پانی پینے کی سات سنتیں

hijab girl drinking water حجاب پانی پینا

پانی پینا انسان کی ایک اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔ بغیر پانی پیے ہم زندہ نہیں رہ سکتے لیکن ہم اگر سنت ِ نبوی ﷺ کے مطابق پانی پینے کو اپنی زندگی کی عادت بنا لیں گے پانی پینے کا عمل بھی ہمارے لیے ایک عبادت کی صورت اختیار کر جائے گا۔ عبادت ہو جانے کے سبب پانی پینے کے عمل سے نہ صرف ہم ثواب کما سکتے ہیں بلکہ اللہ تعالی اور آقائے دو جہان ﷺ کی خوشنودی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک مسلمان کو چاہئے کہ سنت ِ نبوی کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے۔ احادیث ِ نبوی ﷺ کی روشنی میں دیکھا جائے تو پانی پینے کی سات سنتیں بیان کی گئی ہیں جو کہ مندرجہ ذیل میں درج ہیں:

  1. ایک خاتون کو پانی دوپٹہ اوڑھ کر پینا چاہئے۔
  2. پانی دیکھ کر پینا چاہئے کہ کہیں اس میں کوئی نجس یا ناپاک چیز نہ شامل ہوگئی ہو، یا پانی گندا یا بدبودار نہ ہو۔
  3. پانی بیٹھ کر پینا چاہئے کیونکہ جدید میڈیکل سائنس کی رو سے بھی دیکھا جائے تو ہم سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ کھڑے ہو کر، چلتے پھرتے یا دوڑتے ہوئے پانی پینا نہ صرف معدے کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ایسا کرنے سے پانی سائنس کی نلی میں جا کر دم گھٹنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
  4. پانی سیدھے سے ہاتھ سے پینا چاہئے۔
  5. پانی پینے سے پہے تسمیہ یعنی “بسم اللہ الرحمان الرحیم” پڑھنا چاہئے۔
  6. پانی تین سانس میں پینا چاہئے۔ بعض روایات میں یہ بتایا گیا ہے کہ کم از کم تین سانس میں پانی پینا چاہئے یعنی اس سے زیادہ دفعہ بھی توقف کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر مسلسل ایک ہی سانس میں پانی پیئیں تو سانس کی بے ربطگی کے سبب مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ پانی کے ٹھنڈا یا گرم ہونے کی صورت میں اچانک تیزی سے خشک گلے سے گزرنے اور معدے میں داخل ہونے کے سبب طبعی حادثات بھی ہوسکتے ہیں جو کہ صحت کے نقصان کا باعث بن کر ابھر سکتے ہیں۔
  7. پانی پی لینے کے بعد الحمد للہ کہنا چاہئے۔ یہ اس لیے ایک احسن عمل ہے کیونکہ ہم سب اللہ کو خدا رازق مانتے ہوئے اس کی عبادت و پیروی پر معمور ہیں۔ پانی اللہ تعالی کا عطا کردہ رزق ہے۔ اس لیے ہمیں اللہ کی شکرگزاری کرتے رہنا چاہئے۔

سنت طریقے میں اللہ تعالی نے برکتیں رکھی ہیں۔ اگر ہم پانی کو سنت طریقے سے پینے کی عادت بنا لیں گے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم کئی طرح کی بیماریوں سے خود کو بچا لیں گے اور اللہ تعالی کی خوشنودی الگ حاصل ہوگی۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں