جمیل مظہری کی نظموں میں عظمت آدم اور احترام انسانیت

مضمون نگار :ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی

, جمیل مظہری کی نظموں میں  عظمت آدم اور احترام انسانیت

اردو شعروادب کی تاریخ لکھنے والوں نے عام طور پر عہد اور علاقے کے شعری رجحانات کو سامنے رکھ کر اردو شاعری کو مختلف دبستانوں میں تقسیم کیا ہے۔مثلاً دبستان دہلی،لکھنو،دکن،رامپور،عظیم آباد وغیرہ۔ مگر میرا خیال ہے کہ اردو شاعری کے افکار و موضوعات اور رجحانات و اسالیب کو مدنظر رکھا جائے تو اسے صرف دو مختلف دبستانوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔ اول وہ دبستان جس کے شعرا غزلیہ شاعری میں فارسی کی عشقیہ شاعری کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے واردات قلبیہ اور واقعات عشقیہ پیش کرتے ہوئے غزل میں محض حسن و عشق کا اظہار کرتے رہے اور انفرادیت پر زور دیتے رہے۔دوسرا وہ دبستان جس کی خشت اول امیر خسرو نے رکھی اور عمارت تعمیر کی نظیر، سودا ،انیس،اقبال اور جوش وغیرہ نے۔یعنی ثقافت، اجتماعیت اور فکر وفلسفہ کے شاعر۔علامہ جمیل مظہری کا تعلق بھی اسی دوسرے دبستان شعر سے ہے۔جمیل مظہری کے یہاں حسن و عشق اور واردات قلبیہ بھی ہیں مگر ان کی شعری عظمت کا اصل دارو مدار ان کے فلسفۂ حیات پر ہے جو ان کے ذاتی فکر وتدبر کا نتیجہ ہے اور جو حیات و کائنات کے دوسرے مسائل سے متعلق بھی اپنا مخصوص نقطۂ نظر رکھتا ہے۔ ہر چند کہ انہوں نے روایتی طور پر غزلیں کہیں،اور رعنائیِ خیال،تغزل و لطافت سے بھر پور ایسی غزلیں کہیں کہ اُن کی غزل کے بعض اشعار انسانی نفسیات کے محاورے بن گئے۔بقول شخصے غزل کا ایک شعر تو ایسا کہا جو شہرت میں شاعر سے آگے نکل گیا یعنی


بقدر پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا
اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا
مگر میرا خیال ہے کہ جمیل کے فکر وفلسفہ اور تصورات عمرانی کے اظہار کی جو وسیع دنیا ہے اسے غزل کا تن نازک نہیں سنبھال سکتا۔اس لیے جمیل مظہری کی نظمیں جمیل کی تفہیم میں زیادہ معاون ثابت ہوتی ہیں۔ان کی نظموں میں جس نوع کے فکری،معاشرتی اور نفسیاتی عناصر پائے جاتے ہیںوہ اردو کی فکری اور فلسفیانہ شاعری کو ایک نئی جہت دیتے ہیں بلکہ درجۂ کمال تک پہنچادیتے ہیں۔


جمیل مظہری کے فکر وفلسفہ کی اساس عظمت آدم اور تصور حرکت و عمل پر ہے۔اردو شاعری میں جمیل سے قبل اقبال ان فلسفوں کو پیش کر چکے تھے۔جمیل مظہری نے اقبال کی طرح ہی عظمت آدم کے ترانے گائے ہیںمگر انہوں نے اقبال کی طرح اپنی فکر کو کسی مخصوص آئین ِمذہب و ملت کا پابند کرنے کے بجائے اس کا سرا عام تصور اخلاق سے جوڑ دیاہے،اور یہی جمیل کے افکار کی انفرادیت ہے۔ انھوں نے اپنے شعری عقیدے کا اظہار کرتے ہوئے لکھاہے کہ


