جاگوار: Jaguar

جاگوار/ Jaguar
جاگوار/ Jaguar

تحریر : عظیم لطیف

اگر بادشاہت کا مطلب جبڑے کی طاقت ہے تو Jaguar جنگل کا اصلی بادشاہ ہے۔ یہ براعظم جنوبی امریکہ اورشمالی امریکہ کے چند ممالک میں پایا جاتا ہے۔ جنگلی بلیوں کے خاندان کو سائینسی زبان میں Filadae کہتے ہیں اور اسی خاندان میں جاگوار بھی شامل ہے۔ خوش قسمتی سے Filadae خاندان کی دو بلیاں تیندوا اور برفانی تیندوا پاکستان میں بھی موجود ہیں۔ خیر جاگوار صرف براعظم شمالی و جنوبی امریکہ کا رہائیشی ہے۔


رہائش


یہ جنوبی امریکہ کے شمال کی طرف واقع ممالک مثلاً برازیل، ارجنٹائن ، پیراگوئے سے لے کر میکسیکو اور ملک امریکہ کے جنوبی چند مخصوص علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی رہائیش خاص قسم کے پانی والے جنگلات ہیں۔ چونکہ براعظم جنوبی امریکہ ایک ٹراپیکل خطہ ہے جہاں سارا سال ڈھیر بارش موسم گرم مرطوب ہوتا ہے اس لئیے وہاں دریا بھی بہت سارے موجود ہیں اور زیادہ تر یہ دریا امازون دریا میں جا لگتے ہیں۔ امازون اس براعظم کا سب سے بڑا دریا ہے اور کافی زیادہ پانی ہونے کی وجہ سے اسکے اردگرد کافی گیلے گھنے جنگلات (Swamps) ہیں۔ اب اس پانی اور جنگلات میں مختلف قسم کے جانور ہیں جو پانی اور جنگل دونوں کو زندہ رکھے ہیں ۔ان میں بندر بھی ہیں، مگرمچھ بھی ہیں اوٹرز بھی ہیں، Ant aeaters بھی ہیں اور دنیا کا سب سے بڑا چوہا Capybara بھی یہیں انہی پانیوں میں موجود ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے چوہے کے لئیے سب سے بڑی طاقت والی ہی بلی چاہئیے تھی اور وہ بلی ہے جاگوار۔


جسمانی ساخت


جاگوار اور تیندوے کی جسامت انتہائی ملتی جلتی ہے اور لوگ اکثر دونوں میں فرق نہیں کر پاتے۔ لیکن دونوں میں انتہا کا فرق ہے۔
۰ تیندوے کے جسم کے پھول(Rosettes) چھوٹے ہوتے ہیں اور ان میں نقطے نہیں ہوتے جبکہ جاگوار کے جسم کے پھول میں ایک یا زیادہ نقطے ہوتے ہیں اور سائز بھی بڑا ہوتا ہے۔
۰ تیندوے کا وزن جاگوار کی نسبت تقریباً 30% کم ہوتا ہے۔
۰ جاگوار زیادہ تر پانیوں میں شکار پکڑتا ہے جبکہ تیندوا زیادہ تر اپنا شکار لے کر درختوں پر رہتا ہے۔
۰ ان دونوں کا کبھی بھی آمنا سامنا نہیں ہوسکتا کیونکہ تیندوا افریقہ اور ایشیا کے ممالک میں ملتا ہے جبکہ جاگوار شمالی و جنوبی امریکہ میں۔
۰ دونوں کے جبڑے کی طاقت میں بھی بلا کا فرق ہے۔ جاگوار کی طاقت تیندوے سے تقریباً تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔ پھر بھئ آسان طریقے سے فرق سمجھنا ہو تو ایک بازو تیندوے کے پنجرے میں اور ایک جاگوار کے پنجرے میں ڈال دیں۔ اگر صرف کھال اتری تو تیندوا ہے اور اگر ہڈی بھی پس گئی تو جاگوار ہے😄.
جاگوار کے جسم کے پھول اور چہرے پہ سیاہ بے شمار دھبے دراصل اسے گھنے درختوں اور جھاڑیوں میں چھپنے (Camoufloge) میں مدد کرتے ہیں۔ حیرت کی بات کہ کالا جاگوار بھی ہوتا ہے اور اس کا بھی کالے تیندوے والا ہی مسئلہ یعنی جلد کی بیماری ہے۔ اس بیماری میں جب جاگوار کا جسم پیلا رنگ (pigment) زیادہ نہیں بنا پاتا اور کالا رنگ پھیل جاتا ہے جس سے کالا جاگوار فطرت میں آتا ہے۔ لیکن ایسا جاگوار بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔


شکار


جاگوار انتہائی زبردست شکاری ہے۔ یہ جنگلی بڑی بلیوں میں سب سے زیادہ پانی میں گھسنے والا اور شکار پکڑنے والا جانور ہے اور جب بھی پانی میں جائے گا، مچھلی، Capybara چوہا یا Caiman مگرمچھ پکڑ کر لائے گا۔ آپ نے ایک ویڈیو بھی دیکھی ہوگی جس میں جاگوار مگرمچھ کو سر سے پکڑ کر باہر لے کر آرہا ہے۔ اس کے جبڑے میں 1500psi کی طاقت ہے جو شیر چیتے ٹائیگر سب سے زیادہ ہے۔ psi کا مطلب ہے پائونڈ پر سکوئیر، مطلب جاگوار کے منہ میں جب کسی شے کی گردن آجاتی ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی نے اسے اوپر نیچے سے 750 کلو وزن رکھ دیا ہو۔ یہ کوئی اتفاقیہ بات نہیں جناب بلکہ جاگوار جس ماحول میں رہتا ہے اسکے منہ میں ایسا ہی پریشر ہونا چاہئیے تھا۔ یہ مگرمچھ کا شکار کرتا ہے اور کھچوے کا خول بھی دانتوں سے توڑ کر اسے کھاتا ہے اس طرح یہ ان جانوروں کی آبادی کو کنٹرول میں رکھ کر باقی جانوروں کو بھی زندگی فراہم کرتا ہے۔ یہ تیندوے کی طرح درخت پہ تیزی سے چڑھ کر چھلانگیں نہیں لگا سکتا لیکن درختوں پر ضرور چڑھ سکتا ہے اور وہاں سے اکثر دوسرے جانوروں پر چھلانگ لگا کر پکڑ لیتا ہے۔اس کے بارے می مشہور ہے کہ یہ نوجوان گائے کو پانی میں گردن سے پکڑ کر کھینچ کر لے کر جاسکتا ہے۔ برازیل جو دنیا کو سب سے زیادہ گوشت سپلائی کرنے والے ملکوں میں سے ہے۔ اکثر گائے بھینسیں جاگوار کے ہتھے چڑھ جاتی ہیں۔ جاگوار بندروں، پرندوں , اژدہے ، سانپوں کو بھی پکڑ لیتا ہے۔ کیڑے کھانے والی بلا( Ant Eater) کا بھی شکار کر لیتا ہے لیکن وہ اکثر جاگوار کو بھگا دیتا ہے۔ اس سے نہیں قابو آتا تو اوٹر, جو گروہ میں رہتے ہیں اور مل کر اسے بھگا ڈالتے ہیں۔
یہ جنگلی سور اور ٹاپیر جانور کا بھی شکار کرلیتا ہے(دیکھئیے تصاویر)
یہ زیادہ تر رات کا شکاری (nocturnal animal) ہے لیکن بھوک لگے تو کون دن یا رات دیکھے ، دن میں بھی ناشتہ کرلیتا ہے۔


افزائش نسل


جیسا کہ جنگلی بلیوں کے بارے میں مشہور ہے یہ ایک دن میں کئی سو بار ملاپ کرتے ہیں تاکہ انڈوں کی اچھی فرٹیلائیزیشن ہوسکے۔ جاگوار کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے۔ جاگوار اکیلا رہنے والا جانور ہے ایسے جانوروں کو Solitary جانور کہتے ہیں۔ مادہ سے ملاپ کے بعد یہ اپنا رستہ ناپتا ہے اور مادہ اکیلے ہی بچوں کو پروان چڑھاتی ہے۔ انکے ملاپ کا کوئی خاص موسم نہیں ہوتا جب مادہ تیار ہو تو اپنا جسم مختلف جگئوں پر رگڑ کر یا پیشاب لگا کر نر کو اپنی طرف مائل کرتی ہے۔ جاگوار ایک انتہائی پراسرار قسم کا خاموش سا جانور ہے جسے جنگل میں ڈھونڈنا بھی مشکل ہے۔اس لئیے اس پہ بہت زیادہ تحقیق نہیں ہوسکی۔
جاگوار کالفظ بھی جنوبی امریکہ کی پرانی قبائیلی زبانوں سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے خونخوار درندہ۔
جاگوار کا دوسری جنگلی بلیوں سے مقابلہ:
جاگوار چیتے کو سیکنڈوں میں ختم کردے گا، تیندوے کو منٹوں میں، جبکہ شیرنی کو مار سکتا ہے شیر کی گردن پر بال اسے بچاتے ہیں اسلئیے شیر سے مقابلہ سخت ہوگا۔ البتہ ٹائیگر اس سے چار فٹ بڑا ہے اور اسکے پنجے بہت زیادہ مضبوط ہیں۔ چاہے جاگوار کا جبڑا اس سے زیادہ طاقتور ہے لیکن وہ جاگوار سے جیت جائے گا۔ شائد اسی لئیے رب نے انکی مختلف براعظموں میں ڈیوٹی لگائی ہے تاکہ ایک ہی جگہ پر یہ ایک دوسرے کو ختم نہ کر ڈالیں۔


جاگوار کے حملے سے کیسے بچا جائے


جاگوار سے آج تک انتہائی کم ہلاکتیں ہوئی ہیں کیونکہ یہ ایک بہت پوشیدہ جانور ہے اور خود کو انسانوں سے دور رکھتا ہے۔ لیکن کبھی زندگی میں واسطہ پڑ جائے تو اس سے آنکھیں ملائے بغیر پیچھے چلتے جائیں لیکن اپنی کمر نہ دکھائیں ورنہ یہ گردن پکڑنے آئے گا ۔ یہ واحد جنگلی بلی ہے جو گردن کے علاوہ کھوپڑی توڑ کر شکار کرنے بھی آتا ہے اس لئیے سر اور گردن دونوں بچا کر اس کے ناک اور آنکھوں پر مکے ماریں ممکن ہے بھاگ جائے گا اپنے بازو پھیلا کر خود کو بڑھا کر چیخیں مار کر جی بھر کے گالیاں دیں ۔ کیونکہ گالیوں کے وقت انسانی آواز شدید رعب دار ہوتی ہے۔ اگر یہ سب ہتھکنڈے ناکام ہوجائیں تے فیر لالہ جی، جی آیاں نوں۔ 😃
جاگوار کو مایا تہذیب (Apaclypto والی) میں بطور طاقت کا دیوتا تصور کیا جاتا رہا ہے۔ اسکی خوبصورت کھال کو شکاری محض چند ڈالروں تک بیچتے رہے ہیں جس سے اسکی نسل خطرے کی جانب سفر شروع کرچکی ہے۔ اسکی اوسط عمر 15 سال ہوتی ہے، جاگوار شمالی و جنوبی امریکہ میں بیشک سب سے طاقتور بلی ہے۔
——
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں