انتظار کے موضوع پر اشعار

Read Urdu Poetry on the topic of Intezar Par Urdu Shayari (Intezaar Pe Shayari Status). You can read famous Urdu Poems about Lover's Wait Urdu Poetry and Waiting Urdu Poetry Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

انتظار شاعری intezar poetry

انتظار کا وقت کسی امتحان سے کم نہیں ہوتا۔ یہ ایسا وقت ہوتا ہے جس میں لمحہ لمحہ گھنٹوں میں گزرتا ہے۔ عاشق اپنے محبوب کے وصل کی خواہش لیے بیٹھا اس کی راہ تکتا رہتا ہے، آنکھیں پتھرا جاتی ہیں، مگر انسان کم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ انتظار کے ایسے کٹھن مراحل میں مختلف شعراء نے بر موقع اشعار کہے ہیں۔ انہی اشعار میں سے کچھ بہترین شعروں کا انتخاب پیش کیا جاتا ہے۔

انتظار کے موضوع پر اشعار

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ، مِرا انتظار دیکھ
علامہ اقبال
۔
منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں
کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا
احمد فراز
۔
شاید تم آئو میں نے اسی انتطار میں
اب کے برس کی عید بھی تنہا گزار دی
نامعلوم
۔
بے خودی لے گئی کہاں ہم کو
دیر سے انتطار ہے اپنا
میر تقی میر
۔
شبِ انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی
کبھی اک چراغ جلا دیا، کبھی اک چراغ بجھا دیا
ذیشان ساجد
۔
ہم انتظار کریں گے ترا قیامت تک
خدا کرے کہ قیامت ہو اور تو آئے
محسن نقوی
۔
اسے خبر ہی نہیں کیا ہے انتظار کا دکھ
میں اس کے پاس کبھی دیر سے گیا ہی نہیں
آیت دہلوی
۔
آنکھوں کو انتظار کا دے کر ہنر چلا گیا
چاہا تھا ایک شخص کو جانے کدھر چلا گیا
جون ایلیاء
۔
آج بھی اس کا انتظار کرتے کرتے دن بیتے
انا پرست لوگ ہیں مرضی سے یاد کرتے ہیں
ندیم بھابھہ

انتظار کے موضوع پر اشعار

تری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھے
مرے لہو کے سمندر ذرا پکار مجھے
خلیل الرحمن عظمی
۔
ہم کو تو انظار ِ سحر بھی قبول ہے
لیکن شب ِ فراق ترا کیا اصول ہے
قتیل شفائی
۔
جسے نہ آنے کی قسمیں مَیں دے کے آیا ہوں
اسی کے قدموں کی آہٹ کا انتظار بھی ہے
کاوش سہروردی
۔
جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے
پھر بھی مصروف ِ انتظار ہے دل
نامعلوم
۔
یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں
تو آ کے جا بھی چکا ہے میں انتظار میں ہوں
منیر نیازی

انتطار پر شعر

اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے
اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے
فرحت احساس
۔
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
فیض احمد فیض
۔
نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امید
مگر ہمیں تو ترا انتظار کرنا تھا
فراق گورکھپوری
۔
جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا
جون ایلیا
۔
تیرے آنے کی کیا امید مگر
کیسے کہہ دوں کہ انتظار نہیں
فراق گورکھپوری
۔
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھی
انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے
پروین شاکر

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
1 Comment

کمنٹ کریں