بڑھاپے کے اثرات کو کم کرنے والی غذائیں

jawan rahne ke nuskhe
jawan rahne ke nuskhe

محمود الحسن

آئیے آج ہم جانتے ہیں وہ کون کون سی غذائیں ہیں جن کے استعمال سے بڑھاپے کے اثرات کم ہوتے ہیں اور انسان طویل عرصے تک جوان رہ سکتا ہے ۔

گرین ٹی


سبز چائے ایک گرم تاثیر رکھنے والا مشروب ہے جو میٹابولزم کی کارکردگی کو بہترین بناتا ہے اس میں موجود ای جی سی جی نامی جز ہے جو میٹابولزم کے سودمند ہے ۔ یہ بات تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے کہ گرین ٹی میں موجود ای جی سی جی اور پولی فینول اسے دوسری اقسام کی چائے کے مقابلے میں اسے کہیں زیادہ پاورفل بناتا ہے اور یہ چائے سوجن یا جسمانی ورم جسمانی کی روک تھام کے لیے بیحد موثر ثابت ہوئی ہے ۔ اسی لئے سبز چائے وزن کم کرنے میں بھی بیحد مددگار ہے ۔ اس چائے کے استعمال سے بلڈ شوگر کو بھی کنٹرول میں کیا جا سکتا ہے۔ سبز چائے میں موجود پولی فینول جلد میں پائے جانے والے کولیگن کو بھی محفوظ رکھتا ہے ۔ جس کی وجہ سے بڑھتی عمر کے اثرات بھی کافی حد تک کم ہوتے ہیں ۔

ڈارک چاکلیٹ


چاکلیٹ ایک ایسی چیز ہے جو ہر عمر کے انسان کو پسند آتی ہے چاہے بچہ ہو یا بوڑھا ۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ڈارک چاکلیٹ میں اینٹی آکسائیڈنٹس اور فلیونوئڈز وافر مقدار میں موجود ہیں ۔ یہ خون کی شریانوں میں لوتھڑے بننے اور سوجن کی روک تھام میں بیحد مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ کئی طبی و تحقیقی رپورٹ کے مطابق جسمانی سوجن یا موٹاپا بڑھاپے اور اس سے متعلقہ امراض کی وجہ ہوتی ہے ۔ لہذٰا ڈارک چاکلیٹ کے استعمال سے سوجن پر قابو پانےمیں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے یقین جانیں یہ غذا طویل زندگی کی کنجی ثابت ہے۔


ہلدی


ہلدی ہماری روزمرہ کی زندگی میں استعمال کی جانے والی بوٹی ہے مگر اس بات سے کم ہی لوگ واقف ہونگے کہ یہ ایک جادوئی جڑی بوٹی بھی ہے ۔ یہ میٹابولزم کی کارکردگی کو نوجوانوں جیسا رکھتی ہے ۔ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ ورم کے خلاف حیرت انگیز اثر رکھتا ہے۔ یہ جسم کو چست درست رکھنے میں مدد دینے والا مصالحہ ہے ۔ ساتھ ہی یہ دماغی تنزلی سے بھی بچاتی ہے ۔ ہلدی جگر کو تو صحت مند رکھتی ہی ہے ساتھ ہی یہ ایک بہترین اینٹی بائٹک بھی ہے ۔ امراض قلب اور جوڑوں کے درد میں بھی بیحد مفید ہے ۔

چقندر


چقندر کا استعمال برصغیر میں بیحد عام ہے۔ اسے سلاد میں استعمال کیا جات ہے اس کا جوس پیا جاتا ہے اور بھی کئی طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے ۔ مگر شاید آپکو یہ نہ معلوم ہو کہ یہ سبزی ایک خاص جز بیتھین سے بھرپور ہے جس سے سوجن پر تیزی سے قابو پایا جا سکتا ہے ۔ یہ کئی قسم کے جسمانی امراض سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ یہ اسکن کو برم اور چمکدار بناتا ہے ساتھ ہی چہرے کی جلد میں کساؤ کو برقرار رکھتا ہے ۔


انڈے


یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ انڈے پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں ۔ انڈے سے چربی سے پاک مسلز بنتے ہیں جس سے میٹابولزم کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے ۔ انڈے میں وٹامن ڈی بھی ہوتا ہے جو کہ انسانی صحت کو بہتر بناتا ہے یہ ورم کش ہوتا ہے ۔ اس کے بارے میں غلط فہمی ہے کہ انڈے سے چربی پیدا ہوتی کہ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ چربی گھلانے والے جز کولین سے بھرپور غذا ہے۔ انڈے سے وزن کم ہوتا ہے


دلیہ

الیہ کا استعمال بھی ہماری روز مرہ کی زندگی میں ایک عام بات ہے ۔ یہ سست روی سے ہضم ہونے والی غذا ہے ۔ اس میں موجود کاربوہائیڈریٹ بلڈ شوگر کو مستحکم رکھتا ہے جبکہ اس میں موجود وٹامن بی سکس مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے، جو لوگ دلیہ کھانے کو اپنی روز مرہ کی عادت بنالیتے ہیں ان کو فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔ دلیہ کھانے سے کولیسٹرول کی سطح میں سات فیصد تک کمی آتی ہے۔


زیتون کا تیل


زیتون کو جنت کا پھل کہا گیا ہے ۔ یہ ایک بیحد مفید پھل ہے اس کا تیل عمر بڑھنے کی وجہ سے لاحق ہونے والی کئی عام بیماریوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کا مسلسل استعمال بلڈ پریشر کو کافی حد تک کم کرتا ہے، اس سے امراض قلب کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، یہ میٹابولک سینڈروم کی روک تھام کرتا ہے ۔ یہ ذیابیطس اور خون کی شریانوں کے مرض میں بھی سود مند ہے ۔ یہ کینسر کے خلاف جدوجہد کرنے میں تعاون دیتا ہے ۔ زیتون کا تیل جلد کو بھی جوان رکھتا ہے۔ جانوروں پر ہونے والی طبی تحقیق کے مطابق یہ جلد کے لیے ورم کی روک تھام کرتا ہے ساتھ ہی سورج کی تیز شعاعوں سے ہونے والے جلدی نقصان سے بھی بچاتا ہے ۔ زیتون کے تیل کا پچھتر فیصد حصہ مونو سچورٹیڈ فیٹ پر مبنی ہوتا ہے جو جلد کی لچک اور مضبوطی کو قائم رکھتا ہے


دہی


دہی کا استعمال ہمیں روزانہ کرنا چاہئے یہ ہمارے جسم کو تندرست رکھنے میں بیحد معاون ہے ۔ موٹاپے یا ورم کی شکایت کو بھی دور کرتا ہے دہی میں اس مقصد کے لیے فائدہ مند بیکٹریا موجود ہوتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق دہی کا روزانہ استعمال کرنے والے والے لوگ بڑھاپے کو پچاس فیصد تک کم کر سکتے ہیں ۔ دہی کے مفید بیکٹریا کو جسم کا حصہ بنانے سے ذہنی تناؤ کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح میں کافی کمی آتی ہے، تاہم کم شکر والے داسہ دہی کا استعمال ہی فائدہ مند ہوتا ہے۔


اسٹرابری


یہ پھل وٹامن سی کا خزانہ کہا جاتا ہے یہ بات سبھی کو جاننا چاہئے کہ جسم کو جوان اور تندرست رکھنے میں وٹامن سی بیحد مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ یہ موسمی نزلہ زکام سے بھی آپکو پروٹیکشن دیتا ہے اور ذہنی تناؤ کو بھی کافی حد تک کم کرتا ہے ۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق وٹامن سی کا مسلسل استعمال ذہنی تناؤ یا غیر ضروری ٹینشن پیدا کرنے والے ہارمون کو کم کرتاہے ساتھ ہی کورٹیسول کی سطح میں بھی کمی آتی ہے اس سے بلڈ پریشر بھی تیزی سے کم ہوتا ہے۔


گریاں


زمانہ قدیم سے ہی نٹس یا گریاں کھانے پہ زور دیا جاتا ہے ۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق روزانہ کچھ مقدار میں مونگ پھلی یا اخروٹ وغیرہ کا استعمال سے جسم صحت مند رہتا ہے اور عمر بھی طویل ہوتی ہے ۔ تحقیق کے مطابق نٹس جان لیوا امراض جیسے کینسر ، ذیابیطس وغیرہ کو بھی جسم کا حصہ نہیں بننے دیتا ۔


سرخ شملہ مرچ


شملہ مرچ بھی وٹامن سی سے بھرپور ہوتی ہے ۔ وٹامن سی کے فوائد ہم نے اوپر لکھا ہے ۔ اس یں شامل دیگر اجزاءجسم میں موجود مضر اجزاءکے خلاف تیز مزاحمت کرتے ہیں جس سے عمر بڑھنے کی وجہ سے ہونے والی جسمانی تنزلی کی رفتار میں کمی آتی ہے۔


چاول


یہ تحقیق میں چابت ہو چکا ہے کہ چاول میں نشاستہ کی مزاحمت کرنے والے کاربوہائیڈریٹس موجود ہوتے ہیں جو کہ موٹاپے کو کافی کنٹرول میں رکھتے ہیں اس میں موجود کاربوہائیڈریٹس دیر سے ہضم ہوتے ہیں اور معدے میں جاکر فیٹی ایسڈز میں تبدیل ہوجاتے ہیں، اسے ہمارا جسم توانائی کے طور پر جلاتا ہے اس سے چربی بھی گھلتی ہے۔


کیلے


کیلا پوٹاشیم اور میگنیشم سے بھرپور ہوتا ہے جس کی وجہ سے اچھی نیند آتی ہے ۔ نیند کی کمی بڑھاپے کے جلدی آنے کی سب سے بڑی وجہ مانی جاتی ہے، یہ اضافی وزن سے نجات، بلڈ پریشر میں کمی،خون کی کمیوں کو دور کرتا ہے ۔ ہاضمہ کے نظام کو بھی بہتر بناتا ہے ، ذہنی تناؤ میں کمی لاتا ہے ڈیپریشن میں مفید ہے ۔ وٹامن کی کمیوں دور کرکے جسمانی توانائی کو بڑھاتا ہے


سیب


سیب ایک ایسا پھل ہے جس کا استعمال بڑھاپے کے اثرات کو روکنے میں بیحد مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک سیب روزانہ کھانے سے انسان جلدی بوڑھا نہیں ہوتا ۔ سیب کے چھلکوں میں ایک ایسا کیمیکل دریافت ہوا جو عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں میں آنے والی تنزلی کو روکتا ہے ۔ عمر بڑھنے کی وجہ سے پٹھوں اور مسلز میں کمزور ہو جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ جینز میں آنے والی تبدیلی ہوتی ہے ۔ اگر دو ماہ تک سیب یا سبز ٹماٹر کا استعمال مسلسل کیا جائے تو اس کی روک تھام کی جا سکتی ہے ۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں