جس کا رنگ، رنگِ بہار ہے

خاکہ نگار : غضنفر
lafznamaweb@gmail.com

, جس کا رنگ، رنگِ بہار ہے

اچھائی والا رنگ کم کم نظر آتا ہے مگر جب بھی اور جہاں بھی دکھائی دیتاہے آنکھوں میں رنگ و نور، رگوں میں کیف و سرور اور دماغوں میں ادراک و شعور بھردیتا ہے ۔ ایسے رنگ سے صرف سمتیں ہی نہیں جھمکتیں ، راہیں روشن بھی ہوتی ہیں اور منزلیں دکھائی بھی دینے لگتی ہیں۔ ایسے رنگ کو میں محض اپنے تک محدود نہیں رکھتا ، بلکہ دوسروں تک پہنچانے کا جتن بھی کرتا ہوں کہ اس رنگ کی ہر آنکھ کو ضرورت ہے۔ جن لوگوں میں مجھے یہ رنگ دکھائی دیا ان میں وہ آفتابی شخص بھی ہے جسے ایک آسمان پر کئی چاند نظر آئے ۔ آسمان پر کئی چاند دیکھنے اور انھیں لسانی زمین پر اتارنے والے میں اچھائی والا یہ رنگ مجھے اس لیے نظر آیا کہ اس نے اس زبان سے وفا نبھائی جس نے اسے چاند دیکھنے کا شعور اور چاند کو سلیقے سے زمین پر اُتارنے کا ہنر بخشا۔ایسا ہنر جو چاندنی کی چمک کو چاروں طرف پھیلا سکے۔ اندھیرے کے کھیتوں میں تارے بوسکے ۔ظلمتی منڈیروں پر جگنوؤں کی فوج بٹھاسکے۔ اس نے اس زبان کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جیسا کہ دوسرے کرتے ہیں۔ جن میں وہ بھی شامل ہیں جو اس زبان سے بصارت اور بصیرت تو پاتے ہیں مگر اس زبان کے راستے کا اندھیرا دور نہیں کرتے۔جو اس کی صداؤں سے سکون تو حاصل کرتے ہیں مگر اس کے اضطراب کو مٹانے کا جتن نہیں کرتے۔ جو اس سے سیم و زر اور مال و منال تو کماتے ہیں مگر اس پر مال خرچ نہیں کرتے۔اس زبان سے محبت تو میں بھی بہت کرتا ہوں مگر میری محبت اس شخص کی محبت کے آگے ہیچ نظر آتی ہے۔ مجھے اس کی محبت میں ا پنے سے زیادہ شدّت محسوس ہوتی ہے ۔ اس لیے کہ اس زبان کی بقا کے لیے وہ مجھ سے زیادہ فکر مند رہتا ہے ۔ اس کی بگڑی ہوئی صورت پر مجھ سے زیادہ رنجیدہ، مجھ سے زیادہ ملول اور مجھ سے زیادہ افسردہ ہوتاہے ۔ویسے تو اس زبان کی بد حالی پر دوسرے ہونٹوں سے بھی اس طرح کے جملے نکلتے ہیں :ہماری زبان مٹ رہی ہے۔ ہماری زبان مررہی ہے۔ ہماری زبان نزع کی حالت میں پہنچ چکی ہے مگر دوسروں کی آواز اور اس شخص کی صدا میں فرق یہ ہے کہ اس کی آواز میں یہ دکھائی بھی دیتا ہے کہ ہماری زبان کس کس طرح سے مٹ رہی ہے؟ کہاں کہاں سے مررہی ہے؟ اس کو مارنے اور مٹانے میں کون کون سے لوگ شریک ہیں؟ مٹانے کی کیا کیا ترکیبیں کی جارہی ہیں؟کیسی کیسی حرکتیں ہو رہی ہیں؟ اس کی تخریب کاری میں خود اس کے اپنے بھی کس طرح شا مل ہوگئے ہیں؟ اس کی صدا میں سسکیاں بھی سنائی دیتی ہیں اور اس کے درد و کرب کی کراہیں بھی۔


اس نے میری دوکتابوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ میں نے فلاں فلاں جملے میں اپنی زبان کی جگہ دوسری زبانوں کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا کہ اس مفہوم کو ادا کرنے والے لفظ اپنی زبان میں موجود ہیںاور جب اپنی زبان میں لفظ موجود ہیں تو دوسری زبان کے الفاظ کیوں؟ مجھے اس شخص کا یہ ریمارک اچھّا نہیں لگا۔ میں نے اس کا بُرا بھی مانا۔ مجھ پر اس کاخاصا ردِّ عمل ہوا۔میں نے یہ بھی سوچا کہ میں اس شخص سے اس مسئلے پر بحث کروں اور اپنی منطق سے اسے قائل کردوں کہ موجودہ لسانی صورتِ حال میں میر ا موقف ہی صحیح موقف ہے مگر ذرا ٹھہر کر میں نے دوبارہ اس کے جملوں پر غور کیا تو اس کا عندیہ سمجھ میں آیا اور جیسے ہی اس کا عندیہ سمجھ میں آیا میرے اندر یہ احساس جاگا کہ وہ اپنے اس موقف میں حق بہ جانب ہے ۔اس نے یہ سب میری دشمنی میں نہیں بلکہ اپنی زبان کی رفاقت میں کیا۔ یہ بھی احساس ہوا کہ وہ اپنی زبان سے کتنا پیار کرتا ہے اور اس کے تحفظ کے لیے کس قدر سنجیدہ اور کس حد تک فکر مند ہے۔ اس کا یہ رویہ محض میرے ساتھ ہی دیکھنے کو نہیں ملا بلکہ دوسروں کے تئیں بھی نظر آیا اور کچھ لوگوں کے ساتھ تو بعض معاملات میں اس کا یہ رویہ جارحانہ بھی محسوس ہوا۔ غور کرنے پر پتا چلا کہ اس کا یہ رویہ اس لیے نہیں سامنے آتا کہ وہ کس کی تحریر کی گرفت کرنا چاہتا ہے یاتخلیق کی خامیاں نکلالنا چاہتا ہے بلکہ اس کا مقصد صرف یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ زبان کو مارنے اور مٹانے میں تخلیق کاروں کا یہ عمل بھی بہت حد تک ذمّے دار ہے۔ یہ اپنی زبان سے محبت کا انتہائی جذباتی شکل ہے۔ یہ جذباتیت کبھی کبھی تو اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی زبان کی محبت میں لوگوں سے دشمنی بھی مول لے لیتا ہے۔ لڑنے بھڑنے پر آمادہ ہوجاتا۔ محاذ آرائی پر بھی اتر آتا ہے۔ اپنی زبان سے محبت کرنے کا ایسا والہانہ اور مخلصانہ انداز بہت کم لوگوں میں نظر آتا ہے۔اس کے اس رویے کے پیچھے زبان کے تحفظ کا جذبہ تو ہے ہی ، اپنے تہذیبی سرمائے کو بچانے اور اپنے تشخص کو قائم رکھنے کی فکر بھی ہے۔اس لیے کہ اس کی دوراندیش آنکھوں میں عقب سے آنے والے وہ تیر بھی دکھائی دیتے ہیں جن کے نشانے پر تہذیبیں اور شناختیں ہوا کرتی ہیں ۔ اپنی زبان کی فکر اس لیے بھی کرتا ہے کہ وہ یہ جانتا ہے کہ زبان کے باقی رہنے سے کیا کیا باقی رہتا ہے اور باقی نہ رہنے سے کیا کیا چلا جاتا ہے ۔


اچھائی والا یہ رنگ مجھے اس کی قوتِ ارادی کے مظہروں میں بھی نظر آتا ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو کسی کسی کو ہی میّسر آتی ہے اور جسے میسر آجاتی ہے وہ محمود بن جاتا ہے، سکندر ہوجاتا ہے۔ جتنے معرکے سر کرنا چاہتا ہے ، سر کرلیتا ہے۔ فتوحات کے جھنڈے جس میدان میں گاڑنا چاہتا ہے، گاڑ دیتا ہے، جو حاصل کرنا چاہتا ہے کرلیتا ہے۔ یہ وہی قوتِ ارادی ہے جس کی بدولت اس شخص نے جو ٹھانا، کیا ۔ جو سوچا، ہو ا ۔ جو چاہا، ملا ۔ اس نے چاہا کہ افسرِ اعلیٰ بنے، سوبنا۔ اس نے ارادہ کیا کہ میدانِ ادب میں ایک نئے رحجان کو پروان چڑھائے ، سو چڑھایا۔ اس نے طے کیا کہ وہ نئے انداز سے شعر کہے سو کہا، اس نے عزم کیا کہ ادبی تنقید کی بلندیوں کو چھوئے ، سوچھوا۔ اس نے اراد کیا کہ نئے رنگ و آہنگ کے افسانے لکھے، سو لکھا۔ اس نے سوچا کہ ناول نگاری میں بھی وہ نام پیدا کرے،، سوکیا۔ اس نے ارادہ کیا کہ لفظ و معنی کے جدلیاتی رشے کا پتا لگائے ، سولگایا۔ اس نے طے کیا کہ شعرِ شور انگیزتک پہنچے، سو پہنچا۔اس نے عزم کیا کہ گنجینہ ¿ معانی کے طلسم کا در کھولے، سو کھولا۔اس نے ارادہ کیا کہ آسمانِ ادب پر شب خون مارے ،سومارا۔ اس نے چاہا کہ ایک عالم کو اپنا ہمنوا بنائے، سو بنایا۔ اس کی ان خواہشوں اور خواہشوں کی تکمیلی صورتوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتاہے کہ جیسے اُسے الہ دین کا کوئی چراغ مل گیا ہو جسے رگڑتے ہی خوابوں کی تعبیریں نکل آتی ہیں ۔ چاہتوں کی تصویریں بن جاتی ہیں ۔سوچ صورت اختیار کرلیتا ہے۔ ارادے متشکل ہوجاتے ہیں اور عزم عمل میں بد ل جاتا ہے۔یہ وہ رنگ ہے جسے حاصل ہوتے ہی انسان کے قول و عمل سے رہبرانہ شعاعیں پھوٹنے لگتی ہیں۔ راستے جگمگانے لگتے ہیں۔ منزلوں کے نشان ملنے لگتے ہیں۔


اچھّائی والا یہ رنگ اس شخص کے اس اندازِ بودوباش میں بھی دکھائی پڑتا ہے جوا س کی زندگی میں ملازمت سے سبک دوشی کے بعد شروع ہوا۔ عام مشاہدہ یہ ہے اور تجربہ بھی بتا تا ہے کہ ملازمت سے سبکدوشی کا بعد آدمی راکھ ہوجاتاہے۔ اس لیے کہ اس کے اندر کی ساری آگ نکل چکی ہوتی ہے اور اس کا وہ آتشیں طنطنہ، شرّی دبدبہ اور شورشی غلغلہ برقرار نہیں رہ پاتا جو ملازمت کے دوران اس کے دفترا نہ طمطراق اور حاکمانہ کرّو فر میں دکھائی دیتا تھا ۔ اس لیے کہ فضائے حاکمیت سے نکلتے ہی افسرانہ گرم مزاجی سرد پڑجاتی ہے ۔افسر اپنی شعلہ مزاجی کی آگ جن ماتحتوں پر برساتاتھا ، انھیں کی سرد مہریوں کاشکا ر ہوجاتا ہے۔شرارہ صفت حاکمانہ ذہنیت جل کرراکھ ہوجاتی ہے ۔ طبع ِشرر فشاں بُجھ کر رہ جاتی ہے۔ بندئہ بیش بہا بندئہ بے دام ہوجاتا ہے۔ مگروہ شخص دفتر سے نکل کر بھی دفتر سے الگ نہیں ہوا۔ اس کی افسرانہ حیثیت بنی رہی۔ اس کی قدرو قیمت باقی رہی۔ اس کی شعلہ مزاجی قائم رہی ۔ اس کے اندر کی گرمی ختم نہیں ہوئی۔اس نے اپنے گھر کو دفتر بنالیا ۔ یہاں بھی اس نے دفتری فضاکو قائم رکھا۔ معاملاتِ خامہ و قرطاس کو یہاں بھی برقرار رکھا۔ البتہ تحریروں کی نوعیت ضرور بدل گئی۔اب نوٹنگ کی جگہ نکتوں نے لے لی ۔ فائلوں کی جگہ علوم و فنون آگئے۔ رولس بک کے اوراق کی جگہ ادب کی کتابیں کھُل گئیں ۔ دفتری ڈرافٹنگ کی جگہ تخلیقی مسودے قلم بند ہونے لگے۔قصّہ مختصر یہ کہ سبکدوشی کے بعد بھی وہ راکھ نہیں ہوا بلکہ اس کے سینے کی آگ اور بھی شرر فشاں ہوگئی اور یہ آگ ایک عالم کو گرمانے لگی ۔


دفتری کرسی سے اترجانے کے بعد بھی اگر کسی کے پاس کچھ لوگ بیٹھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس آدمی کی شخصیت میں کوئی جادو ہے جو لوگوں کو اس حد تک مسحور کردیتا ہے کہ بے ضرر اور بے مایہ ہوجانے کے باوجود لوگ اس سے الگ ہونا نہیں چاہتے یا پھر اس کے پاس مادّی دولت کے علاوہ کوئی ایسی دولت موجود ہے جس کی لوگوں کو ضرورت ہے۔ یعنی اس کے پاس کوئی ایسی شے ہے جو روح کو تازگی، ذہن کو بالیدگی اور حواس کو آسود گی بخشتی ہے۔ یقینا اس شخص کے پاس بھی ایسا ضرور کچھ ہے جو اس کی نازک مزاجی اور افسر شاہی طبیعت کے باوجود لوگ اس کے پاس جانا اور اس کے قریب بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ دراصل اس کے پاس وہ شے ہے جو تشنہ گانِ علم کی پیاس بجھاتی ہے ۔مضطرب ذہنوں کو مطمئن کرتی ہے۔ لاینحل سوالوں کے جواب فراہم کرتی ہے۔ پیچیدہ مسئلوں کا حل پیش کرتی ہے۔ترسیل و ابلاغ کی الجھنوں کو سلجھاتی ہے۔ابہام سے پردے اٹھاتی ہے۔افہام و تفہیم کے نئے دریچے واکرتی ہے۔ بیان و بدیع کی باریکیاں بتاتی ہے ۔ صوت کی صورت گری کرتی ہے۔ آہنگ کو شکل دیتی ہے۔
یہ ایسا اندازہے جس نے اس کے قلم کے ساتھ ساتھ اس کے دل ، دماغ ،جسم، آنکھ ،کان،زبان سب کو جوان رکھا۔ یہ اسی اندازِ رہائش کا کرشمہ ہے کہ اسّی سال سے اوپر کے ہوجانے کے باوجود اس کے قلم کی گردش نہیں رکی۔ اس کی تقریروں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ۔اس کی نکتہ آفرینیوں کی نوکیں کند نہیں ہوئیں ۔ اس کی سخن سنجیاں جاری رہیں۔ یہاں تک کہ اس کی ادبی چشمکیں بھی برقرار ہیں۔ یہ ایسا رنگ ہے کہ اس سے مس ہوجائے تو بہتوں کا بوڑھا پا سنور جائے۔بے معنی زندگی کو بھی معنی مل جائے۔ راکھ میں بھی چنگاری سلگ جائے۔


اچھے اور بڑے نقاد کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ جس زبان کا نقاد ہے ، اس زبان میں چھپنے والی ہر ادبی تحریر پر اس کی نگاہ پڑے اور اس پر وہ اپنا ردِّ عمل بھی ظاہر کرے ۔ یہ کام مشکل ہے مگر وہ شخص جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے، یہ مشکل کام بھی کرتا ہے۔اپنی زبان میں چھپنے والی کوئی بھی کتاب ایسی نہیں جو اس کے پاس پہنچی ہو اور اس نے اس پر اپنی رائے ظاہر نہ کی ہو۔ میں نے اپنی جتنی کتابیں اس کے پاس بھیجیں اس نے نہ صرف یہ کہ وہ تمام کتابیں پڑھیں بلکہ ان پر اپنی رائے بھی ظاہر کی۔ کتابیں پڑھنا وہ بھی وافر تعداد میں اور ایسی جن میں سے بیشتر دلچسپی سے خالی بھی ہوں، جوئے شیرلانے سے کم دشوار کام نہیں مگر وہ شخص علم و ادب کا پہاڑ کا ٹ کر جوئے شیرلاتا ہے۔ اس کام میں کتنا خون جلتا ہے اور دماغ کی نسیں کس طرح پھٹتی ہیں، یہ وہی محسوس کرسکتا ہے جو کتب بینی کے عمل سے گزرتا ہے ۔وہ صرف پڑھتا ہی نہیں کتابوں کو پیتا بھی ہے اور ان کا ست نچوڑ کر دوسروں کو پلاتا بھی ہے۔ وہ اپنے ا س کام میں حد درجہ ایمان داری اوردیانت داری برتتا ہے۔ اس کی رائیں جو اکثر پوسٹ کارڈ یا انتر دیسی پتر پر درج ہوتی ہیں ایسی بامعنی،وقیع اور قیمتی ہوتی ہیں کہ لوگ انھیں اپنی فائلوں میں اس طرح سینت کر رکھتے ہیں جس طرح عورتیں اپنے بیش قیمت زیورات صندوقوں میں سنبھال کر رکھتی ہیں۔ میری بعض کتابوں پر اس کی لکھی ہوئی رائیں مجھ سے کھوگئیں جن کا مجھے بے حد رنج ہے ۔ مجھ پر یہ رنج اس طرح طاری ہوا جس طرح قیمتی چیزوں کے گم ہوجانے پر ہوتاہے ۔


اپنی جڑوں سے جڑے رہنے والے کے چہرے پر جورنگ دمکتا ہے وہ رنگ اس شخص کے چہرے پر بھی رقص کرتا ہے۔ اس کا یہ رنگ بھی دامنِ دل کو کھینچتا ہے کہ یہ ایسا رنگ ہے جو بیشتر چہروں سے مٹتا اور معدوم ہوتا جارہا ہے ۔اس کے چہرے پر سبز و سرخ رنگ اس حقیقت کے غماز ہیں کہ اس کے تہذیبی سمندر میں کیسے کیسے زمرداوریاقوت چھپے ہوئے ہیں او ر یہ کہ اسے اپنی تہذیب کے رنگ کس حد تک پیار ے ہیں؟


یہ اسی تہذیب کا ایک رنگ ہے کہ وہ انسانی رشتوں کو استوار رکھتا ہے۔میرے والد کے انتقال کی خبر اخبار میں چھپی تو بیشتر میرے متعلقین نے وہ خبر پڑھی مگر میرے پاس تعزیت کا صرف ایک خط آیا اور وہ خط اس شخص کا تھا۔ اس خط میں اس نے نہ صرف یہ کہ اظہارِ افسوس کیا بلکہ ایصال و ثواب کی مجھے صورتیں بھی بتائیں۔ مجھ سے تو اس کا رشتہ ادب کا تھا مگر میرے والد سے اس کا کیا رشتہ تھا؟پھر بھی اس نے ان کے لیے، ان کی مغفرت کے لیے سوچا اور صرف سوچاہی نہیں مجھے تاکیدکی کہ میں مغفرت کے لیے کیاکیا کروں؟ یہ وہ قدریں ہیں جن سے انسانیت زندہ ہے۔ جو ان قدروں کی قدر کرتا ہے وہ کیسے کسی کو اچھا نہیں لگے گا؟یہ رنگ کیوں کر آنکھوں کونہیں بھائے گا؟یہ وہ رنگ ہے جو رشتوں کی رگوں میں خون دوڑاتا ہے ، جذبوں کو حرارت پہنچاتا ہے اورمحبتوں کو مرنے نہیں دیتا ۔
عام طورپر تعریف منہ پر کی جاتی ہے اور خامیاں پیٹھ پیچھے بیان کی جاتی ہیں مگر وہ شخص خامیاں بھی اسی طرح منہ پر گنواتا ہے جس طرح خوبیوں کا بکھان کرتا ہے ۔ اس کا یہ بے باکانہ عمل بہتو ںکو اچھا نہیں لگتا مگر جو لوگ اس بے باک طرزِ اظہار کی معنویت اور افادیت کو سمجھتے ہیں ، وہ بالکل برا نہیں مانتے بلکہ اس عمل کی قدر کرتے ہیں کہ اس کا یہ عمل مغالطے کی لعنتوں اور خوش فہمیوں کے کرب سے بچالیتا ہے۔ یہ فنکار کودوبارہ سوچنے کا موقع دیتا ہے جس سے وقت رہتے بھول کی سدھار ہوجاتی ہے اور کمزور تحریر بھی بہتربن جاتی ہے یا کم سے کم بہتر بننے کے عمل سے گزرنے لگتی ہے۔ اس کا یہ عمل بے شک کبھی کبھی جا ر حانہ لگتا ہے مگر صاحبِ تخلیق کے حق میں اکثر مصیحانہ ثابت ہوتا ہے ۔
اس کے اس بے باکانہ عمل کے درجنوں واقعات ہیں مگر میں صرف ایک واقعہ سناؤں گا۔ وہ بھی اس لیے کہ اس کے اس عمل کی دبازت کا اندازہ ہوسکے اور اس حقیقت کا احساس بھی کہ سچ بولنے والا حضرتِ یزداں میں بھی چُپ نہیں رہ پاتا۔علی گڑھ مسلم یوینورسٹی میں یونیورسٹی کے پہلے رجسٹرار سجّاد حیدر یلدرم کی یاد میں ایک سمینار ہورہاتھا۔اس سمینار میں وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ کے ممبران کے ہمراہ یلدرم کے اعزّا جن میں قرة العین حیدر بھی شامل تھیں، تشریف فرما تھے۔کلیدی ؒخطبہ پڑھتے ہوئے اس شخص نے فرمایا : ”یلدرم چوتھے درجے کے ادیب تھے“۔ یہ ایسا جملہ تھا کہ جس کے سنتے ہی محفل پر سنّاٹا چھاگیا ۔ بعض چہروں کے رنگ متغیّر ہوگئے۔صفحوں میں چے می گوئیاں شروع ہوگئیں مگر وہ محفل کی صورتِ حال کی پرواہ کیے بغیر اپنے اس جملے کی تشریح کرتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ اگر کوئی دوسرا ہوتا تو یقینا عینی آپا کا خیال رکھتا اور ان کے سامنے یہ جملہ نہیں بولتایا کم سے کم اس وقت اُسے حذف کردیتا یا اس بات کو کسی اور طرح سے بیان کردیتا مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے جو سمجھا اور یلدرم کے ادبی قد کے بارے میں جو کچھ محسوس کیا بنا کسی لاگ لپیٹ کے صاف صاف کہہ دیا۔ اسے یہ بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ یا دقّت اس لیے نہیں ہوئی کہ اس کے مزاجِ بے ریامیں مصلحت یا منافقت کا کوئی خانہ موجود نہیں۔


بلاشبہہ وہ بڑا عالم ہے اور اتنا پڑھ رکھا ہے جتنا کہ عالموں کا ایک عالم بھی نہیں پڑھ پاتا اور پڑھا بھی اس طرح جس طرح نامہ ¿ محبوب پڑھا جاتا ہے ، خشوع خضوع، محبت ، عقیدت ، احترام ، تجسس ،انہماک، استغراق اور رموزِ اوقاف کے ساتھ۔ ایسے انہماک و استغراق کے ساتھ کہ آنکھوں میں جو لفظ آیا ذہن و دل پر نقش ہوگیا اور نقش بھی اس طرح کہ پسِ نوشت کا نقشہ بھی ابھر آیا ۔ اس کی تحریریں بتاتی ہیں کہ وہ بین السطور کو بھی پڑھتا ہے اور کورے حاشیوں کو بھی اور وہاں سے بھی معنی و مفہوم کے موتی نکال لاتا ہے۔ مختلف موضوعات و اصناف کو محیط اس کی نگار شات اس حقیقت کی بھی غمّازی کرتی ہیں کہ اپنی زبان کی شاید ہی ایسی کوئی تحریر ہو جو اس کے دائرہء نگاہ میں نہ آئی ہو۔ مگر عجیب بات ہے کہ ذہن میں ذخیرہ ¿ علم اور عالمانہ لفظیات کی بہتا ت کے باوجود اس کی تحریریں علمیت یا علمی اصطلاحوں سے بوجھل نہیں ہوتیں۔ یہ اس کے اس طریقہء کار کا کمال ہے جس میں منطق کے منتر پڑھے جاتے ہیں اور اس منتر کی پھونک سے لفظ و معنی کی گرہیں سرک جاتی ہیں ، گانٹھیں کھُل جاتی ہیں اور گھتیاں سلجھ جاتی ہیں۔ جس میں استدلال کی ایسی جادوئی چھڑی گھمائی جاتی ہے جس کے لمس سے ثقالت موم کی طرح پگھل جاتی ہے۔ اظہار و ابلاغ ،آسان ، سہج ، رواں اور قابلِ فہم ہوجاتا ہے۔ ایہام و ابہام والے افکار بھی سہیلِ ممتنع میں بدل جاتے ہیں۔ ہماری زبان میں یہ اندازِ نظر بہت کم لوگوں کو نصیب ہوا ہے۔


زبان کا پکّا تو وہ بہت ہے اور ایسا پکّا کہ اس کی تحریریں تو سند بنتی ہی ہیں تقریریں بھی استناد کا درجہ حاصل کرلیتی ہیں۔ زبان کاوہ ایسا پکا ہے کہ اس نے جس کے ساتھ بھی پیمان باندھا ، پورا کیا۔ زبان سے، بیان سے، بدیع سے، معانی سے ،عروض سے، داستان سے، ناول سے، افسانے سے، غزل سے، نظم سے، رباعی سے ، تنقید سے، تحقیق سے، تقریظ سے ، تشریح سے، تجز یے سے، تبصرے سے، تدوین سے،تاریخ سے، تہذیب سے، فرہنگ سے، میر سے، غالب سے، اقبال سے، داغ سے ، فیض سے، فراق سے ، خلیل سے، شہریار سے یا جس سے بھی وعدہ کیا ، نبھایا، مگر وہ زبان کا جتنا پکّا ہے اتنا ہی کان کا کچّا بھی ہے ۔ اتنا کچّا کہ کان میں کوئی بات داخل ہوئی نہیں کہ کھلبلی مچ گئی۔آن کی آن میں موم پگھل گیا۔ لویں گرم ہو اُٹھیں۔ایسا شدید ردِّ عمل ہوا کہ منہ سے گالیاں تک نکلنے لگیں۔اس شدید اور فوری ردِّ عمل کی وجہ اس کی زود حسی ہوسکتی ہے یا پھر اس کا وہ معصومانہ مزاج جو ایک ایک کو سچّا سمجھتا ہے اور کسی پر بھی آنکھ بند کرکے یقین کرلیتا ہے۔بہر حال اس کے ہونٹوں سے نکلی ہوئی گالیاں بری نہیں لگتیں۔ لوگ اس کی گالیاں سن کر بدمزہ نہیں ہوتے بلکہ مزے لیتے ہیں۔ کچھ لو گ تو مزے لینے کے لیے اس کے کان میں کچھ نہ کچھ ڈالتے بھی رہتے ہیں۔اس لیے کہ ردِّ عمل میں نکلنے والی گالیاں برجستہ شعروں اور برمحل ادبی فقروں سے کم پرلطف نہیں ہوتیں ۔ دراصل اس کے دشنام لذیذ پکوانوں کی طرح چٹپٹے اور مزے دار ہوتے ہیں۔جی چاہتا ہے کہ گالیوں کے پکوان پکتے رہیں اور کانوں میں مزہ گھُلتا رہے ۔ یہاں لب کے شیریں ہونے کی بات نہیں ہے بلکہ گالیوں کی مٹھاس کی بات ہے۔اس کی گالیاں سنتے وقت کبھی کبھی تو جی چاہتا ہے کہ واہ واہ! مرحبا !کے ساتھ ساتھ مکررارشاد! بھی کہا جائے مگر حدِّ ادب اس کی اجازت نہیں دیتی ۔اس کی گالیاں اس لیے بھی اچھّی لگتی ہیں کہ وہ دلچسپ اور پُر لطف ہونے کے ساتھ ساتھ بے ضرر بھی ہوتی ہیں اور بعض تو ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں شخصیتوں کی شبیہ بھی اُبھر آتی ہے۔
بہت سے لوگ بڑے بن جانے کے بعد آدمی نہیں رہ پاتے۔ یا تو وہ آدمی کے زون سے نکل جاتے ہیں یا اپنے آدمی کو دبادباکر مارڈالتے ہیں مگر اس شخص نے بڑے ہوجانے کے بعد بھی اپنے آدمی کو زندہ رکھا ۔ اسے مرنے نہیں دیا۔ اس کے اندر کے زندہ آدمی کے قصّے تو بہت ہیں مگر میں یہاں صرف ایک قصّے پر اکتفاکروں گا کہ اختصار میرے خاکے کی مجبوری بھی ہے۔ ایک بار میں اپنے ایک سمینار کے لیے اس شخص کے پاس یہ خواست لے کر گیا کہ وہ افتتاحی جلسے میں مہمانِ خصوصی بننے کی رضا مندی دے دے ۔ میری درخواست سن کر اُس نے خود میرے سامنے ایک درخواست پیش کردی :غضنفر ! میں نے مانا کہ مہمانِ خصوصی کامرتبہ بڑا ہوتا ہے مگر اس بار میں تمھارے پروگرام میں صدر بننا چاہتا ہوںاور یہ بھی چاہتا ہوں کہ تم جسے صدر بنانا چاہتے ہو اُسے مہمانِ خصوصی بنادو۔ سبب پوچھنے پر جواب ملا:” ایک پُرانا حساب چُکانا ہے“ ۔ میں حیران ہوا تو وہ خود ہی تفصیل بتانے لگا : دراصل یہاں کی ہر محفل میں اپنی طبعی بزرگی کے سبب وہ شخص ہی صدارت فرماتا ہے اور اپنی صدارت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اکثر اپنی یا وا گوئی اور طنزو تعریض کی کمان میری طرف تان دیتا ہے۔صدر کے بعد بولنا چوں کہ آدابِ محفل کے خلاف ہے اس لیے میں تیر کھاکر بھی چپ رہ جاتا ہوں۔ اس بار چاہتاہوں کہ تیر میں چلاؤں اور سارا تر کش اس پر خالی کردوں ۔


اس بڑے آدمی میں عام آدمیوں والا یہ عمل کسی کو اچھّا لگے یا نہ لگے مجھے تو بہت اچھا لگتا ہے کہ اپنے اس عمل سے آسمان پر پہنچا ہوا آدمی بھی زمین پر نظر آتا ہے اور اپنا کوئی سنگی ساتھی محسو س ہوتا ہے۔ اس بات کو میں یوں بھی کہہ سکتا ہوں کہ اس کا یہ عمل شمس کو عرش سے فرش پر اُتار کر فاروقی بنادیتا ہے

شیئر کریں

کمنٹ کریں