افسانہ : عشاء

افسانہ نگار : سید کامی شاہ، کراچی

, عشاء

سونے کے ٹھیکروں سے کھیلتے لڑکوں سے لڑائی کے بعد میں بھاگا تھا اور کسی سنگِ راہ سے ٹھوکر کھا کر منہ کے بل زمین پر گرا تھا۔
دھیان سے مُنا۔۔۔۔،، کسی شفیق ہاتھ کا لمس میرے سر سے ہوتا ہوا چہرے اور شانے تک آیا تھا اور میں سسک کر رو پڑا تھا۔
سونے کے ٹھیکروں سے کھیلنے والے لڑکوں سے پٹتے ہوئے مجھے رونا نہیں آیا تھا، غصہ آیا تھا۔ اوروہاں سے بھاگنے کی وجہ خوف نہیں تھا بلکہ وقت کے زیاں کا احساس تھا، وقت کم تھا اس وقت میرے پاس۔ کوئی بہت قریب سے بار بار کان میں کہتا تھا نکلو یہاں سے۔۔۔ تم یہاں کے نہیں ہو۔۔۔
بہت دور کہیں، بڑے سے منقش تخت پر بیٹھا لمبے بالوں والا شاعر نہ جانے کس سے کہہ رہا تھا
تُو جتنا ہوسکے جلدی چلا جا
نہیں جی چاہتا پھر بھی چلا جا،،
کہاں چلا جائوں۔؟ میں سوچتا تھا اور وہ کہتی تھی۔۔ تم بہت سوچتے ہو، اور وہ صرف کہتی نہیں تھی بلکہ ٹوکنے کے انداز میں کہتی تھی اور مجھے لگتا میں کوئی بہت برا کام کرتا ہوں
تو سوچنا ایک برا کام ہے۔۔؟ سگریٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے میں نے اسی لمبے بالوں والے سے پوچھا تھا جو زمین کو ماں کہتا تھا اور پانی کو باپ۔
آھو! وہ مسکراتا تھا اور مسکراتا ہی رہتا تھا۔۔ اسے کوئی بات نہ حیران کرتی تھی اور نا وہ کسی لمحے کے گزرجانے پر پچھتاوا کرتا تھا۔۔
وہ کہتا تھا۔۔۔۔
سب گریزاں ہے، ہم سب گزر رہے ہیں، ایک دوسرے کے قریب سے، ایک دوسرے کے اندر سے، ایک دوسرے کی کیفیات پر بیت رہے ہیں، اور یہ سب ایسا ہی ہے، دائرہ وار، قوسین در قوسین۔۔۔ سب کچھ ایک دوسرے میں شامل ہے اور اپنی جگہ مکمل ہے، سب اپنی جگہ مکمل ہیں مگر کوئی مکمل نہیں ہے، سب کے ہونے کی حالتیں مختلف ہیں، ہر کسی نے کسی دوسرے کے ساتھ مل کر مکمل ہونا ہے۔۔۔ سفر آگے کا ہے اور یہاں پڑائو کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔،،
وہ بولتا جاتا تھا اور مسکراتا جاتا تھا۔۔۔
دھیان سے مُنا۔۔۔ لگی تو نہیں۔؟
وہ کہتا تھا اور مسکراتا تھا۔۔ جیسے اسے یقین ہو کہ کہیں کوئی چوٹ نہیں لگی ہوگی۔
فوکس، بیلنس اور مینیج۔۔۔۔ دھیان کرو مُنا۔۔۔ فوکس کرو گے تو خود کو بیلنس کرسکو گے خود کو بیلنس کر لو گے تو اردگرد کی چیزوں کو مینیج کرنے کے قابل ہوجائوگے۔
جی بابا۔۔۔ سب سے ضروری کیا ہے۔؟
فوکس، دھیان، اپنے رستے کا، اپنی منزل کا، اپنے اطراف کا، دھیان سب سے زیادہ ضروری ہے۔ وہ دور کہیں دیکھتے ہوئے بولتا تھا جو بالکل میرے جیسا تھا، اور میری ہی طرح بولتا تھا۔۔۔ اس کے کپڑے بھی میرے جیسے تھے۔
میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کے شانے کو چھوا۔ اور وہ فضا میں تحلیل ہوگیا۔۔۔ دھویں کی طرح، دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ میرا ہاتھ ہوا میں جھول کر میری برہنہ گود میں آگرا۔۔۔


میرا بدن لباس سے محروم تھا۔۔۔ اور اطراف میں رات کی نیلگوں سیاہی پھیلی تھی۔ درختوں کے سانس لینے کی آواز چاروں طرف پھیلی تھی اور میں طویل قامت درختوں کے درمیان بچھی گھاس کے تختے پر برہنہ بیٹھا تھا۔ وہ بھی بے لباس تھی مگر اس کا بدن لباس کی زحمت سے ماورا تھا، وہ بظاہر ویسی ہی تھی جن سے میں بے لباسی کی حالتوں میں ملتا رہا تھا مگر اپنے ہونے میں مختلف تھی۔ وہ کسی طرح بھی ان کے جیسی نہیں تھی۔ جو بولتی تھی اور مسکراتی تھی۔ درختوں کے سانس لینے سے اس کے سنہری بال ہوا میں لہراتے تھے اور میں اس کے بدن میں اٹھتی قوسوں پر دھیان کرتا تھا۔
میں عشاء ہوں۔۔۔ وہ درختوں کے سانسوں کے درمیان خوبصورتی سے گونجتی تھی اور اس کی آواز پر کسی رقص کرتے جھرنے کا گماں ہوتا تھا۔ وہ گھاس کے نرم تختے پر چلتی تو لگتا زمین سے دو انچ اوپر چل رہی ہے، نشے کی لہر کی طرح لہراتی ہوئی اس کی آواز میرے پورے جسم میں سنسنی پھیلا رہی تھی۔
تم سوتے ہوئے بہت اچھے لگ رہے تھے، مجھے اچھا نہیں لگا کہ تمہیں جگائوں۔
اچھا۔۔۔ میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ گود میں رکھ لیے۔
وہ ایک رنگین لہر کی طرح میرے قریب پھیلی گھاس پر بچھ گئی۔
مجھ سے کچھ مت چھپائو، میں تم سے بہت اچھی طرح واقف ہوں۔
اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا اور میں اس کی نظر کی تاب نہیں لاسکا تھا، میں نے چہرہ نیچے کرلیا اور گھاس کے تنکے توڑنے لگا۔
یاد کسی لہر دار تصویر کی طرح میرے سامنے آتی تھی۔ بھاگتے ہوئے ٹھوکر کھا کر گرا تھا تو اس نے سنبھالا تھا جو میرے جیسا تھا اور میرے جیسے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ وہ بولتا بھی میری طرح تھا اور اس کے ہاتھ بھی میرے جیسے تھے۔
دھیان، مُنا دھیان۔۔۔
میرا سارا دھیان اس ایک لفظ پر اٹک گیا تھا اور باقی سارے الفاظ کہیں کھوگئے تھے۔ سسکیاں تھیں کہ بڑھتی چلی جاتی تھیں۔
روتے روتے اُس کی گود میں سویا تو وہ اس وقت بھی میرے کپڑے پہنے ہوئے تھا مگر میں اس وقت برہنہ نہیں تھا۔ جب آنکھ کھلی تو اس باغ میں تھا جس کے درختوں میں روشنی کے پھول کھِلے تھے اور گھاس کے دبیز تختے بچھے تھے۔ وہاں سنہری انگوروں کی بیلوں کے نیچے اور کوئی نہیں تھا مگر ایک سکون تھا، چمکیلی گھاس کے دبیز تختوں سے بھی زیادہ دبیز سکون۔۔۔ جو شاید مجھ سے پہلے سے وہاں موجود تھا، اس نے میری موجودگی کا برا نہیں مانا تھا۔


یہاں اس وقت برہنگی کی حالت میں ہونا میری خواہش اور تمنا کے باعث نہیں تھا بلکہ یہ کوئی اور معاملہ تھا، اس سے پہلے ہوچکے بیشتر معاملات کی طرح یہ بھی کوئی اور راستہ تھا جو خودبخود میرے قدموں سے آلپٹا تھا۔
ہم پانچ بہنیں ہیں، بڑی والی سب سے بڑی ہے اور چھوٹی والی سب سے چھوٹی، وہ شوخی سے مسکرئی تھی۔
اور تم۔۔۔ تم کتنی بڑی ہو اور کتنی چھوٹی ہو؟ میں بھی مسکرایا تھا۔
میں نہ بڑی ہوں نہ چھوٹی ہوں، میں بس ہوں۔۔ جیسے تم ہو۔ یہ درخت، پھول اور گھاس ہیں۔ یہ ہونا ہے اور ہونا ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہ دور کہیں دیکھتے ہوئے بولتی جاتی تھی۔
تو وہ کون تھا جو سونے کے ٹھیکروں سے کھیلتے لڑکوں سے ڈر کے بھاگا تھا؟
نہیں، وہ ڈر کے نہیں بھاگا تھا۔ اسے اپنے ہونے کی طرف جانا تھا، اس وقت اسے وہاں نہیں ہونا تھا اس لیے اسے وہاں سے بھگا دیا گیا۔۔
کس نے بھگایا تھا، کون تھا وہ۔؟
تُم ہی تھے اور تُم ہی ہو، سب تمہارا ہونا ہے۔ وہ کہتی تھی۔
تو پھر تمہارا ہونا کیا ہے۔؟ میں نے پوچھا
یہ بھی تمہارا ہی ہونا ہے، تم ہو اس لیے میں ہوں۔
مگر میں یہاں کیسے آیا۔؟
کہاں۔؟
یہ، یہاں اس جگہ۔؟
کون سی جگہ ہے یہ۔؟
وہ میری حیرت کا مزہ لے رہی تھی۔
مجھے نہیں معلوم۔۔۔۔۔ میں نے سر جھکالیا۔
یہ میرا باغ ہے اور تم یہاں ہو۔۔۔۔ عشاء کا باغ۔۔۔۔۔،،
وہ کھلکھلاتی تھی جیسے نیلمیں ہرے درختوں کی ٹہنیوں پر لگے پھول چمکتے تھے، اس کی ہنیس کے ننھے ننھے کوندے سارے میں لپکتے تھے اور وہ میری آنکھ کے احاطے میں نہیں سماتی تھی۔
ہم سب بہنوں کے اپنے اپنے باغات ہیں اور ہم سب کا اپنا اپنا ہونا ہے۔ ہم سب کے اپنے دائرے ہیں جسے تم وقت کہتے ہو۔
مگر میں تو کہیں ٹھو کر کھا کر گرا تھا،،
میں نے کہنا چاہا۔۔۔۔۔۔
گرے کب تھے۔؟ اس نے مجھے ٹوکا۔
تم نے گرنے نہیں دیا تھا خود کو۔،،
میں نے ۔؟
ہاں تم نے۔۔۔۔۔
تو وہ جو میرے جیسے کپڑے پہنتا تھا اور میری طرح بولتا تھا وہ میں ہی تھا۔؟
ہاں وہ تم ہی ہو۔،،
مگر وہ تو میرے بیٹے جیسا ہے۔،،
وہ بھی تو تم ہی ہو۔۔۔ تمہارے وجود سے پیدا ہونے والے تمہارے بیٹے میں بھی تو تم ہی ہو۔
اور تم۔؟
مٰیں نے آنکھیں اٹھا کر اس کے چہرے پر رکھ دیں۔
میں بھی تم ہی ہوں۔۔،، اس کی گنگناتی ہنسی سارے میں سرسراتی تھی اور مجھے اپنے رگ و ریشے میں سنسناتی محسوس ہوتی تھی۔
ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔؟
ہوسکتا ہے، سب ہوسکتا ہے، اس عالمِ امکان میں سب ممکن ہے، اگر یقین نہیں ہے تو مجھے چھو کر دیکھ لو۔۔۔،،
وہ میرے قریب ہوئی اور میں یکدم پیچھے ہٹ گیا۔۔۔ مجھے ڈر لگا کہ کہیں یہ بھی اُس کی طرح تحلیل نہ ہوجائے۔
نہیں۔۔۔۔ میں جسے چھوتا ہوں وہ دھواں بن کر تحلیل ہوجاتا ہے، مجھ سے دور رہو۔۔۔،،
میں نے گھبرا کر کہا اور مزید پیچھے ہو کر بیٹھ گیا۔
ہوسکتا ہے اس بار ایسا نہ ہو۔،، اس نے آگے بڑھنے کی کوشش کیے بغیر کہا۔
وقت کتنا بھی ناقابلِ اعتبار سہی، اس کے کسی نہ کسی لمحے پر تو اعتبار کرنا پڑتا ہے۔۔۔،،
اُس نے کہا۔
ہاں ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو،، میں نے سرجھکالیا اور گھاس کے تنکے توڑنے لگا۔
ناں منا بری بات، گھاس کے تنکے نہیں توڑتے۔،،
اُس نے میرا سر سہلاتے ہوئے کہا تھا جو میرے جیسا تھا اور میری طرح کے کپڑے پہنتا تھا اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک شفیق سی مسکراہٹ رہاکرتی وہ نہ کسی بات پر حیران ہوتا تھا اور نہ اُسے کسی لمحے کے گزرجانے پر پچھتاوا ہوتا تھا، وہ کہتا تھا۔۔۔۔
سب گریزاں ہے اور سب گزرجائے گا، ہم سب گریز کی حالتوں میں ہیں ہمارا ہونا ہمارے ہونے کی اصل حالت کی طرف ایک سفر ہے اور ایک دن یہ سفر تمام ہوجائے گا اور ہم اپنی اصل حالتوں میں لوٹ آئیں گے۔،،
ہم۔۔۔۔ ہم سب۔؟ میں حیرت سے اس کی طرف دیکھتا اور وہ پیار سے میرا سر سہلاتا۔
ہاں ہم سب۔۔۔،،
یہ گھاس بھی۔؟ میں نے میدان میں پھیلی گھاس کی طرف اشارہ کیا۔
ہاں یہ گھاس بھی۔۔۔،، اس نے کہا۔
اسی لیے منع کیا کہ گھاس کے تنکے نہیں توڑتے اس سے انسان کے ذہن میں منتشر خیالی پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے دھیان سے ہٹنے لگتا ہے۔ دھیان میں رہنا بہت ضروری ہے۔،،
وہ گھاس کا میدان کوئی اور تھا مگر بات ایک ہی تھی۔
اُس نے بھی محبت سے ایک بات سمجھائی تھی اور اس نے بھی۔
تمہیں پتہ ہے ان لڑکوں نے تمہیں کیوں مارا۔؟
اُس نے پوچھا۔
نہیں۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔۔،، میں نے اسی طرح جھکے ہوئے سر کے ساتھ کہا۔
کیونکہ تم نے اس میدان میں پھیلی ان تمام بلائوں کو دیکھ لیا تھا جسے وہ سونے کے ٹھیکروں سے کھیلنےوالے لڑکے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ حسد، لالچ، انتقام، تمسخر، انارکی، انانیت، تکبر اور تشدد کی وہ بلائیں ان کے دھیان پر حاوی تھیں اور وہ لڑکے ان بلائوں کے معمول بنے ہوئے تھے۔ بڑے میدان میں ایک دوسرے کا ٹھٹھہ کرتے اور تمسخر اڑاتے وہ تمام لڑکے ان بلائوں کے اسیر تھے اور اپنے اصل سے واقف نہیں تھے۔ تم نے انہیں دیکھ لیا تھا۔
مگر۔۔۔۔ مجھے تو ایسا کچھ بھی یاد نہیں۔؟
میں نے کہا۔
بس مجھے وہ اچھے نہیں لگے تھے اور وہ کھیل بھی بہت فضول سا تھا، سونے کے ٹھیکروں کا ڈھیر لگانا اور پھر اسے بکھرا دینا اور ایک دوسرے پر ٹھٹھے کرنا۔۔ بہت فضول سا لگا تھا مجھے ان کا کھیل، تو میں نے ان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کردیا، جس پر ان سب نے مل کر مجھے مارنا شروع کردیا۔ پھر پتہ نہیں کیسے میں وہاں سے بھاگا اور پتہ نہیں کہاں جا کے گرا تھا مجھے ٹھیک سے سب کچھ یاد نہیں۔۔۔،،
میں انگلیوں سے اپنا ماتھا سہلانے لگا۔ میرے حلق میں نمک کا ذائقہ گھُل رہا تھا اور آنکھوں میں دھند تیرتی تھی۔
مجھے سب یاد ہے۔،، وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی اور درختوں سے بہت سارے سفید اور بنفشئی پرندے ایک ساتھ اڑے تھے اور باغ میں کئی رنگین لہریں پھیل گئی تھیں۔


مجھے شدید سردی محسوس ہونے لگی، میں اپنے بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹ کر مزید اپنے اندر سمٹ گیا۔
سردی لگ رہی ہے۔؟
اس نے پوچھا اور میرے بالکل سامنے آکر بیٹھ گئی بالکل میری طرح۔
لو، اب نہیں لگے گی۔،،
میں نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
اس کے وجود کے گرد ایک سفید ہالہ بنا ہوا تھا جس نے ہم دونوں کو ڈھانپ لیا تھا۔ سردی کا احساس یکدم ختم ہوگیا اور اس کی جگہ ایک راحت بخش حرارت نے لے لی۔
اب تو نہیں لگ رہی سردی۔،، اس نے کہا اور کھلکھلا کر ہنسی، وہی معنی خیز اور آشنا ہنسی، جسے لگتا تھا کہ میں صدیوں سے جانتا ہوں۔
درختوں سے مزید سسفید اور بنفشئی پرندے اڑے اور باغ میں کئی رنگین لہریں کوند گئیں۔
میں یہاں کیسے آیا۔؟ میں نے اس سے پوچھا۔
مجھے کیا پتہ۔،،
اس نے کندھے اچکا کر کہا اور پھر وہی آبشاروں کی سی ہنسی۔۔ پرندے اڑانے اور رنگین لہریئے پھیلانے والی انوکھی ہنسی۔۔۔ جیسے اکسارہی ہو، اپنے طرف کھینچ رہی ہو، ایک عجیب فسوں ساز سی ہنسی میرے وجود میں سرسراتی تھی اور اس کے چہرے سے نکلتی شعائٰیں سارے میں ایک عجیب سا ہالہ بنارہی تھیں، میں خود کو اس کی طرف زیادہ دیر تک دیکھتے رہنے سے قاصر پاتا تھا۔ اس کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے بار بار اپنی طرف دیکھنے کا خیال آتا تھا اور اپنی برہنگی کا احساس شدت سے ہوتا تھا۔
اُس کے جیسی بہت ساری جو مختلف وقتوں اور حالتوں میں ملی تھیں، ہنستی بھی تھیں، روتی بھی تھیں اور رلاتی بھی تھیں مگر ان میں سے کسی کی ہنسی ایسی نہیں تھی پرندے اڑانے اور رنگین لہریئے بنانے والی انوکھی ہنسی، اور ایسے کسی باغ میں بھی نہیں ملی تھیں جس کے درختوں کی چوٹیاں نظر نہیں آتی تھیں اور نہ گھاس ایسی رنگین تھی اور نہ پھول اور نہ انگور ایسے سنہری، شہدیلے گچھوں والے جو بیلوں سے لٹکے جھول رہے تھے اورلگتا تھا کہ کسی بھی لمح؁ ان میں سے شہد ٹپکنے لگے گا۔۔۔۔۔
تم کون ہو اور یہ کون سی جگہ ہے۔؟
میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
وہ پھر ہنسی اور پھر ویسے ہی بہت سے سفید، کاسنی اور بنفشئی پرندے درختوں کے جھنڈ سے نکل کر آسمان کی طرف پرواز کرتے دکھائی دیئے۔ اور کاسنی، بنفشی، زعفرانی رنگین لہریے جو فضامیں بل کھاتے اور ہمارے اطراف گھاس کے تختوں پہ گر کر تحلیل ہوتے دکھائی دیتے تھے۔
بتایا تو ہے میں عشاء ہوں اور یہ میرا باغ ہے۔ اور اب یہ باغ بس تھوڑی ہی دیر ہے پھر نہ یہاں میں ہونگی اور نہ یہ باغ۔،،
اور میں۔؟ میں نےجلدی سے پوچھا۔
ہاں، تم بھی،، اس نے کہا۔
تم کہاں جائوگی۔؟ میں نے پوچھا۔
جہاں مجھے ہونا چاہیے۔،، اس نے کہا۔
کہاں ہونا چاہیے تمہیں۔؟ میں نے پوچھا۔
یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے، میں بس ابھی ہوں یہاں اور تھوڑی دیر بعد نہیں ہوئونگی، تم چاہو تو مجھے چھو کے دیکھ سکتے ہو۔،، اس نے کہا۔
نہیں، میں نے قطعیت سے کہا اور گھٹنوں پر دھرے اپنے ہاتھ مزید مضبوط کرلیے۔
وہ بغیر کچھ کہے میری طرف دیکھتی رہی۔
مجھے لگا کہ میں کچھ مضحکہ خیز سا نظر آرہا ہوں، میں نے اپنی پشت کو ذرا سا ڈھیلا کیا اور آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر، گھٹنوں کے گرد لپٹے اپنے ہاتھ کھول کر میں نے گود میں رکھ لیے۔
میں جسے بھی چھوتا ہوں وہ دھویں کی طرح فضا میں تحلیل ہوجاتا ہے،، میں نے اس کی طرف دیکھا اور پھر چہرہ نیچے کرلیا۔ آنکھوں میں پھر وہی سرمئی دھند تیرنے لگی تھی۔
میں نے تو پہلے بھی کہا کہ اگر یقین نہیں ہے تو چھو کے دیکھ لو، اس نے ہوا میں اپنا ہاتھ لہرایا اور فضا میں سنہری افشاں پھیل گئی۔۔۔
پھر وہی ہنسی، اکسانے والی، اپنی طرف بلانے والی عجیب گنگناتی اور گدگداتی ہوئی ہنسی۔
میں نے رُکتے، جھجھکتے، ڈرتے ڈرتے اپنا ہاتھ بڑھ کر اسے چھونے کی کوشش کی اور اس کے ہاتھ سے ٹکراتے ہی وہ مسکراتی ہوئی شبیہ دھواں بن کر فضا میں تحلیل ہونے لگی۔۔۔
میرا ہاتھ ہوا میں جھول کر رہ گیا۔
تمام شُد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
سید کامی شاہ معروف شاعر اور افسانہ نگار ہیں، گاہے گاہے ادبی مضامین اور کالم بھی لکھتے ہیں، ایک طویل عرصے سے اس دشت کی سیاحی میں مشغول ہیں، ان کی شاعری کے اب تک دو مجموعہ کلام اشاعت پذیر ہوچکے ہیں، پہلی کتاب تجھ بن ذات ادھوری ہے کہ نام سے دو ہزار آٹھ میں شائع ہوئی جبکہ دوسری کتاب قدیم کے نام سے دو ہزار اٹھارہ میں شائع ہوئی۔ کئی شعری انتخابات کا حصہ بھی بن چکے ہیں۔ افسانے، مضامین، کالم اور شاعری کثیر تعداد میں ملکی و غیر جرائد میں اشاعت پذیر ہوتی رہتی ہے۔ سید کامی شاہ پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں، اخبارات و جرائد میں طویل عرصے تک صحافیانہ ذمہ داریاں نبھانے کے بعد الیکٹرانک میڈیا میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں۔ اردو زبان کے ایک کثیر الاشاعت جریدے گوسپ کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں برقی صحافت بھی پڑھاتے رہے ہیں۔ آج کل ایک نجی میڈیا ہائوس میں ویب پروڈیوسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تخلیقی میدان میں اپنی کہانیوں کی کتاب کاف کہانی، شاعری کے مجموعے وجود سے آگے اور ناول کشش کا پھل پر کام کررہے ہیں۔ عصری شعرا و ادبا پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ تازہ کامی کے نام سے زیرِ طبع ہے۔
1 Comment
  1. Avatar

    بڑی عنایت جناب
    سلامت رہیں آپ

    Reply

کمنٹ کریں