کشش ثقل، زمین کی محوری گردش، اور مصنوعی سیاروں کے مدار

ترجمہ و تلخیص: قدیر قریشی

, کشش ثقل، زمین کی محوری گردش، اور مصنوعی سیاروں کے مدار

ہمارے ہاں یہ غلط فہمی بہت عام ہے کہ زمین کی گریویٹی اس وجہ سے ہے کہ زمین اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے اور اگر زمین کی محوری گردش نہ ہوتی تو زمین کی کشش ثقل بھی صفر ہوتی- یہ تصور بالکل غلط اور بے بنیاد ہے- زمین کی کشش کی وجہ زمین کا ماس ہے- پچھلے ساڑھے چار ارب سالوں میں (جو کہ زمین کی کل عمر ہے) زمین کے ماس میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی اور اس وجہ سے زمین کی کشش ثقل بھی پچھلے ساڑھے چار ارب سال سے کانسٹینٹ ہے- آپ زمین کی سطح پر کہیں بھی ہوں، زمین کی کشش ثقل کی قوت کم و بیش ایک سی رہتی ہے


یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ زمین کی محوری گردش اینگولر ہے یعنی زمین کا ایک محور ہے جس کے گرد زمین گھوم رہی ہے- اس گردش کی وجہ سے کسی بھی مقام پر سطح زمین کی linear رفتار کیا ہے اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس سطح کا زمین کے محور سے کتنا فاصلہ ہے- ہم زمین کی سطح پر کسی بھی مقام کی محوری گردش کی وجہ سے لینیئر رفتار معلوم کرنے کے لیے اس مقام کا زمین کے مرکز سے فاصلہ نہیں ناپتے بلکہ یہ ناپتے ہیں کہ اس مقام سے اگر زمین کے مدار پر عمود گرایا جائے تو اس عمود کی لمبائی کتنی ہو گی- زمین کے محور سے زمین کی سطح کا فاصلہ خط استوا پر سب سے زیادہ ہے اس وجہ سے خط استوا پر کوئی بھی مقام سب سے زیادہ تیزی سے حرکت کر رہا ہوتا ہے-


خط استوا پر زمین کی سطح کی linear رفتار تقریباً 1670 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے- اگر آپ خط استوا سے قطبین کی طرف چلیں تو اس محور سے آپ کا فاصلہ کم ہوتا چلا جائے گا یعنی اس جگہ کی linear سپیڈ کم ہوتی جائے گی- 45 ڈگری عرض بلد پر یہ رفتار کم ہو کر 1180 کلومیٹر فی گھنٹہ اور 80 ڈگری عرض بلد پر یہ رفتار صرف 290 کلومیٹر فی گھنٹہ رہ جاتی ہے- قطب شمالی اور قطب جنوبی پر یہ رفتار صفر ہے- اگر کشش ثقل کی وجہ زمین کی محوری گردش ہوتی تو اشیا کا وزن خط استوا پر زیادہ ہوتا اور جیسے جیسے آپ قطبین کی طرف بڑھتے اشیا کا وزن کم ہوتا جاتا حتیٰ کہ قطبین پر ہر شے کا وزن صفر ہوتا- لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے- اشیا کا وزن زمین پر کسی بھی جگہ کم و بیش ایک سا ہی رہتا ہے-


تو ہم نے دیکھا کہ زمین کی کشش ثقل کی وجہ زمین کا ماس ہے زمین کی محوری گردش نہیں ہے- البتہ زمین کی محوری گردش کا کچھ نہ کچھ اثر وزن پر ضرور ہوتا ہے- حقیقت یہ ہے کہ اشیا کا وزن قطبین پر کچھ زیادہ ہوتا ہے اور خط استوا پر کچھ کم ہوتا ہے- اس کی وجہ کیا ہے؟ آئیے اس پر کچھ سوچتے ہیں-


اگر آپ کسی چیز کو رسی سے باندھ کر گھمائیں تو آپ محسوس کریں گے کہ وہ چیز گھومنے کی وجہ سے رسی میں تناؤ پیدا کر رہی ہے- اس تناؤ کی وجہ انرشیا ہے- ہر وہ شے جو حرکت میں ہو خط مستقیم میں حرکت کرنا چاہتی ہے- اسے دائرے میں گھمانے کے لیے اس کی سمت تبدیل کرنا پڑتی ہے جس کے لیے اس شے پر قوت صرف کرنا پڑتی ہے- گویا انرشیا دائرے میں گھومتی شے کو اس دائرے کے مرکز سے دور لے جانے کی کوشش کرتا ہے جس وجہ سے اس شے میں مرکز گریز قوت یعنی centrifugal force پیدا ہوتی ہے-


ہم نے اوپر دیکھا کہ خط استوا پر زمین کی سطح کی محوری گردش کی رفتار زیادہ ہے جس وجہ سے خط استوا پر موجود اشیاء قطبین پر موجود اشیا کی نسبت تیزی سے حرکت کر رہی ہیں- اس حرکت کی وجہ سے خط استوا پر موجود اشیا میں کچھ مرکز گریز قوت پیدا ہو جاتی ہے جو وزن کے مخالف سمت میں ہوتی ہے- اس مرکز گریز قوت کی وجہ سے خط استوا پر اشیا کا وزن کچھ کم ہو جاتا ہے- اگرچہ یہ فرق انتہائی معمولی ہے لیکن صفر نہیں ہے- اگر کسی شخص کا وزن قطبین پر 100 پونڈ ہے تو خط استوا پر اس شخص کا وزن 99.65 پونڈ ہو گا


آپ نے یہ سن رکھا ہو گا کہ زمین کی تشکیل کے وقت زمین زیادہ تیزی سے اپنے محور کے گرد گھوم رہی تھی اور اس وقت دن اور رات کا کل دورانیہ محض آٹھ گھنٹے ہوتا تھا- آج کل دن اور رات کا دورانیہ 24 گھنٹے کا ہے- اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین کی تشکیل کے وقت خط استوا پر موجود اشیا موجودہ رفتار سے تین گنا زیادہ تیزی سے حرکت کر رہی تھیں- اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت ان اشیا کا وزن موجودہ وزن سے کم تھا- گویا اگر ایک کلو کے باٹ کو اس وقت خط استوا پر رکھا جاتا تو اس کا وزن اس کے موجودہ وزن سے کم ہوتا (اگرچہ دونوں صورتوں میں اس کے ماس میں کوئی فرق نہیں ہوتا)


اس سے ہم یہ نتیجہ بھی نکال سکتے ہیں کہ اگر زمین کی محوری گردش رک جائے، تو خط استوا پر موجود اشیا کا وزن کچھ زیادہ ہو جائے گا کم نہیں ہو گا- آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ اگر زمین کی محوری گردش رک جائے تو اس کی سطح پر موجود ہر چیز خلا میں بکھر جائے گی- اس سے کچھ لوگ اس کنفیوژن میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ شاید زمین کی محوری گردش رک جانے سے اشیا کا وزن صفر ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہے- اگر زمین کی محوری گردش یکایک رک جائے تو زمین کی سطح پر موجود اشیا اپنے مومینٹم کی وجہ سے بدستور خط مستقیم میں حرکت کرتی رہیں گی (جیسے کار کو یکایک بریک لگانے سے اس میں موجود اشیا آگے کی طرف سرکنے لگتی ہیں)- اس کی وجہ زمین کے مومیٹم میں یکایک تبدیلی ہے- لیکن اگر زمین کی محوری گردش دھیرے دھیرے کم ہو اور چند لاکھ سال میں رک جائے تب زمین کی سطح پر موجود اشیا زمین کی سطح پر ہی رہیں گی، خلا میں نہیں اڑیں گی (جیسے اگر کار کو آہستہ آہستہ بریک لگائی جائے تو اشیا اپنی جگہ پر ہی رہتی ہیں)


اس کے برعکس اگر زمین کی محوری گردش کی رفتار تیز ہو جائے تو خط استوا پر موجود اشیا کا وزن کم ہونے لگے گا- فزکس کے ایک سادہ سے فارمولے سے ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ زمین کی محوری گردش کو کس قدر تیز ہونا چاہیے کہ خط استوا پر موجود اشیا کا وزن صفر ہو جائے- اگر آپ یہ کیلکولیشن کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگر زمین کی محوری گردش اتنی تیز ہو کہ 88 منٹ میں ایک چکر پورا کر لے تو خط استوا پر موجود اشیا کا وزن مرکز گریز قوت میں اضافے کی وجہ سے صفر ہو جائے گا (یعنی اس رفتار پر گھومنے سے خط استوا پر مرکز گریز قوت اشیا کے وزن کے عین برابر ہو جائے گی) اور خط استوا پر موجود افراد ہوا میں تیرنے لگیں گے جیسے خلا نورد سپیس سٹیشن میں تیرتے نظر آتے ہیں-


جیسے جیسے آپ زمین کے مرکز سے دور جائیں، آپ کا وزن کم ہوتا جاتا ہے- گویا اگر آپ زمین کی سطح سے دور ہیں تو آپ نسبتاً کم رفتار سے زمین کے گرد گھومیں تو بھی آپ کا وزن صفر ہو سکتا ہے- مثال کے طور پر اگر آپ زمین کی سطح سے چار سو کلومیٹر بلند ہوں اور زمین کے گرد ایک چکر 90 منٹ میں لگا رہے ہیں تو آپ کا وزن صفر ہو گا- اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن چار سو کلومیٹر کی بلندی پر ہی کیوں ہے اور 90 منٹ میں زمین کے گرد ایک چکر کیوں لگا رہا ہے- سپیس سٹیشن کو زمین کے گرد اس بلندی پر چکر لگانا ہے جہاں راکٹ بھیجنے کے لیے ایندھن کم سے کم خرچ ہو، لیکن جہاں ہوا موجود نہ ہو- اگر سپیس سٹیشن کا مدار چار سو کلومیٹر سے کم بلندی پر ہوتا تو اس کی رفتار ہوا کی رگڑ سے کم ہونے لگتی اور یہ چند ہفتوں میں ہی زمین پر واپس آ گرتا- چار سو میٹر بلندی پر ہوا کی کثافت عملی طور پر صفر ہے- اگر اس کا مدار چار سو کلومیٹر سے زیادہ بلندی پر ہوتا تو آنے جانے کے لیے راکٹ کو زیادہ ایندھن استعمال کرنا پڑتا- خلا بازوں کو سپیس سٹیشن تک لے جانے اور لانے کے لیے جو راکٹ استعمال ہوتے ہیں ان کے ایندھن کی بچت اس میں ہے کہ سپیس سٹیشن کی بلندی کو کم سے کم رکھا جائے- اس لیے سپیس سٹیشن کے لیے چار سو کلومیٹر کی بلندی بہترین یعنی optimum سمجھی جاتی ہے- اس قسم کے مدار کو low earth orbit کہا جاتا ہے


اگر آپ زمین سے اور دور چلے جائیں تو بے وزنی کے لیے مزید کم وقت میں زمین کے گرد چکر لگانا ممکن ہو جائے گا- ہم یہ آسانی سے کیلکولیٹ کر سکتے ہیں کہ زمین کے مرکز سے کس قدر بلندی پر زمین کے گرد گھومیں تو بے وزنی کے لیے ہمیں 24 گھنٹے میں ایک چکر پورا کرنا ہو گا- یہ بلندی زمین کے مرکز سے تقریباً 42 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے (یعنی زمین کی سطح سے 36 ہزار کلومیٹر بلندی پر، کیونکہ زمین کا نصف قطر تقریباً چھ ہزار کلومیٹر ہے)- اس بلندی پر اگر ہم زمین کے گرد ایک چکر 24 گھنٹوں میں پورا کریں تو ہمارا وزن صفر ہو گا- اس مدار کو جیوسینکرونس آربٹ کہتے ہیں اور ٹی وی اور کمیونیکیشن کی سیٹلائیٹس اس بلندی پر ہوتی ہیں- اس مدار کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ زمین کی سطح کے نکتہ نظر سے یہ سیٹلائیٹس ہمیشہ آسمان میں ایک ہی زاویے پر رہتی ہیں اور آپ ڈش اینٹینا کا رخ ایک دفعہ ان کی طرف کر دیں تو پھر وقفے وقفے سے اینٹینا کا رخ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی


تو آپ نے دیکھا کہ اگر آپ کشش ثقل اور مرکز گریز قوت کو الگ الگ سے سمجھ لیں تو نہ صرف زمین پر وزن کے تصور کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں بلکہ یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ مدار کیا ہوتا ہے اور مختلف سیٹلائیٹس اور سپیس سٹیشن کی بلندی عین وہی کیوں رکھی گئی ہے جو ہم دیکھتے ہیں

شیئر کریں
قدیر قریشی بطور سائنس رائٹر سائنسی ادبی حلقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور اردو سائنسی فورم "سائنس کی دنیا" کے سرپرست اعلی بھی ہیں۔

کمنٹ کریں