کالی دنیا کا چمکتا سراب

مضمون نگار :محمد عباس

کالی دنیا کا چمکتا سراب

Ben Okriاس وقت ادبِ عالیہ کا ایک بڑا نام ہے۔ انہیں یورپ میں افریقہ کے مقامی کلچر کی نمائندہ آواز کہا جاتا ہے۔ ان کے ناول “The Famished Road”کو ایک طرف افریقی کلچر کا نمائندہ اور دوسری طرف طلسمی حقیقت نگار تکنیک کا شاہکار کہا جاتا ہے۔ اس ناول کے متعلق طلسمی حقیقت نگار تکنیک کے مشہورِ عالم ناقدین (برینڈا کوپر وغیرہ) کا دعویٰ ہے کہ لاطینی امریکی فکشن کے بعد یہ ناول اس تکنیک کا سب سے اہم اور نمایاں شاہکار ہے۔’’بن اوکڑی کے منتخب ناولوں میں طلسمی حقیقت نگاری‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے مقالے میں جیوتی ڈاہیا نے “The Famished Road”کے متعلق لکھا ہے:


’’ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ اس بیانیے میں بن اوکڑی نے حقیقت اور طلسمات کے دھاگوں کوکئی طریقوں سے آپس میں پرویا ہے تا کہ آپ بیانیے کے جال میں ان کے باہمی ملاپ کا نظارہ کر سکیں۔ اوکڑی “The Famished Road”میں طلسمی حقیقت نگاری کے استعمال سے میل جول کی حکمتِ عملی تعمیر کرتے ہیں۔‘‘٭۱


طلسمی حقیقت نگار تکنیک 1960ء کی دہائی کے بعد بہت بدنام ہوئی۔ لاطینی امریکی فکشن نگاروں کی شہرت اور پذیرائی دیکھ کر دنیا کے ہر خطے کے کئی کہانی کار اس تکنیک کو فکشن کی کامیابی کے لیے اہم سمجھنے لگے۔ مقامی کلچر کو غیر ملکی صنف کے اندر گوندھنا ایک بے ساختہ عمل تھا جو لاطینی امریکی ناول/افسانہ نگاروں کے فن پاروں میں ایک فطری انداز میں آمیز تھا۔ پرانے قصے، اساطیر، وحشی دور کے توہمات، مایا تہذیب کی کہانیاں اور ان سب سے اخذ کردہ مافوق الفطرت کردار سبھی غیر محسوس انداز میں اس فکشن کے ساتھ گھل گئے تھے اور نہ صرف اس کی کہانی کو حسن بخشتے تھے بلکہ ناول کی معنویت میں اضافہ بھی کرتے تھے اور اپنے ماحول کی سیاسی و سماجی تفہیم میں مدد بھی دیتے تھے۔ ان عناصر نے اپنے خالقوں کے فن پاروں میں آ کر اپنی بھی نئے سرے سے معنویت پائی اور حاشیے سے نکل کر مرکزی متن کا حصہ بن گئے۔ تنہائی کے سو سال، ٹیرا نوسٹیرا، The Three Trapped Tiger, The last Steps وغیرہ ایسے ناول تھے جنہوں نے اس حوالے سے خاص شہرت پائی۔یہ عمل کوئی شعوری عمل نہ تھا۔ لاطینی امریکی صورتحال کو جب وہاں کے مصنفین نے اپنے زندہ تجربے اور اپنے ذاتی نقطۂ نظر سے لکھا تو طلسمی حقیقت نگار بیانیہ تخلیق پایا۔ یہ ایک بے ساختہ عمل تھا اور اس کا اصل حسن اس کی یہی بے ساختگی تھی۔ اس سارے عمل کو بیرونی مصنفین سمجھنے میں ناکام رہے اور انہوںنے طلسمی حقیقت نگار تکنیک کو محدود طور پر یوں سمجھا کہ اگر بیانیے میں حقیقت پسند ماحول کے اندر کوئی مافوق الفطرت واقعہ پیش آ جائے تو یہ طلسمی حقیقت نگاری بن جائے گی۔ دنیا کے کئی خِطوں کے ادیب اس خیال کے تحت اس تکنیک پر لکھنے کی کوشش کرتے نظر آئے ، مثال کے طور پر Murakamiکا’’ کافکا آن شور‘‘، سلمان رشدی کا ’’مڈ نائٹ چلڈرن‘‘،ایزابیل الینڈے کا ’’دی ہائوس آف دی سپرٹ‘‘ اور ڈی ایم تھامس کا ’’دی وائٹ ہوٹل‘‘ مشہور ہیں لیکن یہ اس تکنیک کو استعمال کرنے کے بنیادی نکتے تک پہنچ سکے نہ ہی اسے پوری فنکاری سے برت سکے اور اپنے فن پاروں میں مافوق الفطرت کے جواز اور معنویت دونوں سے محروم ہو گئے۔ ناقدین جو لاطینی امریکی مصنفین کے لیے رطب اللسان تھے ، اُسی رَو میں ان مصنفین کے لیے بھی نغمہ سنج ہو گئے۔اس توصیفی سلسلے کو بڑھتے دیکھ کر ہر ادیب کا دل چاہا اور جی کھول کر اس تکنیک پر ہاتھ صاف کیا اور ستائش کی دستار کے ساتھ پذیرائی کی خلعت بھی پائی۔


مولانا حالی نے اردو کی کلاسیکی غزل میں استعاروں کی پیش پا افتادگی اور موضوعات کی دہرائی کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمایا تھا ، وہ اس معاملے میں بھی صحیح لگتا ہے ۔ متقدمین کے ہاں اس تکنیک نے سادگی سے ظہور پایا اور اس کا مقصد محض اپنی دنیا اور اپنے ماحول کی مکمل فنکارانہ تفہیم کی کوشش تھا۔Men of Maze,Kingdom of This World, Pedro Pramo, Devil to Pay in backlands, Hopscotchوغیرہ اس کوشش کا عملی اظہار تھا۔ متوسطین میں سے گیبریل گارسیا مارکیز،کارلوس فونتیس، کابریرا انفانتے وغیرہ نے اس تکنیک کو مزید صاف کیا اور اس سے اپنے سماج اور سیاسی پس منظر کو سمجھنے میں مدد لی۔’’تنہائی کے سو سال‘‘ اس تکنیک کے خوبصورت، موزوں اور فنکارانہ استعمال کی معراج سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بعد متقدمین جب آئے تو ان کے پاس اتنا خلاق ذہن نہ تھا کہ وہ اس تکنیک کے ذریعے نئے موضوعات ابھارتے، نئے راستے نکالتے ، اس کی بجائے انہوں نے اس تکنیک کو ہی اپنا ملجاو ماویٰ سمجھ لیا اور اسی کو چک پھیریاں دے دے کر فکشن تخلیق کرنے لگے۔ ان کے مطابق اگر ناول کی حقیقت نگار دنیا میں مافوق الفطرت اشیاء اورواقعات پیش ہوجائیں تو یہی طلسمی حقیقت نگاری ہو گی اور اگر ایک دفعہ طلسمی حقیقت نگار ناول میں جھلک گئی تو ناول کی کامیابی میںکوئی شک نہ رہے گا۔ اب طلسمی حقیقت نگار تکنیک میں جن بھوت کرداروں کے بالوں سے جھڑنے لگے،دیو اور پریاں بستر پر پائے جانے لگے اوردرجنوں روحیں ہر چڑی مارکے تھیلے میں بلبلاتی نظر آنے لگیں۔
بن اوکڑی کا مذکورہ بالا ناول طلسمی حقیقت نگار تکنیک کے حوالے سے ایک ایسا ہی ناول ہے جس میں پوری محنت محض طلسمی فضا پیدا کرنے پر صرف کی گئی ہے۔ مافوق الفطرت واقعات اور اشیاء قدم قدم پر سامنے آتے ہیں جب کہ بیانیے میں نہ تو ان کا جواز ہوتا ہے اور نہ کوئی معنویت۔محض طلسمی حقیقت نگار بیانیہ تخلیق کرنے کا شوق ان واقعات کی تخلیق کا باعث ہے۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعات ناول میں پیش نہیں آرہے بلکہ ناول ہی ان واقعات کے لیے لکھا گیا ہے۔ جہاں کہیں مصنف نے دیکھا کہ حقیقت نگار ماحول کی وجہ سے بوریت ہورہی ہے تو کردار کی آنکھ جھپکی ، کھڑے کھڑے دو عالم کی سیر کرائی اور کردار کے ساتھ ساتھ قاری کوبھی روحوں اور بھوتوں کی انوکھی سرزمین کی سیر سے دلشاد کر کے واپس اسی ڈیوڑھی پر لا کھڑا کرتے ہیں۔


اس ناول کی کہانی بہت سیدھی ہے۔ ازاروایک ایسا لڑکا ہے جو پیدا ہونے سے پہلے اپنی رفیق روحوں سے جلد واپس لوٹنے کا عہد کر کے آتا ہے لیکن دنیا میں آ کر وہ واپس نہیں جانا چاہتا۔ رفیق روحیں اسے ہر گھڑی واپس بلاتی رہتی ہیں اور اسے زبردستی واپس لے جانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ساتھ ساتھ اس کے ماں باپ کے کمزور معاشی حالات کا قصہ چلتا ہے جنہیں قرض یا کرائے کی ادائیگی وبالِ جان ہے۔ ازارو روحوں سے بھاگتا رہتا ہے اور روحیں اسے ہر ممکن طریقے سے واپس لے جانا چاہتی ہیں اور ناول کے آخر تک لے جانے میں کامیاب نہیں ہو پاتیں۔


طلسمی حقیقت نگار تکنیک کے لیے ضروری ہے کہ مافوق الفطرت عناصر حقیقت کے ساتھ پوری طرح اور حقیقی انداز میں آمیز ہو جائیں۔ مافوق کہانی اور ماحول کے اندر اجنبی نظر نہ آئے۔ یوں محسوس ہو جیسے یہ بھی روزمرہ حقیقت کا حصہ ہے۔ خود مصنف اور بیانیہ اس کو حقیقی سمجھتے ہوں۔ راوی اور تمام کردار اسے حقیقت سمجھیں اور اس پر تحیر کا اظہار نہ کریں۔ بیانیے میں بتانے کا طریقہ بھی ایسا ہو کہ اس کے حقیقی ہونے میں شبہ نہ ہو۔ کہا جاتا ہے ، سنا گیا، دروغ برگردن راوی وغیرہ جیسے عذر خواہ جملے بھی اس تکنیک کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ دن سپنا، خواب، واہمہ،التباس، شیزو فرینیا، مرگی ، غشی اور کسی ایک کردار کی ڈینگ جیسی چیزیں حقیقت نگار تکنیک کا حصہ ہیں۔ طلسمی حقیقت نگار بیانیہ تعمیر کرنے کے لیے ان بے اعتبار سہاروں سے الگ ہو کر ٹھوس بنیادوں پر مافوق کو تعمیر کرنا پڑتا ہے۔ اگر مافوق کا وجود ٹھوس نہ بن سکے تو پھر وہ طلسمی حقیقت نگار کی بجائے محض حقیقت نگار فکشن ہو گا۔ اگر ایک کردار کو مافوق الفطرت چیزیں نظر آتی ہیںاور دوسرے کرداروں کو دکھائی نہیں دیتیں تو اس کا مطلب ہے کہ فینٹیسی اور حقیقت باہم آمیز نہیں ہو پائے اور طلسمی حقیقت نگاری کی بنیادی شرط ’’دونوں عناصرکا فطری اور بے ساختہ ملاپ‘‘ پوری نہیں ہوتی ۔اس لیے وہ بیانیہ حقیقت نگار بیانیہ ہی کہلائے گا۔


طلسمی حقیقت نگاری کی دوسری اہم شرط یہ ہے کہ مافوق الفطرت عناصر اپنے مقامی کلچر سے پھوٹتے ہوں۔ خاص طور پر کہانی کا ماحول اور فضا کسی خاص کلچر سے شناخت رکھتی ہوتو مافوق الفطرت عناصر بھی اسی علاقے کے توہمات ، اساطیر پر مبنی ہوں۔ وہی اس کلچر سے نکلتی کہانی کو معنی دے سکتے ہیں۔ درآمدی یا بناوٹی چیزیں طلسمی نہیں بنتی ۔ ان شرائط کو پورا کرنے کے بعد بھی بیانیے میں بے ساختگی ضروری ہے۔ کوئی فوق العادت واقعہ یا مافوق الفطرت کردار کہانی کے واقعات میں یوں در آئے کہ نہ تو اسے ان واقعات سے الگ کیا جاسکے اور نہ ہی اس کے بغیر بیانیے کی معنویت مکمل ہوتی ہو۔ اگر اتنا بے ساختہ تعلق نہ بن سکے تو ان واقعات کی معنویت بھی نہیں ہو گی اور فن پارے میں ان کا جواز بھی نہیں رہے گی اس صورت میں طلسمی حقیقت نگاری بناوٹی اور مصنوعی محسوس ہو گی۔


Ben Okriکا یہ ناول ناقدین کے دعوے کے بر عکس طلسمی حقیقت نگاری کی تخلیقی سطح کو چھونے میں ناکام رہتا ہے۔ مجموعی تاثر یہی ملتا ہے کہ انہوں نے ٹھونس ٹھونس کر ناول میں مافوق الفطرت چیز یں بھرنے کی کوشش کی ہے اورجتنی بھی ایسی چیزیں ہیں ناول کے بیانیے میں ان کی موجودگی ضروری ہے اور نہ ہی بے ساختہ۔غیر ضروری چیزوں کو غیر فطری انداز میں کہانی کے اندرگھسیڑا گیا ہے۔ بہت سے واقعات ، کردار اور کرداروں کا عمل ایسا ہے جن کی نہ تو معنویت ہے اور نہ ہی ناول کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ مانا کہ عام زندگی میںمافوق الفطرت عناصر بلاجواز بھی پیش آ سکتے ہیںلیکن ناول ادب کی ایک ہیئت ہے اور اس کا ہیئتی تقاضا ہے کہ جو واقعات اور عوامل اس کے اندر پیش ہوں ، وہ اپنا جواز رکھتے ہوں، یہ بھی نہیں تو کم از کم اپنی معنویت تو رکھتے ہوں۔جبکہ بن اوکڑی کے ناول میں تو راستہ چلتے ، بازار میں گھومتے ، جنگل میں بھٹکتے ، بستر پر لیٹتے، ماں کی گود میں، باپ کے کندھوں پر، کھانے کھاتے ، بارمیں میز صاف کرتے، دائیں بائیں، اوپر نیچے، آگے پیچھے شش جہات میں روحیں بکھری نظر آتی ہیں لیکن مصنف کا طُر فہ کمال یہ ہے کہ وہ کہیں بھی ان روحوں کا جواز یا معنویت پیدا نہیں کرسکے۔ یہ نہیں کہ قاری مافوق پر یقین نہیں رکھتا۔ فکشن کا قاری دنیا کی ہرغیر فطری کہانی پر یقین کر سکتا ہے۔ داستانِ امیر حمزہ ، الف لیلہ ، کتھا سرت ساگر ، اوڈیسی ،مہا بھارت ، شاہنامہ فردوسی میں پیش آنے والے سبھی واقعات کو حقیقت ، عین حقیقت سمجھ سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ کہانی کے زمان و مکان میں وہ واقعات اپنا جواز رکھتے ہوں۔ جواز کے بغیر اگر کہانی میں لاکھوں بچے بھی مر جائیں تو قاری ان کی تکلیف کے بجائے فنکار کی کمزوری پر روئے گا اور اگر فن کار نے جواز کے ساتھ کہانی بیان کی ہو تو ایک بچے کی آنکھوں میں تھرتھراتا پانی بھی تمام دنیا کو تڑپا کررکھ دے۔ بن اوکڑی پورے ناول کی فضا میں کوٹ کوٹ کر روحیں بھر کے بھی وہ جادوئی تاثر پیدا نہیں کرسکے جو شہزادی ریمیڈیس کے عاشق کے سر پر اڑتی زرد تتلیوں سے مارکیز نے پیدا کیا تھا۔ فنکار منٹو جیسا ہو تو گورمکھ سنگھ کی وصیت میں خون کا ایک قطرہ بہائے

بغیر1947ء کے فسادات کا تمام المیہ سمیٹ لاتا ہے اور اگر پھوہڑ ہو تو کرشن چندر کی طرح ’’ہم وحشی ہیں‘‘ میں ہزاروں افراد کا قتل دکھا کے بھی حساس دل قاری کے اندر ہمدردی بیدار نہیں کرسکتا۔ بن اوکڑی بھی ناول میں مافوق الفطرت عناصر کی بھرمار کے باوجود طلسمی حقیقت نگار ماحول نہ بنا سکے۔ازاروکو روحیں سب سے پہلے بازار میں نظر آتی ہیں۔وہ تعاقب کرتا ہے ، غائب ہو جاتی ہیں۔ پولیس افسر کے گھر بھوت ہیں جو ازارو کو کچھ نہیں کہتے۔ اس کے بعد فوٹو گرافر کے کیمرے سے بھوت نکلتے ہیں جو بعد ازاں روحیں بن جاتے ہیں۔ مادام کوتو کے بار میں درجنوں دفعہ روحیں آئیں ۔ باپ خراٹے لیتا ہے اور اس کے خراٹوں کے ساتھ بروم(جھاڑو) صفائی کرنے لگتا ہے۔ بار بار روحیں ازاروکو اغوا کر کے لے جاتی ہیں اور وہ ہر دفعہ بھونڈے طریقے سے بچ جاتا ہے۔ مذاق کی حد ہے کہ ازارو ملیریا کے بعد اٹھا ہے تو نہایت کمزور ہے مگر تیز طرار روحیں اس کا پیچھا کر کے اسے پکڑ نہیں پاتیں۔ جنگل میں ایک بڈھا اس کا تعاقب کرتا ہے ، پکڑ نہیں پاتا، ازارو اس سے اوجھل ہو کر تھک جاتا ہے اور سو جاتا ہے۔ خواب سے جاگتا ہے تو قبل از تاریخ کسی عفریت جانور پر بیٹھا ہے۔ تین سروں والی روح آتی ہے ، پھر چار سروں والی آتی ہے۔آگے چل کر پانچ سروں والی روح آتی ہے۔ خوابوں میں روحیں ہیں ۔ ازارو کے باپ سے باکسنگ کرتی ہیں ۔ ازارو کو آخر تک دِق کرتی ہیں ۔ اُدھر قاری یہ سب ’بے روح روحیں‘دیکھ دیکھ کے بیزار ہو نے لگتا ہے۔ ہر واقعے کی جزئیات کو ذہن میںرکھتاہے کہ شاید آگے چل کر یہ واقعات بامعنی بنتے ہوں مگر سب رائگاں جاتے ہیں ۔
یقیناان مافوق الفطرت چیزوں کے متعلق مصنف کا مطالعہ بہت زیادہ ہو گا لیکن ناول کی دنیا مطالعے سے اس قدر سروکار نہیں رکھتی۔ناول کی دنیا تجربے پر مبنی ہوتی ہے۔ اگر ناول میں پیش کیے گئے عناصر مصنف کے تجربے کا حصہ نہیں بنے اور ناول کے پورے معنوی عمل میں کوئی بامعنی کردار ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان عناصر کی پیش کش فضول ہے۔ اگر یہ عناصر مل کر ناول کے کل کا بامقصد حصہ نہیں بنتے اور اپنے اپنے طور پر الگ اجزاء کی حیثیت میں قائم رہتے ہیں تو خود ان کی حیثیت بے مایہ تنکے سی ہوتی ہی ہے،ساتھ اس ناول کی صحت بھی مشکوک ہو جاتی ہے۔جزوی طور پر ان عناصر کی بہت اہمیت ہو گی اور کیا پتا کتنی گہرائی رکھتے ہوں لیکن یہ عناصر آزادانہ طور پر جتنے بھی بامعنی کیوں نہ ہو، ناول کے اندرآنے کے بعدان کی معنویت اور اہمیت اپنی جزوی حیثیت سے نہیں،ناول کے مکمل عمل کے دوران ان کے تفاعل پر منحصر ہے۔ اگر وہ اس کل کے اندر بامعنی نہیں ، اس کل کو بامعنی نہیں بناتے تو غیر ضروری ہیں۔اگر مصنف ناول کے مجموعی عمل سے بیگانہ ہو کر صرف مافوق الفطرت عناصر کے ٹھونسنے کو ہی طلسمی حقیقت نگاری سمجھ بیٹھا ہو تو وہ ناکام ہو جائے گا۔ جیسا کہ ایک ناقد نے طلسمی حقیقت نگاری کی تعریف کر رکھی ہے:


’’ جادوئی تناظر کے اضافے سے حقیقت نگاری کی ماہیت بدلنا طلسمی حقیقت نگاری نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو پہلے ہی اپنے اندر جادوئی یا فنتازیہ ہے۔ ‘‘ ٭۲
بن اوکڑی کے ناول میں مافوق الفطرت چیزیں کسی افسانوی منطق کے بغیر اور کسی معنویت کے بغیر ناول کے صفحات میں بکھری ہیں اور ناول نگار اس نکتے کو ذرا بھی نہیں سمجھتا کہ جو بنیاد قائم کر دی ہے ، وہ منطق بنا کر آخر تک نبھانی پڑے گی۔فکشن میں خواہ وہ حقیقت نگار ہو یافینٹیسی ، سب کچھ منطقی ہو تو فکشن کی اصل روح قائم ہوتی ہے۔ اس منطقی کا سائنسی یا عقلی ہونا ضروری نہیںہے۔ فکشن کا تعلق عقل سے نہیں تخیل سے ہے۔ بس جو واقعہ پیش آئے ، اس کی ایسی وجہ ضرور بیان کی جائے جو انسانی تخیل کو مطمئن کرتی ہو اور یہ اطمینان بھی کسی بیرونی منطق کی بجائے فن پارے کی داخلی منطق سے قائم ہوتا ہے۔ مثلاً اساطیر دیکھ لیں۔ ان میں صرف اور صرف تخیل کی فراوانی نظر آتی ہے اور دنیاوی واقعات /مظاہر کی منطق ڈھونڈنے کی کوشش ملتی ہے اور اسی وجہ سے فکشن پڑھنے والا ذہن آج بھی اساطیر کی طرف لپکتا ہے۔ ادبِ عالیہ میں بہت سی تخلیقات ایسی ہیں جو عقلی یا سائنسی بنیاد پر کھڑی نہیںہیں لیکن ذہنِ انسانی نے انہیں اپنے تخیلاتی حاصلات میں بہت اعلیٰ مقام عطا کر رکھا ہے کیوں کہ وہ انسانی تخیل کو اپنی داخلی منطق سے مطمئن کر دیتی ہیں۔فکشن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر کوئی منطق قائم کرتا ہو اور اس منطق کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے تمام عمل کو انجام دے۔ اگر ایک دفعہ ایک منطق قائم کر دی گئی ہے تو پھر دوبارہ اسی فکشن پارہ میں اس منطق کے خلاف عمل نہیں ہو سکتا۔ (اس کی ایک بہترین مثال ایبے کوبو کا افسانہ ’’طلسمی چاک‘‘ ہے جو شاہد حمید کی ترجمہ کردہ کتاب جدید جاپانی افسانے میں شامل ہے)اگر ایک دفعہ ازارو کو سپرٹ چائلڈ بنا دیا ہے اور وہ روحوں کو دیکھ سکتا ہے تو پھر پورے ناول میں اس چیز کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ جب کہ ازارو صاحب مادام کوتو کے بارمیں روحوں کو شناخت نہیں کرپاتے۔ وہ اس کے سامنے بیٹھے بیٹھے غائب ہو جاتی ہیں ، بیٹھے بیٹھے حاضر ہو جاتی ہیں تب بھی اسے احساس تک نہیں ہوتاکہ یہ روحیں ہیں۔(ص:۱۶۱)پہلی دفعہ دن کے وقت جنگل پار کرتا ہے تو راستہ نہیں ملتا، اجنبی کتا جنگل پار کراتا ہے۔ دوسری دفعہ رات کے وقت جب روحیں پیچھا کرتی ہیں تو اندھیرے کے باوجود اسے صاف راستہ معلوم ہے۔ ص:۵۷پر مادام کوتو کے بار میں روحیں دندناتی ہیں اور مادام کوتو بھی اس سے آگاہ ہے لیکن آگے چل کر سارے ناول میں مادام کوتو روحوں کی موجودگی پر حیرت زدہ ہی نظر آتی ہے۔


بن اوکڑی کے پاس ایسی کہانی کا فقدان ہے جو اپنے اندر طلسمی حقیقت نگار عناصر سمو سکے۔ انہوں نے ایک مافوق الفطرت بچے کو اپنا ہتھیار بنایا مگر اسے بھی صحیح طرح استعمال نہ کرسکے۔ انہیں معلوم ہی نہیں کہ کس طرح طلسمی حقیقت نگار فضا بنانی ہے ۔ وہ کہانی کی تعمیر میں مافوق الفطرت عناصر نہیں لاتے بلکہ بھونڈے اور بچگانہ انداز میں ٹھونستے ہیں۔ ازارو کو یوں تو راستہ چلتے روحوں کی زیارت ہو جاتی ہے لیکن اگر نہ بھی ہو تو مصنف خود ہی بیانیے کو تختِ سلیمانی پر اڑا کر اسے رو حوں کا دیدار کروا دیتے ہیں۔ بستر پر سوئے ازارو کو خراب دودھ میں سے جن نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ بستر پر لیٹا ازارو اُڑ کر چھت سے باہر نکل جاتا ہے ۔ رات کو بستر سے اٹھ کر جنگل کی طرف چل پڑتا ہے اور وہاں روحوں کے ریوڑ میں گھِر جاتا ہے۔ مادام کوتوکے بار میں کھڑے کھڑے سمتِ غیب سے ایک ایسی ہوا چلتی ہے کہ کسی اور مابعد الطبیعاتی دنیا میں پہنچ جاتا ہے ۔ ناول کے اندر کسی بھی قسم کے جواز کے بغیر ازارو کو روحیں نظر آنے لگتی ہیں۔ یہ بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے لیکن پھر اس سب کی کوئی معنویت بھی تو ہونی چاہیے جبکہ بن اوکڑی اپنے کسی بھی مافوق الفطرت واقعے کو بامعنی بنانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر تھیلے والی روحیں ازارو کو اٹھا کے لے جاتی ہیں، وہ تھیلہ کاٹ کے واپس بھاگ آتا ہے۔ کتنی بے چاری روحیں ہیں کہ ایک بچہ ان سے چھڑا کر بھاگ جاتا ہے اور اس کے بعد وہ اسے اٹھانے کی کوشش تک نہیں کرتیں۔اس کے بعد ناول میں تین دفعہ تھیلے والی روحیں ازارو کے سامنے آتی ہیں، اسے دور سے تھیلہ دکھاتی ہیں لیکن اٹھاتی نہیں ہیں۔ اگر اٹھانا نہیں ہے تو آتی کیوں ہیں۔اور اگر اٹھانا چاہتی ہیںتو کامیاب کیوں نہیں ہوتیں؟


اوپر کہا جا چکا کہ جب مافوق الفطرت عناصر ٹھوس حقیقی انداز میں حقیقی دنیا میں داخل ہو جائیں، اسے طلسمی حقیقت نگار تکنیک کہا جاتا ہے۔ اگر حقیقی دنیا میں جادو کے طور پر طلسمی عناصر آئیں تو یہ حقیقت نگاری اور اگر جادوئی دنیا میں حقیقی عناصر پائے جائیں تو یہ فینٹیسی ہی کہلائے گی۔ بن اوکڑی کے فکشن میں مافوق کو برتنے کے ذرائع حقیقت کی آنکھ یا حقیقی ماحول نہیں بلکہ دن سپنا،خواب، التباس، واہمہ، غشی، شیزو فرینیا وغیرہ ہیں اور ان کے بعد ظاہر ہے کہ مافوق کا وجود حقیقت میں آ ہی نہیں سکتا۔ ص:26, 60, 69, 134, 141, 149, 159, 163-64, 191, 207, 241, 256, 281, 310, 311, 226, 353, 360, 32, 364, 381, 420, 510, 523, 528, 530, 541سبھی صفحات پر واہمہ، التباس، شیزو فرینیا اور دن سپنا کی شکل میں طلسمی عناصر کو دکھایا گیا ہے جو کہ حقیقت نگار تکنیک کا خوبصورت استعمال تو ہو سکتا ہے ، طلسمی حقیقت نگاری بن ہی نہیں سکتے۔
’’کبھی محسوس ہوتا جیسے دنیا نے حرکت کرنی بند کر دی ہے اور یہ سورج کبھی نہیں ڈوبے گا۔ خیال آتا کہ شاید دھوپ کی تیزی نے انسانوں کو جلا کر ٹھوس حقیقت سے بعید کر دیا ہو۔ ایک سہ پہر میں اسی طرح بیٹھا ہوا تھا جب مجھے فوٹو گرافر یاد آگیا کیوں کہ میں نے ایک لڑکے کو سڑک پہ بھاگتے دیکھا ۔ اس کی نیکر پھٹی ہوئی تھی ، قمیص کا دامن جھول رہا تھا اور بائیسکل کے ایک پہیئے کے پیچھے دوڑ رہا تھا۔ تین آدمی بھی اس کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ لیکن جب وہ جلی ہوئی وین کے پاس سے گزرا تو آسمان پر ایک خوفناک روشنی ہوئی جیسے کسی بہت ہی بڑے کیمرے کا مہیب فلیش ہو۔ روشنی اتنی تیز تھی کہ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور میں نے دیکھا کہ لڑکے کا سایہ غائب ہو گیا ہے۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ طرح طرح کے چمک دار رنگ جیسے الکحل کے شعلے ہوں ، میرے پپوٹوں پر ناچنے لگے۔ میں نے آنکھ کھولی تو دیکھتا ہوں کہ سائیکل کا پہیہ خود لڑھکتا جا رہا ہے، لڑکا اپنا سایہ بن گیا ہے۔ تینوں آدمی اس پہیئے کے پاس سے دوڑتے ہوئے گزر گئے۔ بچے کا سایہ پگھل گیا اور پہیہ لڑھک کے نالے کے پاس گر گیا۔ میںنے چیخ ماری۔ ایک کتا بھونکنے لگا۔ میں دوڑ کے گیا اور سائیکل کا پہیہ اٹھا لیا، جلی ہوئی وین کے پاس جا کے چاروں طرف دیکھا ۔ لڑکا کہیں نہیں تھا۔ میںنے سٹال والوں سے پوچھا کہ کسی نے لڑکے کو دیکھا تھا۔ سب نے کہا کہ انہوں نے کوئی خاص بات نہیں دیکھی تھی۔ میں نے پہیئے کو جلی ہوئی وین کے اوپرپھینک دیا جو کوڑے سے اٹا اٹ بھر چکی تھی اور واپس جا کے کمپائونڈ کے سامنے بیٹھ گیا۔ ‘‘٭۳
یہ رِم والا لڑکاAdeجو پہلی دفعہ ازارو کو واہمے کی صورت میں نظر آتا ہے، حقیقی وجود رکھتا ہے بعد ازاں ازارو کا دوست بن جاتا ہے اور ناول کے عمل میں کافی دیر سامنے رہتا ہے۔ ایسا کردار اگر ازارو کو یوں مافوق کیفیت میں دکھائی دیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ معاملہ جادوئی سے زیادہ نفسیاتی ہے۔
ایک اور جگہ پر ازارو کو بیٹھے بٹھائے کچھ محسوس ہوتا ہے:


’’باپ اچانک ایسے رک گیا جیسے اس کے پیٹ میں گھونسا لگا ہو، پھر آہستہ آہستہ وہ زمین پر ڈھے گیا اور وہیں پڑا رہا جیسے ناک آئوٹ ہو گیا ہو۔ ماں ہنسنے لگی۔میری ایک آنکھ میں بجلی چمکی جیسے دماغ میں کیمرا لگا ہو۔ ایک لمحے کے لیے ہر چیز ساکت ہو گئی۔ دیواریں تحلیل ہو گئیں، کمرہ غائب ہو گیا اور اس لمحے کے دوران ہم کہیں اور منتقل ہو گئے۔
’’ہم اب چاند پر ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کھانا ہو گیا ہے کہ نہیں؟‘‘ باپ نے اٹھ کے اپنی پتلون جھاڑتے ہوئے پوچھا۔‘‘٭۴


اسی طرح اکثر جگہوں پر وہ اصل چیزوں کو روحوں کے طور پر سمجھ لیتا ہے اور سپرٹ چائلڈ کے بجائے ایک ایسا مخبوط الحواس بچہ نظر آتا ہے جسے ہر طرف واہمے نظر آتے ہیں۔ص:523پر مادام کوتو کے بار میں ڈانس کرتے وقت ازارو کو متلی آتی ہے اوروہ ایک نئی دنیا میں پہنچ جاتا ہے ، عجیب داستانوی ماحول میں 18سال گزار آتا ہے اور جب آنکھ پلٹتی ہے تو واپس مادام کوتو کے بار میں ڈانس کرتے لوگوں کے درمیان موجود ہے اور ماں بتاتی ہے کہ ڈانس کرتے کرتے تم گر گئے تھے، بڑی مشکل سے ہوش میں آئے تھے۔حتیٰ کہ ناول کے سب سے خوبصورت بیان میں جب ازارو کو تین سروں والی روح لے جارہی ہے تو اسے دو ہفتوں کی بھوک کی وجہ سے غشی طاری ہے۔وہ آدھا سویا آدھا جاگ رہا ہے۔ ایسے میں وہ جو بھی دیکھتا ہے، اسے حقیقی طلسماتی دنیا نہیں، غشی کی حالت میںدیکھے گئے خواب سے بہ آسانی موسوم کیا جا سکتا ہے۔ یا پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کا روحانی وجود کہیں اور چلا جاتا ہے جب کہ جسم وہیں موجود رہتا ہے۔ اس صورت میں بھی حقیقی مادی دنیا اور روحانیت کی دنیا آپس میں آمیز نہیں ہو پاتیں اور دونوں کا علیحدہ وجود قائم رہتا ہے۔
تخیل فراواں ہو تو نت نئے مضامین اختراع کرتا ہے ۔ نئے مناظر ، انوکھی تصاویر بناتا چلا جاتا ہے۔تخیل توانا ہو تو ایک پھول کا مضمون سو رنگ سے باندھاجا سکتا ہے اور اس کے ایک رنگ کو ہزار جلوے عطا کرتا ہے۔تخیل اگربانجھ ہو تو ایک ہی مضمون کو انہی لفظوں میں رگیدتا چلا جاتا ہے اور کمزور تخیل نئے واقعات، نئے مناظر کی بجائے ایک ہی واقعے یا منظر کو بار بار دہراتا چلا جاتا ہے۔قرض خواہ 6دفعہ ازارو کے والدین کو تنگ کرتے ہیں۔ازارو 12سے زائد مرتبہ مادام کوتو کے بار میں روحوں کا سامنا کرتا ہے اور یہ ٹاکرا ایک مرحلے پر بھی کسی معنی خیز مرحلے تک نہیں پہنچتا۔ ازارو چھ دفعہ جنگل کی سیر کرتا ہے۔ باپ 5کشتیاں لڑتا ہے۔ ازارو پانچ دفعہ رفیق روحوں کے قریب جاتا جاتا واپس لوٹ آتا ہے۔ یہ واقعات اپنی یکسانیت کی وجہ سے پورے ناول پر بوریت کی ایک فضا طاری کرد یتے ہیں ۔ نہ تو نیا واقعہ آتا ہے اور نہ ہی پرانے کو نیا انداز دیا جاتا ہے۔ ایک ہی عمل ، ایک ہی فعل بار بار ایک ہی طرح سے پیش آتا رہے تو ناول نگار کے تخیل میں ندرت کی کون سی دلیل دی جا سکتی ہے۔ بن اوکڑی تو روحوں کا حلیہ تک تخلیق نہیں کر پاتے۔ درجنوں جگہوں پر انہوں نے روحوں کا حلیہ لکھا اور ان کے پاس فقط ایک ہی گھسی ہوئی تکنیک ہے ؛ روح کی جسمانی ساخت میں کوئی ایک عیب دکھا دینا۔ کسی کی تین آنکھیں، کوئی بھینگا، کوئی کانا، کسی کا ایک کان ہے، کسی کے دانت لمبے لمبے، کسی کے بال گھونسلے جیسے ۔ جو بھی روح ناول میں آئی، اُس میں اورعام انسانوں میں یہی فرق ہے کہ وہ ایک عدد جسمانی عیب رکھتی ہے۔ صفحات نمبر:19, 91, 104, 125, 126, 127, 135, 141, 159, 282, 342, 491, 502, 507, 526, 530سبھی میں اسی طرح روحوں کا حلیہ بیان کیا گیا ہے۔سبھی جگہ یہی ا نداز ہے۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ روحیں ان کے تخلیقی تجربے میں شامل نہیں ہیں اور وہ ظاہر پر اپنا ہنر صرف کر کے قاری کے لیے فریبِ نظر بنانا چاہتے ہیں۔


ازارو Abikuبچہ ہے۔ ایسے بچوں کے متعلق بتایا گیا ہے کہ انہوں نے روحانی دنیا میں اپنے دوستوں کے پاس جلدی واپس لوٹنے کا وعدہ کیا ہوتا ہے۔ اگر کوئی بچہ اس وعدے کو توڑے تو اس کی رفیق روحیں اسے دنیا میں بہت تنگ کرتی ہیں اور اسے واپس جانے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس ناول میںAbikuبچہ واپس جانے سے انکار کر دیتا ہے۔ جو بچہ اس سے قبل ان گنت دفعہ چھوٹی عمر میں واپس جا چکا ہو، اس کے وہاں رکنے کی کوئی خاص وجہ ہونی چاہیے تھی لیکن ناول نگار صفحہ نمبر 6پر3وجوہات گھڑنے کی کوشش کرنے کے باوجود بھی ایسی ٹھوس وجہ نہ بنا سکا جو ایک Abikuبچے کے لیے دنیا میں رکنے کا جواز رکھتی ہو۔اگلا ،مرحلہ اس بچے کو تنگ کرنے کا ہے۔ ناول نگار کو سمجھ نہیں آتی کہ بچے کو جسمانی ، روحانی یا جذباتی کس سطح پر تنگ کروائے جس سے عاجز آ کر وہ واپس جانے کا ارادہ ظاہر کرے۔ آخر Abikuبچہ ہے، اسے عام طریقے سے تنگ بھی تو نہیں کیا جا سکتا۔ ناول نگار کا تخیل یہاں عجیب قسم کا بانجھ پن دکھاتا ہے۔ کبھی تو روحیں اسے دور سے آوازیں دے کر بلاتی ہیں۔ کبھی اسے جسمانی آزار پہنچانا چاہتی ہیں اور وہ بھی اَن منی سے کوشش کرتی ہیں۔ ایک جگہ اسے دو روحیں تھیلے میں اٹھا کر واپس لے جا رہی ہیں مگر وہ تھیلہ کاٹ کر واپس بھاگ آتا ہے۔ اس واقعے کے بعد یہ روحیں کئی دفعہ آتی ہیں، اسے ڈرانے کے لیے تھیلہ دکھاتی ہیں، اٹھانے کی دوبارہ کوشش کے بجائے محض تھیلہ دکھانے پر ہی اکتفا کرتی ہیں اور پھر غائب ہو جاتی ہیں۔ Abikuبچے کو ایسے بھونڈے طریقے سے ڈرایا جا رہا ہے جیسے کسی عام بچے کو ڈریکولا کا ماسک لگاکے ڈرانے کی کوشش کی جائے۔خیر ازاروکو تنگ کرنے کے سبھی طریقے مضحکہ خیز ہی ہیں لیکن سب سے مضحکہ خیز وہ تین سروں والی روح ہے جو ازارو کے پاس آ کر لجاتی ہوئی کہتی ہے کہ میرے ساتھ چلو۔


’’دیکھو میرے صرف تین سر ہیں۔ اگر میںخالی ہاتھ گئی تو تمہارے ساتھی اس روح کو بھیجیں گے جس کے چار سر ہوں گے۔‘‘٭۵


اور یہ ساری ڈراما بازی اس وقت مزید بچگانہ لگتی ہے جب ہم شروع کا ایک منظر یاد رکھتے ہیں کہ رفیق روحوں کی آواز ہی اتنی پر کشش ہوتی ہے کہ ازارو رُک ہی نہیں سکتا،بے اختیار لپکتا چلا جاتا ہے۔


’’میں ایک دیوار سے پیٹھ لگائے بیٹھا تھا۔کبھی اونگھ جاتا، کبھی جاگ جاتا۔ انسانی جسموں کی افراتفری میں گھرا ہوا تھا کہ میں نے گانے کی میٹھی میٹھی آوازیں سنیں۔ میری ساتھی روحیں جن کی آوازوں میں ناقابلَ برداشت ترغیب تھی، میرے لیے گیت گا رہی تھیں ، اپنے عہد کے ایفا کا تقاضا کر رہی تھیں، کہہ رہی تھیں کہ انسانوں کے جشن کے فریب میں نہ آئو اور اس سر زمین میں واپس آ جائو جہاں جشن کبھی ختم نہیںہوتا۔ انہوں نے اپنی فرشتوں جیسی آوازوں میں اصرار کیا اور میں نشے میں مدہوش مَردوں کے جسموں کے اوپر ڈولتا ہوا باہر رات کی تاریکی میں چلا گیا، خوبصورت گیتوں کے پروں پر چلتا ہوا سڑک پر پہنچ گیا۔ بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ آوازیں مجھے کہاں لے جارہی ہیں۔ یوں ہی ڈولتا ہوا میں جھاڑیوں کے بیچ میں گزرا اور اس کنویں پر پہنچ گیا جس کا منہ ایک چوڑے تختے سے ڈھانپ دیاگیا تھا۔ اس تختے پر ایک بڑا سا پتھر رکھا تھا ۔ میں نے پتھر ہٹانے کی کوشش کی لیکن نہیں ہٹا سکا۔ اسی طرح اپنے علاقے میں منڈلاتا رہا۔ میرے پائوں دکھنے لگے اور رک کے دیکھا تو ان میں سے خون نکل رہا تھا۔لیکن نہ تو گھبرایا نہ پریشان ہوا کیوں کہ کوئی تکلیف نہیں ہو رہی تھی۔ جلد ہی میں اس وسیع جنگل کے کنارے پر پہنچ گیا جس میں اندھیرے کے دیوتا کا راج ہے۔ اس تاریکی میں داخل ہونے ہی والا تھا کہ وہ کالی بلی دکھائی دی جس کی آنکھیں ہیرے کی کنی کی طرح چمک رہی تھیں۔ پھر قدموں کی چاپ میری طرف آتی سنائی دی۔ میں بھاگا تو میڈم کوٹو کے بھاری بھرکم بازوئوں میں تھا۔‘‘۶٭


واضح ہے کہ روحیں ازارو کو لے جانے میں سنجیدہ ہی نہیںورنہ اگر یوں ہی کسی بھی جگہ سے مسمرائز کر کے دریا ، صحرا کے پاس لے جاسکتی ہیں تو پھر وہ کسی بھی وقت لے جاسکتی ہیں۔روحوں کا ازاروکی دنیا میں اتنا عمل دخل ہے تو پھر انہیں بار بار ناکامی کاسامنا کیوں ہوتا ہے۔ بن اوکڑی نے کتنی با اختیار روحوں کوکس مضحکہ خیز حد تک بے اختیار دکھایا ہے۔ آخرتک یہ روحیں اسے واپس لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکیں اور پورا ناول ’’دگڑ دگڑ دگڑدگڑ‘‘ والے لطیفے کی عملی مثال بن کر رہ گیا ہے۔


پھر روح کی مراجعت کو روکنے میں قربانی کے اثر کا معاملہ ہے۔ صفحہ نمبر6پر بتایا گیا ہے کہ سپرٹ چائلڈ کو،اگر وہ جا رہا ہو تو دنیا میں واپس لانے کے لیے قربانی اثر نہیں کرتی،وہ رک نہیں سکتا جبکہ دو دفعہ ازارو رفیق روحوں کے بالکل قریب پہنچ چکا ہوتا ہے اور ماں باپ کی قربانی اسے واپس لے کے آتی ہے۔ ازارو کے ماں باپ کے حوالے سے بھی ناول کا عمل الجھا ہوا ہے۔ پیدائش سے لے کر بچپن تک اس کے ماں باپ عام لوگ ہیں۔ ایسے عام لوگ جن کے پاس کوئی مافوق الفطرت طاقت نہیںہے۔ لیکن آخر تک پہنچتے پہنچتے ماں اور باپ دونوں کے پاس عجیب و غریب قسم کی روحانی طاقتیں آجاتی ہیں۔ ماں تین دفعہ ازارو کو روحوں کے شکنجے سے چھڑا لاتی ہے۔ ایک دفعہ باپ مرنے والا ہے اور ماں اس کے خواب میں جا کر اسے بچا لاتی ہے۔ شروع میں اس پورے گھر میں صرف ازارو کو روحیں نظر آتی ہیں ۔ پھر باپ بھی دیکھنے لگتا ہے اور آخر پر تو ماں بھی روحوں کے ساتھ at homeلگنے لگتی ہے۔یہاں اعتراض اس بات پر ہے ہی نہیں کہ یہ سب مافوق ہے بلکہ سوال اس بات پر اٹھتا ہے کہ ماں ایک عام عورت ہوتے ہوئے یہ سب کیسے کر لیتی ہے۔ ماں باپ کے اندر ان طاقتوں کا ظہور کسی بھی قسم کی توجیہہ کے بغیر ہے اور ناول پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ مادام کوتو کا کردار بھی اسی طرح اوٹ پٹانگ ہے۔صفحہ58پر اس کی آمد ایسے ہوتی ہے جیسے وہ روحوں کا توڑ جانتی ہے اور یہ احساس آگے بھی کئی دفعہ ہوتا ہے لیکن اس کے اپنے بار میں درجنوں دفعہ روحیں آتی ہیں اور وہ انہیں دیکھ تک نہیں پاتی یا شناخت نہیں کر سکتی۔ ایک نابینا بڈھے کا کردار بھی ناول میں بہت عجیب ہے۔ ایک دفعہ وہ کنکر پھینکتے بچوں کو روحیں سمجھ لیتا ہے یعنی مغالطے کا شکار ہے اور ناول میں کئی دفعہ وہ روحوں کے ساتھ پھاگ کھیلتا آدمی دکھائی دیتا ہے۔ اتنا پہنچا ہوا آدمی اصلی بچوں کو روحیں کیسے سمجھ لیتا ہے۔اس کردار کا ناول میں حصہ بہت ہے، مگر مقام کہیں سمجھ نہیں آتا ۔ آخر اس کردار سے ناول کا کون سا مقصد پورا ہوا ہے۔


خود ازارو کا کردار ، کردار ہے ہی نہیں، محض ناول نگار کے ہاتھوں میں ایک کٹھ پتلی ہے جس سے وہ کسی بھی وقت کچھ بھی کروا سکتا ہے اور اس کی وجہ ناول کے اندر بیان کرنا ضروری نہیں سمجھتا حالانکہ فینٹیسی بھی ہو تواس میں بھی ایک اندرونی منطق ہوتی ہے جس سے ناول کا عمل آگے بڑھتاہے جب کہ بن اوکڑی کسی بھی قسم کی منطق کا احساس رکھے بغیر جو سمجھ میں آئے ، کرتے جا رہے ہیں۔یوں ازارو اور اس کے مافوق الفطرت ہونے کا تمام حصہ ناول میں ایک بے معنی چیستاں بن کر رہ جاتاہے۔


طلسمی حقیقت نگاری کے لحاظ سے ناول کے واقعات اور کرداروں کا مختصر جائزہ لینے پر واضح نظر آتا ہے کہ بن اوکڑی حقیقت اور طلسمات کو باہم آمیز نہیں کر سکے اور طلسمی دنیا ٹھوس حقیقت کا روپ اختیار نہیں کرسکی۔کہیں مکمل حقیقت ہے، کہیں مکمل فینٹیسی۔ دونوںمل کر ایک ناقابلِ شناخت روپ اختیار ہی نہیں کر پاتے۔ اور اگر کہیں کچھ واقعات ایسے ہیں بھی جہاں طلسمات نے حقیقت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے تو وہ بھی بے معنی اور بے جواز ہونے کے باعث ناول کا حصہ نہیں بن پاتے۔ یوں ناول طلسمی حقیقت نگاری کی سرحد پر پہنچنے سے پہلے حقیقت اورطلسمات کی باہمی کشا کش میں دم توڑ دیتا ہے۔
طلسمی حقیقت نگاری کے لیے لازم ہے کہ واقعات کلچر کے اندر سے پھوٹتے ہوں اور ناول کے عمل میں اپنی معنویت اور جواز رکھتے ہوں۔ بن اوکڑی کے ہاں یہ شوق تو بدرجۂ اتم پایا جاتا ہے کہ ناول کو طلسمی حقیقت نگار بنایا جائے اور وہ صفحہ صفحہ مافوق الفطرت کردار ، تحیر خیز واقعات اورمحیر العقول اشیاء دکھاتے چلے جاتے ہیں لیکن بیشتر ان کا یہ عمل ناول کے لیے بلاجواز اور بے معنی ہونا ہے۔ بہت سے واقعات ایسے ہیں جن کا ناول کے عمل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً صفحہ 10پر بتایا گیا ہے کہ ازارو نے دوسری دنیا میں واپس جانے کا اپنا ٹوکن چھپا کے رکھا ہوا ہے جو واضح اشارہ ہے کہ اس نے واپس ضرور جانا ہے۔ اس کے بعد پورے ناول میں یہ ٹوکن استعمال نہیں ہوا۔ ص:16پر معلوم ہوتا ہے کہ ازارو جانوروں کی بولی سمجھ لیتا ہے لیکن آگے پورے ناول میںاس غیر معمولی صلاحیت کا تذکرہ تک نہیں ملتا۔ پولیس افسر کے گھر میں بھوتوںکی موجودگی اور بازار میں پھرتی روحوں کا جنگل تک تعاقب، مینڈک کے ساتھ مکالمہ، سبھی ناول میں غیر ضروری ثابت ہوئے۔پہلی دفعہ جب فوٹو گرافر آتا ہے تو اس کے کیمرے سے بھوت نکلتے ہیں، اس کے آگے پیچھے بھوت ہی رہتے ہیں۔ بعد میںپورے ناول میں فوٹو گرافر ایک عام فوٹو گرافر کے طور پر آتا رہا۔جنگل میںبار بار نظر آنے والا کتا بھی اگر نہ ہو تو ناول کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ازارو چوہوں کی بولی جاننے لگا ہے اور پورے ناول میں کئی جگہوں پر وہ چوہوں کی گفتگو سنتا رہتا ہے لیکن تخیل کی کمزوری چوہوں سے چوہوں کے شایانِ شان گفتگو نہیں کروا پاتی۔ اگر چوہوں کو نطق عطا کیا گیا ہے تو بات بھی تو وہ کہی جانی چاہیے جس کے لیے صرف چوہے کا نطق لازم ٹھہرتا ہو۔ جب کہ ازارو چوہوں کی زبانی کیا سنتا ہے ، ملاحظہ کیجیے:
’’چوہے کہہ رہے تھے کہ دنیا آگ اور فولاد سے زیادہ سخت ہے۔‘‘٭۷


سبحان اللہ ! کیا کائناتی راز فاش کر دیا چوہوں نے۔ خیالات کی دنیا میں انقلاب برپا ہو گیا، تمام فلسفۂ مغرب کا رُخ ہی موڑ دیا گیا، اسی جملے سے آئندہ زمانوں میں انقلاب کے بیج پھوٹیں گے اور اسی راز کے کشف سے انسان بامِ فلک پر اپنی فکر کی کمند پھینکنے میں کامیابی پائے گا۔وغیرہ وغیرہ۔ خیر ابھی تھوڑا توقف کہ اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ی اس سے اگلے جملے میں ہے۔ یہ بھی دیکھ لینی چاہیے:


’’میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کا مطلب کیا تھا اور میں یہ کوشش کرتے کرتے سو گیا کہ وہ مجھے مطلب سمجھا دیں۔‘‘٭۸


واقعی چوہوں کی بات اتنی مشکل تھی کہ شاید دو چار دبستانِ ہائے فلسفہ مل کر اس کو سمجھ سکتے ہیں۔


فوٹو گرافر کا پورا کردار اضافی ہے اور ناول نگار اس سے کوئی کام نہ لے سکے۔ حتیٰ کہ جب وہ فرار ہونے کے بعد لوٹتا ہے تب بھی اس کے پاس سنانے کو کچھ نیا نہیں ہے۔ ایک نظر دیکھتے ہیں کہ کئی مہینوں کے بعد لوٹنے والے فوٹو گرافر کے پاس سنانے کو کیا کچھ ہے:
’’میں دو ایک رشتہ داروں کے ہاں رہا۔ لیکن میں نے نوٹ کیا کہ عجیب طرح کے لوگ ان کے مکانوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ میں سن چکا تھا کہ یہاں سڑک پہ کیا ہوا ہے۔ مجھے اپنے کیمرے کے لیے کچھ چیزوں کی ضرورت تھی۔ سوچا کہ اب تو کافی دن گزر گئے ہیں اور معلوم نہیں کیسے آج رات میں اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔ راستے بھر میں اندھیرے کونوں اور گلیوں سے ہوتا ہوا آیا۔ بہت احتیاط کرتا ہوا۔ جب اپنے کمپائونڈ کے پاس پہنچا تو تو دو آدمیوں نے مجھے آ دبوچا اور میرے سر پر کلہاڑی اور ڈنڈا مارا۔ ان سے لڑ لڑا کے میں جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ وہاں ایک مچھر نے مجھے کاٹ لیا۔ دو ٹانگوں والا کتا اندھیرے میں مجھے دیکھ کے غرانے لگا۔ وہ نظر نہیں آرہاتھا۔ مجھے بھوک لگنے لگی اور درختوں میں سے آوازیں آنے لگیں تو سوچا کہ جو ہوتا ہے، ہونے دو گھر چلتا ہوں۔‘‘٭۹


اگر اس کردار نے اتنی مدت بعد پلٹ کریہی بتانا تھاکہ ’’میں دو ایک رشتہ داروں کے ہاں رہا‘‘تو اسے اتنی مدت پردے میں رکھنے کا جواز کیا بنتا ہے؟ جس کردار کی دکھ بھری بپتا میں مچھر کا کاٹنا بھی ایک اہم ترین واقعہ بن جائے، اس کردار کو ناول میں جگہ دینا کس لیے ضروری ٹھہرتا ہے۔ ناول نگار نے خواہ مخواہ اس کو واپس بلانے کی زحمت دی۔ اِس سے بہتر تھا کہ وہ روپوش ہی پڑا رہتا۔ قاری کے لیے ایک سوال اٹھنے کا امکان تو موجود رہتا۔
ص:152پر ازارو کے کچھ رشتہ دار آتے ہیں جو ناول کے پورے منظر نامے میں بالکل اضافی ہیں۔ نہ پہلے ان کا ذکر ہوا نہ بعد میں کہیں یہ دوبارہ آئے۔ ص:192پر ماں جس بازار میں کام کرتی ہے وہاں کا پر اسرار بڈھااور اس کا مشروبِ خاص بے مقصد ٹھہرے۔ جو شربت پلانے سے پہلے ناول نگار نے سسپنس کی انتہا کر دی تھی، اگر پینے کے بعد اس کا کوئی اچھا یا برا اثر نہیں ہونا تھا تو پھر اتنا سسپنس کیوں ڈالا گیا تھا۔ ص:220پر ازارو صاحب اپنے جھونپڑے میں لیٹے لیٹے اڑتے ہیں اور چھت سے گزر کر باہر نکل جاتے ہیں۔ یہ کوئی خاص رات بھی نہیں جس کا اثر ہو اور اڑنے کے بعد کوئی کارنامہ بھی نہیں دکھایا گیا، محض ہوا میں ’’چہل پَرنی ‘‘کر کے اپنے بستر پر آن موجود ہوتا ہے۔ تو پھر یہ سارا واقعہ گھڑنے کا کیا مقصد ہے:
’’ایک رات میں کسی نہ کسی طرح چھت سے اوپر چلا گیا۔ انتہا سے زیادہ تیز رفتاری سے اوپر اٹھ رہا تھا اور میرے اندر سے ستارے ٹوٹ ٹوٹ کے گر رہے تھے۔ اپنی رفتار پر قابو نہیں رہا تھا اس لیے کبھی اوپر جاتا تو کبھی نیچے، کبھی اِدھر تو کبھی اُدھر۔ناقابلِ بیان چوٹیوں اور بلندیوں پر لٹو کی طرح گھومتا ہوا۔ چکراتا ، گھومتا، غوطے لگاتا اور ناچتا ہوا۔ تاحدِ نگاہ اندھیرا تھا، کسی نشانی ، کسی نقش کے بغیر۔ میں اٹھتا چلا گیا لیکن آسمان تک نہیں پہنچا۔ بلندیوں کی پرواز کی نعمت کا لطف لیتاہوا۔ اور تب مجھے اندازہ ہوا کہ پرواز میں کس قسم کی غیر انسانی شادمانی پوشیدہ ہے۔


اسی طرح ایک رات میںاپنی رفتار کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کچھ ہوا۔ شعلہ سا بھڑکا جیسے کوئی آواز ہو جومیرے اندر پھٹ پڑی ہو۔ ایسا لگا جیسے میں بکھر گیا ہوں۔ پتوں کی طرح حوادث کے جھونکے میں تتر بتر ہوگیا ہوں۔انتہائی قابلِ برداشت گہری تاریکی کے خلا میں گرنے لگا اورمیرے ہلکے وجود میں ہیرے کی کنی کی سی چبھن محسوس ہونے لگی۔ میں نے اپنے بدن میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کی لیکن گھپ اندھیری رات کا بہائو مجھے کسی اور سمت لے گیا۔ اور پھر میں نے محسوس کیا کہ غیر معمولی تیز رفتاری سے میں ایک اندھیرے کنویں میں گر رہا ہوں۔ کنوئیں کی تہہ سے جا ٹکرایا جہاں ایک سفید چیز نے مجھے نگل لیا اور پھر اندھیرا ہو گیا۔ میں چیخنے لگا۔ اور جب حواس ٹھیک ہوئے تو چوہوں کے کترنے کی آواز آئی۔ ماں باپ کے خراٹے سنائی دیے اور دروازے پر کسی کی زور زور کی دستک سنائی دی۔ ‘‘٭۱۰


اس کے بعد کسی زمیندار کے چھ ناجائز بیٹوں کی لڑائی کا باب بالکل فضول ہے اور ناول کے ساتھ اس باب کا کوئی تعلق نہیں بنتا۔ یوں لگتا ہے کہ انہوں نے کہیں یہ منظر لکھ کے رکھا ہوا تھا اور اٹھا کر ناول میں ڈال دیا تا کہ اتنے لکھے ہوئے صفحے کسی کام تو آ جائیں۔یہاں یہ بھی وضاحت کرتے جائیں کہ اوپر بیان کیے گئے واقعات ناول کے پہلے ایک تہائی حصے میں سے لیے گئے ہیں ورنہ پورا ناول ہی اس طرح کی اضافی اور فالتو چیزوں سے بھرا پڑا ہے۔
بن اوکڑی ناول کو ٹریجک بنانا چاہتے ہیں لیکن ٹریجڈی بنانے میں سخت ناکام رہتے ہیں۔ شروع سے ہی بن اوکڑی نے ناول کو ایک ایسی ڈگر پر چلایا ہوا ہے جس سے ازارو پر ٹوٹنے والی مصیبتیں دیکھ دیکھ کر قاری کا دل تڑپ کر رہ جائے۔ حالانکہ قاری جانتا ہے کہ ازارو وہ بچہ ہے جو سینکڑوں دفعہ اس دنیا میں آیا اور موت کا شکار ہو کر واپس چلا گیا۔ ایک ایسا بچہ جس نے موت کا سامنا اَن گنت بار کیا ہوا ہو، اس پر آنے والی چھوٹی چھوٹی مصیبتیں قاری پر کیا اثر کر سکتی ہیں۔ آغاز میں ہی فسادات کی وجہ سے ازارو اور اس کے والدین بے گھر ہو گئے۔پھر ازارو کو خانقاہ کی کچھ عورتیں (غالباً) ذبح کرنے کے لیے اٹھا لے جاتی ہیں اور ازارو وہاں سے کسی چالباز جاسوس کی طرح بھاگنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ازارو ایک پولیس افسر کے گھرپہنچ جاتا ہے تو وہاں روحوںکی موجودگی سے خواہ مخواہ ڈر جاتا ہے حالانکہ اس سے قبل ازارو ، روحوں کے پیچھے پیچھے (محض شغل میں!!!!)جنگل تک چلا گیا تھا۔ اگر پولیس افسر کے گھر میں روحوں سے ڈرا ہے تو اس کی کوئی الگ سے وجہ بھی ہونی چاہیے تھی۔ٹریجڈی بنانے کی دوسری بھونڈی کوشش قرض خواہوں کے بار بار مطالبے کی صورت ہمارے سامنے آتی ہے۔ بن اوکڑی ازارو کے ماں باپ کی معاشی تنگ دستی ، غربت اور فاقہ کشی کے بیان سے پڑھنے والوں کے دل پانی کرنا چاہتے ہیں لیکن قرض خواہوں کے مطالبے کی تکرار اتنی زیادہ ہے کہ قرض کا بوجھ دُکھ کی بجائے بوریت پیدا کردیتا ہے۔ شاید بن اوکڑی کو معلوم نہیں کہ ٹریجڈی دکھانے کے لیے بیرونی طاقت کے جبر کی بجائے اندرونی الم ناکی کا بیان زیادہ شدت پیش کرتا ہے اورنسبتاً زیادہ فن کارانہ مہارت کا بھی متقاضی ہے۔ قرض خواہوں کے بار بار آ کر دروازہ پیٹنے سے یوں لگتا ہے کہ بن اوکڑی جو تاثیر اپنے فن سے پیدا نہیں کرسکے، وہ تکرار سے پوری کرنا چاہتے ہیں۔ خیر،قرض خواہوں سے پیچھا چھوٹ جانے کے بعد بن اوکڑی کے پاس یہ مسئلہ ہے کہ ازارو اور اس کے اہلِ خانہ پر کوئی اور مصائب کیسے لائے جائیں۔ ازارو پر تو پھر بھی روحوں کے بار بار آنے اور واپس لے جانے کی کوشش میں دکھ کے پہاڑ ٹوٹتے دکھائے جا سکتے ہیں لیکن ماں باپ کی صعوبتیں کیا بیان ہوں۔ بن اوکڑی نے اس کا حل یہ نکالا کہ ازارو کو آوارگی کے دوران ایک دن باپ کے کام کی جگہ پر بھیج دیا اور ایک دن ماں کے کام کی جگہ ۔ یوں انہیں ماحول کی منظر نگاری کا بھی کافی وقت مل جاتا ہے اور ازارو کے ماں باپ کے مصائب بیان کرنے کا راستہ بھی۔ ان اَلم انگیز واقعات کے بعد بن اوکڑی ایک اجتماعی ٹریجڈی بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو سیاسی پارٹیوں کی انتخابی مہم سے چل کر خراب دودھ کی تقسیم ، پارٹی کا جلائو گھیراو اور پارٹی کے جوابی حملے تک جا پہنچتی ہے۔ بن اوکڑی کا بس نہیں چل رہا کہ کس طرح اپنے کرداروں اور اپنے ماحول کے ساتھ ہونے والی زیادتی سنا سنا کے روئے۔ بھی اور رلائے بھی(یہاں ایک منظر ایسا ہے جو ٹریجڈی پیدا کرنے کی ایک بھونڈی کوشش قرار دیاجا سکتا ہے۔ جب سیاسی پارٹی کو مارا اور ان کی وین کو جلایا گیا تو ازارو دور کھڑا تماشا دیکھ رہا تھااور ایک ناقابلِ توجہ بچے کی حیثیت رکھتا تھا لیکن جب سیاسی پارٹی والے بدلہ لینے آئے اور بستی کے لوگوں کو مارپیٹ کر رہے تھے تو وہ بار بار ’’ازارو کو جلائو، ازارو کو جلائو‘‘ کہہ رہے تھے۔ ازارو پر ان کی یہ خصوصی شفقت بے وجہ ہے اور مصنف نے اس لیے یہ روا رکھی کہ انہیں احساس ہے ، وہ پوری بستی میں کوئی ایسا کردار نہیں رکھتے جس پر ظلم ہوتا دیکھ کر قاری کی آنکھیں اشک بار ہو جائیں، سو ان کے پاس لے دے کے ازارو ہی رہا جاتا ہے ، جس سے وہ کچھ ہمدردی کیش کرا سکتے ہیں۔ اس لیے وہ مارنے والوں کو ازارو کے پیچھے لگا دیتے ہیں تاکہ اتنے خون خرابے سے وہ قاری کے دِل میں المیہ جذبات تو ابھار سکیں )حالانکہ حضرت اتنا نہ سمجھے کہ مارنے والے پر فوکس رکھنے سے نہیں، مرنے والے کے دکھ درد پر توجہ رکھی جائے تو المیہ بنتا ہے۔ ہمیں بستی والوں کوسیاسی پارٹی کا گھیرائو کرتے اور مارتے دکھایا گیا ، بعد ازاں بستی والوں کے خلاف انتقامی کاروائی بھی دکھائی گئی لیکن اس سارے منظر نامے میں بستی کا کوئی ایک بھی آدمی ایسا نہیں دکھایا گیا جو اس ظلم کا شکارہوا ہو یا اس کی انفرادی/ خاندانی زندگی کو ناقابلِ تلافی گزند پہنچا ہو۔ المیہ پیدا ہوتا ہے مظلوم پر بیتنے والے کرب کے بیان سے ۔ اس کے دکھوں کو ہمدردانہ نظر کے ساتھ دیکھنے سے ۔ ظلم کے منظر کی تصویر کشی محض تفریح پیدا کرتی ہے جو سطحی قسم کے ادب کی خوبی ہے، اعلیٰ ادب اُس ظلم کے دوران انسانی صورت حال کا بیان کرتا ہے، ایسے کردار تخلیق کرتا ہے جن کے دُکھ پر قاری کا لہو پانی بن کر بہنے لگے، ایسے کردار بنائے جاتے ہیں جو اپنی انفرادی حیثیت کے علاوہ پوری قوم یا بنی نوع انسان کے لیے بھی علامت بن سکیں۔ بن اوکڑی اپنی سرزمین کا زندہ تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے پوری بستی میں ایک بھی ایسا کردار تخلیق کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے جو صحیح معنی میں سیاسی جبر کا شکار ہو کر اپنے اندرونی کرب کی وجہ سے افریقہ کی بے بسی اور مجبوری کی علامت بن سکے۔ ان سبھی کوششوں میں فنکارانہ ناکامی کی وجہ سے پورے ناول میں کہیں بھی حقیقی معنی میں المیہ نہ بن سکا اور کرداروں کا پورا ایک کارواں گزرنے کے بعد ناول کے صفحات آگ بجھی ہوئی اِدھر، ٹوٹی ہوئی طناب اُدھر کا منظر پیش کر رہے ہیں۔


ازارو کو ٹریجک ہیرو بناتے وقت اوکڑی یہ متعین ہی نہ کر سکے کہ ایک سپرٹ چائلڈ کے لیے کون سی بات تکلیف دہ یا اذیت ناک ہو سکتی ہے۔ آخر ایک ایسا بچہ جسے عالمِ ارواح کے سبھی حالات یاد ہوں، جو اس سے قبل سینکڑوں ، ہزاروں دفعہ جنم لے کر مرچکا ہو اور جسے معلوم ہے کہ اس کے بعد بھی وہ ہزاروں دفعہ جنم لے گا ، اس کے لیے روحوں کی یہ معمولی چھیڑ چھاڑ ،واپسی کی کھینچا تانی بچگانہ کِکلی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ چہ جائیکہ اسے ازارو کا المیہ سمجھا جائے۔ ایسے بچے کو روحوں کے چک بھلاوے سے کوئی خاص مسئلہ کیسے ہوسکتا ہے۔ المیہ بنانے کے لیے تو ایسے واقعات منتخب کرنے چاہیے تھے جن کاکرب ازارو کی روح کو ہلا کے رکھ دیتا۔ناول میں بن اوکڑی نے جو المیہ بنانے کی کوشش کی ہے، وہ المیہ کی بجائے ایک بچے کے ریت کے گھروندے کو توڑنے کی دوسرے معصوم بچوں کی بے ضرر شرارت سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی جبکہ بن اوکڑی اور اُن کے نقاد اس المیہ کو مثالی حیثیت دینا چاہتے ہیں۔


بن اوکڑی جہاں طلسمی حقیقت نگاری کی تکنیک کو اپنانے،ناول کو ٹریجڈی بنانے میں ناکام ہوئے ہیں، وہاں وہ حقیقت کی دنیا پیش کرنے میں بھی ناکام ہیں۔ پورا ناول جس ماحول میں لکھا گیا ہے ، وہ ماحول ایک خاکے سے زیادہ سامنے نہیں آتااور کسی بھی پہلو سے زندہ نہیں لگتا۔سیاست جو تیسری دنیا کے ممالک کی اجتماعی زندگی میں سب سے گھناونا کردار ادا کرتی ہے، اس کا ذکر تو آتا ہے ، اثر نہیں آتا۔ انتخابی مہم کے دوران ہونے والا ہلہ گلہ کسی Thrillerکے صفحات کا منظر نظر آتا ہے۔ اس سے سیاست کا اصل چہرہ سامنے نہیں آتا۔ پورے ناول میں اس سیاسی ریلی کا بار بار ذکر ملتا ہے جس نے آنا ہے اور جس کا شور پہلو میں دل کی طرح ہے لیکن جب وہ آتی ہے تو اک قطرۂ خوں تک نہیں نکلتا۔ یقینا بن اوکڑی کو افریقہ کی سیاست کا کوئی حقیقی تجربہ نہیں ہے ورنہ وہ اتنی سطحی تصویر پیش کرنے کی بجائے سیاست کے ادارے کی گہرائی میں بھی جھانکتے۔


ازارو بچہ ہے، مانا کہ ہزاروں سال سے بار بار جنم لینے والا بچہ ہے لیکن ہے تو بچہ ہی،اسے اتنا بھی ودیا مان نہیں ہوناچاہیے کہ اسے باکسنگ ،تھیٹر،تاریخ اور تعمیرات کی جدیدترین اصطلاحات سے بھی آگاہی ہو۔ ازارو کی بجائے یہ آگاہی بن اوکڑی کی طرف سے دی گئی ہے۔ کیوں کہ اگر ہم یہ سمجھیں کہ ازارو اپنے پچھلے جنموں سے یہ معلومات حاصل کرچکا ہو گا تو پھر تو اسے اور بھی بہت کچھ یاد ہونا چاہیے تھا جو ناول نگار سے کبھی سنبھالا ہی نہ جاتا۔ دوسرے وہ ان جنموں میں بھی بچہ ہی رہا تھا، یہ بڑکپن کی باتیں اس تک پہنچی ہی نہیں ہوں گی۔ تیسرے وہ پرانے زمانوں میں زندہ رہا ہو گا، معاصر وقت کی جدید اصطلاحات سے آگاہی کیسے ہوسکتی ہے؟


ناول کے آخر میں باپ کو کتابیں پڑھنے کا شوق چراتا ہے۔ خود نہیں پڑھ سکتا تو ازارو کو پکڑ کے اس سے پڑھوا کر سنتا ہے۔ پڑھنے کا دورانیہ بھی صرف شام کے اوقات ہیں اور باپ بیٹے دونوں کو کچھ سمجھ نہیں آتا ، اس لیے باپ ایک ضخیم ڈکشنری لے کر آتا ہے جس میں سے الفاظ دیکھ دیکھ کر عبارت سمجھی جاتی ہے۔ ناول کے عمل میں باپ کے مطالعے کا یہ دورانیہ دو ماہ سے اوپر کا نہیں ہے۔ اتنے صبر آزما طریقے سے پڑھنے میں کوئی عام آدمی شاید ساٹھ دنوں میں ایک کتاب بھی بمشکل پڑھ پائے جب کہ بن اوکڑی کا یہ کردار کتنی کتابیں پڑھتا ہے ، ملاحظہ کیجیے:


’’اس نے فلسفے، سیاست ، علم الابدان ، سائنس ، علم نجوم، طبِ چین کے بارے میں کتابیں خریدیں۔ یونانی اور رومن کلاسیکی ادب کی کتابیں حاصل کیں۔ بائبل سے بے حد متاثر ہوا۔ تصوف پر حیران رہ گیا۔ الف لیلیٰ کی کہانیوں سے عشق ہو گیا۔ اسپین کی کلاسیکی عشقیہ شاعری کو آنکھیں بند کر کے سنتا رہا۔ وہ زولو قبیلے کا بادشاہ اور سلطنتِ مالی کے بانی سندیاتاکے تذکروں کو سنتا رہا… کمرے میں ہر سائز کی کتابیں بکھری نظر آنے لگیں۔ بدنما کتابیں جن کے سرورق پر نہ کوئی تصویرنہ خاکہ، ایسی باریک حروف میں لکھی ہوئی گویا صرف چیونٹیوں کے پڑھنے کی ہوں، بڑی بڑی کتابیں جن کو اٹھائیے تو کمر ٹوٹ کے رہ جائے، اتنے ترچھے حروف میں لکھی ہوئی کتابیں جن کو پڑھنے کے لیے گردن موڑتے موڑتے دکھنے لگے، کتابیں جن میں سے مکڑی کے جالے اور دوادارو میں کام آنے والے درختوں کی چھال اور بارش میں نم پرانے برادے کی بو بسی ہوئی تھی۔‘‘٭۱۱


یہ ناول طلسمی حقیقت نگارتکنیک میں ناکام ہونے کے ساتھ ساتھ بطورِ ناول بھی اپنا آپ نہیں منوا سکتا۔ ناول نگار کے پاس مواد تو کسی حد تک موجود ہے لیکن وہ فارم نہیں ہے جس میں یہ سب مواد سمو کر ایک تخلیقی وحدت اختیار کر سکے ۔ منتشر اور اپنی اپنی جگہ الگ قائم واقعات تو ہیں مگر وہ ناول کے اس بڑے کل کا پوری طرح حصہ نہیں بن سکے۔یہ ناول اپنی ساخت میں ایک بنیادی خوبی سے محروم ہے ۔ ناول کا کوئی مرکزی نکتہ نہیں ہے۔ مرکزی نکتہ ہی وہ بنیادی عنصر ہوتا ہے جو ناول کے تمام واقعات کو جواز اور معنی عطا کرتا ہے۔ ایک ایک کردار، منظر، مکالمہ، واقعہ ، ایک ایک جملہ اس مرکزی نکتے کے تاثر کو بڑھانے کے لیے (کم یا زیادہ) کردار ادا کرتا ہے جیسا کہ اورحان پامک نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے:


’’ہم اپنے دماغ میں الفاظ کو تصاویر کی شکل میں تبدیل کرتے ہیں۔ناول ایک کہانی سناتا ہے لیکن ناول صرف ایک کہانی نہیں ہوتا۔ کہانی آہستہ روی سے کئی چیزوں، بیانات، آوازوں، مکالمات، واہموں، یادداشتوں، کچھ اطلاعات، خیالات، واقعات، مناظر اور حرکات سے کہانی ابھرتی ہے۔ ناول سے مسرت حاصل کرنا، الفاظ کی کاغذی حیثیت بھلا کر انہیں ہمارے دماغ میں امیجز کی شکل میں تبدیل کرنے کے عمل کا لطف لینا ہے۔ الفاظ جو ہمیں بتاتے ہیں(یا جو کچھ وہ ہمیں بتانا چاہتے ہیں)، اسے اپنے تخیل میں مصور کرتے ہوئے ہم قاری کہانی مکمل کرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے، کتاب جو کہتی ہے، راوی جو کہنا چاہتا ہے، اس کا کہنے کا مدعا کیاہے، اس کے کہے کا ہم کیا مطلب لیتے ہیں، دوسرے لفظوں میں ناول کے مرکز کو تلاش کرتے ہوئے ہم اپنے تخیل کو ٹٹکارتے ہیں۔ ناول کا مرکز کس سے بنتا ہے؟ میرا جواب یہی ہو گا،ہر وہ چیز جو ناول بناتی ہے ۔ لیکن ہم کسی نہ کسی طرح قائل ہوتے ہیں کہ یہ مرکز ناول کی سطح سے بہت دور ہوتا ہے جسے ہم لفظوں کے ہمراہ چلتے ہوئے کھوجتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ کہیں پس منظر میں ،نادیدہ، مشکل الحصول، واہماتی اور تقریباً متحرک ہوتا ہے… ہم بطور قاری، بالکل کسی شکاری کی طرح جو ہر پتے اور ٹوٹی شاخ کو ایک سراغ سمجھتا ہے اور آگے بڑھتے وقت انہیں باریک بینی سے دیکھتا ہے،اس عمل سے گزرتے ہیں۔ ہم یہ محسوستے آگے بڑھتے ہیں کہ ہر نیا لفظ، چیز، کردار، مرکزی کردار، گفتگو، بیان ، تفصیل، ناول کی لسانیاتی اور اسلوبیاتی سطح کی سبھی خوبیاں اور بیانیے کے تمام انداز اس طرف اشارہ کرتے ہیں جو ظاہرسے آگے کی چیز ہے۔ ‘‘٭۱۲


بن اوکڑی کے ہاں یہ مرکزی نکتہ موجود ہی نہیں ہے۔ اسی لیے انہوں نے ناول میں دنیا جہان کے مصالحے ڈالنے پر توجہ رکھی لیکن مرکزی نکتہ نہ ہونے کی وجہ سے ناول کے بے شمار واقعات جو اپنی جگہ پورا افسانوی حسن رکھتے ہیں، ناول کے کُل کے اندر اپنا جواز کھو بیٹھتے ہیں اور منتشر اور بکھرے ہوئے واقعات بن کے رہ جاتے ہیں۔ یوں ناول حقیقی معنی میں ناول بن نہیں سکا۔ بن اوکڑی نے اس تحریر کو ناول بنانے پر اتنی محنت نہیں کی جتنی اسے طلسمی حقیقت نگاررُخ دینے پر کی ہے اور یہی ان کی خامی بن گئی۔ اگر اس تحریر کو ناول بنانے پر محنت کرتے تو شاید یہ ایک اچھا ناول بن سکتاتھا۔ شاید۔


اور رہی بات طلسمی حقیقت نگاری کی تو، طلسمی حقیقت نگاری مقامی کلچر کے ساتھ محبت کا نام ہے اور محبت بھی وہ جو تخلیقی شخصیت کے روم روم میں بسی ہوئی ہو۔ یہ بناوٹی یا مصنوعی محبت نہیں ہے۔ جب کلچر پوری طرح آدمی کی شخصیت میں بسا ہوا ہو تو جا کر ان طلسمی واقعات کی تخلیق ہوتی ہے جو مقامی کلچر میں حقیقت کو زیادہ گہرا اور زیادہ با معنی بناتے ہیں۔ یہ تعلق بیانیے میں روانی اور فطری بے ساختگی پیدا کرتا ہے۔ اگر تعلق صرف دکھاوے کا ہو تو لکھنے والا کتابی علم کے سہارے واقعہ پرواقعہ بیان کرتا چلا جائے گا لیکن ان واقعات کو اس کلچر سے پھوٹتی کہانی کے لیے بامعنی نہیں بنا سکے گا۔ وہ واقعات اور اشیاء بے معنی اور غیر ضروری انداز میںناول کے اندر یوں سامنے آئیں گی جیسے کسی نے زبردستی ٹھونسا ہو۔ بن اوکڑی گزشتہ کتنی مدت سے اپنے کلچر سے باہر ہیں، انہوں نے افریقن کلچر کے بارے میں جو جانا ہے، اس کی بنیاد مطالعاتی ہے اور وہ ان کی شخصیت کا حصہ نہیں بن سکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں جو طلسمی واقعات پیش آتے ہیں ، اپنے اندر ایک ماہرانہ تعمیر کا انداز دکھانے کے باوصف فنکارانہ تکمیل کا احساس نہیں رکھتے۔ وہ سب واقعات غیرمنطقی انداز میںبلا جواز پیش آتے چلے جاتے ہیں اور پورے ناول کے اندر ان کی کوئی معنویت نہیں بنتی۔ بن اوکڑی اپنے کلچر سے دور رہنے کی بنا پر اپنے کلچر کو طلسماتی رخ دے ہی نہیں پائے اور ناول پر مافوق الفطرت واقعات کا انبار لاد کر رکھ دیا۔ انہیں مغرب نے اس قدر پذیرائی اس لیے دی ہے کہ ان کی مغرب تک رسائی بہت آسان ہے۔وہ مغرب میں بیٹھے ہیں اس لیے تن آسان قاری انہیں افریقہ کی نمائندہ آواز کہہ دیتے ہیں۔ افریقہ کی نمائندہ آواز یں تو وہ ہوں گی جو افریقہ کے دور افتادہ علاقوں میں اپنے زندہ اور حقیقی مسائل کے ساتھ نبرد آزما رہ کر تخلیقی جوالا مکھ کو فن کا راستہ دکھانے کی جدوجہد میں مصروف ہوں گے۔ وہی لوگ اپنے کلچر کے اصل طلسماتی رخ کو پہچانتے بھی ہوں گے اور اس کو حقیقت کے ساتھ آمیز بھی کرتے ہوںگے۔ اصل بے ساختہ ادب ان کا ہے جو اس کلچر میں جی رہے ہیں ۔ مغرب بن ا وکڑی کے ذریعے افریقہ نہیں سمجھ سکتا۔ اگر مغرب کا ادبی ذہن افریقہ کو تخلیقی طور پر سمجھنا چاہتا ہے تومغرب کو ایسی مصنوعی نمائندگی کی بجائے اصل نمائندوں کو ڈھونڈنا ہوگا ورنہ اسی طرح مصنوعی تفہیم کے بل پر اتراتا رہے گا۔
٭٭٭٭٭

حوالہ جات

  1. We can clearly see that Okri has interwoven the threads of magic and realism together in numerous ways in this narrative, so that one might view their interactions of the narrative web. In The Famished Road, Okri constructs strategy of belonging through using magical realism.
    (http://www.the-criterion.com/magic-realism-in-ben-okris-selected-novels/)
  2. Magical realism–is not a realism to be transfigured by the supplement of a magical perspective, but a reality which is already in and of itself magical or fantastic.
    (Frederic Jameson, as quoted in Simpkins, Sources of Magic Realism. p. 149)
  3. “Sometimes it seemed that the world had stopped moving and the sun would never set. Sometimes it seemed that the brightness of the sun burned people out of reality. I satoneafternoonthinkingaboutthephotographerwhenIsawaboy runningdownthe street, his shorts tattered, his shirt flapping, and he was chasing the metal rim of a bicycle wheel. Three men were behind him, also running. But as he passed the van a terrible light, like the momentous flash of a giant camera, appeared in the sky, blinding me with its brilliance, and I saw the boy’s shadow vanish. I shut my eyes. Luminous colours, like the flames of alcohol, danced in my eyelids. I opened my eyes and saw the metal rim rolling along by itself. The boy had become his own shadow. The three men ran past the metal rim. The boy’s shadow melted and the rim rolled over and fell near the gutter. I screamed. A dog barked. I hurried over and picked up the bicycle rim and went to the burnt van and looked all around and I couldn’t find the boy anywhere. I asked the traders at their stalls if they had seen the boy and they replied that they hadn’t seen anything unusual. I threw the rim on to the back of the burnt van, now bulging with rubbish, and sat in front of our compound, puzzled, annoyed.”
    (Ben Okri, The Famished Road, Vintage UK, 2008 P:310)
  4. ” Dad suddenly stopped, as if he had been struck in the stomach. Then he slowly collapsed to the floor and lay there, pretending to have been knocked out. Mum laughed. A light flashed past in one of my eyes, as if I had a camera in my brain. For a moment everything was still. The walls dissolved, the room vanished, and in the relative space of that time we moved to somewhere else.
    ‘We are now on the moon,’ I said.” The Famished Road. P:362
  5. “Remember that I have only three heads. After I have failed, your companions will send the spirit with four heads.” The Famished Road. P:348
  6. “I was sitting against a wall, weaving in and out of sleep, surrounded by the confusion of human bodies, when I heard those sweet voices singing again. My spirit companions, their voices seductive beyond endurance, sang to me, asking me to honour my pact, to not be deceived by the forgetful celebrations of men, and to return to the land where feasting knows no end. They urged me on with their angelic voices and I found myself floating over the bodies of drunken men, and out into the night. I walked on the wings of beautiful songs, down the street, without the faintest notion of where the voices were leading me. I floated down the bushpaths and came to a well that was covered with a broad plank. On the plank, there was a big stone. I tried to move the stone, but couldn’t. I floated round and round our area. My feet ached. I stopped and saw my toes bleeding. I did not panic. I felt no pain. Soon I was at the edge of the great forest whose darkness is a god. I was about to enter thedarkness when I saw the black cat,its eyes glowing like luminous stones. Then footsteps converged on me. I turned, and ran into the massive figure of Madame Koto. (The Famished Road. P:58)
  7. “They were saying that the world is tougher than fire or steel.” (The Famished Road. P:84-85)
  8. ” I didn’t understand what they meant and i dozed off trying to get them to explain it to me.” (The Famished Road. P:85)
  9. “I stayed with one or two relatives. I noticed that strangepeoplestarted watchingtheir houses. I heard about what happened in the street. I owed rent. I needed things for my camera. I thought enough time had passed. And then I found myself coming back home tonight. As I came I hid in dark places and tried to be careful but as I neared my compound two people jumped on me and hit my head with a cutlass and a stick and I fought them and ran into the forest. I stayed there.The mosquitoes bit me. The two-legged dog began to whine in the darkness. I couldn’t see it. I became hungry and I heard voices in the trees and then I decided it was time to come home and face the music.” (The Famished Road. P:222)
  10. “One night I managed to lift myself out through the roof. I went up at breathtaking speed and stars fell from me. Unable to control my motion, I rose and fell and went in all directions, spinning through incredible peaks and vortexes. Dizzy and turning, swirling and dancing, the darkness seemed infinite, without signs, without markings. I rose without getting to heaven. I soared blissfully and I understood something of the inhuman exultation of flight.
    I was beginning to learn how to control my motion that night when something happened and a great flash, which was like a sudden noise, exploded all through me. I seemed to scatter in all directions. I became leaves lashed by the winds of recurrence. I felt myself falling through an unbearable immensity of dark spaces and a sharp diamond agony tugged deep inside my lightness and I tried to re-enter myself but seemed diverted into a tide of total night and I fought and tried to be calm and then I felt myself falling with horrible acceleration into a dark well and just before I hit the bottom I noticed that I was falling into the face of a luminous moon. The whiteness swallowed me and turned to darkness. I burst out screaming. And when I regained myself I heard, for a moment, the rats chewing, my parents snoring, and someone banging relentlessly on the door.” (The Famished Road. P:220)
  11. “He bought books on philosophy, politics, anatomy, science, astrology, Chinese medicine. He bought the Greek and Roman classics. He bought the Greek and Roman classics. He became fascinated by the Bible. Books on the cabbala intrigued him. He fell in love with the stories of the Arabian Nights. He listened with eyes shut to the strange words of classical Spanish love poetry and retellings of the lives of Shaka the Zulu and Sundiata the Great……. The room became cluttered with books of all sizes, ugly books with pictureless covers and tiny letters as if intended only for the ants to read, large books that broke your back to carry them, books with such sloped lettering that they strained the neck, books which smelt like cobwebs and barks of medicinal trees and old sawdust after rain. (The Famished Road. P:468)
  12. We transform words into images in our mind. The novel tells a story, but the novel is not only a story. The story slowly emerges out of many objects, descriptions, sounds, conversations, fantasies, memories, bits of information, thoughts, events, scenes, and moments. To derive pleasure from a novel is to enjoy the act of departing from words and transforming these things into images in our mind. As we picture in our imagination what the words are telling us (what they want to tell us), we readers complete the story. In doing this, we propel our imagination by searching for what the book says or what the narrator wants to say, what he intends to say, what we guess he is saying—in other words, by searching for the novel’s center. ____What is the novel’s center made of? Everything that makes the novel, I could reply. But we are somehow convinced that this center is far from the novel’s surface, which we pursue word by word. We imagine it is somewhere in the background, invisible, difficult to trace, elusive, almost dynamic. … we act, as readers, exactly like the hunter who treats each leaf and each broken branch as a sign and examines them closely as he progresses through the landscape. We move forward sensing that each new word, object, character, protagonist, conversation, description, and detail, all of the linguistic and stylistic qualities of the novel and the twists of its narrative, imply and point to something other than what is immediately apparent. (Orhan Pamuk, “The Naive and Sentimental Novelist” faber & faber London. 2011. P:22,25)
شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)
1 Comment
  1. Avatar

    بہترین تنقیدی مضمون۔۔ آپ کے مطالعہ اور تجزیاتی اپروچ کے لئے مبارک باد۔۔۔ مسکراہٹ

    Reply

کمنٹ کریں