زندگی کا جلتا الائو

, زندگی کا جلتا الائو

زین العابدین خاں

چار بجے شام کا وقت تھا۔قاسم خاں کو کِسی نے بتایا تھا کہ زبیدہ دادی کی طبیعت بہت خراب ہے ،بچنے کی اُمید کم ہے ۔زبیدہ دور کے ایک گائوں سیتا پور میں تھی ۔وہ تھوڑی دیر کے لیے پریشان ہوا ،پھر اُس نے اپنے باکس کے پُرانے کاغذوں سے زبیدہ کی تصویر نکالی ،اُسے صاف کیا ،وہ دُلہن بنی بیٹھی تھی ،سرخ جوڑے میں گہنوں سے لدی تھی،ایسا لگتا تھا جیسے کوئی خوبصورت پھول کو ڈھیر سارے پھولوں سے سجا دیا گیا ہو یا کسی مندر کی مورتی کے اوپر پھولوں کا ڈھیرہو ،مخمل کا سرخ جوڑا اُس پہ چاندی کے تاروں کی کشیدہ کاری ،خاموش لب،جھکی ہوئی خاموش آنکھیں ،مہندی لگے پائوں کی انگلیاں جیسے گلاب کی پنکھڑیاں ایک ساتھ جوڑ کے رکھ دی گئی ہو ۔قاسم خاں نے اِدھر اُدھر دیکھا کہ اُسے کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔اُس نے تصویر کو اچھی طرح سے صاف کیا اور پھر انھیں کاغذوں میں سمیٹ کے رکھ دیا ۔یہ تصویر چالیس سال پُرانی تھی اور اُس کی زندگی کی ایک بیش قیمت چیز تھی ۔وہ اپنی فوج کی نوکری میں جہاں بھی گیا یہ تصویر اُس کے ساتھ رہی ۔جب کِسی تیز رفتار گاڑی میں سفر کرو تو آدمی تو اُس گاڑی میں دوڑتا رہتا ہے لیکن آسمان کا چاند اُس کے ساتھ ہی چلتا رہتا ہے ۔ایسے ہی یہ تصویر قاسم خاں کے ساتھ چلتی رہی تھی ۔
وہ ٹھیک سے پوری رات نہیں سو سکا تھا ،اُسے اپنی جوانی کے دن یاد آتے رہے جب اُس نے اپنی ما ںسے کہا تھا کہ ،
’’ماں مجھے زبیدہ پسند ہے۔‘‘اوراُس کی ماں نے کہا تھا
’’پاگل ہے کیا؟وہ قصائی ہے اور ہم پٹھان ،تو بھی اُن کی طرح گوشت بیچے گاکیا؟اُن کا ہمارا کیا میل ہے۔‘‘
قاسم خاموش ہو گیا جب کے زبیدہ نے کہا تھا کہ اِسلام میں کوئی کِسی سے چھوٹا نہیں اور کوئی کِسی سے بڑا نہیں سب برابر ہیں لیکن اِسلام مذہب کتابوں میں الگ ہے اور زمین پہ الگ ۔
جب اُس نے لائٹ جلا کے دیکھا تو رات کے تین بج رہے تھے ۔زبیدہ کا گائوں اُس کے گائوں سے چالیس کلومیٹر کی دوری پہ تھا ،اُس نے سوچا کہ اگر وہ اِس وقت نکلے گا تو صبح تک پہنچ جائے گا ۔اُس نے اپنی موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور چل پڑا ۔گائوں سے نکلتے ہی چاروں طرف دھان کے کھیت ،ہوا میں لہراتی ہوئی اُن کی بالیاں ،ایک عجیب قسم کی خوشبو چاروں طرف بکھری ہوئی تھی۔سڑک پہ چلتے ہوئے اُسے ایسا لگا جیسے ساری کائنات سو رہی ہے ۔دور اُسے دو ٹارچ کی روشنی کی طرح کئی آنکھیں نظر آئیں ،یہ گیدڑ تھے ،سڑک پہ جھنڈ بناکے کھڑے تھے، رات گہری ہونے کے بعد وہ گائوں کے پاس آجاتے ہیں تاکہ اُن کو کھانے کے لیے کچھ مِل جائے ۔وہ اب تقریبًا بیس کلو میٹر گاڑی چلا چکا تھا ،اندھیرا کم ہونے لگا تھا اور پانچ بجنے والے تھے ۔اِدھر اُدھر کے گائوںسے اذان صاف سُنائی دینے لگی تھی ،تبھی اُسے پاس کے گھروں کے کُتوں نے گھیر لیا ،اب اُس کا آگے بڑھنا مشکل ہو گیا ،اُس نے آواز دیا ۔
’’کوئی ہے کیا بھائی؟‘‘
’’آپ کو ن ہو ؟‘‘ سڑک کے کنارے کے گھروں سے آواز آئی۔
’’ میں قاسم خاں مومن پورہ کا۔‘‘
’’چچا آپ اِس وقت کہاں جارہے ہیں؟‘‘
’’سیتا پور گائوں جا رہا ہوں۔‘‘
اپنے مالک کی آواز سُن کرکُتّے اُس کی موٹر سائیکل کا گھیرا توڑ کر ہٹ گئے ،اب اور زیادہ اندھیرا ختم ہو گیا یا یوں کہیے کہ صبح صادق نمودار ہو گئی۔ اُس نے موٹر سائیکل کے ہنڈل پہ لگے گلاس میں اپنی تصویر دیکھی ،وہ بھی بوڑھا ہو چکا تھا ،اُس کے بچوں کے بچے ہو چکے تھے لیکن اُس کا دل اُسے بے چین کیے ہوئے تھا کہ وہ اس عمر میں بھی اپنے پیار سے ملنے جا رہا تھا ۔ایک طرف اُس کے ضمیر نے کہا ’’قاسم تم نے اپنی صورت دیکھ لی نہ ،اب کیا ہے سارے باغ اُجڑ گئے ،اُن کے پتے خشک ہو کے نہ جانے کہاں اُڑ گئے اور اب بھی تم اُسی درد کو جھیل رہے ہو؟‘‘ عقل نے کہا ’’اِس میں کیا برائی ہے ،اِسے جانے دے دو وہ بسترِ مرگ پہ ہے ،آج زندہ ہے کل نہیں ہوگی ،اِس نے تمہاری بات بہت سُن لی ورنہ یہ انسان اُس کو لے کر کِسی شہر میں بھاگ بھی سکتا تھا،صرف تمہاری باتیں سُن سُن کر یہ بزدل ہو گیا ۔‘‘ عقل کی بات میں قاسم کو سچائی لگی اور اُس نے اپنی موٹر سائیکل اور تیز کر دی ۔اب سیتا پور قریب آگیا ۔اِس گائوں میں اُسے کوئی نہیں جانتا تھا لیکن زبیدہ کا گھر اُسے معلوم تھا ،اُس نے سیدھے اپنی موٹر سائیکل اُس کے دروازہ پہ کھڑا کیا ،اُس نے دوبارہ اپنے چہرہ کو غورسے دیکھا ،اُس نے اپنے رومال سے پورے منہ کو صاف کیا اور زبیدہ کے گھر پہ دستک دینے لگا ،زبیدہ اکیلی تھی ،اُس کی کوئی اولاد نہیں تھی ،شوہر ٹرک ڈرائیور تھا جو ایک ایکسیڈنٹ میں مر چکا تھا ۔
قاسم خاں نے اُس کے دروازہ پہ دستک دی ،پہلی بار میں کوئی جواب نہیں ملا ،دوسری بار میں ایک کراہتی اور لرزہ سی آواز آئی ،
’’کون ہے؟‘‘
’’میں قاسم ہوں۔‘‘
وہ اپنے کمزور بدن کو چھپاتی ہوئی فوراً اُٹھی اور دروازہ کھولی،قاسم سر جھکائے کھڑا تھا جیسے پتھر کا بُت ہو ۔
’’میں کئی دن سے خُدا سے دُعا کر رہی رہی تھی کہ اب آخری وقت ہے خُدا تُو قاسم کو میرے پاس بھیج دے ،یہ دِل جو اُسے برسوں سے دے رکھی ہوں اُس سے واپس لے لوں تاکہ قبر میں آرام سے سو سکوں ۔‘‘اور پھر زبیدہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اندر لے آئی ،قاسم کِسی مجرم کی طرح اُس کے ساتھ گھر کے اندر آگیا ۔گھر کیا تھا پورا ایک کباڑ خانہ ،چاروں طرف گندگی پھیلی تھی ،کچن میں جھوٹے برتن پڑے تھے ۔وہ اُسے بٹھا کے چائے بنانے کے لیے جانے والی تھی کہ قاسم نے اُسے کہا،
’’میرے پاس بیٹھو۔‘‘
قاسم اُس کے پاس بیٹھ گیا اور اُس کا منہ دیکھنے لگا ۔آنکھیں آج بھی ویسی خوبصورت تھی ،بال سفید ہو گئے تھے،گال چپک گئے تھے جیسے چوسے ہوئے آم ،کچھ دیر کے بعد زبیدہ بولی ،
’’اب ہم دونوں سوکھے ہوئے درخت ہیں جس پہ نہ پتیاں ہیں اور نہ پھول اور ہم دونوں کا یہ حال تمہاری ماں نے کیا ۔‘‘
’’میری ماں کو کچھ نہ بولو۔‘‘
’’کیوں نہ بو لوں ،جب تم مجھے چاہتے تھے اور میں تمہیں چاہتی تھی تو اپنے آپ کو ،اپنی ذات کو پوری دُنیا سے بڑا سمجھنا تو جہالت اور گھمنڈ ہے ،عورت تو صرف عورت ہے اُس کا کوئی ذات نہیں ہوتا ،اُسے تو بس اللہ نے اِس دُنیا کو تخلیق کرنے کے لیے پیدا کیا ہے ۔‘‘
’’اب جو گزر گیا اُسے یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ،میں بھی اِس کہانی کا ایک بزدل کردار ہوں جو بغاوت نہیں کر سکا لیکن تمہیں تمام عمر یاد کرتا رہا۔‘‘
’’جھوٹ،بالکل جھوٹ،مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے ۔‘‘ زبیدہ بولی
’’جب تم دُلہن بنی تھی وہ تصویر آج بھی میرے پاس ہے۔‘‘
’’وہ تمیں کیسے ملی؟‘‘
’’میں نے فو ٹوگرافر کو پیسہ دے کر اُس کی ایک بڑی کاپی بنوایا تھا اور وہ آج بھی میرے پاس ہے۔‘‘
اُس سوکھے درخت پہ اچانک ایک ہوا کا جھونکا آیا پھر ٹھہر سا گیا ۔اُس نے اپنے بدن کو غور سے دیکھا ،اُس کے جِسم سے بہار بہت دِن پہلے جا چکی تھی اب چاروں طرف صحرا ہی صحرا تھا ۔قاسم اپنی جیب ٹٹولتے ہوئے بولا ’’میں سگریٹ پی لوں‘‘
ـ’’اب تو میرا آخری وقت ہے ہوسکتا ہے آخری ملاقات بھی ہو،سگریٹ پی لو یا شراب پی لو مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا ہے۔‘‘
’’ایسے کیوں بول رہی ہو؟‘‘
یہ سمجھ لو سچ ہے۔‘‘زبیدہ کے آنکھ میں آنسو تھے۔
قاسم اُس کے پاس سے اُٹھ کے تھوڑی دور پہ اپنی سگریٹ جلایا ،زبیدہ بھی کچن میں اُس کے لیے چائے بنانے چلی گئی ،قاسم سگریٹ پیتا رہا اور سوچتا رہا یہ زندگی اللہ نے تو دی لیکن درد سے بھر دیا ،اب تو درد اتنا بڑھا ہے کہ درد ہی علاج ہو گیا ہے ،اب یہ جارہی ہے میں بھی چلا جائونگا پھر ہم دونوں کیوں اتنے دنوں تک جیتے رہے ۔اُس نے سگریٹ کے ایک دو کش لے کر زمین پہ پھینک دیا ٹھیک اُسی کی طرح دھیرے دھیرے جلنے کے لیے ،زبیدہ نے آواز لگائی ،
’’قاسم چائے پی لو،یہ میرا آخری تحفہ ایک کپ چائے۔‘‘
قاسم اُس کا جھریوں بھرا چہرہ دیکھتا رہا اور چائے پیتا رہا ۔اِس کے بعد جیسے کِسی کی روح بدن سے نِکلی جاتی ہے ٹھیک اُسی طرح وہ وہاں سے اُٹھا اور اُسے ایک نظر دیکھ کر رخصت ہو گیا ۔
جب ندی سوکھ جائے اُس کے کیچڑ پپڑی میں تبدیل ہو جائیں تو سارے پانی کے پرندے بھی وہاں سے چلے جاتے ہیں ۔دونوں ہی اب سوکھی ندی تھے ۔اُس نے وہاں سے چلتے وقت موٹر سائیکل کی گلاس میں اپنی دوبارہ تصویر دیکھی ،سفید مونچھیں،سفید ڈاڑھی اور سفید بال لیکن دل ہے کہ مانتا ہی نہیں وہی پچاس سال پہلے کا دُھن بجا رہا تھا ۔
دو دن کے بعد اُسے خبر ملی کہ زبیدہ مر گئی ۔اُس نے اپنے کمرہ کو اچھی طرح سے بند کیا اور زبیدہ کی تصویر کو جلا دیا ،زندگی کا ایک باب ختم ہو گیا تھا ،وہ چپ چاپ رہنے لگا تھا۔
اُس کے گھر کا سارا انتظام اُس کی بیوی ،بیٹے اور بہو کے ہاتھ میں تھا ۔ایک دِن اُسے پتا چلا کہ اُس کی بڑی بیٹی کا رشتہ پکا ہو گیا اور اب شادی کی تاریخ مقرر ہو رہی ہے ،وہ خوش ہو گیا لیکن شام کے وقت اُس نے اپنی بیٹی زرینہ سے پوچھا ،
’’ زرینہ بیٹی تم خوش ہو نہ ،اب تم بھی مجھے چھوڑ کے چلی جائے گی ۔‘‘ زرینہ رونے لگی ،کچھ جواب نہ دیا ،جب وہ ضد کرنے لگے تو بہت مشکل سے ہکلاتے ہوے بولی ،
’’بابا میری ایک لنگڑے لڑکے سے شادی ہورہی ہے۔‘‘
اب تو قاسم کا خون کھول اُٹھا ،وہ گھر کے آنگن میں چلّانے لگا ’’کیا میں مر گیا ہوں ،میرے ارمانوں کی بیٹی کی شادی کِسی لنگڑے لولے سے نہیں ہوگی ،اگر وہ دولہا بن کے آئے گا تو میں اُسے گولی مار دونگا ۔قاسم کی بیوی نے کہا ،
’’تمہیں کچھ معلوم بھی ہے وہ انجنیر ہے ،اُس کی ایک لاکھ روپیہ تنخواہ ہے اور اوپر سے کچھ ڈیمانڈ نہیں،بھلا ایسا رشتہ کہاں سے مِلے گا ،تمہاری طرح فوجی نہیں ہے کہ مہینے سے پہلے ہی پیسہ ختم ۔‘‘
’’لیکن وہ لنگڑا تو ہے ۔‘‘قاسم نے دھاڑا۔
’’ہونے دو لنگڑا،لیکن اُس کے پاس پیسہ تو ہے۔‘‘
قاسم کی بیوی نے شادی کی تاریخ پکّی کر دی زرینہ نے اپنی ماں اور بھائی کی ضد پہ نکاح کو قبول کیا اور وہ روتے دھوتے سسرال چلی گئی۔اِس بیچ قاسم خاں کو اُن کے ہی کمرہ میں باہر سے بند کر دیا گیا تھا۔جب زرینہ کی ڈولی گھر سے اُٹھی تو اچانک بندوق کے فائر کی آواز سے پورا گھر ہی دہل گیا،سب لوگ قاسم خاں کے کمرہ کی طرف دوڑے کیونکہ فائر کی آواز اُسی کمرہ سے آئی تھی۔دروازہ باہر سے بند کیا گیا تھا ،جب اُسے کھولا گیا تو قاسم خاں کی لاش پڑی تھی ۔وہ اپنا تو دُکھ جھیل لیے تھے لیکن اپنی بیٹی کا ویسا ہی دُکھ جھیل نہ سکے ۔

شیئر کریں
1 Comment

کمنٹ کریں