جھیل پر شاعری

Read Urdu Poetry on the topic of Jheel Par Urdu Shayari (Jheel Kinaaray Pe Sher o Shayari). You can read famous Urdu Poems about River Urdu Poetry (Sea Poetry in Urdu language) and Urdu Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

green leafed tree near body of water
Photo by Pixabay on <a href="https://www.pexels.com/photo/green-leafed-tree-near-body-of-water-414102/" rel="nofollow">Pexels.com</a>


وہ لالہ بدن جھیل میں اترا نہیں ورنہ
شعلے متواتر اسی پانی سے نکلتے
محفوظ الرحمان عادل

سامنے جھیل ہے جھیل میں آسماں
آسماں میں یہ اڑتا ہوا کون ہے
فاروق شفق

سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا
قتیل شفائی

گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
محسن نقوی

ان جھیل سی گہری آنکھوں میں
اک لہر سی ہر دم رہتی ہے
رسا چغتائی

جھیل پر شاعری

مری خاموشیوں کی جھیل میں پھر
کسی آواز کا پتھر گرا ہے
عادل رضا منصوری

چراغ چاند شفق شام پھول جھیل صبا
چرائیں سب نے ہی کچھ کچھ شباہتیں تیری
انجم عرفانی

وہ پھول ہو ستارہ ہو شبنم ہو جھیل ہو
تیری کتاب حسن کے سب اقتباس تھے
اشفاق ناصر

یہ آب دیدہ ٹھہر جائے جھیل کی صورت
کہ ایک چاند کا ٹکڑا نہانا چاہتا ہے
مصطفی شہاب


وہ گلابی بادلوں میں ایک نیلی جھیل سی
ہوش قائم کیسے رہتے تھا ہی کچھ ایسا لباس
نصرت گوالیاری

لہو کی سوکھی ہوئی جھیل میں اتر کر یوں
تلاش کس کو وہ کرتا رہا مرے اندر
علیم صبا نویدی

پر سکوں لگتی ہے کتنی جھیل کے پانی پہ بط
پیروں کی بے تابیاں پانی کے اندر دیکھیے
جاوید اختر

کچھ لوگ ہیں جو جھیل رہے ہیں مصیبتیں
کچھ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے بدل گئے
شکیل جمالی

میں نے ہنسنے کی اذیت جھیل لی رویا نہیں
یہ سلیقہ بھی کوئی آسان جینے کا نہ تھا
صدیق مجیبی

جھیل پر شاعری

جس قدر نیچے اترتا ہوں میں
جھیل بھی گہری ہوئی جاتی ہے
اختر ہوشیارپوری

خدا معلوم کس آواز کے پیاسے پرندے
وہ دیکھو خامشی کی جھیل میں اترے پرندے
کیف احمد صدیقی

دیکھ لیا کیا جانے شام کی سونی آنکھوں میں
جھیل میں سورج اپنی ساری لالی ڈال گیا
رام اوتار گپتا مضظر

کوئی کنکر پھینکنے والا نہیں
کیسے پھر ہو جھیل میں ہلچل کوئی
ظفر اقبال ظفر


مجھے یہ ضد ہے کبھی چاند کو اسیر کروں
سو اب کے جھیل میں اک دائرہ بنانا ہے
شہباز خواجہ

جل تھل کا خواب تھا کہ کنارے ڈبو گیا
تنہا کنول بھی جھیل سے باہر نکل پڑا
سعید احمد

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں