کاغذی سرحد

افسانہ نگار : سلمان عبدالصمد
lafznamaweb@gmail.com

, کاغذی سرحد

سوتے سوتے آج پھر اکرام ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔چہرہ بلکہ بدن کے مختلف حصوں پر اس طرح انگلیاں پھیرنے لگا جیسے خاردار کیڑوں کو خود سے نوچ نوچ کر الگ کررہا ہو۔ حالاں کہ اس کے چہرے پر ایک بھی کیڑا نہیں رینگ رہا تھا۔ آج رات کئی مرتبہ وہ اسی کیفیت میں مبتلا ہوا۔ وقفے وقفے سے اس کی حالت بحال ہونے کو آتی رہی مگر اس بحالی میں بھی اسے سکون کہاں ملتا——-گویا سکینڈ کی سوئی کی طرح اکرام کے خیال کی سوئی، کسی خوف کی گھڑی میں سجے ہوئے نمبروں کوچھو کر گزر رہی ہو۔ کیوں کہ آج غنود گی کے عالم میں اس کے ذہنی پردے پر متعد د کردار ابھرے تھے۔


اس نے آج یہ بھی دیکھا تھا کہ اس کا بیٹا اصغر تیز رفتار قدموں سے سرحدکی طرف بے تکان بھا گ رہا ہے۔ موجودہ سرحد سے وہ نکل جانا چاہتا ہے۔ اسے وحشت ہورہی ہے۔ دنیا کے نقشے پر وہ اپنی جائے پناہ کہیں اور ڈھونڈنا چاہ رہا ہے مگر چند منٹوں میں ہی والد اکرام کی رواداریوں والی اونچائی سامنے آجاتی ہے۔اس لیے بیٹا استعجابی کیفیت کے ساتھ یکایک رک جاتا ہے اور اسی اونچائی کے آس پاس باپ بیٹے دونوں آمنے سامنے ہوجاتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکتے ہیں۔ پھر موجودہ ملک کے مستقبل کے آئینے میں اپنی اپنی تصویریں ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں جو بہت ڈراؤنی نظر آتی ہیں ——- دونوں خاردار مستقبل کو دیکھتے ہو ئے چونک پڑتے ہیں۔


چوں کہ اکرام تہذیبی اور رواداری کی سرحدوں میں ہی الجھا ہواہے۔ اس لیے سرحد لانگھنے کی دوڑ میں وہ اپنے بیٹے کا ساتھ نہیں دے پارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نفرت آمیز ”ہونہہ“ کی ایک آواز نکالتے ہوئے خواب میں بیٹا اپنے باپ سے منہ پھیر لیتا ہے اور خود ہی سرحدلانگھنے کی رفتار تیز کردیتا ہے۔بیٹے کی یہ ”ہونہہ“ اکرام کو دل خراش گزرتی ہے——- پہلی نسل سے دوسری نسل کی بیزاری سے وہ مچل اٹھتا ہے اور کپکپاتی انگلیوں سے اپنا چہرا صاف کرنے لگتا ہے۔


کہاجاتا ہے کوئی مسلسل کئی رات سو نہ پائے تو وہ سولی پر بھی سوسکتا ہے ——- اکرام اپنی پہلی اولاد اصغر کے علاج کی وجہ سے کئی رات سو نہ سکا تھا، اس لیے آج وہ تنہا اپنی عالی شان عمارت کے کسی بیڈ روم میں سونے کی کوشش کررہا تھا، مگر ناکام ہی تھا——- پھر آج کے خواب نے اسے مزید پریشان کردیا تھا۔ کبھی بیٹا آمنے سامنے ہے تو کبھی بیوی کی حوصلہ شکن تدبیریں اس کی آنکھوں میں چبھنے لگتی ہیں۔


اکرام نے ایسے خواب پہلے بھی دیکھے تھے، مگر آج کچھ زیادہ ہی خوف ناک انداز میں ——- آج کے خواب کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ کچھ نعرے لگانے والے اس کے خیالوں میں ابھر رہے تھے۔ نعروں میں ——کاغذ نہیں دکھائیں گے۔ ہم حصے دار ہیں، کرایے دار نہیں ——- جیسے بے شمار جملے گونج رہے تھے۔ ان سب کے علاوہ ایک سین یہ بھی ابھررہا تھا کہ اصغر کی پیدائش سے پہلے الماشیہ حاملہ ہوئی تھی۔ ٹیوی کے ڈراؤ نے نعروں سے وہ خوف کھاتی تھی۔ مظاہروں سے اٹھنے والے نعروں سے اس کی کیفیت عجیب وغریب ہو جاتی تھی۔ اس لیے وہ اپنے شوہر کے ہاتھوں سے ریمورٹ چھین چھین کر اسکرین بند کردیا کرتی تھی——-


اکرام اسی خواب آور فضا میں تھا اور نیند کی دیوی حسین نظر آنے والے اس کے مکان میں ٹھہر نے کو تیار نہیں۔ یہاں تک کہ ہریالی کااحساس پیدا کرنے کے لیے اکرام نے خاص طور سے اپنے اس روم کو ہرے ہرے سامانِ تعیش سے سجا دیاتھا ——- پنکھے کی پنکھڑیاں ہری، گداز بیڈ کے برابر میں رکھیں دونوں آرام کرسیوں پر ہرا غلاف،مضبوط پلائی اور سن مائکے سے بنی اسٹول پر ہرا ریسیور اور اسٹول کے نیچے ہری ہری ایرانی قالین——-نرم نرم میٹریس سے ملاپ کے بعد اس نے نیند کی چند بوندیں حاصل کرلی تھیں، مگر جلد ہی خواب نے ان بوندوں میں زہر گھول دیا تھا۔ اس لیے اس کی نسوں میں سرسراہٹ دوڑ گئی——-


جب بھی وہ سونے کی کوشش کرتا، نسوں میں دوڑنے والی سرسراہٹیں الارم کی طرح اسے متنبہ کرتی رہتیں اور بابِ نیند میں داخل ہونے روکتیں۔ حالاں کہ آج چند گھنٹوں کی نیند کے ساتھ وہ تازہ دم ہونا چاہتا تھا، تاکہ وہ صبح صبح نئے ڈاکٹر کے پاس ایک اعتماد کے ساتھ پہنچے۔
ڈیڑھ دو برس میں یہ کوئی تیسرے ڈاکٹرتھے جن کے پاس آج اکرام اپنے بیٹے کو لے جارہا تھا——- اس کی آنکھوں کے پپوٹوں پر منوں نیند کا بوجھ تھا۔ وہ بھاری قدموں سے کار میں آکر بیٹھاجس میں ماں الماشیہ اصغر کو اپنی گود میں لیے بیٹھی تھی——-ڈاکٹر نے گھنٹہ بھر اپنے کیبن میں اصغر کا معائنہ کیااور صرف اتنا ہی کہہ سکا ”——- مرض تو دنیا میں اب کوئی شاید لاعلاج نہیں رہا، مگر اصغر کا کیس کچھ الگ ہے، اس لیے ابھی کچھ کہہ پانا مشکل ہے——-“


یہ سن کر اصغر کی امی کی آس ٹوننے لگی۔ خود اکرام بھی سناٹے میں آگیا۔ کیوں کہ کئی ماہر ڈاکٹروں نے اسے اس ڈاکٹر کا مشورہ دیا تھا۔ نفسیاتی علاج کے ضمن میں اس کی مہارت کے کئی قصے سنائے گئے لیکن ڈاکٹر ہریش جیسے ماہر نے بھی اصغر کے مرض کے متعلق ایک حد تک جواب دے دیا۔ساتھ ہی اس نے بھی پرانی بات کو نئے انداز میں دہرایا ”——- کچھ ہے جو اس کے دماغ میں پیوست ہے۔ اس کی عمر ہی کیا ہوئی۔ اور باتوں باتوں میں آپ لوگوں سے، آپ کے گھرانے کے متعلق جو جان سکا،اس سے اندازہ ہوتاہے کہ بچے کو کوئی گہرا صدمہ بھی نہیں پہنچا ہوگا۔ لیکن کچھ تو ہے جو اس کے اندرون میں پیوست ہے ——-“ پھر ڈاکٹر ہریش نے گمبھیر لہجے میں کہا”اس کیس پر سنجیدیدگی سے غور کروں گا، ملتے رہیے——-“


واپسی میں اکرام اب اور زیادہ خائف تھا۔ ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر خیالوں میں ڈوبا تھا۔ بدن میں سنسناہٹ دوڑ رہی تھی۔ کار میں خموشی کا راج ——-اصغر آنکھیں ٹیڑھی کرکے باہر جھانک رہا تھااور اس کی ماں الماشیہ خائف تھی۔اکرام کے ذہن پر رات کا خواب سوار تھا….بیٹے سے ٹکراؤ، سرحد لانگھنے کی کوشش، نعروں کی گونج،بیوی کا ریموٹ چھین لینا….ساتھ ہی ڈاکٹر ہریش کی تازہ تازہ باتیں… آج کے خواب کی باتوں نے اس کے ہونٹوں پر بھاری پتھر رکھ دئے تھے۔ اس لیے کچھ بولنے کی خواہش کے باوجود اس میں بولنے کی ہمت نہیں تھی۔
ڈاکٹر ہریش نے کہا تھا کہ ملتے رہیے۔ اس لیے اکرام نے پہلی ملاقات کے بعد کئی دفعہ ملنے کی کوشش بھی کی، مگر ڈاکٹر نے ”کچھ دن بعد، کچھ دن بعد“ کہہ کر ملنے کا فوری موقع نہیں دیا، مگر انھوں نے صاف انکار بھی نہیں کیا۔


ڈاکٹر سے ملاقات کی امید کے سہارے وقت گزرتا رہا۔
چوں کہ اکرام ایک تہذیبی رنگارنگ ملک کا باشندہ تھا،اس لیے اس کے بیٹے اصغر کی عیادت کے لیے مختلف افراد آئے اور انھوں نے اس کی شفایابی کے متعلق مختلف مشورے بھی دئے۔ گویا ڈاکٹر اپنی جگہ، مگر ہمیں کچھ اور بھی کرنا چاہیے۔ نہ چاہ کر اکرام نے ان میں سے چند مشوروں پر عمل کرنے کی کوشش۔ یہی وجہ تھی کہ جھاڑ پھونک والوں کے درباروں میں بچے کو پیش کیا گیا۔ دور دراز علاقے میں واقع مزار پر رہنے والے ایک مجاور نے جلالی انداز میں کہا:
”——-دن بھر چڑھائی گئی چادریں جب رات کے سناٹوں میں اتاری جاتی ہیں تو روحانی خلوتوں کا الگ ہی جمال ہوتا ہے۔ بقعہئ نورروشن ہو جاتا ہے۔ مزار پر نورانیت بکھری ہوتی ہے۔ ایسے شفاف اور للہائی مزار پر کروڑوں مرتبہ چٹکیاں بھری جائیں تو بہ مشکل تمام چٹکی بھر خاک ہا تھ آئے۔ اس خاک کی عظمت وبرکت مت پوچھئے… اس ابدالی جتن کے بعد شفایابی لازمی، مرض جیسا بھی ہو ——-“
اکرام اور ان کے ساتھی مذکورہ جملے ادا کرنے والے مجاور کو بغیر پلک جھپکائے دیکھے جارہے تھے۔ سب کے سب جیسے ساکت وجامد تھے۔ ہمہ تن گوش تھے۔ گویا کسی آسمانی آواز کو اپنے اندر سمیٹ لینے کوشش کررہے ہوں۔ بیان کے بعد مجاور اکرام کے ہونٹوں کے ہلنے کا منتظر تھے، مگراس وقت ہونٹ ہلانے کے بجائے اس نے فقط اپنا سر ہلا دیا۔


دیر رات گئے اکرام کے پاس کئی مرتبہ مجاور کی کال آتی رہی۔ انھوں نے اپنی عملیات کا خوش الحانی سے تذکرہ کیا۔ اکرام کو محسوس ہونے لگا کہ چٹکیوں کے مراقبے میں بیٹھنے والے مجاور”دنیا مٹھی میں کرنے کے بجائے اصغر کی زندگی کو چٹکیوں“ میں کررہے ہیں۔
ان دنوں کی ہی بات ہے۔اکرام بیٹے اصغر کے متعلق غور وفکر میں ڈوبا تھا ——-گھر کی ہولنا کی تھی——-مستقبل کی خوفناکی —— ملک کی رواداری——-اولا د سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا اندیشہ ——- اچانک بیل ڈور نے اس فکری سلسلے کی رفتار روک دی۔ پڑوس میں رہنے والا ہند لعل اصغر کی عیادت کے لیے آیا۔ خیریت دریافت کرنے کے بعد وہ گیسٹ روم کے صوفے میں دھنس گیا۔
اصغر کی عمر گیارہ بارہ سال ہونے کو آئی تھی——- گیسٹ روم کے سامنے والے ہال میں اصغر نے اپنی حرکتیں شروع کردیں۔ سب سے
پہلے اس نے انگلیوں سے کٹوری سی بنائی۔ پھر ان کٹوریوں کو اپنے دونوں کانوں پر لگائے جھومتا رہا۔ کانوں پر رکھی گئیں انگلیوں کی کٹوریوں سے لگتا کہ دور سے آنے والی کسی آواز کو وہ سننے کی کوشش کررہاہے، مگر کبھی لگتا کہ ِان آوازوں سے وہ حد درجہ ڈر گیا ہو۔ اس لیے کانوں پر ڈھکن لگا رہا ہے،تاکہ آنے والی آوازوں سے بچ رہے——- کبھی تیز رفتاری سے اپنے سر کو ادھر ادھر حرکت دیتا تھا توکبھی سختی سے دونوں پنچوں میں اپنا سر بھینچ لینے کی کوشش کرتا۔خوف کے مارے کبھی اس کی سانسوں سے عجیب عجیب آواز نکلتی تو کبھی اپنے ہاتھ سے کسی کو اشارہ کرتا، گویا اسے آگے بڑھنے کا سگنل دے رہا ہو۔ کبھی کن پٹیوں کو سہلاتا جیسے دیر تک سوچتے سوچتے ان میں درد گھس آیا ہو۔ کبھی کبھی سرکو معمولی جنبش دیتے ہوئے اپنے سامنے آنکھیں جما دیتا، جیسے قریب آنے والے کسی مبغوض شخص کو غزائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔


گیسٹ روم میں بیٹھے بیٹھے ہندلعل اور اکرام دونوں نم آنکھوں سے اصغر کو دیکھے جا رہے تھے۔
مسلسل اس کی حرکتوں کو دیکھ کر ہندلعل کی کیفیت بھی عجیب ہونے لگی۔چند سکینڈوں کے لیے اس نے بھاری بھاری پپوٹوں کے درمیان اپنی آنکھوں کو پیس ڈالا۔گویا آنکھوں کو سزا دے رہا ہوں کہ تم نے ایسے مناظر کیوں دیکھ لیے۔وہ بولنا چاہتا تھا، مگر جیسے اکرام کے ہونٹوں کے بھاری بھاری پتھر لڑھک کر اب ہندلعل کے ہونٹوں پرجم گئے ہوں۔ پوری کوشش کے ساتھ وہ فقط یہی بول سکا۔”اب علاج میں کیا دھرا ہے بھائی۔ اگر میری بات مانوتو میرے ساتھ ایک مندر چلو——-“
ہندلعل کی اس درخواست کے بعد اکرام نے اپنے ذہن ودماغ کو خوب پھینٹا اور نتیجہ نکالا کہ طبی معاملات میں سائڈ اَفکٹ کا معاملہ ہوتا ہے۔ اصغر کا علاج تو اب ڈاکٹر ہریش ہی کررہے ہیں اور ہم فی الحال ان کے علاوہ کسی اور ڈاکٹر کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اس لیے ظاہر ہے مجاور کے بعد مندر میں بھی حاضری دے لینے سے کوئی حرج نہیں۔ طبی علاج میں ٹکراؤ کا اندیشہ ہوتا ہے،یہاں کون سا سا ئڈ افکٹ——-
ایک دن وہ اپنے دوست ہند لعل کے ساتھ دریا کنارے واقع ایک مندر گیا جہاں ہندلعل کی وجہ سے اکرام کی خوب آوبھگت ہوئی۔ اپنی بیمار ی کی وجہ سے جتنی حرکتیں اصغر کرتا،اس سے کہیں زیادہ بدن لچکا لچکا کر بابا اسے دیکھتے رہتے۔ چند میٹر کے فاصلے سے کئی باباؤں نے اس کا بغور معائنہ کیا۔ اس معائنے کے بعد انھوں نے باہم بات چیت کی اور بڑے بابا نے درد مندانہ لہجے میں ہند لعل اور اکرام سے کہا:
”مچھلیوں کے انڈوں کا چڑھاوا——-“.پھر ایک لمبی سانس لینے کے بعد وہ گویا ہوئے”——- مندر دُوار کے اوپر رکھے پتھر پر مچھلیوں کے پیٹ سے نکالے گئے انڈوں کورکھا جاوے گا۔ وہ دیکھیں پتھر….ہمیں تو کیول انڈے کی اوشیکتا ہے، مچھلیوں سے کوئی مطلب نہیں۔ ویسے آدیش انوسار ہم غریبوں میں مچھلیوں کا وِترن کا کاریہ بھی کر دیں گے۔ اورہاں، لگاتار کئی رات یہ سادھنا کی جاویں گی۔ اس کے بعدکہیں جاکر انڈوں سے کچھ رکت جمع ہووے گا اور اسی رکت سے اصغر کے ماتھے سہیت پورے شریر کی مالش کی جاوے…اور یہ بھی چتایا جاتا کہ مالش کے بعد انگلیوں پر رکت لگا کر اسے چٹا یا بھی جائے۔
انڈے والی مچھلیوں کی تلاش بھی کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس لیے اکرام نے مچھیڑوں کو ڈھونڈ نکالنے کی ذمے داری ہند لعل کو ہی دے دی۔ مسلسل کئی دنوں وہ مندر کے بابا سے ملے اور اکرام سے بھی۔ملنے ملانے کے دوران انھیں ایک قابل اعتماد مچھیرا ہاتھ آگیا۔ اکرام نے ہند لعل کے مطالبے کے مطابق اسے اچھی خاصی رقم دی، جو مچھلی بن کر مندر کے سمندر میں رینگنے لگی۔
مزار اور مندر کے طواف کے دوران اکرام نے کئی بار ڈاکٹر ہریش کو بھی فون کیا اور ملنے کی اجازت طلب کی، تاہم انھوں نے کچھ دن اور رک جانے کی ہدایت کی۔اس لیے وہ ادھر مذہبی افراد سے زیادہ ملنے جلنے لگا۔


اسی زمانے میں کسی کے مشورے پر اکرام تبلیغی جماعت میں بھی گیا۔ کیوں کہ اس کے ذہن میں یہ بات نقش کردی گئی کہ خدا کے راستے میں نکلے ہوئے فرد کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے۔ وہ ہر قیمت پر اپنے بیٹے کی شفا چاہتا تھا——- تین دن جماعت کے بھی دیکھ آئے۔ دل بھر کر عبادتیں کیں۔ اسی کے ساتھ امیرِجماعت اور دیگر نمازیوں سے پانی پردم (پھونک)کرنے کی درخواست بھی کی۔واپسی پر اس نے مچھلی کے رکت میں جماعت کے پانی کی چند بوندیں ملائیں۔ پھر اسی خون اور پانی میں مزار سے لائی گئی چٹکی بھر دھول سے گھول بنائی اور
اصغر کو چٹانا شروع کردیا——- مذہبی معاملات ہیں نا، سائٹ افکٹ کا امکان کہاں……
ان ٹونے ٹوٹکوں کے کچھ دنوں بعد ہی ڈاکٹرہریش نے اکرام کو کال کی اور تن تنہا اصغر کی ماں الماشیہ کو طلب کیا، جس پر اکرام کو شبہ تھا——وہ یہ کہ ڈاکٹر نے اس ملاقات میں اصغر کو ساتھ لانے سے کیوں منع کیا اور صرف ماں الماشیہ کو ہی کیوں بلایا۔ ڈاکٹر کا یہ رویہ اس کی سمجھ سے باہر تھا مگر اس کے باوجود اس نے الماشیہ کو ڈاکٹر کے پاس تنہا ہی بھیج دیا ——-
الماشیہ ڈاکٹر کے پاس پہنچی تو بات چیت کیے بغیر ہی انھوں نے کسی کیبن میں الماشیہ کو بند کر دیا اور وہ خود چھپ کر دوسری اندھیری کیبن سے اس کی نقل وحرکت کا بغور مطالعہ کرتے رہے——الماشیہ بیٹھے بیٹھے اوب گئی اور باہر سے آنے والی آوازوں پر مسلسل کان دھرنے کی کوشش کرتی رہی——ڈاکٹر ہریش دوسرے کیبن میں بیٹھے بیٹھے کبھی میوزک تیزبجاتے تو کبھی اس کی آواز بالکل دھیمی کردیتے۔ان مدھم دھنوں پر الماشیہ کی حالت متغیر ہوتی رہتی——جوں جوں کیبن میں وقت گزرتاجاتا اس کی کیفیت قابل مطالعہ بنتی جاتی ——
اگر اکرام اس وقت ڈاکٹر کے پاس ہوتا تو شاید مطالعے کی گرہیں کھلتیں اور اس کی مزید نوعیتیں سامنے آتیں۔ کیوں کہ وہ ضرور بیٹے اصغر کی حرکتوں سے اپنی بیوی کی موجودہ کیفیت کو جوڑ نے کی کوشش کرتا،مگر وہ یہاں تھا ہی نہیں۔
.گھنٹوں بعد جب الماشیہ کیبن سے باہر نکلی تو اس کے چہرے سے المناکی جھانک رہی تھی۔ اس پر اُگنے والی بوندوں میں شاید طبی داستانیں چھپی تھیں ——- ڈاکٹر نے بات کیے بغیر فقط اسے غور سے دیکھا اور گھر بھیج دیا۔


واپسی کے بعد الماشیہ نے اپنے شوہر اکرام سے ڈاکٹر کے یہاں پیش آئے واقعے کا ذکر کیا۔اس واقعے کے کئی دنوں بعد اکرام کے پاس ڈاکٹر کی کال آئی۔ گویا یہ کال طبی رپورٹ تھی——-
”——- مسٹر اکرام، آپ بیٹے کے مرض سے فکر مند رہتے ہیں اور اس کی ماں بھی، یہ فطری ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اور بھی ماں باپ آپ کی طرح پریشان ہوں، اپنے بچوں کو لے کر۔ کیوں کہ ملک کی موجودہ فضا کو سمجھتے ہی ہیں نا،جوخاص طور سے ماؤں پر ایک غیر محسوساتی اثر ڈال رہی ہے۔ماؤں کے اندر اس سے کچھ پل رہا ہے،یقینا اصغر کی ماں کے اندر بھی… اور ہاں، نسل در نسل اس کے منتقل ہو نے کا امکان بھی بہت زیادہ ہے۔ یاد رہے اس کا علاج بہت مشکل ہے ——- آپ جیسے ہاتھ پیر والے مسلمانوں کے لیے آسان اور دوسرے کمزور مسلمانوں کے لیے بہت زیادہ مشکل ——-
اور ہاں اب ماں کے طبی معائنے کے بعد اصغر کا مطالعہ ضروری ہے۔ اب کسی دن ماں کے بغیر آپ بچے کے ساتھ آئیں۔ شاید ان دونوں میں کوئی مماثلت نکلے اور معائنے کا کوئی رخ متعین ہوسکے۔.“
اکرام نے ڈاکٹر کی اس گفتگو سے کئی باتیں جوڑ دیں اور اس کے بعد غور کرنا شروع کردیا ——- ملکی فضا… بیٹے اور ماں کی مماثلت…نسل در نسل…ہاتھ پیر والے مسلمان… ان کے علاوہ باپ بیٹے کے ٹکراؤ والا خواب….سرحد کی طرف بیٹے کا بے تکان بھاگنا ——-ابلتے ذہن ودماغ کے ساتھ اس نے خود کلامی شروع کردی، خود کلامی بھی ایسی کہ وہ اپنی بات سمجھنے سے قاصر ——- بلکہ اسی درمیان اس کے بدن پر کپکپی سی طاری ہوگئی۔ بدن پر پھیلی اس کی بنیان تر ہوگئی بلکہ جسم کی کھال سے چپک کر بنیان بھی کھال کا رنگ اختیار کرتی چلی جاری تھی۔ ترجسم کا سلگتا ہوا حلق پانی کی بوند بوند کے لیے ترسنے لگا تھا۔


اسی دوران اکرام نے اپنے جسم کی کئی تہہ بنائیں اور خیالات کی چادر اوڑھ کر پڑا رہا ——-سامنے دیوار پر ٹکی ہوئی بند ٹیوی اسکرین پر اس کی آنکھیں جم گئیں۔ غنوگی کے عالم میں اکرام اسی اسکرین پر بہت سے مناظر کو بغور دیکھتا رہا۔یہ مناظر اکہرے نہیں تھے بلکہ خود اس نے بھی ان مناظر سے اصغر کی ماں والی طبی رپورٹ جوڑ دی——- یہی سبب تھاکہ ڈاکٹر کے جملوں میں الماشیہ کی نقل وحرکت بھی ابھررہی تھی۔ ماضی میں،تیز تیز نعروں پر اس کا ردعمل اور نعرے سن کر چونک جانے والے مناظر بھی ابھر رہے تھے۔
پھر اکرام آج یہ بھی خواب میں دیکھ رہا تھا کہ حمل روکنے کی دواؤں کو اس کی بیوی الماشیہ چوم رہی ہے۔ ایسی دواؤں سے اس کی محبت دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ ا س نے دواکے تئیں بیوی کی اس محبت کوڈاکٹر کے جملوں سے جوڑنے کی کوشش کی اور اسے نتیجہ نکالنے میں پریشانی نہیں ہوئی کہ الماشیہ اپنی نسل روکنا چاہتی ہے، تاکہ نسل درنسل ماں کے ذریعے کچھ منتقل نہ ہو۔ شاید اب الماشیہ اصغر کی طرح کسی اور بچے کواس مرض میں مبتلا دیکھنا پسند نہیں کررہی ہے۔ اس لیے حمل روکنے والی دوا ؤں سے وہ محبت کرنے لگی ہے۔
اکرام چونکا——- الماشیہ نسل روک کر اپنا کردار تو ادا کررہی ہے، مگر میں اپنی آنے والی نسل کے لیے کیا کررہاہوں ——- میں ہاتھ پیر والا مسلمان ہوں۔ اس کے باوجود میں اپنے بیٹے کے ساتھ بھی تو نہیں۔ وہ بے تکان بھاگ رہا ہے۔ سرحدوں کو لانگنے کی ہمت کررہا ہے، مگر مجھے،مجھے تورواداری کی سرحد الجھائے رکھتی ہے۔میں کیسے اس خواب پر عمل کروں جس میں خود میرا بیٹا مجھ سے مدمقابل ہے ——-.وہ خواب بس خواب ہی ہے، یا آنے والی نسل کو ایک بیماری سے بچانے کا اشارہ بھی ——-.ڈاکٹر نے بھی اشارہ تو دیاتھاکہ آپ تو ہا تھ پیر والے مسلمان ہیں…کیا میں اپنے ہاتھ پیر سے بیٹے کے سرحد والے خواب کو کوئی موڑ دے سکتا ہوں ——-مجھے تو بس رواداری عزیز ہے——- میری وہ نسل جو آئے گی، وہ اپنے لیے خود سوچے گی۔مجھے تو——-
خواب آور روم سے وہ پپوٹوں پر ہاتھ ملتے ہوئے باہر نکلا اور گیسٹ روم میں بیٹھ گیا۔ بیٹھے بیٹھے اصغر کو غور سے دیکھنے لگا کہ ذہنی اعتبار سے مفلوج بچہ کیسے خواب میں مجھ سے مدمقابل ہوجاتا ہے——- خواب کی اپنی الگ دنیا اور حقیقت ——-


اکرام ان ہی خیالوں میں ڈوبا تھا کہ ڈاکٹر ہریش نے اصغر کو طلب کیا۔ اس لیے اس نے خود کو سنبھالا،گرم کپڑوں میں خود کو قیدکرلیا اور بیٹے کے ساتھ ڈاکٹر کے لیے نکل گیا۔
ان دنوں رات اور کُہرے کی دوستی بہت جمتی تھی۔ رات تو رات، کہراگرکہہ دے تو رات، دن میں بھی اتر آئے۔ اس لیے روڈ پر کہرے میں ملی ہوئی رات کی بادشاہت تھی اورلگژی گاڑیاں پیدل چل رہی تھیں ——
اکرام اپنی کار سے پروں کو جوڑ دینا چاہتا تھا۔ کیوں کہ بہت دنوں بعد ڈاکٹر نے اصغر کو بلابھیجا تھا۔ جھٹکے لے لے کر اس کی گاڑی مسافت کو نگلتی چلی جارہی تھی—— اس لیے اس کی رفتار کو نہ چہل قدمی کی رفتار کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی دوڑنے کی،نہ فراٹے بھرنے اور نہ ہی رینگنے کی—— اکرام کی کار دیگر گاڑیوں سے اپنی رفتار منفرد بنائے آگے بڑھ رہی تھی۔ جوں جوں گھڑی کی سوئی شام کی طرف دوڑتی جاتی تھی، توں توں کہرے اور رات کی دوستی ہم آغوشی میں تبدیل ہورہی تھی—— ادھر اکرام کے ذہن ودماغ میں سنساہٹ، آنکھوں میں اسکرین کے مناظر، ڈاکٹر سے ملاقات کے بعد کا امکانی خوف، انگلیوں میں اینٹھن——اسی درمیان اچانک اس کی کار نے اپنی چال بدل لی اور کسی بھاری بھرکم ٹرک کے نیچے دھم سے دم توڑتی چلی گئی۔
ادھر ڈاکٹر منتظر کے منتظر رہے—— ادھر الماشیہ سکنڈ پر سکنڈ گنتی رہی۔
کچھ دنوں بعد پھر ہندوستانی تہذیب جا گ اٹھی تھی۔ ڈاکٹر ہریش،ہندلعل، مجاور، بابا، علاقے کے امیر جماعت اور مخصوص پڑوسیوں سمیت چند افراد ایک خوب صورت ہال میں جمع تھے۔ اصغر اور الماشیہ بھی وہیں تھے۔ الماشیہ اپنے شوہر کے متعلق پیدا ہونے والے نت نئے جملوں کو ہضم کررہی تھی۔ سوگوار لہجے کو غنائیت کی ہم نوائی حاصل ہونے والی تھی… اصغر سب کو بھر پور نظروں سے دیکھ رہا تھا، اس نے حادثے کے وقت لٹوکی طرح ناچنے والی کار کو بھی اپنی نظروں سے دیکھا تھا،مگر ابھی اس کی ماں اسے دیکھ دیکھ کر اپنے شوہر کو یاد کرتی جارہی تھی۔ کار کی بدلنے والی چال نے اکرام کو پھانس کر موت کے حلق میں انڈیل دیا تھا، مگر اصغر کرشماتی طور پر آج بھی اپنی ماں اور درجنوں مہمانوں کے ساتھ تعزیتی نشست میں حاضر تھا۔
اسٹیج کی ایک طرف پوڈیم تھا اور دوسری طرف اکرام کی تصویر، بیچوں وبیچ اسٹیج سجا تھا۔ ہندلعل نے زرین فریم میں اپنے دوست اکرام کی ایک تصویر کسوا دی تھی۔ تعزیتی نشست میں بیٹھے چند افراد کبھی پوڈیم پر جنم لینے والے جملوں کو حلق سے اتارتے تو کبھی اپنی نظروں سے اکرام کی تصویر کو سلامی دیتے۔


اس درمیان پوڈیم پر آکر ہند لال نے اپنے منفرد انداز میں کہا——:
”سورگیہ میرے مِتر اکرام ہمارے دلوں میں امر رہیں گے—— ان کی سمادھی پر ہم”جنتی دیش بھکت“کھدواکر لکھوائیں گے—— ان کی سانسوں سے دیش پریم کی مدھر سرگم گونجتی تھی۔ ملک کی پوِتر دھرتی پر ان کے قدم پڑتے تھے تو کلیان کاری آہٹیں اٹھتی تھیں ——
مِترو——!ہم نے مانا کہ آج ملک کی پرستتھی گمبھیر اور بھیانک ہے۔ بہت سے مسلمانوں کے قدم نی سندیہہ لڑکھڑائے۔ ان کے دلوں میں ایک سے ایک خیال آئے۔
بہنواور بھائیو——! بہت سے مسلم بھائیوں نے ایسا بھی سوچاجو سمجھ میں نہیں آتا۔اپنی مان سمان زمین پر سرحدی لکیر کھینچنے کا پھر خیال لایا مگر ہمارے سورگیہ دوست کبھی ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ بہت سے بھائیوں نے ان کو بہت پہلے بھی مشورہ دیا تھا کہ تمھارے ہاتھ پاؤں ہیں۔ اگر تم چاہو تو دیش سے باہر کہیں اور کوئی رہائش بنا لو——کبھی یہاں رہوکبھی وہاں ——رہتے رہتے وہاں کے بھی ہوسکتے ہو، تاکہ تمھاری آنے والی نسل چاہے تو وہیں کی ہو رہے۔ نہ کاغذ کا کوئی جھنجھٹ اور نہ ہی خوف میں مبتلا ہونے کاخطرہ ہے——“
تقریر کے اس جملے پر ڈاکٹر ہریش نے ہندلعل کو کن انکھیوں سے دیکھا۔ اصغر نے اپنی غراتی نظریں آس پاس بیٹھے لوگوں پر دوڑائیں۔ پھر اس نے اپنی ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ اس کے غصے کی تلملاہٹ بھی بہت عجیب تھی، جسے ماں یکایک محسوس کرنے لگی تھی۔ گویا ہند لعل کے جملے اس پر آگ برسارہے ہوں ——ایک لمبی سانس لینے کے بعد پھر ہند لعل نے اپنی پھر تقریرآگے بڑھائی:
”مترو —— اگر اکرام چاہتے تو اٹلی، فرانس، ترکی، شام، امریکہ اور نہ جانے کہاں کہاں اپنے کاروبار کا وِستار کرسکتے تھے۔ ان کے پاس پونجی بھی تھی اور کام کرنے والے لوگ بھی ——کارروبار کے سہارے وہ باہر کا رخ کرسکتے تھے—— جہاں کاروبار کا وِستار ہوتا اور ان کی نسل کے پیر بھی مضبوط ہوتے —— مگر نہیں کبھی نہیں، کبھی نہیں ان کے دل میں ایسا خیال آیا۔
مترو! ایک بات اور کہوں، جسے وہ کبھی کبھی دہراتے تھے۔ وہ کہتے تھے،مجھے کسی نے یوں بھی مشورہ دیا ہے—–:”سرحدوں کو لانگنے سے شاید تمھارے بیٹے کے خوف کا علاج ممکن ہو پائے۔ تمہاری نسلیں اُن سرحدوں میں خوف سے مامون رہ سکتی ہیں جن کے شہروں میں زلزلے تو آئے مگر شہر یت پر نہیں ——-“، مگر سورگیہ متر پر قربان جائیے……!.


ہندلعل کی تقریرمیں پیچ وخم آرہے تھے۔ سامعین ان کے جملوں پر ہچکولے کھا رہے تھے اور اپنی اپنی نظروں میں اکرام کا خاکہ بھی بنا ئے چلے جا رہے تھے۔ الماشیہ بھی کئی خیالوں میں ڈوبی تھی۔ اصغر کے بدن میں تلملاہٹ کا کچھ احساس زیادہ ہی تھا۔ وہ اچانک ماں کی گود سے الگ ہوا اور فریم میں رکھی ہوئی باپ کی تصویر کے پاس پہنچ گیا۔ دیکھتے دیکھتے فریم پر تابڑ توڑ لات برسانے لگا۔ پیروں میں بلا کی تیزی تھی۔ نتھنوں سے ہنہناہٹ ابھر رہی تھی۔سانسوں سے ہچکیوں کے گولے نکل رہے تھے۔آنکھیں قہر آلود تھیں۔ اسی دوران دل بھر کر وہ فریم پر لات برساتارہا۔ اس کے بعد اسی طرح اس نے دوڑنے کی کوشش میں اپنے قدم آگے بڑھا دئے، جس طرح شاید باپ اکرام نے اسے باربارخواب میں کاغذی سرحد سے کسی دوسری سرحد کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا تھا۔
مجمع حیرانی میں ڈوب گیا تھا۔ ڈاکٹر ہریش استعجابی اور تجرباتی نگاہوں سے اصغر کو گھوررہے تھے۔ چند لوگ اسے فریم سے ہٹانے کے لیے بھی لپکے۔ مندر میں مچھلیوں کا سمندر بنانے والے دوست ہند لعل کی تقریرجاری تھی۔ کئی مقرر دل ہی دل میں اپنی تقریرکولگام لگا رہے تھے اور اصغر ہاتھ پیر والے اپنے والد پر پیروں کی برسات کے بعد مجمع کو قہر آلود نگاہوں سے دیکھے جا رہا تھا۔

شیئر کریں
1 Comment
  1. Avatar

    بہت خوب۔۔۔
    کیا موضوع اٹھایا ہے بھائی۔۔۔ بالکل منفرد انداز سے۔۔۔
    میری ناقص معلومات میں اس موضوع کو اب تک شاید ہی اس طرح کسی نے اردو میں افسانوی پیرہن بخشا ہو،۔۔۔ قدرے استعاراتی لہجے میں۔۔۔
    میرا خیال ہے کہ اگر آپ اس موضوع کو راست بیانیہ کے ذریعے کہانی کرتے تو شاید وہ خوبصورتی اور افسانوی رنگ اس پر نہ چڑھتا جو اس نیم علامتی ڈسکورس نے متن کو عطا کیا ہے۔۔۔
    آپ کے کہانی کہنے کا یہ طور مجھے پسند ہے کہ آپ اپنی مرضی اور اپنے اسٹائل میں جملوں کی تخلیق کرنے میں ہچکچاتے نہیں۔۔۔۔۔ آپ کے افسانوی متن کے اندر کئی جملے پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ آپ اس جگہ روایتی اور عام محاوراتی انداز میں آسانی سے بات کہہ سکتے تھے مگر آپ نے دانستہ اس بات کو ایک جداگانہ روش میں جملے کی ہیئت دی ہے۔۔۔۔ جس سے متن میں کئی بار منفرد اور بالکل الگ طرح کی تخلیقیت در آتی ہے۔۔۔ جیسے اس افسانے میں آپ کا یہ جملہ۔۔۔” اسی دوران اکرام نے اپنے جسم کی کئی تہیں بنائیں اور خیالات کی چادر اوڑھ کر پڑا رہا۔۔۔” یا جیسے یہ خوبصورت جملہ ” ۔۔۔ اور اسی لئے روڈ پر کہرے میں ملی ہوئی رات کی بادشاہت تھی اور لگژری گاڑیاں پیدل چل رہی تھیں۔۔۔” یا پھر یہ تخلیقی جملہ ” اکرام نے ہند لعل کو اس کے مطالبے کے مطابق اچھی خاصی رقم دی جو مندر کے سمندر میں مچھلی بن کر تیرنے لگی” ۔۔۔ اس طرح کے اور بھی کئی جملے ہیں جو قاری کو آپ کی تخلیقی بوقلمونی کا احساس کراتے ہیں ۔۔۔

    حالانکہ مجھے کہانی کا سرا ابتدائی قرات میں ہی (جہاں خواب میں سرحد عبور کرنے کو لے کر باپ بیٹے کے تصادم کا ذکر ہے) مل گیا تھا۔۔۔ مگر ۔۔۔یہ آپ کی کہانی کی بنت اور چست ٹریٹمنٹ کا کمال ہے کہ افسانے نے کلائمکس تک لے جانے کی میری خواہش کو مہمیز کیا۔۔۔
    ہند لعل۔۔۔ مجاور ۔۔۔ امیر تبلیغی جماعت ۔۔۔گنگا جمنی تہذیب ۔۔۔ رواداری۔۔۔ مندر اور ہاتھ پاوں والے مسلمان کا استعارہ ۔۔۔ان سب نے مل کر ایک ایسا بیانیہ خلق کیا جس سے کہانی کا موضوع اکہرے پن کا شکار ہونے سے محفوظ رہا۔۔۔
    مجھے آپ کا یہ افسانہ بہت پسند آیا۔۔۔
    دل کی گہرائی سے مبارکباد ۔۔۔!!!!
    رب کریم آپ کے قلم کو مزید قلمی رفعتوں سے ہم کنار فرمائے ۔۔۔!!!

    Reply

کمنٹ کریں