منشی پریم چند کا شاہکار افسانہ کفن کا تجزیہ

مضمون نگار : ڈاکٹر کہکشاں عرفان ، الہ آباد
lafznamaweb@gmail.com

کفن, منشی پریم چند کا شاہکار افسانہ کفن کا تجزیہ

اردو افسانے کی ابتدا انیسویں صدی کے آغاز میں واشنگٹن ارون کے قلم سے امریکہ میں ہوئی۔واشنگٹن ارون کا پہلا افسانہ “اسکیچ بک ” کہا جاتا ہے۔ ارون کے مطابق افسانہ پڑھ کر قاری کے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے اور یہی مختصر افسانہ کی پہچان ہے۔ارون کے بعد نیتھنیل ہاتھارن نے افسانہ کو آگے بڑھایا اور حسن بیان اور صناعی کو اہمیت دی ۔اس کے بعد ایڈ گرایلن پو نے افسانہ کو اور فروغ دیا ۔ایڈ گرایلن پو کے مطابق افسانے کو ایک نشست میں ختم ہوجانا چاہیے، اس میں وحدت تاثر بھی ہونا چاہیے، آغاز تا انجام لہجہ میں ہم آہنگی ہونی چاہیے،افسانہ کے بیان کی بنیاد اصلیت پر ہونی چاہیے افسانہ میں ندرت اور جا معیت بھی ہونی چاہیے ۔پو کے بعد مغرب و مشرق میں افسانہ نگاری کا چلن عام ہوگیا اور اس صنف کو خوب مقبولیت حاصل ہوئ۔فرانس ، روس، امریک،اور انگلستان میں بڑے بڑے افسانہ نگار پیدا ہوے۔جن میں ڈکنس،اسٹونسن،اناطول فرانس، چیخوف اور موپاساں کے نام قابل ذکر ہیں ۔


اردو میں مختصر افسانے کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی سے ہوتا ہے اور اردو کے اولین افسانہ نگاروں میں سب سے اہم نام دھنپت راے عرف منشی پریم چند کا ہے ۔
پریم چند کی افسانہ نگاری اور ان کے افسانوں سے ابتدائی تعلیم سے اعلی تعلیم تک طالب علموں کا واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ عید گاہ، دوبیل،سوتیلی ماں، گلی ڈنڈا، سواسیر گیہوں، پوس کی رات، منتر، نمک کا داروغہ ، بوڑھی کاکی ،بڑے گھر کی بیٹی ، نجات ،کفن وغیرہ وغیرہ مشہور کہانیاں اور افسانے ہیں جنہیں طلباء کسی نہ کسی درجہ کے نصاب میں پڑھتے ضرور ہیں ۔


پریم چند ہندوستان کے ایسے ادیب ہیں جنہیں ادب کی دنیا میں خواہ اردو کی ہو ، ہندی کی ہو یا انگریزی کی ہو ان کی کہانیاں بہت مقبول ہیں ۔وہ ہندوستانی روایتوں کے پاس دار ، غریبوں، مزدوروں اور کسانوں اور سماج کے ہر بشر خواہ وہ بچہ ہو بوڑھا ہو ، مرد ہو، عورت ہو ، امیر ہو یا غریب کسان ہو یا ساہو کار سہاگن ہو یا بیوہ ، بیوی ہو یا بیٹی سب کو اپنے افسانوں کا مرکزی کردار بنانے والے عظیم فکشن نگار ہیں ۔پریم چند کے بیٹے امرت رات نے انہیں” قلم کا سپاہی ” کہا ہے اور پرو فیسر جعفر رضا نے انہیں ” کہانی کا رہنما ” بتایا ہے۔
پریم چند کا پہلا افسانہ “انمول رتن ” ہے جو پہلی مرتبہ رسالہ “زمانہ ” کانپور میں شایع ہوا ۔اور پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ” سوز وطن” ہے ۔پریم چند کے تقریبا بارہ یا تیرہ افسانوی مجموعے شائع ہوے ۔آخری مجموعہ” واردات “ہے جو 1934میں شائع ہو کر منظر عام پر آیا اس مجموعے میں شامل تمام کہانیاں اپنی مثال آپ ہیں ۔کفن ہو یا بڑے گھر کی بیٹی یا پوس کی رات تمام کہانیاں اپنے فن میں یکتا اور وحدت تاثر میں فن کمال کو پہنچی ہوئی ہیں ۔یہ کہانیاں صرف حقیقی، معاشرتی اور عصری حسیت کی غماز ہی نہیں معاشرے کے اندر بڑے عمیق مشاہدہ کا پرتو ہیں ۔ کردار نگاری،جذبات نگاری، جزیات نگاری اورمکالمہ نگاری جیسے تمام عناصر کے سابقہ چلن کا رخ پریم چند نے موڑ دیا ۔جس ادب کے حسن کا معیار کو تبدیل کرنے کا اعلان پریم چند نے 1936 میں ترقی پسند تحریک کے پہلے اجلاس میں کیا تھا ڈر اصل انہوں نے ادب کے حسن کے معیار کو بہت پہلے تبدیل کرنا شروع کر دیا تھا۔معاشرے کی تلخ حقیقتوں سے پردہ اٹھانا شروع کر دیا تھا۔عشق اور حسن کے سحر کے بجائے سماج کے عیوب اور خامیوں کو دکھانا شروع کیا اور کفن اس کا بہترین نمونہ ہے۔ جس کا پلاٹ مفلسی اور مفلسی سے پیدا تشنہ کامی دل کے اندر دبی ہوئ خواہشات انسان کو کس حد تک بے حس اور خود غرض بنا دیتی ہے اس کی مثال کے طور پر کفن سے بہتر افسانہ ابھی تک تخلیق نہیں کیا جا سکا۔


کفن پریم چند کی حیات کے آخری دنوں کا تحریر کردہ ایک مشہور افسانہ ہے حالانکہ اس سے بہتر اور عمدہ افسانوں کی کمی نہیں ہے پریم چند کے پاس مگر اس افسانے کا پلاٹ غریبی افلاس، پیٹ کی آگ ، جہالت ، توہم پرستی ، اور بے حسی کے کھردرے واقعے سے تیار کیا گیا ہے ۔ ایک عورت بدھیا جو پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتی ہے ایک کام چور سسر جس کا نام گھیسو ہے اس کی بہو ہے اور ایک غیر ذمہ دار محنت سے جان چرانے والے انسان مادھو کی بیوی ہے۔یہ تینوں ہی اس افسانے کے مرکزی کردار ہیں ان تینوں کرداروں کے حالات ان کے مسائل ان کے جذبات ان کی غریبی اور اس غریبی کی کو کھ سے جنمی بے حسی کے تکلیف دہ واقعات و خیالات اس افسانے کا پلاٹ تیار کیا گیا ہے ۔اس افسانے کی زبان اور ان کے الفاظ اور تلفظ بھی کرداروں کے مطابق ہی استعمال کئے گئے ہیں ۔اس کہانی کا چوتھا کردار جو اس دنیا میں آنے والا تھا مگر غربت ، جہالت، بے حسی نے ایک بچے کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی مار دیا۔کفن کے آغاز کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں ۔


“جھونپڑےکے دروازے پر باپ اور بیٹا بیٹا دونوں ایک بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے ہوے تھے اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا درد زہ سے پچھاڑیں کھا رہی تھی ،اور رہ رہ کر اس کے مجھ سے ایسی دل خراش صدا نکلتی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے ۔جاڑوں کی رات تھی ، سارا گاؤں تاریک میں جذب جذب ہوگیا تھا۔”
گھیسو نے کہا ” معلوم ہوتا ہے بچے گی نہیں ۔سارا دن تڑپتے ہوگیا، جا دیکھ توآ۔”
مادھو نے کہا ” مرنا ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی۔دیکھ کر کیا کروں؟”
اس اقتباس کو پڑھ کر صرف مادھو اور گھیراو کی بے حسی نہیں نظر آتی بلکہ گاؤں محلہ برادری یا پڑوسیوں کی بھی بے حسی اور لا تعلقی بھی نظر آتی ہے جب کہ انسان سماجی و معاشرتی جاندار ہے ۔ انسانیت مفقود نظر آتی ہے ۔اور بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں ۔کیا وہاں اس گاؤں میں کوئی اور عورت نہیں تھی؟ کوئی اور گھر نہیں تھا جو بدھیا کو ایسی حالت میں تسلی دیتا ؟ یا اس کو سہارا دیتا کیا اس گاؤں میں کسی کے یہاں بچہ پیدا نہیں ہوا تھا کہ لوگ اس درد کو محسوس کرتے ؟ کیا مادھو اور گھیسو کا کردار اتنا خراب تھا کہ کوئی بھی انسان بدھیا کے درد زہ میں بھی ہمدردی نہ کر تا؟ آخر کفن کے لئے جب باپ بیٹوں نے پیسے مانگے تو ولادت کے لئے مدد کیوں نہیں مانگی؟ کیا عورت کی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں؟ بچہ ماں کے شکم میں مرجاتاہے اور بدھیا بھی مفلسی، ناداری اور بے کسی کے عالم میں درد زہ سے تڑپ تڑپ کر مر جاتی ہے۔نہ اس کو دائی نصیب ہوتی ہے نہ کوئی گاؤں محلے پڑوس کی بزرگ زنانی جو اسے اس تکلیف میں حوصلہ دیتی اس کی مدد کرتی یہ بدھیا کا پہلا بچہ تھا نہ اسے درد کی شدت کا اندازہ تھا نہ زچگی کی تکلیف کا تجربہ ۔


کیا اگر مادھو یا گھیسو کسی درد میں تڑپ رہے ہوتے تو بدھیا انہیں یونہی اکیلا بے یار و مددگار تڑپ نے اور مرنے کے لئے چھوڑ دیتی ؟ کیا وہ باہر بیٹھی آلو بھون کر کھاتی رہتی اور ان کے مرنے کا انتظار کرتی ؟ ہر گز نہیں ہو سکتا ہے وہ ان کی جان بچانےکےلئے لوگوں سے مدد مانگتی ۔ یہ بے حسی صرف گھیسو اور مادھو کی نہیں بلکہ یہ ہمارے بے حس معاشرے کی مسخ شدہ صورت ہے جس کا چہرہ مادھو اور گھیسو ہیں اور یہ کہانی آئینہ ہے اس مفلوک الحال سماج کا جہاں عورتیں ایسے ہی بغیر علاج معالجے کے تڑپ تڑپ کر مر جاتی ہیں ۔بدھیا تو بے کسی اور بے بسی کا ایک ایسا کردار ہے جس کی بے بسی مردانہ سماج کی بے حسی کو بے نقاب کرتی ہے۔اور کفن کے پیسوں سے اچھے کھانے اور شراب پینے کا جو عمل ہے وہ اس لئے زندہ انسان کو پیٹ بھر کھانا اور تن پر ایک نیا جوڑا کپڑا نصیب نہ ہو اور مرنے کے بعد نیا کفن پہنایا جائے یہ طنز ہے سماج کے ایسے اصولوں پر یہ مار ہے غیر مساوی سماج کے اصولوں پر یہ طمانچہ ہے اس سماج کے چہرے پر جہاں بھوک اور افلاس انسان کو بے حس بنادیتے ہیں۔ اس افسانہ میں پریم چند نے جو منظر نگاری پیش کی ہے نہ صبح کے حسین مناظر ہیں برسات کا خوبصورت موسم نہ چلچلاتی دھوپ ہے نہ پھول نہ صحرا بلکہ دلتوں کی بستی ہے اور اس بستی میں ایک جھونپڑا ہے جس کے سامنے الاؤ جل رہا ہے مگر اس الاؤ کی آگ سرد ہو چکی ہے اور اس بجھے ہوے الاؤ کے مانند انسانیت بھی بجھ چکی ہے ۔اس افسانے میں بدھیا کی موت دراصل صرف بدھیا کی موت نہیں ہے بلکہ انسانیت اور احسا۔سات کی موت ہے ۔یہ صرف بدھیا کی بے بسی کی نہیں زیادہ تر خواتین کی بے بسی کی کہانی ہے اور مادھو اور گھیسو کی بے حسی پورے سماج میں پھیلی بے حسی کی کہانی ہے۔وہ دونوں باپ بیٹے ایک دن کام کرتے اور چار دن آرام کرتے ۔کام چور اتنے کہ گھنٹہ بھر کام اور گھنٹہ بھر چیلم پیتے۔اسی لئے لوگ انہیں کام دینے سے گریز کرتے وہ دونوں بھی اس قدر ڈھیٹ کہ جب تک اناج کا ایک مٹھی بھی اناج گھر میں ہوتا کام نہیں کرتے ۔جب ایک یا دو وقت افاقہ کشی ہوتی تو لڑکیاں توڑ کر بازار میں بیچ آتے یہی ان کا معمول تھا اور مادھو کی شادی کے بعد تو باپ بیٹے دونوں اور زیادہ کام چور اور حرام خور ہوگئے تھے ۔بدھیا پسائ کرکے گھاس چھیل کر کے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتی اور ان کام کوروکا پیٹ بھرتی اس وفا شعار ذمہ دار اور محنت کش عورت کو اس مردانہ سماج سے کیا صلہ ملا ؟ بدھیا کے شوہر اور سسر دونوں کتنے خود غرض ، بے حس اور بے درد تھے اس کا اندازہ پریم چند کے ان الفاظ سے ہوتا ہے ۔


” گھیسو نے آلو نکال کر چھیلتے ہوے کہا ” جا تو دیکھ تو کیا حالت ہے اس کی ؟
” چڑیل کا پھساد ہوگا اور کیا یہاں تو اوجھا بھی ایک روپیہ مانگتا ہے۔کس کے گھر سے آے ؟” مادھو کو اندیشہ تھا کہ وہ کوٹھری میں گیا تو گھیسو آلوؤں کا بڑا حصہ صاف کر دے گا ۔بولا مجھے وہاں وہاں ڈر لگتا ہے ۔”
مندرجہ بالا اقتباس میں بدھیا کی موت کے ذمہ دار مادھو اور گھیسو کی غریبی ، مفلسی ، بے حسی تو ہے ہی جہالت اور تو ہم پرستی بھی ہے۔ کیا غریبی اور مفلسی انسان کو اتنا بے حس بنا دیتی ہے کہ بیوی اور بہو جسے گھر کی کی لکچھمی کہا جاتا ہے گھر کی عزت کہا جاتا ہے ۔اردھانگنی کہا جاتا ہے وہ آدھا انگ یعنی نصف بہتر تڑپ تڑپ کر مر جاے شوہر کو درد کا احساس بھی نہ ہو ایک بیٹی باپ کے گھر سے وداع ہو کر سسرال کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اتنی ارزاں کیوں ہوجاتی ہے؟ وہ کام کی مشین یا کولہو کا بیل کیوں سمجھی جاتی ہے؟ عورت تو ہمیشہ وفا کرتی ہے وہ کسی امیر کی بیوی ہو یا غریب کی ۔مرد میں وفا کی کمی کیوں ہوتی ہے؟
رات گذر گئی اور بدھیا اور بدھیا کا بچہ بھی گذر گئے ۔ دونوں کفن اور میت کی کریا کرم کے لئے گاؤں والوں کے پاس پہنچے ۔دو آنے چار آ نے ایک روپئے دو روپئے روپئے گھنٹے بھر میں گھیسو کے پاس پانچ روپئے کی معقول رقم جمع ہوگئ ۔کسی نے غلہ دیا کسی نے نے لکڑی ۔لوگوں نے چندہ دیا ۔دونوں کفن کے لئے بازار پہنچ کر اچانک ان کی سوچ کیسے بدلتی ہے ؟ ملاحظ فرمائیں ۔”بازار پہنچ کرگھیسو بولا۔” لکڑی تو اسے جلانے بھر کو مل گئی ہے ۔اب کپھن چاہئے۔تو ہلکا سا کپھن لے لیں ۔” ہاں اور کیا لاش اٹھتے اٹھتے رات ہوجاے گی رات کو کپھن کون دیکھتا ہے؟ “کیسا برا رواج ہے کہ جسے جیتے جی تن ڈھانپنے کو چیتھڑا چیتھڑا بھی نہ ملے اسے مرنے پر نیا کپھن چاہئے ۔کپھن تو لاش کے ساتھ جل ہی تو جاتا ہے ۔” یہی پانچ روپئے ملتے تو کچھ دوا دارو کر تے ۔”


یہ المیہ ہے اس سماج کی تمام عورتوں کا ۔کیا آج کی عورت کے حالات بدل چکے ہیں ۔کیا اب کوئی بدھیا درد زہ میں تڑپ کر نہیں مرتی ؟ سچ تو یہ ہے کہ آزادی اور ترقی دونوں کے باوجود آج بھی ہمارا سماج نہی بدلا پریم چند دیہات اور دیہاتوں کے حالات اور غربت سے بخوبی واقف تھے اور ہندوستان کے سماج اور ترقی کی صورت حال دیکھنا ہو تو دیہاتوں کی طرف جائیں آج کچھ فیصد حالات بدلے ہیں صرف آٹے میں نمک کے برابر لوگوں کی حالت بدلی ہے غربت کے مارے لوگوں اور تو ہم پرستی کے شکنجے میں جکڑے لوگوں کے یہاں آج بھی مرض کا علاج کرنے کے بجائے جھاڑ پھونک دعا تعویز بابا اوجھا سے علاج کرایا جاتا ہے ۔اکیسویں صدی میں ہم داخل ہوچکے ہیں اور دو دہائیاں بھی پار کر چکے ہیں مگر ہندوستان کے دیہی علاقوں اور غریبوں مزدوروں اور کسانوں کے یہاں حالات ویسے ہی ہیں آج بھی ان کے جھونپڑوں کی حالت نہیں بدلی اور نہ ان عورتوں کی ۔مناسب دوا علاج کی کمی کے باعث مرنے والوں میں خواتین کی تعداد آج بھی ذیادہ ہے۔آج بھی عورتوں میں مناسب خوراک کی کمی کے باعث ہمیشہ جسم میں کیلشیم اور آئرن کی کمی ہوتی ہے ۔خون کی کمی سب سے زیادہ خواتین میں پائی جاتی ہے ۔کیوں ؟

شیئر کریں

کمنٹ کریں