”شاعری اپنے دل کی دھڑکنوں کے گننے کا نام نہیںہے۔شاعر وہی ہے جو دوسروں کے دل کی دھڑکنوں کو بھی اپنے اشعار میں سمو سکے۔“
اسی لیے جمیل شیکسپیئر کو پسند کرتے ہیں، نظیر، انیس، اقبال اور جوش کو پسند کرتے ہیں۔کیونکہ اِن شعرا نے اپنی کم اور دوسروں کی زیادہ بلکہ اس سے زیادہ تاریخ و تہذیب،ماضی اور حال کے مختلف جذبات کی ترجمانی کی ہے۔جمیل اپنے مضمون ’میرا نظریہ ¿ شعر اور میری شاعری‘ میں لکھتے ہیں:


” مجھے دنیا کے انھیں شاعروں سے عقیدت رہی جنہوں نے جنسی جذبے کے علاوہ اور بھی جذبوں کی ترجمانی کو اپنا مقصود بنایا۔شیکسپیئر کو میں تمام مغربی شاعروں کا سرتاج اِس لیے سمجھتا ہوں کہ اُس نے مختلف جذبات کی ترجمانی کی اور صرف ترجمانی ہی نہیں کی بلکہ اُن گمشدہ جذبوں کا سراغ بھی لگایا جو ہم میں موجود رہ کر ہمارے لیے گم تھے۔ہندستانی شعرا میں کبیر،تلسی داس اور ایرانی شعرا میں فردوسی و سعدی کے سامنے عقیدت کی پیشانی اس لیے جھکاتاہوں کہ انہوں نے ہمارے سکیڑوں جذبوں کا پتہ ہمیں بتایا اور سیکڑوں جذبوں سے ملاقات کرائی۔“


یہ جمیل مظہری کے وہ خیالات ہیں جن پر ان کی شعری اور فکری کائنات منحصر ہے۔نقش جمیل میں شامل اولین تینوں ابواب کی نظمیں پڑھ جائیے تو پتہ چلتاہے کہ شاعر شاعری کے ابتدائی دنوں سے ہی نہ صرف عظمت آدم کا معترف رہا ہے بلکہ اپنی فکر ودانش کی کمندیں حیات و کائنات پر پھینکتا رہا ہے۔پہلے باب ’تفکرات و تاثرات‘ کی نظمیں 1929 سے 1948 کے درمیان کی تخلیق ہیں۔ ان میں پیام،شاعر کی تمنا،فسانہ ¿ آدم،اور ’ہم کون ہیں ہم کیاہیں‘ جیسی نظموں میں نہ صرف جمیل مظہری کا فلسفہ ¿ عمل نظر آتاہے بلکہ انسان کی ذت میں بے پایاں امکانات کی تلاش بھی ملتی ہے۔ان نظموں پر اقبال کا اثر واضح طور پر ہے مگر فنکارانہ سطح پر جمیل کی انفرادیت بھی آپ نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ’پیام‘کایہ بند دیکھیے


جز سعیٔ دوام اور کیاہے
شاعر کا پیام اور کیاہے
یعنی اس میکدہ کی رونق
جز گردش جام اور کیاہے
انسان کا کام اور کیاہے؟
فکر اور جذبے کی آمیزش اِس نظم کی تاثیر کا سبب ہے۔نظم میں پیش کردہ سوالات خارجی سطح پر قاری کو پریشان نہیں کرتے بلکہ انداز بیان اور مخصوص انفرادی اسلوب نظم میں ایک رجائی آہنگ پیدا کر دیتاہے۔انسان کی عظمت،سربلندی،خودی اور انا کو ’فسانۂ آدم‘ میں اِس سے بہتر طور پر دیکھا جاسکتاہے


خرد کے نشہ میں اللہ رے بے خودی میری
بدن سے چادر عصمت بھی پھینک دی میں نے
ہوا حدود نظر سے نکل کے آوارہ
ہوائے شوق میں جنت بھی چھوڑ دی میں نے
بڑھیں ستاروں کی دنیائیں میرے لینے کو
اتر کے عرش کے نیچے نظر جو کی میں نے
بڑھا تو بڑھ گیا پیچھے مرے زمانۂ حال
رکاتو وقت کی رفتار روک دی میں نے
بلندیوں کا تصور بھی رہ گیا پیچھے
پہنچ کے اتنی بلندی پہ سانس لی میں نے
اسی طرح ’آدم نو کا ترانۂ سفر‘ پیش نظر رکھیے جس میں انسان کے مادّی اکتسابات و فتوحات کو جمیل نے بڑے شاعرانہ اسلوب میں پیش کیاہے
فریب کھائے ہیں رنگ وبو کے سراب کو پوجتا رہا ہوں
مگر نتائج کی روشنی میں،خود اپنی منزل پہ آرہا ہوں
جو دل کی گہرائیوں میں صبح ظہور آدم سے سو رہی تھیں
میں اپنی فطرت کی اُن خداداد قوتوں کو جگا رہا ہوں
میں سانس لیتاہوں ہر قدم پر کہ بوجھ بھاری ہے زندگی کا
ٹھہر ذرا گرم رو زمانے کہ میں ترے ساتھ آرہا ہوں
طلسم فطرت بھی مسکراتا ہے میری افسوں طرازیوں پر
بہت سے جادو دکھا چکاہوں،بہت سے جادو جگا رہاہوں
یہ مہر تاباں سے کوئی کہہ دے کہ اپنی کرنوں کو گن کے رکھ لے
میں اپنے صحرا کے ذرے ذرے کو خود چمکنا سکھا رہا ہوں


اس نظم میں جمیل مظہری کا انسان نہ صرف طاقت و قوت کا سرچشمہ ہے بلکہ خود اعتماد،حوصلہ مند اور ایسے تمام جدید علوم و فنون سے بہرہ ور ہے جو ایک جہان نو کی تعمیر و تشکیل میں معاون ہو سکتے ہیں۔وہ تسخیر مہر و ماہ کی قدرت رکھتا ہے اور اپنے وجود کی عظمت سے آشنا ہے۔یہ نظم اپنے غنائی آہنگ کی وجہ سے بھی قابل توجہ ہے۔اس کا رِدم اسے غزلیہ آہنگ کے قریب لے جاتاہے مگر شاعر کا فکری نظام اُسے سرعت سے دائرۂ نظم میں لاکر ایک مخصوص رجائی اور تفکیری آہنگ بخش دیتاہے۔نظم ”ہم کون ہیں ہم کیاہیں“ بھی عظمت آدم اور انسان کے تشخص کی آئینہ دار ہے اور اپنی شعریت اور موسیقیت کی وجہ سے ہمیں متوجہ کرتی ہے۔صرف ایک بند ملاحظہ کیجیے


ہم کون ہیں ہم کیاہیں/ہم ساز حقیقت ہیں
اک نغمۂ رسوا ہیں/اک فتنۂ برپا ہیں
ہے جس کے تلاطم سے/اک محشر بے خوابی
ہنگامۂ بے تابی/امواج ہوا پیچاں
تقدیر عمل رقصاں/حرکات میں کیفیّت
ذرات میں بیداری/اک عالم سرشاری
ہر رنگ میںہم پیدا/ہر چیز پہ ہم طاری
ہم کون ہیں ہم کیاہیں


اس نظم کی موسیقیت اور آہنگ سے متاثر ہو کر خلیل الرحمن اعظمی نے کہا تھا کہ اس کے ہر بند میں ایک رقص کی سی کیفیت ہے۔ ممتاز نقاد سلیم احمد نے بھی جمیل مظہری کی شاعری میں انفرادی آہنگ کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا تھا کہ:
” اُن کی شاعری میں مترنم بحروں کا استعمال یہ ظاہر کرتاہے کہ انھوں نے شاعری کے ایک اہم راز کو ضرور دریافت کرلیاہے،یعنی موسیقیت “


شاعر اگر اپنا انفرادی آہنگ پالے تو شاعر اور شاعری دونوں کی معراج ہو اکرتی ہے۔جمیل مظہری کے یہاںیہ آہنگ محض اسلوب و اظہار یا زبان و بیان کی خوش سلیقگی سے پیدا نہیں ہوا بلکہ ان کی فکر کا بھی اپنا ایک خاص آہنگ ہے جو عام الفاظ میں بھی حرکت وحرارت پیدا کردیتاہے اور میر انیس کی طرح غیر فصیح کو فصیح اور فصیح کو فصیح تر بنادینے کی صلاحیت رکھتاہے۔فکر کا یہ آہنگ جمیل مظہری کے یہاں بالکل ابتدائی دور کی نظموں سے ملنا شروع ہو جاتاہے۔وہ نظمیں جو عین عالم شباب میں کہی گئی ہیں مثلاً عورت،یا مالن کی بیٹی وغیرہ تو حیرت ہوتی ہے کہ وہاں بھی تذکرہ ¿ حسن و جمال کی بجائے مشاہدۂ حق و حیات زیادہ نظر آتاہے۔’مالن کی بیٹی‘ 1924 کی نظم ہے، یہ شاعر کی عمر کا وہ حصہ ہے جس میں عام طور پر نوجوان شعرا عذرا،سلمیٰ،حسینہ،نازنینہ وغیرہ کو موضوع بنا کر شعر کہتے ہیں۔مگر جمیل اس عمر میں بھی ’مالن کی بیٹی‘ پر نظم کہہ رہے ہیں۔یہ وہ دور تھا جب حسن و عشق کا روایتی تصور بد ل رہاتھا اور حقیقی دنیا کے مسائل شاعر کو خیالی دنیا سے نکال کر کائنات شاعری ہی نہیں بلکہ شعریات کے قواعد کو بدلنے پر مجبور کر رہے تھے۔

بقول پروفیسر علی احمد فاطمی:
” اِن سب کی پشت پر اقبال تھے جواپنی سنجیدہ فکری اور فلسفیانہ شاعری کے ذریعے حقیقت اور معروضیت اور کہیں کہیں اشتراکیت اور انقلابیت کا ایسا صور پھونک رہے تھے کہ اُس کی گھن گرج سے نکل پانا ناممکن نہ سہی تو مشکل ضرور تھا۔“
اقبال کے ذریعے خضر راہ میں زندگی اور انسان سے متعلق اٹھائے گئے سوالات ہوں یا جوش کے ذریعہ لکھی گئی نظم ”کسان “ کا انسان۔ان سب کا اثر کہیں نہ کہیں جمیل مظہری ضرور قبو ل کرتے ہیں۔اسی لیے وہ ’مزدور کی بات‘، ’مزدور کی بانسری‘ اور ’ارتقا ‘ جیسی نظم کہہ پاتے ہیں۔


ابھی ابھی ہم نے فسانۂ آدم،آدم نو کا سفر،اور ہم کون ہیں ہم کیاہیں،جیسی نظمیں دیکھیں جن میں جمیل مظہری کی سنجیدہ بلکہ عمرانی اور فکری شاعری کا مرکزو محور حضرت انسان اور اس کے علم و عمل سے جنم لینے والی سرگرمیاں ہیں،اور جو عظمت آدم کا دم بھرتی ہیں۔اسی سلسلے کی ایک اور نظم ’ارتقا‘ بھی نظر میں رکھی جائے جس میں شاعر نے انسان کو قدرت کا شاہکار قرار دیاہے۔ایسا شاہکار جو اپنی فطری صلاحیتوں اور حرکت وعمل کی وجہ سے ترقی کی جانب گامزن ہے۔اس سفر میں لغزش بھی رہنمائی کا کام کرتی ہے اور اُس کی قوت ارادی اُسے صاحب کردار بناتی جاتی ہے۔صرف تین اشعار دیکھیے
ہرحال میں مشیت مجھ کو بنا رہی ہے


میں اس کی قدرتوں کا شہکار بن رہاہوں
خود اپنی جنتوں کی تخلیق کر رہا ہوں
خود اپنی زندگی کا معمار بن رہا ہوں
یہ جبر وقدر کی اک منزل ہے درمیانی
مجبور تو ہوں لیکن مختار بن رہا ہوں


اس نظم کی خوبصورتی اور انفرادیت یہ ہے کہ اس میں انسان کے ارتقا کا سبب اس کی مادی فتوحات کے بجائے اس کی ذہنی تبدیلیوں اور اخلاقی ترقیوں کو بتایا گیاہے۔انسان کی ارضی اور مادی زندگی کی بہبود و بہتری کے سلسلے میں شاعر نے خیالات پیش کرتے ہوئے نہ صرف فنی لوازمات اور تخلیقیت کو پوری طرح مدنظر رکھا ہے بلکہ اپنے خیالات و احساسات کو دردمندانہ احساسات سے ہم آہنگ کرکے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔اِس مزاج کی اور بھی کئی نظمیں ہیں جن کے مطالعے سے آشکارا ہوتا ہے کہ جمیل مظہری نے حضرت انسان کی عظمت اور اس کی سرشت و کیفیات کو ہی موضوع نہیں بنایابلکہ انسان پر ہونے والے مظالم،استحصال سرمایہ و محنت کے تضاد سے انسان پر ہونے والے اثرات پر بھی غوروفکر کیاہے جو اُن کی شاعری کو سماجیات اور سیاست کی طرف لے جاتے ہیں۔جمیل مظہری نے جو موضوعاتی نظمیں لکھی ہیںمثلاً مزدور کی آواز،زمزمہ،مزدور کی بانسری سے،مالن کی بیٹی،جوانوں سے،صدائے جرس اور موسم کے اشارے وغیرہ (جن میں سے اکثر نقش جمیل میں سیاسیات و عمرانیات کے تحت شامل ہیں) یہ بھی عظمت آدم کے اعتراف اور انسانی و اخلاقی اقدار پر ہی ٹکی ہوئی ہیں۔مثلاً مزدور کی آواز انہوں نے اس وقت لکھی جب ترقی پسند تحریک کا وجود بھی نہیں تھا۔ اس میں انھوں نے مزدور کی طاقت و اہمیت کا اعتراف کرواتے ہوئے اسے ارتقا کا پیشوا اور تعمیر کی بنیاد قرار دیا ہے۔کہتے ہیں


دنیا میں کھلائے ہیں گلزار ارم میں نے
کعبہ میں اٹھائی ہے دیوار حرم میں نے
میں دو ں نہ اگر جنبش بازوئے مشقت میں
رعشہ ابھی آجائے اعضائے حکومت میں
ایک دوسری نظم ’مزدور کی بانسری سے‘ میں بھی شاعر کے درد مند دل نے محنت اور سرمایہ کے تضاد کو پیش کرتے ہوئے انسان دوستی اور دردمندی کو ایک مخصوص لطافت اور رنگ ِ حقیقت بخشا ہے:


ہم سے ہے بازار کی رونق ہم سے چہروں کی لالی ہے
جلتا ہے ہمارے دل کا دیا،دنیا کی سبھا اُجیالی ہے
بازار تمدن بھی اُن کا،دنیائے سیاست بھی اُن کی
مذہب کا ادارہ بھی ان کا،عادل کی عدالت بھی اُن کی
پابند ہمیں کرنے کے لیے سو راہیں نکالی جاتی ہیں
قانون بنائے جاتے ہیں،زنجیر یں ڈھالی جاتی ہیں


پوری ترقی پسند شاعری کسان اور مزدور کے نغموں سے پر ہے مگر جمیل مظہری کی طرح انسان دوستی اور دردمندی سے بھرایہ پر اعتماد لہجہ اور فکر کی پختگی کہیں نہیں ملتی۔ہر چند کہ اِن نظموں میں اقبال کا لحن اور جوش کی گونج سنائی دیتی ہے لیکن ان میں جمیل کی اپنی جمالیات اور شعریات بھی نظر آتی ہے جو اُن کی انفرادیت کے در کھولتی ہے۔

بقول مظہر امام:
” (اس عہدکے)تما م نظم گو شعرا کے یہاں اقبال کا اثر کسی نہ کسی لحاظ سے موجود ہے۔جمیل مظہری کے یہاں بھی یہ تاثر پذیری ملتی ہے۔اقبال کو انہوں نے اپنا مرشد فن کہاہے۔لیکن اِس تاثر پذیری کے باوجود انھوں نے ہر جگہ اپنی انفرادیت بر قرار رکھی ہے۔اُن کی فکر اپنی ہے،ان کا لب و لہجہ اپنا ہے“


مختصر یہ کہ جمیل مظہری کا شعری سرمایہ نہ صرف زیادہ ہے بلکہ رنگا رنگ بھی ہے۔ان کی مختلف سمتیں اور جہتیں ہیں جنہیں ایک مختصر مضمون میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ہاں ان رنگوں میں ایک رنگ عظمت آدم اور احترام انسانیت پر مشتمل نظموں کا بھی ہے جو اُن کی فکری،فلسفیانہ، عشقیہ اور صوفیانہ نظموں سے کسی طرح کم نہیں۔بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اُن کی رومانی، صوفیانہ، عشقیہ اور فکری شاعری بھی انسانی و اخلاقی اقدار پر ٹکی ہوئی ہے۔ثبوت کے طور پر آپ عشق ناتمام، دھارے اور موسم کے اشارے وغیرہ نظموں کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔جمیل مظہری کے یہاں انسان اور آدمیت کے مجرد تصور کے بجائے آج کے مسائل سے نبرد آزما انسان ملتاہے،جو اپنے جینے کے حق کا طلبگار ہے۔وہ شکست کے سامنے سرنگوں یا اس سے خوف زدہ نہیں اور نہ وہ کسی طرح کی خوش فہمی میں گرفتار ہے۔وہ اپنی تقدیر کو بنانا اور اپنے حق کو حاصل کرنا جانتاہے۔وہ برابر کا حق،آزادیِ اظہار اور مشترک انسانی رشتوں کا احترام چاہتاہے اور ساتھ ساتھ ایک بہتر دنیا کی تعمیر کا خواہاں ہے۔


احترام آدمیت کا یہ تصور کم از کم یہ ضرور ثابت کر تا ہے کہ جمیل مظہری ایک بےدار اور دردمندشاعر ہیں۔وہ ایک خاص فلسفۂ حیات رکھتے ہیں جو کہیں سے مستعار نہیں بلکہ ان کے ذاتی فکرو تدبر اور دردمند دل کا نتیجہ ہے،اور جس کی اساس عظمت آدم اور حرکت و عمل پر ہے۔لیکن کمال فن یہ ہے کہ اپنے اِن خیالات و افکار کا اظہار کرتے وقت وہ رعنائی خیال،لطافت،شعریت اور تخلیقیت کا دامن ہاتھوں سے نہیں جانے دیتے۔فلسفیانہ خشکی اور سپاٹ پن کا ان کے یہاں گزر نہیں۔انہوں نے اپنے خیالات، افکار اور اظہار و اسلوب میں ایک خوبصورت ہم آہنگی بر قرار رکھی ہے جو ان کی نظموں کو نہ صرف غنائیت اور موسیقیت عطا کر تی ہے بلکہ سطحیت اور سپاٹ پن سے بھی دور رکھتی ہے۔ان کی نظموں میں الفاظ اور معنی الگ الگ نہیں ہوتے۔ایسا نہیں کہ وہ سوچتے پہلے اور نظم بعد میں کرتے ہوں۔ان کے ذہن میں دونوں عمل ایک ساتھ چلتے ہیں۔ان کی شاعرانہ فکر اور احساس جمال ان کے خیال کو اشعار میں ڈھال ڈھال کر نکالتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فلسفہ،مذہب،تصوف اور اخلاق و نصیحت کی خشکی ان کے جذبہ اور تخیل کی آمیزش سے شعریت میں،اور حقیقت حسن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔تخلیقی جودت اور عشق و مزاولت کی یہ ایسی منزل ہو اکرتی ہے جہاں عام شاعر آسانی سے نہیں پہنچ سکتا۔جمیل مظہری کی رسائی وہاں تک ہو چکی تھی اس لیے انہوں نے اپنا ایک انفرادی اسلوب پالیا تھا۔یہ فطری اور لفظی اسلوب ہی ان کی شناخت ہے۔میں اپنی گفتگو خلیل الرحمٰن اعظمی کے ان جملوں پر ختم کرتاہوں جو انہوں نے جمیل مظہری کی نظموں کے حوالے سے لکھے تھے:


” جمیل مظہری نے…اپنے کلام کو جس اعلیٰ سطح پر رکھنے کی کوشش کی ہے،اس کی مثال اقبال کے بعد والی نسل میں کسی اور شاعر کے یہاں نہیں ملتی۔وقتی طور پر مقبولیت حاصل کرنے والے شعرا میں سے کسی کی پرواز جمیل مظہری تک نہیں۔فکر وفن کے اعتبار سے ان کا کوئی ہم عصراُن کا حریف ہو نے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔“
کتابیات
1۔ نقش جمیل: علامہ جمیل مظہری،بہار اردو اکادمی،پٹنہ
2۔ فکر جمیل:علامہ جمیل مظہری، بہار اردو اکادمی،پٹنہ
3۔ منثورات جمیل مظہری:مرتبہ پروفیسر اعجاز علی ارشد، بہار اردو اکادمی پٹنہ
4۔ جمیل مظہری: (مونوگراف) مرتبہ مظہر امام، ساہتیہ اکادمی، دہلی
5۔ تاریخ ادب اردو،پروفیسر وہاب اشرفی۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی
6۔ بہار کی بہار:(جلد اول )پروفیسر اعجاز علی ارشد، خدابخش لائبریری،پٹنہ
7۔ ماہنامہ ’آج کل‘ دہلی،جمیل مظہر ی نمبر

شیئر کریں
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی بھارت میں اردو فکشن کی تنقید کا ایک سنجیدہ اور معتبر نام ہے۔ان کی پیدائش یکم اپریل ۱۹۷۲ء کو گیا (بہار) میں ایک عالم دین مولانا عبدالبر اعظمی کے گھر میں ہوئی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم والد گرامی سے ہی حاصل کی ،اس کے بعد مگدھ یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔جون ۲۰۰۳ء میں ان کا تقرر شعبٔہ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی میں ہوا،جہاں ابھی وہ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسرتدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کے مضامین ملک و بیرون ملک کے موقر رسائل و جرائد میں شایع ہوتے رہے ہیں اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے درمیان توجہ اور انہماک سے پڑھے جاتے رہے ہیں۔ان کی اب تک چھ کتابیں (۱)ضیائے اشرفیہ،۱۹۹۰ء(۲)اسلام کا معاشرتی نظام،۱۹۹۲ء(اردو کے نثری اسالیب،۱۹۹۹ء(۴)فرات،مطالعہ ومحاسبہ،۲۰۰۴ء(۵)اردو ناول کے اسالیب،۲۰۰۶ء(۶)اور جہان فکشن،۲۰۰۸ء شایع ہو چکی ہیں۔ان میں اردو ناول کے اسالیب اور جہان فکشن کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ،بالخصوص اردو ناول کے اسالیب کو اترپردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے اول انعامات سے او ر جہان فکشن کو بہار اردو اکادمی کے اول انعام سے نوازا گیا۔پروفیسر وہاب اشرفی نے ’’تاریخ ادب اردو‘‘ میں اول الذکر کتاب کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ ’’کم ازکم میری نگاہ سے ایسا تحقیقی اور تنقیدی کام نہیں گذرا۔یہ تحقیقی و تنقیدی اعتبار سے نئے جہات سے مملوہے‘‘۔ڈاکٹر اعظمی اردو کی قومی اور بین الاقوامی مجلسوں ،سیمیناروں اور جلسوں میں شرکت کرکے بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔

کمنٹ کریں