کنول کے بیج : ڈوڈے

تحریر ۔ ببرک کارمل جمالی
lafznamaweb@gmail.com

, کنول کے بیج : ڈوڈے

یہ انتہائی لذیذ تو نہیں ہوتے ہیں مگر میری طرح صرف کچھ لوگوں کو بہت پسند ہیں۔۔۔ کنول کے بیج کا چھلکا اتارنے کے بعد ہم لوگ کھاتے ہیں۔۔۔ کنول کے بیج جو اندر سفید ہوتے ہیں۔۔۔ کنول کا پھول سندھ کے اکثر تالابوں، جھیلوں اور ندی نالوں میں پایا جاتا ہے۔۔۔ کنول کے پھول کی جڑیں تو مٹی کے اندر ہوتی ہیں جن کو ہم بیہ کہتے ہیں، جب کہ کنول کے پتے پانی کی سطح پر تیرتے رہتے ہیں۔۔۔ کنول کے پھول پانی کی سطح سے کافی انچ اوپر ہوتے ہیں اور مضبوط ہوتے ہیں۔۔۔

بلوچستان میں موجود ہندو مذہب کے لوگ کنول کے پھول کو خاص طور زیادہ کھاتے ہیں۔۔۔ ان کے بقول کنول کے پھول کے بیج سر درد، دل کی بیماری، جگر کی گرمی اور الرجی میں کافی سکون پہنچاتا ہے۔۔۔

اس پھل کے چند نام کول ڈوہڈے ۔۔۔ گٹے۔۔۔ پبن۔۔۔ چپنی دے کول ڈوڈے۔۔۔ چپنی اور کیا کیا نام ہے اس پھل کے آپ کے پاس؟

شیئر کریں
ببرک کارمل تعلق بلوچستان پاکستان سے اہل قلم 2000 سے تاحال مسلسل لکھ رہے ہیں۔ تعلیم ایم اے بین الاقوامی تعلقات عامہ . فی الحال ابھی ان کی کوئی کتاب منظر عام پہ نہیں آئی ہے تاہم سینکڑوں افسانے مضامین اور بچوں کی کہانیاںشائع ہو چکی ہیں ۔

کمنٹ کریں