر ہے۔ کس کا پیر ہے یہ؟‘‘
قمرل کی آنکھوں میں ایک غیر معمولی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ اس نے غور سے سب کی طرف دیکھا اور بولا:’’بتائوں کس کا پیر ہے؟‘‘
’’ہاں بتا!‘‘ سب کی نگاہیں اس کے چہرے پہ جم گئیں۔
اس نے ایک مرتبہ پھر سب کو حیرت زدہ نگاہوں سے گھورا ۔ حیرت زدہ نگاہیں ، حیرت جو بھید پانے کے بعد پیدا ہوتی ہے، اس کی آواز میں سرگوشی کا انداز پیدا ہو گیا:’’بتائوں کس کا پیر ہے… جن کا۔‘‘
سب پہ سکتہ طاری ہو گیا۔ اچھن کا دل ایک مرتبہ پھر زور زور سے دھڑکنے لگا۔ نگاہوں کا تحیر کچھ اور گہرا ہو گیا۔ اب اس میں خوف و ہراس کا بھی رنگ شامل تھا۔ شرافت چند لمحے تو بالکل خاموش کھڑا رہا اور پھر ایک ساتھ ہنس پڑا۔ ’’جن کا پیر ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں تضحیک کا پہلو شامل تھا۔ ’’کسی سالے اجڈ گنوار کا پیر ہو گا۔ چلو بے چلو۔‘‘ اور یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔‘‘ ٭۷


ا س طرح کے واقعات کبھی طلسمی حقیقت نگاری کی ذیل میں شمار نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ ان کے اندر ہی ان کی واقعیت کی تردید بھی موجود ہوتی ہے۔
انتظار حسین کے افسانوں میں طلسمی حقیقت نگاری کا مطالعہ کرنے والے سبھی افراد اس مغالطے کا شکار رہتے ہیں کہ جس افسانے میں جہاں کہیں بھی کوئی مافوق الفطرت عنصر آ ئے گا، اسے کان سے پکڑ کر طلسی حقیقت نگارافسانوں کی صف میں کھڑا کر دیا جائے گا جب کہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ بیانیے میں طلسماتی حقیقت نگاری کی کارفرمائیوں کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے ہمیں طلسمی حقیقت نگاری کو خواب ، فینٹیسی، شیزو فرینیا اور ڈینگ سے جدا کرنے کی ضرورت ہے ، بصورتِ دیگر ہم ہر اس واقعے ، عمل، چیز یا شخص کو طلسمی حقیقت نگاری کی ذیل میں داخل کرتے جائیں گے جو روزمرہ حقیقت سے تھوڑا انحراف کرے گا۔ مثال کے طور پر ذیل کا اقتباس ملاحظہ کیجیے جہاں صرف مافوق کی بنیاد پر انتظار حسین کے افسانے کو طلسمی حقیقت نگار ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے:
’’پچھتاوا کا کردار مادھو اس دنیا میں اس لیے آنے سے انکار کردیتا ہے کہ دنیا میں دکھ ہی دکھ ہیں۔ افسانے کے آغاز میں افسانہ نگار نے مادھو اوراس کی ماں کا ایک مکالمہ کروایا ہے جب ابھی مادھو اپنی ماں کے پیٹ میں تھا، جو اس افسانے کی فضا کو حقیقت سے بالا لے جاتا ہے۔ حقیقی زندگی میں پیدائش سے قبل اپنی ماں کے پیٹ میں بچے کا ماں کے ساتھ مکالمہ غیر یقینی اور غیر فطری عمل محسوس ہو تا ہے لیکن افسانے کی بنت میں اس مافوق الفطرت صورت حال کو افسانہ نگار نے اس طرح بیان کیا ہے کہ افسانے میں یہ سب غیر حقیقی محسوس نہیں ہوتا اور قاری دلچسپی سے افسانے کا مطالعہ کرتا چلا جاتا ہے۔ حقیقی سیٹنگ میں تخیلاتی عناصر کے استعمال نے افسانے کو جادوئی حقیقت نگاری کے قریب تر کر دیا ہے۔‘‘ ٭۸


’حقیقی سیٹنگ میں تخیلاتی عناصر ‘کا استعمال ہوا ہی نہیں ہے۔صرف تخیلاتی عناصر ہیں جو افسانے کی بنیاد قائم کرتے ہیں ۔اور طلسمی حقیقت نگاری محض مافوق الفطرت،ماورائے حقیقت یا محیر العقول اشیاء و واقعات پیش کر دینے کا نام نہیں ہے ورنہ دنیا بھر کا اساطیری ادب، دیومالا،رزمیہ، لیجنڈز، فیبل، پیریبل، رومانس، حکایات اور اردو کا داستانوی سرمایہ سبھی طلسمی حقیقت نگار ہی کہلائے گا۔


درج بالا نکات کو ذہن میں رکھ کر چلیں تو ہمیں انتظار حسین کے ہاں خالص طلسمی حقیقت نگار تکنیک کا استعمال نظر ہی نہیں آتا۔یہ الگ بات کہ اس دعوے میں انتظار حسین کے افسانوی فن کا انکار مضمر نہیں ہے کیوں کہ نہ تو طلسمی حقیقت نگار تکنیک افسانوی ادب کے لیے لازمی تکنیک ہے اور نہ ہی انتظار حسین نے خود کہیں بھی طلسمی حقیقت نگاری کے استعمال کا دعویٰ کیا ہے کہ جس کے نہ ہونے سے ان کی سبکی ہو گی۔ دنیا کے ہزاروں کہانی کاروں نے طلسمی حقیقت نگاری کے بغیر با کمال افسانے لکھے ہیں اور طلسی حقیقت نگار تکنیک کی عدم موجودگی ان کی فنی عظمت کے لیے سوال نہیں اٹھاتی ، اسی طرح انتظار حسین کا فنِ افسانہ نگاری میں اپنا ایک مقام ہے مگر انہوں نے طلسمی حقیقت نگار افسانہ نہیں لکھا۔ ان کے افسانوں میں جادو، جن ، بھوت، دیو، چڑیلیں، سائے، پرچھائیں ، واہمے ، آواگون، لم ڈھینگ، ڈھانچے،بولتے جانور، خضر، سبز پوش، غیر فطری مظاہر سبھی کچھ نظر آتا ہے مگر ان سب کی مجموعی ساخت بھی مل کر ان کے افسانوں کو طلسمی حقیقت نگار نہیں بناتی۔ ان کے افسانے الگ ہی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے افسانوں پر کسی اور اصطلاح کا اطلاق ہو گا۔


انتظار حسین کے افسانوں میں گاہے گاہے کہیں کوئی ایسا واقعہ پیش آجاتا ہے جس کی فضا طلسمی حقیقت نگار نظر آتی ہے مثلاً سیڑھیاں افسانے میں سید صاحب اور بُندی جب کنویں میں اترے ہوئے ہیں ، اس وقت دونوں کے مکالمے، ماحول، فضا سبھی طلسماتی کیفیت رکھتے ہیں۔ رضی کو اپنا ماضی سناتے ہوئے سیّد یوںخود کلامی کرتا ہے:


’’مجھے تو اپنا وہ مکان ہی اک خواب سا لگتا ہے۔ نیم تاریک زینے میں چلتے ہوئے لگتا کہ سرنگ میں چل رہے ہیں، ایک موڑ کے بعد دوسرا موڑ، دوسرے موڑ کے بعد تیسرا موڑ، یوں معلوم ہوتا کہ موڑ آگے چلے جائیں گے، سیڑھیاں پھیلتی چلی جائیں گی کہ اتنے میں ایک دم سے کھلی روشن چھت آ جاتی ، لگتا کہ کسی اجنبی دیس میں داخل ہو گئے ہیں… کبھی کبھی تو اپنی چھت پہ عجب ویرانی سی چھائی ہوتی ۔ اونچے والے کوٹھے کی منڈیر پر کوئی بندر اونگھتے اونگھتے سو جاتا جیسے اب کبھی نہیں اٹھے گا ۔ پھر کبھی ایک ساتھ جھرجھری لیتا اور کوٹھے سے نیچے کی چھت پہ اور نیچے کی چھت سے زینے کی طرف … ہم دونوں کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ اندھیرے زینے کی سیڑھیوں پر اترتا نیچے آیا۔ہم دالان کے ستون کے پیچھے چھپ گئے۔ کنویں کی من پہ جا بیٹھا… بیٹھا رہا… پھر غائب ہو گیا… یا شاید کنویں میں اتر گیا ہو… ہم کنویں میں جھانکنے لگے، پھر ہم زور سے چلائے ، کون ہے، سارا کنواں گونج گیا اور ایک لہریا کرن پانی میں سے اٹھ کر اندھیرے میں پیچ بناتی ، بل کھاتی باہر نکل سارے آنگن میں پھیل گئی جیسے کسی نے رات میں مہتابی جلائی ہو۔ چمکتے ہوئے پانی پہ ایک عکس تیر رہا تھا۔’’ پتنگ‘‘ ، میں نے نظر اوپر کی، ایک بہت بڑی ادھ کٹی پتنگ ، آدھی کالی ، آدھی سفید کٹ گئی تھی اور اس کی ڈور کہ دھوپ میں باؤلے کی طرح جھلملا رہی تھی۔ منڈیر سے آنگن میں آنگن سے میرے سر پہ ، میں نے ہاتھ بڑھایا مگر ہاتھوں سے نکلتی چلی گئی۔ میں تیر کی طرح زینے میں دوڑا… زینے میں اندھیرا۔ تہہ خانے کی کھڑکی کے پاس پہنچ کر میرا دل دھڑکنے لگا۔ میں نے آنکھیں میچیں اور اوپر چڑھتا گیا۔ ایک موڑ ، دوسرا موڑ، سیڑھیاں ، پھر سیڑھیاں، اس کے بعد پھر سیڑھیاں… جیسے چڑھتے ہوئے صدی گزر گئی ہو… پھر کھلازینہ آ گیا،مگر سیڑھیوں کا پھر وہی چکر، سیڑھیاں اور پھر سیڑھیاں اور پھر…‘‘ ٭۹
اس افسانے کا یہ ٹکڑا اپنا طلسماتی اثررکھتا ہے اور افسانے کی پوری مجموعی فضا پر آسیبی طرح سے اثر انداز ہوتا ہے۔وہ تاثر جو انتظار حسین چاندنی رات، لالٹین کی روشنی، صراحی کا پانی، خوابوں کے سلسلے جیسے عناصر سے پیدا کرنا چاہ رہے تھے، وہ اس طلسماتی منظر سے اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ اسی لیے تو انتظار حسین اس واقعے کے فوراً بعد افسانے کی بساط لپیٹ دیتے ہیں۔


طلسمی حقیقت نگاری کے لیے ضروری ہے کہ مافوق الفطرت واقعے کا بیان کسی نامعتبر کردار کی بجائے ہمہ دان راوی یا خود مصنف کی طرف سے ہو۔ کیوں کہ اگر کسی کردار کی زبانی وہ واقعہ بیان ہو تو وہ مافوق الفطرت تو رہے گا لیکن اس کا حقیقی ہونا ساقط الاعتبار ہوگا جیسا کہ یاسین کی ڈینگوں کے حوالے سے ہم بحث کر چکے ہیں۔ مصنف خود اگر واقعہ بیان کرے گا تو بیانیے کا لہجہ اس واقعے کے وثوق کی گواہی دے گا۔ اس طرح جب خود مصنف کا اس واقعے پر اعتبار نظر آ جاتا ہے تو پھر باقی تمام کردار، پورے ماحول اور قاری کو بھی یقین ہو جاتا ہے جب کہ محض کسی ایک کردارکے کہنے سننے،دیکھنے بتانے سے تیقن نہیں ہو پاتا اور افسانے کے اندر بھی کچھ کرداروں کو اس کی واقعیت پر شبہ رہتا ہے جس سے مصنف کی بدگمانی بھی ظاہر ہوتی ہے اورقاری کی بے یقینی بھی جنم لیتی ہے۔انتظار حسین نے اپنے افسانے ’’مردہ راکھ‘‘ کا آغاز ہی ہمہ دان راوی کی حیثیت سے کیا ہے اور اس کا آغاز ایک ایسے ماورائے حقیقت واقعے سے ہوا ہے جسے بلاشبہ طلسمی حقیقت نگار قرار دیا جا سکتا تھا ، بحث آگے بڑھانے سے قبل یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:


’’کہتے ہیں کہ اس برس سواری نہیں آئی تھی۔ یہ بڑا علَم گم ہونے کے ایک سال بعد کا واقعہ ہے۔بڑا علَم پہلے گروی رکھا گیا ، پھر سونے کے کئی علَم دے کر اسے عین نو محرم کو چھڑایا گیا۔ جب وہ سجا کر بلند کیا گیا تودیکھاکہ وہ سرخ انگارہ ہو گیا ہے، سرخ پنجہ پہلے بہت دیر تک تھراتا رہا، مولوی فرزند علی کا بیان ہے کہ اس سے خون بھی ٹپکا تھا ۔ پھر جب زیارت کے وقت اسے عزا خانے سے باہر نکالا گیا تو علَم بہت زور سے کانپا اور پھر تفضل کے ہاتھ میں خالی چھڑ رہ گئی۔ بس اس کے اگلے برس یہ واقعہ ہو گیا۔ تو اس برس عزا خانوں میں سواری نہیں آئی تھی۔ عزا خانوں کی زینت تو اسی طور ہوئی،علَم سجے، جھاڑ فانوس اور ہانڈیاں روشن ہوئیں اور لوبان اور اگر بتیاں سلگائیں گئیں اور تاشہ پارٹیاں چاند دیکھتے ہی نکل پڑیں مگر پھر ایسا ہوا کہ تفضل جو ماتم کرنے، تاشہ بجانے اورتلواروں والے علم کو گردش دینے میں سب پر سبقت رکھتا تھا، تھوڑی ہی دیر میں اکتا گیا۔ پھر اختر بھی تھک گیا۔ پھرتاشہ پارٹی ساری بکھر گئی۔ پھر امام باڑوں میں گشت کرنے والے کہ چاند رات کورات گئے تک عزا خانوں میں گھومتے پھرتے تھے، اس خاموش فضا سے اداس ہو کر گھروں کو لوٹ گئے اور چاند رات اس برس شروع رات ہی میں سونی ہو گئی۔ ‘‘ ٭۱۰


یہ بیان اپنے اندر پوری طلسمی حقیقت نگار تکنیک سموئے ہوئے ہے۔ بیانیہ پوری طرح سے حقیقت نگار بنیادوں پر قائم ہے اور اس حقیقت نگار بنیاد پر کھڑا ہو کر بھی بیانیے میں علم کے رنگ بدلنے ، تھرانے ، خون ٹپکنے اورغائب ہو جانے کے سے جادوئی واقعات کی گنجائش نکل آئی ہے۔ یہ تمام واقعات سہولت اور اعتماد کے ساتھ روزمرہ حقیقت کے طور پر بیان ہوئے ، بیان کرنے والا بھی خود ہمہ دان راوی؍مصنف ہے جس کی وجہ سے بیان کی صداقت پر قاری کو شبہ نہیں ہوپاتا لیکن انتظار حسین نے اس بیان کے آغاز میں ہی حشو کا ایسا استعمال کیا ہے کہ بیانیے کے اعتبار کی پوری عمارت گر پڑی ہے۔ انہوں نے ’’کہتے ہیں کہ ‘‘ لکھ کر اس بیان کی تمام ذمہ داری خود اپنے کندھوں پہ رکھنے کی بجائے یا ہمہ دان راوی کو سونپنے کی بجائے کہنے والے نامعلوم افراد پر ڈال دی ہے۔ دوسری جگہ جہاں خون ٹپکنے کا ذکر ہوا ہے، وہاں بھی بیانیے نے ’’مولوی فرزند علی کا بیان ہے کہ‘‘ کا سہارا لیا ہے یعنی اس واقعے کی صداقت سے متفق ہوئے بغیر دروغ بر گردنِ راوی کہہ کر خود بری الذمہ ہو گئے اور ان کے اِن دو جملوں نے ثابت کیا کہ بیان کی صداقت پر مصنف خود بھی متیقن نہیں، اس لیے یہ بیان حقیقت نگار بیان کی بجائے ایک ایسا واہمہ قرار پاتا ہے جسے دوسروں کی زبانی سن کر تحریر کیا گیا ہے لیکن جس کی صداقت پر خود راوی کو شک ہے۔


انتظار حسین کے تمام مشہور افسانوں کا اوپر ذکر ہو چکا اور انہیں فینٹیسی ، تمثیل ، حکایات یا واہمہ کی کارفرمائی قرار دے کر طلسمی حقیقت نگاری کی ذیل میں سے خارج کر دیاگیا ہے البتہ ان کا ایک افسانہ ایسا ہے کہ جو بظاہر پوری طرح سے حقیقت نگار بیانیہ ہے لیکن اپنے اندرکسی حد تک طلسمی حقیقت نگار سچویشن رکھتا ہے۔یہ افسانہ ہے ’’دوسرا راستہ۔‘‘


یہ افسانہ طلسمی حقیقت نگاری کی اس شرط پر تو بہرحال پورا اترتا ہے کہ اس کا پورا ماحول حقیقت نگارفضا کا حامل ہے اور اس میں ایسی سچویشن پیدا ہوئی ہے جوا پنے اندر خود طلسمی حقیقت نگارہے۔ ملحوظِ خاطر رہے کہ افسانہ کسی بھی طرح سے طلسمی حقیقت نگار نہیں ہے لیکن اس کے اندر جوالجھی ہوئی سچویشن ہے، اس میں طلسمی حقیقت نگاری کااثر نظر آتا ہے۔ یہ سچویشن ایسی ہوتی ہے جہاں کسی کردارکو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہوتا کہ کیا ہورہا ہے اور آگے چل کر کیا ہو گا اور درپیش صورت حال کابظاہر کوئی حل بھی نظر نہیں آتا۔ کرداروں کی اس الجھن کا اثر لا محالہ قاری پر بھی پڑتا ہے اور وہ بھی اسی گومگو کی کیفیت کا شکار رہتا ہے۔ ’’دوسرا راستہ ‘‘ایک ایسا افسانہ ہے جس میں دھیمی سی طلسمی حقیقت نگار سچویشن سامنے آئی ہے۔ریگل کے راستے سے سٹیشن جانے والی ایک ڈبل ڈیکر بس ہے جس میں افسانے کا مرکزی کردار اور اس کا ساتھی ظفر بیٹھے ہوئے ہیں، ریگل پر کوئی ہنگامہ برپا ہے اور ڈرائیور بس کی تباہی کے اندیشے سے بس کو ریگل سے پہلے ہی کسی ذیلی سڑک میں اتار لیتا ہے۔ اب سواریوںکو یہ معلوم نہیں کہ بس کدھر جا رہی ہے اور منزل پر کب پہنچے گی۔ بس کی سواریاں اس انجانے روٹ سے گھبراتے ہوئے چیخ چیخ کر ڈرائیور کو کوس رہی ہیں لیکن ڈرائیور اَن دیکھے دیوتاکی طرح نادیدہ اور خاموش ہے۔ وہ پورے افسانے میں سامنے نہیں آتا جس سے اس کی پر اسراریت کا تاثر پختہ ہوتاہے۔بس کی سواریوں میں ایک مذہبی مجنون بھی ہے جو اپنے اول فول سوالوں کا جواب مانگتا پھرتا ہے لیکن جواب کوئی کیا دے۔ اس کا سوال ہی اتنا بے ربط ہوتا ہے کہ سمجھ نہیں آتا۔ بس کے باہر کے حالات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ باہر ماحول کی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف سے آنے والی بس کے تمام شیشے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ وہ فکر مند ہوتے ہیں لیکن کر کچھ نہیں سکتے۔ تھوڑی دیر بعد ان کی بس پر بھی پتھرائو شروع ہو جاتاہے۔ وہ دونوں اندر ہی دبکے رہتے ہیں جبکہ اکثر سواریاں بھاگ دوڑکر کے نیچے اتر جاتی ہیں۔ بس جب اس پتھرائو کے بعد چل پڑتی ہے تو ان کا حوصلہ بحال ہو جاتا ہے۔ افسانے کی اختتامی سطریں یوں ہیں:


’’رفتہ رفتہ اس کا حوصلہ بحال ہوا۔ اس نے پھر باہر جھانک کر دیکھا۔ سڑک دور تک خالی پڑی تھی۔ کبھی کبھار گزرتی ، شور کرتی، رکشا، کوئی سٹ پٹ کرتا تیزی سے گزرتا پیدل آدمی، جا بجا بکھری ہوئی اینٹیں، کہیں کہیں پڑے ہوئے شکستہ شیشے۔ نظروں کے سامنے گزرتا ہوا سٹاپ، سٹاپ بے آدم، سائبان خالی،نہ کوئی برقعہ پوش عورت نہ کوئی اونگھتاہوا بوڑھا۔ سامنے ساری سڑک پر اینٹیں بکھری پڑی تھیں اور ایک گرے ہوئے بڑے سے سائن بورڈ سے ہلکا ہلکادھواں اٹھ رہا تھا۔ اسے لگاکہ گاڑی کسی دور درازکے ویران سنسان سٹیشن سے گزر رہی ہے۔


’’یار ظفر!ہم سٹیشن جا رہے ہیں؟‘‘
’’کچھ پتا نہیں چل رہا۔‘‘ اب ظفر کے لہجے میں تشویش کا رنگ پیدا ہو چلاتھا۔
آگے کی نشست پر کتبے والا آدمی بے حس و حرکت بیٹھا تھا اور اس کا کتبہ اس طرح اپنے جلی حروف کے ساتھ اس کے اور ظفرکے بالمقابل تھا، ’’میرا نصب العین:مسلمان حکومت کے پیچھے جمعہ ادا کرنا۔‘‘
اس نے پھر ظفر کو ٹٹولا:’’یا ظفر!‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’ہم سلامت نکل جائیں گے۔‘‘
ظفرسوچ میں پڑ گیا۔پھر لمبے تامل کے بعد بولا:’’کیا کہا جاسکتا ہے؟‘‘ ٭۱۱
افسانے کاانجام بتاتا ہے کہ ابھی تک سچویشن کا کوئی حل سامنے نہیں آیا۔ اس سچویشن کی الجھن اور مسئلے کی اصل وجہ کا خفیہ ہونا اسے طلسمی حقیقت نگار سچویشن کی طرف لے جاتا ہے۔
انتظار حسین کے افسانوی ادب میں طلسمی حقیقت نگاری کی یہی ایک ہلکی سی مثال تھی،البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اساطیر اور حکایات کا اس طرح سے استعمال کرتے ہیں کہ ان کے اکثر افسانوں پر طلسمی حقیقت نگار افسانے ہونے کاشبہ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے محمد عزیز کا کہنا ہے:


’’ یہی وہ اساطیر ہیں جن سے انتظار حسین نے اپنے افسانوںکے لیے مواد کشید کیا ہے۔اور ان افسانوں کے غیر معمولی اور فوق الفطری عناصر سے ایک نئی دنیا تشکیل دی ہے جو ان افسانوں کو جادوئی حقیقت نگا ری کے قریب لے جا تی ہے ، انتظار حسین کا کمال یہ ہے کہ اس نے اس کا سارا مواد اپنی تہذیب اور ثقافت سے لیا ہے۔جو بدھ ، ہندو اور اسلامی مذاہب سے تشکیل پذیر ہوئی ہے۔اور افسانہ نگار نے اسے عہد ِحاضر کے رحجانات سے ہم آہنگ کر کے نظریہ علم(Ontology) اور ضابطہِ علم(Episte’m)کے مابین حدود کو دھند لا دیا ہے…… انتظار حسین نے براہِ راست جادوئی حقیقت نگا ری کو چونکہ استعمال نہیں کیا اس لیے ہم اس کو جزوی طور پر ہی زیرِ بحث لا سکتے ہیں ۔گارشیا مارکیز ،کارپینتئیر یا بورخیس کی طرح کی جادوئی حقیقت نگاری کو ان کے ہاں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ ٭۱۲


مارکیز ، کارپینتئیر اور بورخیس کی طرح کی کیا، انتظار حسین کے ہاں کسی بھی طرح کی طلسمی حقیقت نگاری نظر نہیں آتی۔ان کے افسانے دہری سطح تک پہنچتے ہی نہیںبلکہ صرف حقیقت تک محدود رہتے ہیں یا پھرمحض مافوق کی طرف جا نکلتے ہیں۔ دونوں کی آمیزش سے جنم لینے والی طلسمی حقیقت نگار تکنیک ان کے ہاں استعمال ہی نہیں ہوئی۔ یک سطحی افسانوں کو ہم طلسمی حقیقت نگار نہیں کہہ سکتے سو طلسمی حقیقت نگار تکنیک کا جائزہ لیتے وقت انتظار حسین صاحب کو شامل نہیں کرنا چاہیے۔ جو چیز ان کے ہاں ہے ہی نہیں، اس پر انہیں سراہنا بے جا تعریف کہلائے گا۔ ان کی ستائش کے لیے اور بہت سے پہلو نکل آتے ہیں اور اُنہیں اِنہی حوالوں سے سراہنا چاہیے۔

حوالہ جات
۱۔ محمد عزیز،’’ اردو افسانے میں طلسمی حقیقت نگاری:خصوصی مطالعہ نیر مسعود، اسد محمد خان،منشاء یاد اور انتظار حسین‘‘، مقالہ برائے ایم فل
اردو،یونیورسٹی آف سرگودھا، سرگودھا، 2013، ص:۴۹۔۴۸
۲۔ انتظار حسین، ’’جنم کہانیاں‘‘، لاہور، سنگِ میل پبلی کیشنز، 1998ء، ص:۶۵۴
۳۔ ایضاً،ص:۵۱۔۶۵۰
۴۔ ایضاً، جنم کہانیاں،ص:۶۸۹
۵۔ محمد عزیز،’’ اردو افسانے میں طلسمی حقیقت نگاری:‘‘ مقالہ برائے ایم فل اردو، سرگودھا، 2013، ص:۶۷
۶۔ انتظار حسین، ’’جنم کہانیاں‘‘،ص:۳۲۷
۷۔ ایضاً،ص:۹۵۔۳۹۴
۸۔ محمد عزیز،’’ اردو افسانے میں طلسمی حقیقت نگاری‘‘، ص:۸۸
۹۔ انتظار حسین،’’ قصہ کہانیاں‘‘، لاہور، سنگِ میل پبلی کیشنز، 1998ء، ص:۲۴۳
۱۰۔ ایضاً،ص: ۲۴۵
۱۱۔ ایضاً،ص:۳۳۱
۱۲۔ محمد عزیز،’’ اردو افسانے میں طلسمی حقیقت نگاری‘‘، ص: ۸۰

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں