کہکشاں تبسم کی شاعری

Read Urdu Poetry on the topic of Kahkashan Tabassum ki gazal. You can read famous Urdu Poems, Gazal, and Urdu Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

کہکشاں تبسم کی شاعری
کہکشاں تبسم کی شاعری

نام : کہکشاں تبسم
تعلیم : پی ایچ ڈی (آزادی کے بعد اردو غزل گو شاعرات)
مشغلہ : مطالعہ ،مضمون نگاری اور شاعری
شعری مجموعے ۔۔1۔بنھور بنتا ہوا دریا( 2009 )
2۔سلسلے سوالوں کے (2015 )
3۔لہو رنگ صحیفہ(2020 )
نسائی شعری آفاق( 2015)
5۔ شاعرات کی غزل گوئی پر مشتمل مضامين ۔
وطن : بھاگل پور (بہار

غزل


خموشیوں نے دی صدا کمال دیکھنا ذرا
بھرا ہوا ہے کاسۂ سوال دیکھنا ذرا
دھنک کے رنگ سبز رُت کی ہمرہی گھڑی پہر
ہے مستقل نظارۂ زوال دیکھنا ذرا
ملاحتیں نہ رونقیں نہ شوقِ دید کی چمک
یہی ہے رنگِ شہرِ خوش جمال دیکھنا ذرا
وہی ادائے منصفی الگ کہاں عدالتیں
سزائیں سب رہیں مری بحال دیکھنا ذرا
سمندروں کی کھوج میں کدھر چلی یہ تشنگی
حدِنظر ہے دشتِ بے غزال دیکھنا ذرا
ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ زد پہ کون کون ہے
ہوائیں ہو گئیں مگر نڈھال دیکھنا ذرا
کٹے ہیں کیسے روز و شب مسافتوں کے درمیاں
ورق ورق کتابِ ماہ و سال دیکھنا ذرا
خزاں گزیدہ شاخ پھر ہری ہوئی ہے کہکشاں
گزر چکی ہے ساعتِ ملال دیکھنا ذرا

غزل

پھر موسمِ یخ بستہ بدلنے کی خبر دے
رگ رگ میں جمی برف پگھلنے کی خبر دے
یا دل کے چراغوں کو لہو اور عطا کر
یا راہ میں پھر چاند نکلنے کی خبر دے
یا موسمِ خوش رنگ کوئی بھیج زمیں پر
یاگردشِ افلاک بدلنے کی خبر دے
بس اڑتے بگولے ہیں سرابوں کے سفر میں
ایڑی کوٸی چشمے کے ابلنے کی خبر دے
در بند کئے لوگ گھروں میں ہیں مقید
آسیب زدہ رات کے ڈھلنے کی خبر دے
اخبار بھی دہشت کا تراشا ہے تبسم
ہر صبح فقط دل کے دہلنے کی خبر دے

غزل

بے گھری کے دکھ سے بہتر ہے سفر باقی رہے
پاؤں کے تھکنے تلک بس رہگزر باقی رہے
شہرِ جاں میں بے رخی کے زرد موسم ہیں تو کیا
صحنِ جاں میں خوشبو ؤں کا اک شجر باقی رہے
گھر نہیں حرمت نہیں محفوظ تو پھر شہر یار
کس کی خاطر اپنے کاندھوں پر یہ سر باقی رہے
میرے اس کے درمیاں ہے روشنی کا رابطہ
ٹمٹماتا اک دیا جوں طاق پر باقی رہے
ہم بھی کچھ تو آزمائیں اپنے خوں کی حدّتیں
موجِ دریا تہ بہ تہ تیرا بھنور باقی رہے
کہکشاں الفاظ سے معنی کے رشتے کٹ گئے
بے صدا خاموشیوں کے بس کھنڈر باقی رہے

غزل

بساطِ وقت پر دیکھو کہاں رکھےّ ہوئے ہیں
جو پیادے تھے سرِ بزمِ شہاِں رکھےّ ہوئے ہیں
ہم اپنی بند مٹھّی کھول دیں پھر دیکھنا تم
سمیٹے کس طرح ہفت آسماں رکھےّ ہوئے ہیں
بظاہر سرسری سے رابطوں میں کیسے کھلتا
دبا سینے میں اک آتش فشاں رکھےّ ہوئے ہیں
تمہارے قرب کا لمحہ نہیں بھر پائے گا وہ
پرانے فاصلے جو درمیاں رکھےّ ہوئے ہیں
یہ پرچھائیں سی اوڑھے کون ہے ہم تو نہیں ہیں
بھرم بے سائیگی کا کہکشاں رکھےّ ہوئے ہیں

غزل

گزرتے جاتے ہیں باتیں ہزار کرتے ہوئے
یہ کون لوگ ہیں رستہ غبار کرتے ہوئے
ہرایک دن گیا چھالوں کی آبرو رکھتے
ہرایک شب گئی جگنو شمار کرتے ہوئے
بچھڑکے مجھ سے کہیں دشت تو اداس نہیں
خیال آیا تھا دریا کو پار کرتے ہوئے
بلائیں اوڑھ کے بادل ہیں رقص میں پیہم
قبائے لالہ وگل تار تار کرتے ہوئے
وہ خوش گمانی پہ اپنی بہت ہیں شرمندہ
جنہیں تھا فخر تمہیں شہریار کرتے ہوئے
کوئی تو رشتہ دعا کا بھرم ہی رکھ لیتا
گلے ملے گا مگر کاروبار کرتے ہوئے

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں