جامن سے علاج

۔ Martyceae پودوں کا ایک خاندان ہے جو ٹراپیکل علاقوں میں اگتا ہے۔ اس خاندان کے مشہور پودے امرود اور لونگ کے درخت ہیں وہیں جامن کا درخت بھی اسی خاندان سے ہے۔

جامن برصغیر پاک و ہند سمیت سری لنکا، سائوتھ ایشیائی ممالک ( ان ڈونیشیا، ملائیشیا، ویتنام، لائوس وغیرہ) میں پایا جانے والا ایک سدابہار پودا ہے جو یہاں سے دنیا کے باقی ٹراپیکل ممالک ، سنگاپور آسٹریلیا میں پھیلا جبکہ امریکہ میں 1911 میں متعارف ہوا۔

یہ درخت اپنے پھل کی وجہ سے مشہور ہے صرف یہی نہیں اسکے درخت کی چھال، بیج، اور پتے سب کو پیس کر کوٹ کر کسی نہ کسی طبی کام میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے پھل کو Drupe کہتے ہیں۔ Drupe ایسا پھل ہوتا ہے جس کے بیچ میں ایک موٹا سا بیج ہو۔ اسکی لکڑی کا بھی اپنا فائدہ ہے۔ اسے بھٹیوں میں خشک کیا جائے تو یہ پانی کے خلاف مزاحمت (Water Resistence) پالیتی ہے۔ اس لئیے اسے ریلوے کی پٹریوں کے نیچے لگنے والی متوازی لکڑیوں کے طور پر، لکڑی کے مکانات میں اور بطور فرنیچر استعمال کیا جاتا ہے۔

جامن پھل کی غذائیت اور فوائد:

۰ یہ پھل ترش اور میٹھا زائقہ رکھتا ہے اور اسے اکثر نمک کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ اس میں بڑی مقدار میں پوٹاشئیم موجود ہے۔ پوٹاشئیم دل کی صحت کے لئے بہت مفید ہے اور جسم کے مسلز کے کھچائو کو درست کرنے میں مدد دیتا ہے۔یہ ہائی بلڈ پریشر کو بھی درست کرنے میں مددگار ہے۔

۰جامن شوگر کے مریضوں کے لئیے بہت اچھا ہے۔ یہ جسم میں گلوکوز لیول کو نارمل کرتا ہے اور شوگر کے کچھ مسائل جیسے ہر دم پیاس اور زیادہ پیشاب کی تکلیف کو کم کرتا ہے۔جامن کے پتوں کا قہوہ اور بیج بھی شوگر کے مریضوں کے لئیے بہت فائدہ مند ہے۔ اس کے بیج میں Jambolane اور Jambosine دو کیمیائی اجزا ہوتے ہیں جو خون میں انسولین کی مقدار بڑھا کر بلڈ شوگر کو نارمل کرتے ہیں۔ استعمال سے پہلے بیجوں کو خشک کرکے پیسا جاتا ہے۔

۰ اس میں بڑی مقدار میں کاربو ہائیڈریٹ موجود ہیں جو زہن، دل، گردوں اور اعصابی نظام کی صحت کے لئیے ضروری ہیں۔ اس میں کیلوریز انتہائی کم ہوتی ہیں اس لئیے یہ وزن گھٹانے میں بھی مفید ہے۔

۰ جامن کے پھل میں وٹامن سی اور کیلشئیم اچھی خاصی مقدار میں موجود ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

۰ اس میں پروٹین موجود ہے جو جسم کے مسلز کی صحت کے لئیے بہت ضروری ہے۔

۰ جامن میں Astringent خصوصیات ہونے کی وجہ سے یہ جلد کی Acne کے لئیے بھی اچھا ہے۔ اس کا لگاتار استعمال جسم کی Oily جلد کو صاف کرتا ہے۔

جڑی بوٹی سے علاج کا کلیہ یاد رکھیں کہ پہلے تھوڑی مقدار میں استعمال کریں اگر موافق لگے تو پھر نارمل طریقے سے استعمال میں لائیں۔ اس پھل کے بارے میں عام طور پر مشہور ہے کہ اسے کھانے کے بعد پانی نہ پئیں ورنہ ہیضہ ہوجائے گا۔ اصل میں اس کے پھل میں %83 پانی ہوتا ہے۔ جس پھل میں بھی پانی زیادہ ہوگا اس کو کھانے کے بعد آپ اس پر اگر پانی پئیں گے تو وہ جسم میں موجود تیزاب سے مل کر اسے پتلا کرے گا اور پھل کو ہضم نہیں کرنے دے گا۔ ایسی گڑبڑ میں جسم ہیضہ یا پیچش الٹیوں کی صورت میں اس خرابی کو باہر نکالے گا۔ اس لئیے یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ اسے کھانے کے بعد پانی نہ پئیں نہ ہی دودھ اور اسے نہار منہ (نرنے پیٹ) بھی ہرگز نہ کھائیں۔ کم از کم پانی پینے کے لئیے ایک گھنٹہ انتظار کریں۔

۰ اس میں پروٹین موجود ہے جو جسم کے مسلز کی صحت کے لئیے بہت ضروری ہے۔ ۰ اسکے پتوں کو خشک کرکے پیس کے آپ بطور Dentonic استعمال کرسکتے ہیں۔ اس میں بہت سارے Anti- Bacterial کیمیائی اجزا اور Astringent ہوتا ہے جو مسوڑوں کے زخم ٹھیک کرتا اور ان میں موجود بیکٹیریا ختم کرتا ہے

۰ جامن میں Astringent خصوصیات ہونے کی وجہ سے یہ جلد کی Acne کے لئیے بھی اچھا ہے۔ اس کا لگاتار استعمال جسم کی Oily جلد کو صاف کرتا ہے۔

جڑی بوٹی سے علاج کا کلیہ یاد رکھیں کہ پہلے تھوڑی مقدار میں استعمال کریں اگر موافق لگے تو پھر نارمل طریقے سے استعمال میں لائیں۔ اس پھل کے بارے میں عام طور پر مشہور ہے کہ اسے کھانے کے بعد پانی نہ پئیں ورنہ ہیضہ ہوجائے گا۔ اصل میں اس کے پھل میں %83 پانی ہوتا ہے۔ جس پھل میں بھی پانی زیادہ ہوگا اس کو کھانے کے بعد آپ اس پر اگر پانی پئیں گے تو وہ جسم میں موجود تیزاب سے مل کر اسے پتلا کرے گا اور پھل کو ہضم نہیں کرنے دے گا۔ ایسی گڑبڑ میں جسم ہیضہ یا پیچش الٹیوں کی صورت میں اس خرابی کو باہر نکالے گا۔ اس لئیے یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ اسے کھانے کے بعد پانی نہ پئیں نہ ہی دودھ اور اسے نہار منہ (نرنے پیٹ) بھی ہرگز نہ کھائیں۔ کم از کم پانی پینے کے لئیے ایک گھنٹہ انتظار کریں۔

ھل خور چمگادڑ اور civet Cat شوق سے کھاتے ہیں۔ اکثر آپ کا اس درخت کے قریب Civet Cat سے واسطہ پڑ سکتا ہے لیکن یہ انسانوں سے ڈرنے والا جانور ہے اور آپ سے دور ہی رہے گا۔ جامن کے پتوں کو بطور چارہ جانوروں کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ان میں بہت غذائیت ہوتی ہے۔

یہ آپ کی زبان کو جامنی رنگ دے دیتا ہے۔ اسکی وجہ اس میں موجود پودوں کا ایک کیمیائی رنگ ہے جسے Anthocyanin کہتے ہیں۔ یہی پھل کا رنگ بھی بناتا ہے اور اکثر جامنی رنگ کے پھول یا پتوں کا رنگ بھی اسی سے بنتا ہے۔ یورپ میں اس کیمیکل رنگ کو پھلوں اور پودوں سے نکال کر اسے مشروبات اور کھانوں میں بطور فو ڈ کلر استعمال کیا جاتا ہے۔

کیا اسے اگایا جاسکتا ہے؟

جی بالکل! اور اگانا بہت ہی آسان۔ اس کے ثابت موٹے بیج دھو کر ایک دن کے لئیے رکھ دیں۔ اور ایک گملا لیں جس کے نیچے سوراخ موجود ہو، اس میں مٹی، تھوڑا فرٹیلائیزر اور تھوڑی صاف ریت ڈال کر مکس کرکے اس میں بیج لگادیں اور پانی دے دیں۔ مٹی کو نم رکھیں لیکن پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔ 15 سے 30 دنوں میں بیج جرمینیٹ ہوکر پودا نکل آئے گا۔ جب ایک فٹ کا ہوجائے تو چاہے زمین میں منتقل کردیں۔

اس کا پودا قلمکاری سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ قلمکاری سے لگایا گیا جامن چھ سے آٹھ سالوں میں پھل دینا شروع کرتا ہے جبکہ بیج سے لگایا گیا پودا تقریباً آٹھ سے دس سال ۔ اس لئیے اگر ملک میں مارشل لا لگے تو جامن کا درخت لگادیں مارشل لا کے اختتام تک پھل دینا شروع کردے گا۔

اس کا درخت ایک وقت میں 80 سے 100 کلو تک پھل دیتا ہے۔ تاہم کچھ ممالک جیسے سائوتھ افریقہ اور جزیرہ ہوائی میں یہ بھی اپنے کزن امرود کی طرح باعث زخمت ثابت ہوا ہے جہاں یہ اپنی نسل بڑھا کر دوسرے درختوں کے حصے کا پانی اور مٹی استعمال کرکے انکی نسل ختم کر رہا ہے۔ اسکی وجہ اس کا پھل کھانے والے جانور ہیں جو اس کا بیج پھیلا دیتے۔

یہ ایک سدابہار پودا ہے اور کسی بھی مہینے میں اگایا جاسکتاہے لیکن بہتر یہی ہے اسے جولائی اگست کے مہینوں میں لگائیں۔ اپریل مئی میں اسکے پھول نکلتے ہیں، جون جولائی میں یہ پھل دیتا ہے اور موسم برسات میں یہ خوب قد پکڑتا ہے۔ اگر اگانے کے بعد دس سال آپ صبر کرلیں تو اگلے سو سال تک یہ پھل دیتا رہتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر معروف رائٹر طاہر عظیم کی تصنیف ہے۔

شیئر کریں
قدیر قریشی بطور سائنس رائٹر سائنسی ادبی حلقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور اردو سائنسی فورم "سائنس کی دنیا" کے سرپرست اعلی بھی ہیں۔

کمنٹ کریں