عزت پر شاعری

عزت پر شاعری

شہر سخن میں ایسا کچھ کر عزت بن جائے
سب کچھ مٹی ہو جاتا ہے عزت رہتی ہے
امجد اسلام امجد

آپ کی کون سی بڑھی عزت
میں اگر بزم میں ذلیل ہوا
مومن خاں مومن

جس کو چاہیں بے عزت کر سکتے ہیں
آپ بڑے ہیں آپ کو یہ آسانی ہے
ماجد دیوبندی

مانگنے والوں کو کیا عزت و رسوائی سے
دینے والوں کی امیری کا بھرم کھلتا ہے
وحید اختر

ہوئے ذلیل تو عزت کی جستجو کیا ہے
کیا جو عشق تو پھر پاس آبرو کیا ہے
تحسین دہلوی

عزت پر شاعری

مآل عزت سادات عشق دیکھ کے ہم
بدل گئے تو بدلنے پہ اتنی حیرت کیا
افتخار عارف

ساری عزت نوکری سے اس زمانے میں ہے مہرؔ
جب ہوئے بے کار بس توقیر آدھی رہ گئی
حاتم علی مہر

عزت کا ہے نہ اوج نہ نیکی کی موج ہے
حملہ ہے اپنی قوم پہ لفظوں کی فوج ہے
اکبر الہ آبادی

دل کہ ہے سرمایہ دار عزت و ناموس حسن
ہے یہی مرکز یہی ہے دائرہ میرے لئے
مصلح الدین احمد اسیر کاکوروی

شعر و سخن کا شہر نہیں یہ شہر عزت داراں ہے
تم تو رساؔ بد نام ہوئے کیوں اوروں کو بد نام کروں
رسا چغتائی

عزت پر شاعری

ہمیشہ غیر کی عزت تری محفل میں ہوتی ہے
ترے کوچے میں جا کر ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں
شوکت تھانوی

اپنے لیے ہی مشکل ہے
عزت سے جی پانا بھی
عزیز انصاری

جھوٹ اور مبالغہ نے افسوس
عزت کھو دی سخنوری کی
اسماعیل میرٹھی

ترے ہاتھوں میں ہے تری قسمت
تری عزت ترے ہی کام سے ہے
عابد ودود

پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی
میر تقی میر

عزت پر شاعری

میری رسوائی اگر ساتھ نہ دیتی میرا
یوں سر بزم میں عزت سے نکلتا کیسے
اختر شمار

زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار
اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی
افتخار عارف

وہ پھول سر چڑھا جو چمن سے نکل گیا
عزت اسے ملی جو وطن سے نکل گیا
امیر مینائی

غریب کو ہوس زندگی نہیں ہوتی
بس اتنا ہے کہ وہ عزت سے مرنا چاہتا ہے
وقار مانوی

کچھ نوجوان شہر سے آئے ہیں لوٹ کر
اب داؤ پر لگی ہوئی عزت ہے گاؤں کی
نصرت گوالیاری

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں