جھوٹ کا بازار

جھوٹ کا بازار, جھوٹ کا بازار

افسانہ جھوٹ کا بازار

افسانہ نگار: زین العابدین خاں

فرزانہ کے ساتھ جب سے زِنا بالجبر ہوا تھا وہ اپنے آپ کو ہمیشہ کمرہ میں بند رکھتی تھی ،کبھی وہ اپنے چہرہ کو دیکھتی اور بے شماراُس کے ناخنوں کے نشان کو دیکھتی جیسے کِسی خونخوار بھیڑیے نے اُسے نوچا ہو ۔یہ زانی یا زِنا کرنے والا کوئی اور نہیں تھا بلکہ اُس کا اپنا ہی دور کا رشتہ دار یا بوائے فرینڈ آفتاب تھا جِس سے اُس کی شادی طے تھی ۔بس اُس کی پڑھائی ختم ہوتے ہی اُس نے دُلہن بن کر اُس کے گھر جانا تھا۔بوائے فرینڈ یا جِس سے شادی طے ہوجائے اُس کے ساتھ گھومنا پھرنا نہیں چاہیے لیکن دونوں خاندان اِن کی دوستی سے خوش تھے ۔فرزانہ کی ماں تو ابھی سے آفتاب کی تعریف کرتے نہ تھکتی تھی ،وہ اکثر کہتی میرا ہونے والا داماد تو لاکھوں میں ایک ہے ،میں اپنی بیٹی فرزانہ کو اپنی اوقات سے بڑھ کر جہیز دوں گی ۔کئی لوگوں نے کہا بھی کہ جب تک آفتاب سے فرزانہ کا نکاح نہ ہوجائے وہ فرزانہ کے لیے نا محرم ہے لیکن جیسے کہتے ہیں دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی ،ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر گھومنا،ایک دوسرے کے بدن کو چھونا جیسے معمول سا بن گیا تھا ۔آج سے چالیس سال پہلے کے عاشق و معشوق ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے تھے اور اُن خطوں کو بہت سنبھال کر رکھا کرتے تھے ،پُرانے شاعروں کے عشق میں قاصد بھی بہت اہمیت رکھتا تھا ،آپ نے اکثر پڑھا ہوگا ،
قاصد کے آتے آتے ایک اور خط لکھوں
میں جانتا ہوں کیا وہ لکھے گیں جواب میں
لیکن اب وقت بدل گیا ہے ،اب موبائیل پہ میسیج،فون،باتوں کا سلسلہ،تصویر،بات چیت کا انداز سب کچھ موجود ہے ۔آفتاب نے فرزانہ کو کال کرکے کہا،
’’آج سکینڈ شو کی پیکچر کی ٹکٹ لے آرہا ہوں ،شام ۶ بجے سے ۹ بجے تک تم تیار رہنا میں ٹھیک وقت پہ تمہارے گھر آجائوں گا ۔‘‘
’’ابھی ہماری شادی نہیں ہوئی ہے آفتاب صاحب،ہماری شادی کے بعد ہی ہم ساتھ پیکچر ہال میں بیٹھ سکتے ہیں۔‘‘
’’شادی تو ہو ہی جائے گی ،جب میاں بیوی راضی تو کیا کریں گیں قاضی؟‘‘
’’ابھی ہم میاں بیوی نہیں ہیں۔‘‘ فرزانہ نے کہا۔
’’یار تم دقیانوسی کی بات نہ کرو ،میں آرہا ہوں اگر نہیں چلوں گی تو ٹکٹ پھاڑ کے پھینک دوں گا۔‘‘آفتاب نے کہا
فرزانہ کی ماں دونوں کی بات سُن رہی تھی ،اُس نے کہا،
’’چلی جا ،نو بجے کوئی زیادہ رات نہیں ہوتی ہے پورا شہر کُھلا رہتا ہے اگر تو نہیں جائے گی تو اُس کا دِل ٹوٹ جائے گا ۔فرزانہ کو ماں کی بات

ایسی لگی جیسے چکن کی دوکان پہ مُرغی کو ذبح کر کے دوکاندار اُس کی کھال نکال رہا ہو ۔
’’ٹھیک ہے ماں میں تیار ہو جاتی ہوں لیکن اُس کے ساتھ مجھے اکیلے ہی کھیتوں کے راستہ سے آنا ہوگا ،وہاں سورج کے ڈوبتے ہی سنّاٹا بکھر جاتا ہے ،کسان تو اپنے کھیتوں سے چار بجے ہی نکل جاتے ہیں ۔‘‘
آفتاب اپنی موٹر سائیکل سے ٹھیک پانچ بجے آیا ،فرزانہ تیار بھی نہیں تھی لیکن مروت بہت بُری چیز ہے ،ایسے میں اُسے صاف انکار ہی کر دینا بہتر تھا ،ایک نا ہزار ہاں سے بہتر ہوتا ہے لیکن وہی شک کہ یہ میرا ہونے والا شوہر ہے کہیں ناراض نہ ہو جائے ،لاچار ہو کے تیار ہونا پڑا اور وہ اُس کے موٹر سائیکل پہ بیٹھ کے چلی گئی ۔پیکچر ہال میں دونوں کو ساتھ ہی بیٹھنا تھا ،دونوں بیٹھ گئے ۔آفتاب کے بدن میں جوانی کا خون جوش مارنے لگا ،پہلے اُس نے اُس کے ملائم ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا ،اِس کے بعد اُس کی پیٹھ پہ ہاتھ رکھ کر سہلانے لگا اور پھر دھیرے دھیرے پورے بدن کو ٹٹولنے لگا۔
فرزانہ نے سختی سے اُس کے ہاتھ کو جھٹک دیا بلکہ وہ اُس کی حرکت سے اسقدر پریشان ہوگئی کہ ہال سے اُٹھ کر باہر جانے لگی تو آفتاب نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا،
’’ دیکھو تم میری ہونے والی بیوی ہو ،میں جو چاہو کروں۔‘‘
’’ابھی تو میں تمہاری بیوی نہیں ہوں نہ،نکاح کے بعد تمہاری ہو جائوں گی ۔‘‘
اب دونوں خاموش ہو کے بیٹھ گئے،فِلم تو اُن دونوں میں سے کوئی نہیں دیکھ رہا تھا ۔آفتاب کِسی کُتّے کی طرح اُس کے بدن کو سونگھے جا رہا تھا ،فِلم ختم ہو گئی ،دونوں باہر نکلے ۔فرزانہ چاہتی تھی کہ وہ اُس کے ساتھ موٹر سائیکل پہ نہ بیٹھے لیکن رات کا وقت تھا اور آٹھ کلو میٹر کی دوری تھی ،وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اُس کی موٹر سائیکل پہ بیٹھ گئی ۔اب وہ دونوں آپس میں بات چیت نہیں کر رہے تھے ۔آفتاب کی گاڑی جب سنّاٹے میں رات کے وقت کھیتوں سے گزرنے لگی تو اُس کے اوپر پوری طرح سے شیطان حاوی ہوگیا ،اُس نے اپنی گاڑی روک دی اور فرزانہ کو ایک جھٹکے میں زمین پہ پٹک کے اُس کا ریپ کرنے لگا ،وہ وہاں چِلّائی بھی لیکن وہ اُسے بُری طرح مارنے پیٹنے لگا ۔رات کے سنّاٹے میں ایک بے بس عورت خاموش ہوگئی ۔وہ اُس کے ساتھ زِنا بالجبر کے بعد اُسے کئی تھپڑ مارا اور بولا ،
’’یاد رکھ تو میری ہونے والی بیوی ہے ،اگر کِسی سے اِس واقعہ کا ذکر کیا تو میں تُم سے شادی نہیں کروں گا۔‘‘
اب فرزانہ اُس کی موٹر سائیکل پہ نہیں بیٹھی ،اُس نے لاکھ چاہا کہ وہ اُس کی گاڑی کی سیٹ پہ بیٹھے لیکن وہ کیچڑ میں جا کے بیٹھ گئی لیکن اُس کی موٹر سائیکل پہ نہیں بیٹھی ۔شہر قریب تھا کوئی دور نہیں تھی وہاں سے اُٹھی اور سیدھا پولِس اسٹیشن میں گُھس گئی ۔آفتاب اُسے کھیت کے کیچڑ میں چھوڑ کے بھاگ گیا تھا لیکن اُس کے کیچڑ میں لت پت کپڑوں سے اور اُس کے ساتھ نہ آنے سے کچھ ڈر سا گیا تھا وہ بھی گھر نہیں گیا بلکہ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پہ جا کے سو گیا ۔
فرزانہ کی شکایت کے بعد پولِس کی گاڑی اُس کا میڈیکل ٹیسٹ کے لیے اُسے سرکاری اسپتال لے گئی ۔رپورٹ کی تصدیق ہونے

کے بعد کہ واقعی اَِس لڑکی کے ساتھ گُناہ کیا گیا آفتاب کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری ہو گیا ۔اِس بیچ پولِس نے اپنی گاڑی سے فرزانہ کواُس کے ماں باپ کے حوالے کر دیا ،اُس وقت رات کے ۲ بج رہے رہے تھے اور فرزانہ کی فِکر میں اُس کا پورا گھر جاگ رہا تھا ۔پولِس نے فرزانہ کے والدین کو پوری جانکاری دے دی تھی اور ساتھ میں اُنھیں یہ بھی ہدایت دی کہ اِس لڑکی کی دِماغی حالت ٹھیک نہیں ہے اِس لیے سوال جواب نہ کریں اور اِسے آرام کرنے دیں ۔پولِس ساری ہدایت کے بعد فرزانہ کے گھر سے چلی گئی ۔
آفتاب کے بدن سے ہوس کا بُخار تو اُن کھیتوں میں ہی اُتر گیا تھا جہاں اُس نے فرزانہ کا ریپ کیا تھا ،اب تو اُس کی یہ حالت تھی جیسے کِسی طوفان سے اُس کا پورا وجود ہی اُجڑ گیا تھا ۔وہ ریلوے اسٹیشن پہ بنی پتھر کی کرسیوں پہ سو گیا تھا ،جب اُس کی آنکھ کُھلی تو اُس نے بُک اسٹال پہ اخبار دیکھا ،تقریباًسارے اخباروں نے فرزانہ کی تصویر کے ساتھ آفتاب کی کہانی چھا پی تھی ۔ ،اب اُس کے پسینہ چھوٹ گئے ،اُس نے اپنے باپ کا ڈھیر سارا مِس کال دیکھا اور اُنھیں فون کیا ،
’’پاپا مجھ سے غلطی ہو گئی لیکن اِس میں اُس کا بھی ہاتھ تھا ۔‘‘
’’ہاں بیٹا سیکس تو اکیلے کبھی ہو ہی نہیں سکتا ہے یہ تو دونوں فریق کا کام ہوتا ہے ،تم جلدی گھر چلے آئو ،میں سب کچھ سنبھال لوں گا ۔‘‘
ابھی اِن کی بات چیت چل ہی رہی تھی کہ فون کے survelanceسے پولِس کو ملزِم کے بولنے کا پتہ چل گیا کہ وہ کہاں سے موبائیل پہ بات کررہا ہے ،وہ آکے ٹھیک اُس کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور جیوں ہی اُس نے فون بند کیا پولِس نے اُسے دبوچ لیا اور گِرفتار کر کے اُسے جیل میں ڈال دیا ۔جب آفتاب کے والد عنایت علی کو اپنے بیٹے کی گِرفتاری کا پتہ چلا تو وہ سیدھے پولِس اسٹیشن گئے تاکہ کچھ رشوت دے کر کام بن جائے ۔انھوں نے پولِس انسپکٹر سے کہا،
’’اگر بلاتکار کا کیس ہے تو ایک طرفہ معاملہ نہیں ہو تا ہے جب تک لڑکی نہ چاہے یہ ہو ہی نہیں سکتا ہے اور آپ نے میرے لڑکے کو جیل میں ڈال دیا ۔ــ‘‘ انسپکٹر نے اُٹھ کر ایک زوردار تھپڑ اُن کے گال پہ مار دیا اور بولا،
’’مار پیٹ یا زِنا کاری دوطرفہ کے بجائے کبھی ایک طرفہ بھی ہوتا ہے جِس طرح سے میں نے ابھی آپ کو ایک تھپڑ لگا دیا ہے ۔‘‘
’’یہ تو میرے لڑکے کے ساتھ ظُلم ہوا ہے ،آپ نے ایک طرفہ معاملہ کر دیا ۔‘‘
’’میں نے کچھ ایک طرفہ نہیں کیا ہے ،میں نے صرف اُسے قانون کے حوالے کیا ہے ۔جائیے کِسی وکیل کے پاس وہ ایسا بیان بازی جج کے سامنے کرے گا کہ سوئی کے چھید سے ہاتھی کو گزار دے گا اور آپ کا لڑکا دوسرے دِن ضمانت پہ چھوٹ کے مسکراتے ہوئے گھر آجائے گا۔ مقدمہ چار سال چلے،سات سال چلے وہ کیس جیت جائے گا لیکن اُس لڑکی کا کیا ہوگا ،اُس کو تو میڈیا نے اِتنا اُچھال دیا کہ شہر کا بچہ بچہ جان گیا،اب اُس سے کون شادی کرے گا۔ ‘‘
عنایت علی کو انسپکٹر کا ایک تھپڑ لگنے کے بعد اب ہمت جواب دے رہی تھی کہ اب وہ پولِس سے کیا بحث کرے جب وہ پولِس اسٹیشن سے باہر نکلا تو فرزانہ کے والد قیوم خاں مل گئے جو باہر کھڑے ہوکر رو رہے تھے اور اُن کی سفید ڈاڑھی آنسوئوں سے گیلی ہو رہی تھی ۔ایک

بوڑھے باپ کی مجبوری جو اپنی بیٹی کے لیے کچھ نہ کرسکتے تھے سوائے آنسو بہانے کے۔
فرزانہ کی پورے شہر میں بدنامی کے بعد اب کورٹ کا چکر شروع ہو گیا ،دونوں فریق اپنے اپنے وکیلوں کے پاس جاتے، فرزانہ اپنے وکیل کے پاس برقعہ میں منہ چھپائے رہتی لیکن آفتاب کے من میں اور اُس کے خاندان کے من میں یہ بات آگئی تھی کہ فرزانہ کو سبق سکھانا ہے ۔فرزانہ کو اُمید تھی کہ آفتاب کو سزا ملے گی ،وہ جیل جائے گا تب اُسے سُکون ملے گا لیکن آفتاب کا وکیل گارنٹی دے رہا تھا کہ ہم اِس قِسم کے کئی کیس جیت چُکے ہیں ،فرزانہ کے دِل میں تھا کہ وہ آپ سے جسمانی تعلق بنائے اِسی لیے تو وہ آپ کے ساتھ رات کے فِلم کے شو میں گئی تھی ورنہ وہ دِن کے شو میں بھی توجا سکتی تھی ،وہ چاہتی تھی کہ تمہارا بچہ اُس کے پیٹ میں آجائے تاکہ وہ تمہیں شادی پہ مجبور کر سکے ۔وکیل نے آفتاب سے کہا کہ اُس کے موبائیل کا سارا کال ڈیٹیل چاہیے تاکہ میں عدالت میں یہ ثابت کر سکوں کہ آپ لوگوں کی دوستی پہلے سے تھی اور آپ لوگ ایک دوسرے سے پیار کر تے تھے ۔
’’وہ تو میرے موبائیل میں بھرا پڑا ہے۔‘‘آفتاب نے کہا ۔
’’آپ کِسی کو ڈیلیٹ نہ کرو،یہ سب کورٹ میں کام آئے گا ۔‘‘وکیل نے کہا۔
’’ٹھیک ہے وکیل صاحب۔‘‘
دوسرے دِن وکیل نے آفتاب کی ضمانت پہلی سنوائی میں لے لی ،فرزانہ روتے ہوئے اپنے باپ کے ساتھ چلی آئی اور آفتاب کِسی فاتح کی طرح کورٹ روم سے باہر آگیا ۔فرزانہ نے سوچا یہ کیسی عدالت ہے ،پولِس کی رپورٹ ہے ،ڈاکٹر کی میڈیکل رپورٹ میں بھی زِنا کاری کی تصدیق ہے پھر بھی یہ شخص ہنستا ہوا اپنے ماں باپ کے ساتھ گھر جا رہا ہے ۔اِس پہلی ضمانت کی جیت کے بعد وکیل عدالت کے باہر کے ہوٹل میں گلاب جامن کھاتے ہوئے بولا،
’’ضمانت پہ تم چھوٹ گئے تو سمجھو آدھی رہائی مِل گئی ،اب میں تاریخ پہ تاریخ لیتا جائوں گا ،جب ذرا وقت نکل جائے گا تو کیس اپنے آپ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔‘‘
تھوڑی دیر کے بعد سرکاری وکیل جو پولِس کی طرف سے فرزانہ کا کیس لڑ رہا تھا وہ بھی اُس ہوٹل کے سامنے سے گزرا ،اُسے آفتاب کے وکیل نے آواز دی،
’’ارے بھائی آجائو ،یہ عدالت نہیں ہے یہ ہوٹل ہے اور آفتاب کے والد کو اشارہ کیا کہ وہ اِس کی مُٹھی گرم کریںورنہ یہ آگے کی تاریخ نہیں پڑنے دے گا ۔‘‘آفتاب کے والد نے اُسے دو ہزار روپئے دیے ،وہ بھی وہاں بیٹھا پیسہ کے ساتھ گلاب جامن کھا یا اور چلا گیا ۔دور سے فرزانہ اور اُس کے والد قیوم خاں نے دیکھا ،پر کیا کر سکتے تھے ،یہ اِن کی پرائیوٹ زندگی تھی ۔فرزانہ کو لگا جیسے وہ کوئی آگ پہ بُھنی ہوئی گوشت ہے جِس کو دونوں وکیل کھا رہے ہیں۔
تقریباً تین سال تک صرف تاریخ پڑتی رہی کوئی سُنوائی نہیں ہوئی ،کبھی آفتاب بیمار ہو جاتا اور کبھی جج صاحب ،یونہی تاریخ ٹال دیتے۔

فرزانہ اور اُس کے والد قیوم خاں ہر تاریخ پہ جاتے رہے لیکن کیس ایک انچ آگے کِھسک نہیں رہا تھا ،اُلٹے اخبار اور میڈیا والے فرزانہ کی ہر تاریخ پہ فوٹو لیتے یا اُس سے بات کرنے کے لیے دوڑ پڑتے لیکن آفتاب سے کوئی اخبار والا بات نہیں کرتا ۔ایک دِن فرزانہ کے والدقیوم خاں نے فرزانہ سے پوچھا ،
’’میڈیا والے تمہاری تصویر یا تم سے ہی بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں اُس بے شرم ،بے حیا آفتاب سے نہیں،ایسا کیوں؟‘‘
’’بابا یہ میڈیا والے ہیں،اِن کو جلے ہوئے گھر کی تصویر اچھی لگتی ہے ،اِن کو روڈ پہ پڑی لاش اچھی لگتی ہے تاکہ یہ کہانی بنائیں۔‘‘
ایک دِن فرزانہ نے بڑی ہمّت کر کے جج صاحب سے کہا،
’’سر ہم کو تین سال ہوگئے یہاں آتے ہوئے ،ہمارے کیس کی سُنوائی تک نہیں ہو رہی ہے اور ملزِم آفتاب ضمانت پہ چھوٹ کر مزہ سے زندگی گزار رہا ہے ۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں سُنوائی کرتا ہوں اور اُس دِن فیصلہ بھی سُنادوں گا۔‘‘ فرزانہ بہت خوش ہوگئی اور اپنے والد کے ساتھ گھر چلی گئی ۔اُسے اب اُمید ہو گئی کہ اِس سُنوائی پہ آفتاب ضرور جیل چلا جائے گا اور وہ مُسکراتے ہوئے گھر آئے گی۔
وہ تاریخ بھی آگئی ۴ دسمبر،کیس کی سماعت شروع ہوگئی ۔فرزانہ سے آفتاب کا وکیل جج صاحب کے سامنے سوال جواب کرنے لگا ،
’’آپ آفتاب کے ساتھ پیکچر دیکھنے سنیما ہال گئی تھی کیا یہ سچ ہے؟‘‘
’’جی یہ سچ ہے۔‘‘فرزانہ نے کہا (می لارڈ اِسے نوٹ کیا جائے)
’’آپ چاہتی تو انکار بھی کر سکتی تھی پھر بھی آپ اُس کے ساتھ رات والی شو میں چلی گئیں۔‘‘
’’جی مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ ایسی گندی حرکت میرے ساتھ کرے گا۔‘‘
’’کیا آپ کِسی بھی نوجوان لڑکے کے بُلاوے پہ اُس کے ساتھ رات میں پیکچر دیکھنے اُس کی موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھ کے جانا پسند کریں گی۔‘‘
’’نہیں با لکل نہیں ۔‘‘ ( می لارڈ اِسے نوٹ کیا جائے )
’’می لارڈ اِس کا صاف مطلب یہ ہے کہ فرزانہ ولد قیوم خاں اپنی مرضی سے رات کے وقت آفتاب کے ساتھ سنیما ہال میں گئیں یہ جانتے ہوئے کہ اُس کے ساتھ اکیلے ہی آنا ہے ،اِس کے علاوہ اِن دونوں آفتاب اور فرزانہ کے کال کی تفصیل جو انھوں نے آپس میں کبھی کبھار بات کی ہے اُس کی میں پرنٹ لایا ہوں،اُسے پڑھنے کے بعد یہ صاف پتہ چلتا ہے کہ اِن دونوں میں پیار تھا اور جیسا کہ میرمُوکل نے بتایا کہ اِن دونوں کی شادی بھی ہونے والی تھی ۔ہمارا مُوکل اور فرزانہ دونوں مسلمان ہیں،اِن کے مذہب اسلام کے مطابق آفتاب ایک نا محرم مرد ہے فرزانہ کے لیے پھر بھی اِس لڑکی نے اُسے اپنے جال میں پھانسا اور اُسے پیکچر لے گئی صرف اِسی کام کے لیے تاکہ وہ آفتاب سے حاملہ ہو جائے ۔مجھے تو اِس لڑکی کے چال چلن پہ شبہ ہے ،می لارڈ یہ زِنا بالجبر کِسی طرح نہیں ہے ۔لڑکی خود اپنی مرضی سے جب ایک نا محرم

مرد کے ساتھ اندھیرے میں اکیلی جائے تو اُسے کیا کہے گیں؟می لارڈ اِن ساری باتوں کو مدِ نظر رکھ کر اِن کے آپسی بات چیت کا ریکارڈ
دیکھ کر ہی فیصلہ کیا جائے ۔
جج نے کال کی تفصیل کو اچھی طرح پڑھا پھر آفتاب کو کٹ گھرے میں بُلایا ،پولِس اُسے لائی ،اُس نے اندر کھڑے ہوکر جج صاحب کو سلام کیا ،جج صاحب نے اُس سے ایک ہی سوال پوچھا ،
’’آفتاب کیا تم فرزانہ سے شادی کروگے؟‘‘
’’جی جج صاحب میں اِس سے شادی کروں گا۔‘‘
اُدھر عدالت کے اندر لگے کرسیوں پہ اکیلے بیٹھے قیوم خاں رو رہے تھے اور اپنی سفید ڈاڑھی کو بھگا رہے تھے کیونکہ بھری عدالت میں آفتاب کے وکیل نے اُن کی بیٹی فرزانہ کو بد چلن کہا تھا۔اِس بیچ جج صاحب نے اپنی لکڑی کا ہتھوڑا دوبارہ بجایا اور اپنا فیصلہ سُنانا شروع کر دیا ،
’’آپ دونوں کے کیس کا بغور معائنہ کرنے کے بعد میں اِس نتیجہ پہ پہنچا ہوں کہ یہ زِنا بالجبر نہیں ہے کیونکہ فرزانہ اپنی مرضی سے اُس کے ساتھ گئی تھی ،کال کی تفصیل کو پڑھنے کے بعد یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ پہلے سے دونوں میں شناسائی تھی ۔اب چونکہ آفتاب فرزانہ سے شادی کر نے کے لیے تیار ہے تو اِس کیس کو میں ڈِس مِس کرتا ہوں اور آفتاب کو پانچ ہزار جُرمانہ کے بعد بری کرتا ہوں۔‘‘ فیصلہ سُنانے کے بعد جج صاحب فوراً اُٹھ کے چلے گئے ۔قیوم خاں نے فرزانہ سے پوچھا ،
’’بیٹا یہ انصاف ہوا ہے کہ مذاق ہوا ہے۔‘‘
’’ بابا یہ مذاق ہی ہے ،جس نے میری عزت لوٹی ،جس نے مجھے پورے شہر میں بدنام کیا ،جس نے مجھے ہر جگہ منہ چھپا کے چلنے پر مجبور کیا وہ اپنے وکیل کے ساتھ گلاب جامن کھا رہا ہے۔‘‘اُدھر دونوں باپ بیٹی کے چلتے چلتے آفتاب کا وکیل مِل گیا اور اُس نے قیوم خاں کو آواز دے کر کہا ،
’’چچا اب آپ شادی کی تیاری کرو ،یہ روز روز کورٹ کا چکر آج سے ختم ہو گیا۔‘‘قیوم خاں میں نہ جانے اتنی طاقت اُن کے بڑھاپے میں کہا سے آگئی ۔وہ اپنی جگہ سے زور دار چھلانگ لگا کر اُس کے اوپر چڑھ گئے اور وکیل زمین پہ اپنے کالے کوٹ کے ساتھ گِر گیا ،قیوم خاں نے اپنا گھٹنہ اُس کے گلے پہ رکھ کے دبایا ،جب وکیل کورٹ کے احاطے میں مرنے لگا تو قیوم خاں نے کہا ،
’’بول سالے میری بیٹی کو کہا دیکھا کہ اُس کو بھری عدالت میں بد چلن کہا ،بول!بول۔‘‘ لیکن اب وہ کہا ںبولتا وہ تو مر چکا تھا ۔پھرانھوں نے اُس کے مردہ جِسم پہ چڑھ کر چلّانا شروع کیا ’’مجھے پکڑو ،مجھے گِرفتار کرو ،مجھے جیل میں ڈالو ،مجھے تو اِس بڑھاپے میں مرنا ہی تھا کچھ دِن پہلے مر جائوں گا لیکن اب جھوٹ کے بازار میں زیادہ دِن جینا مشکل ہے جہاں زانی جشن منائے۔‘‘

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں