عشق

عشق پر شاعری
عشق پر شاعری

زرک میر ۔۔۔۔۔ شال

میں زرک ہوں کبھی اصلی وہسکی ملتی ہے تو کبھی ٹھرا پیتا ہوں ۔ میرا لباس سفید ہے لیکن میرے قلم کے چھینٹے میرے لباس پر پڑتے ہیں تو لگتا ہے کہ طوائفوں کے رحم میں پلنے والے نطفوں کا خون لگا ہے جو چیخ چیخ کر مجھ سے اپنے جائز مقام کا پوچھتے ہیں ۔سچ پوچھیئے تو یہاں ہم سب حرامی ہیں کہ جن کی مائوں کو ان کے باپ بغیر کچھ دیئے رات کو نچھوڑتے ہیں جبکہ اصلی باپ والے تو وہ نطفے ہیں جن کی مائیں اپنا خراج لے کر کسی کے ساتھ سوتی ہیں ۔


جی ہاں میں عینک پہنتا ہوں کہ میری دور کی نظر کمزور ہے میں قریب آس پاس دیکھ سکتا ہوں ، یہاں کچرہ کے ڈھیر میں امیروں اور سیٹھوں کے چوسے ہوئے آموں کی گھٹلیوں سے زیادہ مجھے ایک عورت کے پیٹ میں وہ نطفہ نظر آتا ہے جس کی بیج اس کی ماں کے آموں کو چوس چوس کر بویا گیا ہو ۔ مجھے دیواروں پر لکھے رنگ برنگے سیاسی مذہبی نعروں اور مردانہ کمزوری کے نسخوں سے زیادہ اس ماں کے پیٹ پر پڑنے والی ان ہاتھوں کی خراشیں زیادہ واضح نظر آتی ہیں جو اپنا زور یا تو دیواروں پر اتارتے ہیں یا پھر کسی عورت پر ۔ مجھے موٹے شیشے والی عینک سے وہ عورتیں بھی نظر آتی ہیں جن کو امیرزادوں نے معاشرے کے دکھاوے کیلئے بیوی بنا کررکھا ہے جبکہ ان کی اصل بیویاں ان خفیہ تعفن زدہ کوٹھوں میں رہتی ہیں جہاں ان کے قدم سناٹے کیساتھ بڑی تیزی سے بڑھتے ہیں ۔
جی ہاں میں کلین شیو کرتا ہوں کہ مجھے منافقت کرتے ہوئے داڑھی پر ہاتھ پھیرنے کی ایک اور منافقت نہ کرنی پڑے ، لمبی داڑھیوں کی آڑ میں گلے سے اترتے حرام کے نوالے بھی دکھائی نہیں دیتے کہ داڑھی بہت کچھ چھپانے کا ذریعہ ہے ۔


میں نے کہا کہ میری دور کی نظر کمزور ہے بھلے مجھے لاپتہ افراد نظر نہیں آتے ہوں لیکن لاپتہ افراد کی مائوں کو اچھی طرح دیکھ سکتا ہوں کہ میری قریب کی نظر بہت اچھی ہے جو سڑکوں پر بیٹھی بین کرتی نظرآتی ہیں ۔ ان میں بوڑھی مائیں بھی ہوتی ہیں اور بن بیاہی دوشیزائیں جو اپنے باپ اور بھائیوں کو ڈھونڈتی ہیں ۔ اس دن میں “شراب” نہیں پیتا اس دن میں درد پیتا ہوں اور خوب پیتا ہوں ۔
میں سیاست بقدر ضرور کرتا ہوں لیکن عشق ڈٹ کر کرتا ہوں ۔میں کسی سیاسی جماعت کا کارکن نہیں نہ کوئی وابستگی اور تعلق ہے ، نہ کوئی مستقل روزگار ہے نہ کوئی مستقل ٹھکانہ لیکن عشق کے آستانوں پر میرا قیام طویل ہوتا ہے ۔ میرا علم عشق ہے کہ یہ مجھے حساس بناتا ہے ، مجھے انسانیت سکھاتا ہے جو سائنسی لیبارٹریز، لائبریریز، مساجد اور مدارس میں نہیں اور نہ ہی یہ خدائی کتابوں میں ملتا ہے ۔ مجھے میری کتاب خود مکمل کرنی ہوگی ۔ آدھی مکمل اور آدھی باقی ہے کہ رات ابھی باقی ہے میری کتاب سحر کو مکمل ہوگی طلوع آفتاب کی طرح ۔ یہ کتاب عشقیہ ہوگی اس میں دکھ اور درد کی باتیں نہیں ہونگی نا ہی یہ تہلکہ خیز ہوگی نہ ہی اس میں کسی بڑے ادیب کا دیباچہ ہوگا اور نہ ہی کسی بڑے سیاستدان کا ہاتھ ، نہ کسی کی بائیو گرافی ، صرف جو محسوس کرونگا وہی لکھونگا ۔ خون کو خون لکھونگا پھول کو پھول لکھونگا کہ دونوں کا رنگ تو ایک جیسا لال ہے لیکن ان کی خوشبو میں بڑا فرق ہے ۔ میں رنگوں کو ان کی خوشبو کا تشخص دونگا کہ میں پھولوں کی تشخص پر یقین رکھتا ہوں ، عورت کو عورت لکھونگا ،اسے جنت سے محروم لکھونگا ، مرد کو شہوت کا رسیا لکھونگا ،طوائف کو پارسا ، عدالت اور منصف کو ننگا لکھونگا ۔


تم سمجھتے ہو کہ خدا کے چیپٹر کو میری کتاب میں طویل ہونا چاہئے جبکہ میں نے صرف “انتساب” خدا کے نام پر چھوڑ رکھا ہے کہ اس کے لئے ایک فقرہ ہی کافی ہے کہ ” اے خدا! عشق نے تمہارا پردہ فاش کردیا ” تب میری کتاب میں عشق کا حصہ طویل ہوگا ۔ جی ہاں میں عشق ڈٹ کر کرتا ہوں ۔ میری دور کی نظر کمزور نذدیک کی اچھی ہے ۔ عشق نے مجھے اوپر نگاہیں اٹھانے کی بجائے نگاہیں جھکا کر چلنے کا سلیقہ دیا ہے تب میں اپنے قدموں کی چاپ سن سکتا ہوں تب میں درست سمت میں جاسکتا ہوں ۔ میرا قیام گاہ عشق کے آستانوں میں طویل ہوتا ہے ۔ بہت طویل ۔
****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
1 Comment
  1. Avatar

    زبردست

    Reply

کمنٹ کریں