افسانہ: کشش اور گریز

افسانہ نگار: سید کامی شاہ، کراچی
lafznamaweb@gmail.com

, افسانہ: کشش اور گریز

جمشےےےے ددددد، تم نے آج بھی میری ویڈیو پر کام نہیں کیا ناں۔۔۔۔۔
جمشید کو لمبا کھینچتی ہوئی چُست جینز اور تین بٹنوں والی چھوٹی سی ٹی شرٹ میں ملبوس فیشن ویب سائٹ کی کورآرڈینیٹر دھماکے دار انداز میں شیشے کے دروازے کو دھکیلتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی اور اس کے ساتھ ہی ایک مسحور کُن خوشبو کا جھونکا بھی کمرے میں داخل ہوا، اس کی ٹی شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھلے ہوئے تھے جس میں سے اس کے سینے کا مرمریں حصہ جھانک رہا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھ کر ایڈیٹر کے پاس جا کر تن کر کھڑی ہوگئی۔ کسی اندرونی تنائو کا اثر اس کے چہرے سے نمایاں تھا۔


وہ جس طرح دندناتی ہوئی ہمارے کمرے میں داخل ہوئی تھی اس سے کمرے میں موجود سبھی لوگوں کی توجہ اس کی طرف مبذول ہوگئی تھی۔ اس وقت کمرے میں پانچ مرد اور ایک خاتون موجود تھی جو اردو ویب ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ تھی۔ اور خاصی پردہ دار قسم کی روایتی خاتون تھیں۔
ہمارے اس ڈیپارٹمنٹ میں ادارے کی ایک اردو ویب سائٹ کے لیے کام ہوتا ہے مگر کچھ روز سے فیشن اینڈ بیوٹی کی ویب سائٹ کے ایڈیٹر کے چھٹی پر جانے کے باعث ان کی ویڈیوز کی ایڈیٹنگ بھی ہمارے ایڈیٹر کے ذمے لگ چکی تھی۔


لگتا ہے آتے ہی کلاس ہوئی ہے بے چاری کی۔۔۔،،
میرے قریب بیٹھے فے نے سرگوشی کے انداز میں کہا۔
اس کی ۔۔۔۔۔۔۔ چیک تو کرو یار۔۔۔،، اس نے اُس کی چست جینز کی طرف اشارہ کیا اور میں بھی کمپیوٹر سے نظر ہٹا کر کنکھیوں سے اس طرف دیکھنے لگا۔
اس کے تازہ شیمپو کیے ہوئے سنہری ریشمی بال اس کے کندھوں پر لہرا رہے تھے اور تن کر کھڑے ہونے کے باعث چھوٹی سی ٹی شرٹ میں موجود اس کے سینے کے ابھار مزید نمایاں ہوگئے تھے، جبکہ ٹی شرٹ کے انتہائی چھوٹے بازوئوں والی جگہ سے اس کی سفید سفید تازہ ویکس کی ہوئی بغلیں جھانکتی تھیں۔۔ پنڈلیوں تک آتی چُست جینز میں محصور اس کی ریشمی اور بے داغ، کسی ہوئی سڈول پنڈلیاں جال میں پھنسی میٹھے پانی کی سنہری مچھلیوں جیسی دِکھتی تھیں جو چھوٹے چھوٹے پیروں پر ختم ہوتی تھیں جن میں اس نے انتہائی خوبصورت اور نفیس کالے رنگ کی اونچی ایڑھی کی سینڈل پہن رکھی تھی، اس کے گلابی ایڑھیوں والے اُجلے کبوتروں جیسے پائوں سینڈلوں میں کسے ہوئے تھے۔
ہیلو، ہائو آر یو شین۔۔۔۔،، اس نے کمرے میں موجود واحد خاتون کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا اور اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر اپنی توجہ کمپیوٹر اسکرین کی طرف پھیر دی۔
کمرے میں موجود باقی مرد حضرات کی توجہ کا مرکز بھی وہی بن چکی تھی۔
جمشید نے اپنے کانوں سے ہیڈ فونز ہٹائے اور اپنی کرسی کو تھوڑا سا اس کی طرف گھما کر بولا۔


میں تو کل سے دِکھانا چاہ رہا ہوں۔۔۔۔ آپ آئی ہی نہیں دیکھنے کے لیے۔،،
اس نے ذومعنی انداز میں کہا اور کمپیوٹر پر ایک ویڈیو آن کی، ساتھ ہی اپنے کانوں سے اتارے ہوئے ہیڈ فونز اس کی طرف بڑھا دیئے۔ جیم نامی اس ایڈیٹر کی کچھ ہی ہفتوں میں شادی ہونے والی ہے اور آج کل یہ موصوف خاصے ایکسائیٹڈ رہتے ہیں۔ میم نے کچھ کہے بغیر ہیڈ فونز کانوں پر چڑھائے اور ذرا سا جھک کر کمپیوٹر کی اسکرین پر نظریں جمادیں۔ ہاتھ اس نے کمر سے اٹھا کر ہیڈ فونز پر رکھ لیے تھے۔ کمرے میں موجود مردوں کی نظریں رہ رہ کر اس کے سراپے کا طواف کررہی تھی۔ اس کے وجود سے پھوٹتی کشش اپنی طرف کھینچتی تھی اور کمرے میں موجود مرد رہ رہ کر کنکھیوں سے اس کی طرف دیکھتے تھے۔
آپ نے جو ویکٹرز کہے تھے وہ بھی اس میں لگا دیئے ہیں۔،،
ایڈیٹر کی نظریں اسکرین کے بجائے جھک کر کھڑی ہوئی میم کے گریبان کا طواف کررہی تھیں جو اس کے جھکنے کے باعث مزید قابلِ دید ہوگیا تھا۔ وہ جس جگہ پر بیٹھا تھا وہاں سے اسے بہترین نظارہ مل رہا تھا جبکہ کمرے میں موجود دیگر مردوں کی نظریں ذرا سا جھک کر کھڑی ہوئی میم کے کولہوں کو ناپ رہی تھیں۔


فک اٹ۔۔۔۔ نئیں ناں، ساشا نے پچھلے ہفتے جو ویڈیو شوٹ کی تھی اس کے شاٹس بھی تو لگانے تھے اس میں۔،،
اس نے منہ بسورا اور ایک ہاتھ سے اپنے سنہری ریشمی بالوں کو جھٹکا دیا۔
یہ فیشن ویب سائٹ کی کورآرڈی نیٹر میم ہے اور خود بھی بہت فیشن ایبل ہے۔
جی جی وہ بھی لگائے ہیں۔ آپ پوری ویڈیو تو دیکھ لیں۔،،
ایڈیٹر نے اس کے سینے سے نظریں ہٹائے بغیر کہا اور اپھر دھر ادھر سر گھما کر دیگر مردوں کے تاثرات کا جائزہ لیا۔
چچ۔۔۔ تو چیک کرو یااااررر۔۔۔،، فے نے اپنی پتلون کو ایک مخصوص جگہ سے سہلاتے ہوئے دوبارہ میری طرف سرگوشی اچھالی اور میں نے بغیر کوئی تبصرہ کیے مسکرا کر دوبارہ کمپیوٹر کی اسکرین پر نظریں جمادیں۔
گڈ، اسے میرے اس میں ڈال دو۔ میں ساشا کو دکھا لیتی ہوں۔،،
اُس میں؟ ایڈیٹرنے جان بوجھ کر نہ سمجھنے والے انداز میں مسلسل اس کے سینے پر نظریں جمائے ہوئے کہا۔
اس کے جھکنے کے باعث اس کے ٹی شرٹ کے گلے سے اندر پہنی ہوئی کالے رنگ کی ضروری چیز خاصی نمایاں ہورہی تھی اور اگر وہ نہ بھی جھکی ہوتی تو بھی اُجلے رنگ کی ٹی شرٹ کے باہر سے صاف نظر آرہا کہ اس نے اندر کالے رنگ کی ضروری چیز پہنی ہوئی ہے۔ شین بظاہر سب سے لاتعلق سر جھکائے اپنا کام کررہی تھی۔
میم نے اس کی آنکھوں میں دیکھے بغیر چٹکی سے پکڑ کر اپنے پیٹ پر سے ٹی شرٹ کو ذرا سا نیچے کی طرف کھینچا۔ اسے شاید پوری طرح احساس تھا کہ ایڈیٹر اس کے جسم کے کس حصے کو للچائی ہوئی نظروں سے مسلسل دیکھے جا رہا تھا۔
فولڈر میں، آئی مین۔،، اس نے ہیڈ فونز کانوں سے اتارتے ہوئے کہا اور اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
کمرے میں موجود مرد حضرات کی نگاہیں اب اس جاتی ہوئی خاتون کی پشت پر مرکوز ہوچکی تھیں۔


عجیب سی ہے ناں یہ۔۔۔۔،، میڈم شین نے اپنی بائیں طرف بیٹھے ہوئے عین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور عین جو جاتی ہوئی خاتون کے کسے ہوئے کولہوں کو دیکھ رہا تھا اس اچانک جملے سے ہڑبڑاگیا۔
ہاں، نفسیاتی سی لگتی ہے تھوڑی سی۔۔۔،، اور جلدی سے مائوس تھام کر اپنے کمپیوٹر پر نظریں جمادیں۔
ان کے اُس میں ڈال دو بھئی۔،، ایڈیٹر کے قریب بیٹھے جیم نے معنی خیز انداز میں ایڈیٹر کی طرف سرگوشی اچھالی۔
میں تو کب سے تیار ہوں۔،، اس نے بھی جواباً معنی خیز سرگوشی کی۔ اور دونوں کسی اندرونی کیفیت کا مزہ لیتے ہوئے مسکرانے لگے۔
لنچ ٹائم کے وقت کینٹین حسبِ معمول لوگوں سے بھری ہوئی تھی اور چمچوں کے پلیٹوں سے ٹکرانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے آپس میں باتیں کرنے کی آوازیں پھیلی ہوئی تھیں۔ کائونٹر پر کھڑے چکن بریانی کے طالب خواتین و حضرات اس وقت اچھی بوٹی، رائتے اور پہلے مجھے دے دو، کے مسائل میں گرفتار تھے۔ بیچ بیچ میں کچھ لڑکیوں کے نقرئی قہقہے بھی گونجتے سنائی دیتے تھے۔ اس خاصی بڑی کینٹین میں ایک وقت میں کوئی ایک سو کے قریب لوگ مختلف میزوں کرسیوں پر بیٹھ کر کھانا کھاسکتے تھے اور اس وقت بھی وہاں کم وبیش چالیس پچاس کے قریب افراد مختلف میزوں کرسیوں پر بیٹھے کھانا کھارہے تھے یا پُرلطف گفتگو کا مزہ لے رہے تھے۔ کچھ لوگ کھانا کھانے کے دوران ہھی اپنے اپنے موبائل فونز پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ شاید وہاں کھانے سے بھی زیادہ ضروری کوئی چیز تھی۔
پتہ نہیں انہیں کس بات پر اتنی ہنسی آتی ہے؟
ایویں ای بلا وجہ باندریوں کی طرح کھی کھی کھی کرتی رہتی ہیں۔،،
فے نے اپنے اسی مخصوص چڑچڑے انداز میں کہا جس کی اس کے کولیگز کبھی کبھی نقل بھی اتارا کرتے تھے، اس نے اسی انداز میں زور سے عین کو آواز لگائی جو چند فٹ کی دوری پر کھانا لینے کے لیے کائونٹر کے پاس کھڑا تھا۔
ابے لے آ یار۔۔۔۔۔ بھوک کے مارے چوہے روڈ کھود رہے ہیں پیٹ میں۔،،
ہم اس وقت سات آٹھ لوگ تھے جو ہمیشہ کینٹین کے انتہائی کونے میں بیٹھتے تھے جہاں سے ساری کینٹین کی میزیں کرسیاں صاف نظر آتی تھی۔ ان میں سے مجھ سمیت پانچ تو ایک ہی ڈیپارٹمنٹ کے تھے جبکہ دیگر ان لوگوں کے آشنا یا پرانے دوست تھے جو اسی ادارے کے مختلف شعبہ جات میں کام کرتے تھے۔


اتنے میں مرکزی دروازے سے تین خوبصورت اور خوش پوش نوجوان لڑکیاں کھی کھی کھی، ہی ہی ہی کرتی ایک ساتھ کینٹین میں داخل ہوئیں اور بائیں طرف پڑی بڑی میز کے ارد گرد رکھی کرسیوں پر براجمان ہوگئیں، جہاں پہلے سے دو خواتین اور ایک نوجوان تشریف فرما تھا۔ ان میں سے ایک عجیب بے تکے انداز میں چل رہی تھی۔
اس کو دیکھ لو، لگتا ہے رات کو کہیں چورنگیاں گھوم کر آئی ہے۔،، کسی نے قریب ہی سے سرگوشی کی۔
یار کوئی نیچرل مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔ ،،
ہاں تمہیں بڑا پتہ ہے۔،، کسی اور نے کسی اور سے کہا۔
مے بی، اگر اس کے پاس سے پرفیوم کی بہت تیز خوشبو آرہی ہو تو سمجھ لینا بھاری دن چل رہے ہیں بچی کے۔،، جیم نمبر ایک نے جیم نمبر دو سے کہا۔
نئی آنے والی دو خواتین اور وہاں پہلے سے موجود دیگر لڑکیاں اب مسلسل ہی ہی اور کھی کھی کرتی بولے جارہی تھیں اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کون کس سے بات کررہی ہے اور کون کس کی کس بات کا جواب دے رہی ہے۔جبکہ عجیب انداز میں چلنے والی خاتونوہاں بیٹھنے کے بعد سےمسلسل اپنے موبائل فون میں مگن تھی۔ یہ ساری خواتین پروڈکشن ڈیپارٹمنٹ کی تھیں اور ان میں سے دو تین ٹی وی پر بھی نظر آتی تھیں اور سوشل میڈیا پر بھی خاصی مشہور تھیں۔ اتنے میں انہی کے جیسی مزید تین لڑکیاں اور ان کے ساتھ انہی کی وضع قطع کا ایک نوجوان لڑکا کینٹین میں داخل ہوا جو ان کا میک اپ آرٹسٹ تھا۔
یہ چوتیے بھی ان کے ساتھ رہ کر انہی کے جیسے ہوجاتے ہیں۔،، پھر کسی نے اپنی معلومات کا ذخیرہ ہمارے کانوں میں انڈیلا۔


یار اس کے وہ تو چیک کر۔۔۔۔،، میرے دائیں طرف بیٹھے ایڈیٹر نے اپنے ساتھ بیٹھے زے کو کہنی ماری۔۔۔
کون سی والی؟
جیم کے کچھ کہنے سے پہلے ہی بائیں طرف بیٹھے الف نے گردن اچکا کر پوچھا۔
وہ لیفٹ والی، بلیو شلوار قمیص والی۔۔۔،،
ہے ناں شاندار۔،،، ایڈیٹر نے اپنی پسند کی داد چاہی۔
بیچ والی کے بھی کم نہیں ہیں۔،، زے نے کہا۔
یار مجھے تو سین پسند ہے۔،،
عین نے جلدی سے کہا۔ اس کی مراد پہلے سے وہاں بیٹھی لڑکیوں میں سے ایک سے تھی جس کا نام سین سے شروع ہوتا تھا اور عموماً انگریزی طرز کے ملبوسات پہنتی تھی اور ٹی وی کے ایک ٹاک شو کی مشہور میزبان تھی۔
اور وہ نوواردانِ کینٹین اسی میز کے گرد رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ہم جس جگہ بیٹھے تھے وہاں سے وہ میز قریب ہی تھی جس کی وجہ سے ان کی تمام باتیں براہ راست ہم تک پہنچ رہی تھی۔
اتنی پسند ہے تو بات کرو نہ اس سے۔،، میں نے کہا
ابے نہیں یار، یہ آج کل می ٹو شی ٹو کا چکر چل رہا ہے۔ ،،
بھینچو ۔۔۔ دو ٹکے کی عورتوں کے چکر میں پچاس ہزار کی نوکری کی ماں رُل جانی ہے۔۔۔ ہی ہی ہی ہی ہی۔۔
وہ اپنے مخصوص انداز میں ہنسنے لگا۔
ہاں یار یہ می ٹو کا بھی اچھا چکر چلا رکھا ہے ان بی بیوں نے۔،،
ان کی لے لو تو کہتی ہیں مرد اسی چیز کے بھوکے ہیں اور نہ لو تو کہتی ہیں یہ تو لینے لائق ہی نہیں۔۔،، قریب بیٹھے ایک اور لڑکے نے کہا۔۔۔
بھائی پہلے والا الزام ہی ٹھیک ہے۔،، دوسرے نے قہقہہ لگایا۔
ہاں، ہمیں اسی چیز سے مطلب ہے۔،، اس نے دو انگلیوں کو جوڑ کر ایک مخصوص اشارہ بنایا۔
یہ مادر زاد۔۔۔۔۔۔ کہتی ہیں ہمیں جسم نہ سمجھو۔۔۔ تو اور کیا سمجھیں ان کو۔۔۔۔،، کسی اور نے اپنا غم بیان کیا۔
انسان سمجھو نہ انہیں بھی۔۔۔،، میں نے اپنی پلیٹ آگے کھسکائی اور گرم چاولوں کو الٹنے پلٹنے لگا۔۔۔
بریانی لش ہے یار۔۔۔۔،، قریب ہی بیٹھے ایک اور نوجوان نے مرغی کی ران کو دانتوں سے بھنبھوڑتے ہوئے کہا۔ اس کی نظریں سامنے کے ٹیبل پر کراس لیگز کیے بیٹھی ایک جینز پوش پری وش پر تھی جس کی بھاری بھرکم رانیں ٹانگ پر ٹانگ رکھے ہونے کے باعث پھٹی ہوئی جینز سے اُبلی پڑ رہی تھیں۔ کینٹین میں لوگوں کا آنا جانا مسلسل جاری تھا، بہت سارے لوگوں کے بولنے کے باعث مختلف آوازیں گڈ مڈ ہو کر مکھیوں کی بھنبھناہٹ میں تبدیل ہوگئی تھیں، ایسا لگتا تھا سب بیک وقت بول رہے ہیں اور کوئی کسی کی سن نہیں رہا۔ کونے میں لگے دونوںواش بیسنز پرہاتھ دھونے والے مسلسل آ جا رہے تھے۔ اور باتیں تھیں، مسلسل باتیں۔۔۔۔ بے سر و پا باتیں۔۔۔۔ سیاسیات اور سماجیات پر لاحاصل تبصرے، نئی خبریں جو اگلی اندوہناک خبر کے آتے ہی پرانی ہوجاتیںاور لذیذکھانوں کی باتیں، بھوک کی باتیں جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔۔۔


انسان، کیا مطلب۔۔۔؟
فے نے گرم بریانی کی پلیٹ میں چمچ چلاتے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہا۔
انسان کے تو تین روپ ہوتے ہیں، مرد، عورت اور ہیجڑا۔۔۔۔۔ اگر انہیں عورت نہ سمجھیں تو کیا مرد سمجھیں؟
یا ہیجڑا؟ کیوں کہ لگتی تو ان میں سے بھی بہت ساری ہیجڑوں جیسی ہی ہیں۔،،
اس پر ایک زور دار قہقہہ پڑا اور ارد گرد بیٹھے لوگوں نے چونک کر ہماری طرف دیکھا اور دوبارہ اپنے معمولات میں مصروف ہوگئے۔
ایک اور بڑا مزے کا سوال ہے کہ عورتیں کبھی کسی ہیجڑے سے شادی یا دوستی کیوں نہیں کرتیں، حالانکہ کارروائی تو ہیجڑے بھی بہت اچھے سے کر سکتے ہیں؟
اس کے برابر میں تیسرے ہاتھ پر بیٹھے ایک اور نوجوان نے ذرا سا آگے جھک کر گفتگو میں اپنا حصہ ڈالا۔
کیونکہ ہیجڑے باپ نہیں بن سکتے، ان کے اسپرمز ڈیڈ ہوتے ہیں۔،، کسی اور نے معلومات میں اضافہ کیا۔
تیرا بڑا تجربہ ہے، ماڈل روڈ۔۔۔۔ لگتا ہے تو بھی ہیجڑوں کے نیچے لیٹتا رہا ہے۔۔۔،، اس کے بالکل سامنے بیٹھے عین نے بریانی کا بڑا سا نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
میں بغیر کچھ کہے مسکرا کر ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ دروازہ بار بار کھلتا تھا کبھی کسی کے آنے سے اور کبھی کسی کے جانے سے۔
مجھے کسی کا انتظار نہیں تھا مگر میری نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھتی تھیں۔
اوہ بھائی یہ ٹک ٹاک، گوگل اور واٹس ایپ کا زمانہ ہے، ضروری نہیں کہ ہر چیز تجربہ کرکے ہی جانی جائے۔،، اسی نوجوان نے تمتماتے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔
مگر عورت جسم سے ہٹ کر بھی تو کچھ ہے، یا نہیں؟ میں نے پلیٹ میں چمچہ چلاتے ہوئے قدرے توقف سے کہا۔
نہیں۔۔۔،، ایک ساتھ کئی آوازیں قطعیت کے ساتھ گونجیں۔ اور پھر ایک مشترکہ زوردار قہقہ گونجا۔۔۔۔۔
ایسے ہی مشترکہ قہقہے مختلف میزوں کے اطراف سے ابھرتے تھے اور پھر بہت ساری آوازوں کی بھنبھناہٹ میں گم ہوجاتے تھے۔
عورت اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں کہ وہ بس عورت ہے، یہ جو دفتروں میں اور بازاروں میں اور یونیورسٹیوں میں اور گلی محلوں میں اتنا سج سنور کے، کھلے گلوں کی شرٹیں اور چوتڑ نمایاں کرنے والی ٹائٹس پہن کر آتی ہیں اور پھر کہتی ہیں دیکھو بھی ناں تو کیا فالتو بیٹھ کر ان کی بکواس سنیں؟
ان کے پاس فضول اور بے سروپا باتوں کے سِوا اور ہوتا ہی کیا ہے؟


فے آستیںیں چڑھائے گرما گرم بریانی اور مرغی کی بوٹیوں سے نبرد آزما تھا۔ فے اس ادارے میں مجھ سے خاصا سینئر تھا اور اس کے بارے میں شنید تھی کہ چند سال کی شادی کے بعد پہلی بیوی سے علیحدگی ہوچکی تھی اور آج کل دوسری بیوی سے بھی معاملات تنائو کا شکار تھے۔
ذرا گوگل پر نیکڈ سیلفی گرلز لکھ کر سرچ تو کرو ۔۔۔ تین سیکنڈ میں ایک کروڑ سے زیادہ ننگی پُنگی حرام زادیاں سامنے آجائیں گی جو خود اپنی سیلفیاں بنا بنا کر نیٹ پر ڈالتی ہیں، ان سے بندہ پوچھے کہ جب دِکھنا ہی نہیں چاہتی ہو تو یہ ننگی تصویریں کون سے خصموں کو دکھانے کے لیے ڈالی ہوئی ہیں؟


کھانا کھاتے ہوئے اسے ہمیشہ پسینہ آتا تھا اور کسی نہ کسی چیز پر اس کا گالیوں بھرا تبصرہ بھی جاری رہتا۔ ابھی اسے اس بات پر غصہ تھا کہ بریانی میں یہ اتنی ساری گھاس پھوس اور پتوں کے جیسی چیزیں کیوں ڈالی جاتی ہیں جنہیں کھانا ہی نہیں ہوتا۔
مگر وہ تو زیادہ غیر ملکی عورتیں ہوتی ہیں ناں؟ میں نے کہا۔
ارے نئیں بھئی۔۔۔ دس ہزار تو یہاں کی بھی مل جائیں گی۔ ،، میرے کچھ کہنے سے قبل ہی ایک اور نوجوان نے اپنے موبائل فون پر ایک ویڈیو پلے کرکے سامنے کردی جس میں ناچ گانے کی دنیا کی ایک مشہور خاتون مکمل برہنہ حالت میں ربر کے ایک کھلونے سے محظوظ ہورہی تھیں، اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں شہوت سے لبریز تھیں اور بار بار کسی کو مخاطب کرکے اپنے حسنِ کارکردگی کی داد طلب کر رہی تھی۔ احتیاطاً اس نوجوان نے موبائل فون کی آواز خاصی کم کردی تھی تاکہ ارد گرد کی میزوں پر بیٹھے لوگ اس خاتون کی آہیں اور کراہیں نہ سُن سکیں۔
ابے چھوڑ اسے، یہ تو پرانی ہوگئی، یہ دیکھ۔۔۔،، اس نے اپنے موبائل فون پر ایک تصویر نمایاں کی جس میں ایک خاتون اپنے دونوں بازو بلند کیے بغلوں کے بالوں کے گچھے نمایاں کر رہی تھی جنہیں سبز اور نیلے رنگ سے آراستہ کیا گیا تھا۔ اس نے اپنے نچلے ہونٹ میں کان کی بالیوں کی شکل کی ایک چھوٹی سی سنہری بالی پہن رکھی تھی اور اس کے بھرے بھرے رسیلے ہونٹ خوب نمایاں ہورہے تھے۔
بہت جلد یہاں بھی یہ فیشن چل پڑے گا۔۔۔،، اس نے فون الٹا کرکے میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ اور بوتل میں پڑے اسٹرا سے چسڑ چسڑ کرکے کولڈ ڈرنک پینے لگا۔
چل کیا پڑے گا، کررہی ہیں یہ سب کچھ یہاں بھی یہ یہ بڑے گھروں کی حرام زادیاں۔،، فے نے بریانی کا بڑا سا نوالہ نگلتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں کہا۔
سمجھ نہیں آتی کہ اگر یہ چاہتی ہی نہیں ہیں کہ انہیں دیکھا جائے تو یہ آدھی ننگی اور پوری ننگی ہو کر کس کو دکھاتی ہیں؟
الف نے جیم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
عورت کو دیکھنے کے لیے اس کا آدھی یا پوری ننگی ہونا ضروری نہیں، عورت برقعے میں بھی عورت ہی رہتی ہے،، میں نے جواباً کہا۔
جس کپڑے سے ہماری آپ کی بنیانیں اور انڈرویئر بنتے ہیں ان کے زیر جامے بھی اسی کپڑے سے بنتے ہیں تو کبھی ہمیں خود اپنی بنیان دیکھ کر ایسی اٹریکشن کیوں نہیں محسوس ہوتی؟
اوہ بھائی آدمی کا مسئلہ ہی عورت ہے تو اس کی ہر چیز میں آدمی کے لیے کشش ہے۔،، فے نے کولڈ ڈرنک کا بڑا سا گھونٹ بھر کر لمبی ڈکار لیتے ہوئے کہا۔
ابے ماں کے گھوڑے، تجھے ٹھنڈی کولڈ ڈرنک لانے کو کہا تھا۔،، اس نے عین کو مخاطب کیا۔
ٹھنڈی کولڈ ڈرنک۔،، میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
مسئلہ تو نہیں، امتحان کہہ سکتے ہیں عورت کو آدمی کے لیے۔،،
ہاں وہی تو میں بھی کہہ رہا ہوں، ان کی لے لو تو مسئلہ، نہ لو تو اس سے بڑا مسئلہ۔،، اس نے اپنی بات دہرائی۔
پھر بھی۔۔۔،، میں کچھ کہنے لگا تو دوسرے نے مجھے ٹوک دیا
یہ اتنی دیر سے جو بک بک کیے جارہی ہیں، انکی کوئی بات پلے پڑی؟
سوائے کپڑوں جوتوں، میک اپ اور کھانوں کے ان کے پاس کیا موضوع ہے؟
یا وہی ڈیسپریٹ ساسیں اور زہریلی نندوں کی روڈ کھدائیاں۔۔۔۔ کیا بات کریں گے آپ ان سے؟
جب مالک نے انہیں اس کام کے لیے بنایا ہے تو پھر مانتی کیوں نہیں؟
اس کے لہجے میں غصے، حقارت، فرسٹریشن اور استہزا کی ملی جلی کیفیات تھیں اور سمجھ نہییں آتا تھا کہ ان ساری وجودی کیفیات میں اصل اور سچا جذبہ کون سا تھا۔ ایک طرف ایک کشش تھی جو اُن بتوں کی طرف متوجہ کرتی تھی مگر کوئی گریز تھا جو ان کے لیے ایسے بازاری الفاظ کا سبب بنتا تھا اور شاید ان سے فاصلہ بنائے رکھنے کا ایک بہانہ تھا۔
سامنے دیوار سے لگی بینچ پر بیٹھی ٹی شرٹ والی لڑکی ہاتھ بلند کرکے اپنے بالوں کو کھول کر نئے سرے سے باندھ رہی تھی۔
اب اس کو دیکھو۔۔۔۔۔ اسے اگر میم میم ۔۔۔۔ نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے۔۔۔
اس نے اس کی چست ٹی شرٹ سے نمایاں ہوتے اس کے سینے کے ابھاروں کی طرف اشارہ کیا۔
انگریزی میں بول دو یار۔۔۔۔ اردو میں بولیں۔۔۔۔۔۔ تو لوگ برا مناتے ہیں۔،،
میں نے ہنستے ہوئے انگریزی میں اس عضوِ بدن کا نام لیا۔
پھر بھی رہیں گے تو وہ وہی ناں۔۔۔۔،، وہ اپنی بات پر مصر تھا۔


اسی جینز پوش لڑکی نے اپنی جیب سے ہینڈز فری نکال کر فون میں لگائی اور اس کے دونوں سرے کانوں میں ٹھونس کر دیوار سے ٹیک لگالی۔ اپنے دونوں گھٹنے موڑ کر اس نے موبائل فون تھامے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لیے، اب اس کی ٹانگیں انگریزی کے حرف یو کی شکل بنارہی تھیں اور اس عجیب سی پوزیشن میں بیٹھنے کے باعث اس کی ٹانگوں کے بیچ کا حصہ نمایاں ہورہا تھا۔ اس کے ارتکاز سے پتہ چلتا تھا کہ وہ اپنے فون پر کوئی ضروری چیز دیکھ رہی تھی۔
لو دیکھ لو اس مادر خور کو بھی۔،، میرے برابر میں بیٹھے جیم نمبر دو نے میری پسلیوں میں ٹہوکا دیا۔
کچھ لوگوں نے پہلے تو کنکھیوں سے اس کی طرف دیکھنا شروع کیا اور چند ہی ثانیے میں اس کے نمایاں ہونے والے اس مخصوص حصے کو گھورنا شروع کردیا۔
ابے ویڈیو بنالے اس کی۔،، جیم نمبر ایک نے اس قطار میں آخری سِرے پر بیٹھے اپنے موبائل فون میں منہمک لڑکے سے کہا جہاں سے اس لڑکی اور ہماری میز کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہیں تھی اور نظارہ بہت نمایاں ہورہا تھا اور سارے میں گلابی رنگ کی کشش انگیز روشنی پھیلتی محسوس ہوتی تھی۔ میں کنکھیوں سے اسے دیکھ بھی رہا تھا اور اس سے گریز بھی کررہا تھا۔
بنا بھی لی۔،، اس نے ایک فخریہ ہنسی کے ساتھ اپنا موبائل فون اس کے سامنے لہرایا۔
مجھے اپنے پیروں میں چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہوئیں۔
اپنے بارے میں اس تمام گفت و شنید سے بے خبر اس لڑکی کو بالکل احساس نہیں تھا کہ اس کی اس ناروا پوزیشن میں بیٹھنے کی چند سیکنڈ کی ویڈیو اسی چار دیواری میں ایک موبائل فون میں محفوظ ہوچکی تھی۔


مجھے بھیج ، مجھے بھیج۔۔۔،، ایک ساتھ چار پانچ لڑکوں نے اس سے کہا۔
ابے چوتیو صبر تو کرو، ابھی تھوڑی دیر میں واٹس ایپ کردوں گا۔ ابھی شور نہیں مچائو ماں رُل جائے گی۔۔۔ کسی کو پتہ چل گیا تو۔۔۔۔،، اس نے فون جیب میں رکھتے ہوئے کہا۔
یار صبح میم کیا لگ رہی تھی۔۔۔ اُف۔۔۔ دل چاہ رہا تھا پکڑ کے دبادوں سالی کے۔۔۔،، ایڈیٹر کے سر پر ابھی تک میم سوار تھی۔
ہاں جبھی تو تُو واش روم میں اتنا وقت لگا رہا تھا بھین کے گھوڑے۔۔۔۔،،
کھی کھی کھی کھی کھی کھی۔۔۔۔،، ایڈیٹر نے ایک شیطانی سی ہنسی ہنسی جس کا کوئی بھی مطلب نکالا جاسکتا تھا۔
مجھے فرائڈ کی بات یاد آنے لگی کہ انسانی شخصیت پر سب سے زیادہ اثر ڈالنے والا پہلو اس کا جنسی پہلو ہے۔ اس ملک کی یہ نوجوان نسل جو پچھلے پچیس تیس سال کے دوران چوروں اور چوکیداروں کے گٹھ جوڑ کے موسموں میں پیدا ہوئی تھی اور بے اعتباریوں، حرام خوریوں، منافقت، دھوکہ دہی، دھونس، دھمکی، بھتہ خوری، بدمعاشیوں ، سازشوں اور بد عنوانیوں کے موسموں میں پل کر جوان ہوئی تھی۔ تعصباتکی بھٹی میں پکے ان دماغوں میں فقط اپنی بھوک، ہوس اور خواہشات کی اسیری نظر آتی تھی، اس کے نزدیک نہ کسی کے جذبات کی کوئی اہمیت تھی نہ اخلاقیات کی۔ان کے لیے گھر، دفتر، سڑک، بازار سب جگہیں ایک سی تھیں،وہ کہیں بھی تھوک سکتے تھے اور کسی بھی جگہ کھڑے ہو کر مُوت سکتے تھے۔ ان کے لیے عورت فقط نکاسی آب کا ایک ذریعہ تھی اور ان کا ماننا تھا کہ عورت کو یہ عمل ہنستے کھیلتے سر انجام دینا چاہیے جیسے وہ عورتیں کرتی تھیں جن کے ناموں کی تکرار ان کی خلوتوں میں گونجتی تھی اور ان کے مساموں سے بدبودار پسینہ بہتا تھا۔ لاشیں بیچنے والوں کے نقشِ قدم پر چلنے والی اس نسل کے ہاتھوں سے مردہ مچھلیوں کی سی بساندھ اٹھتی تھی اور وہ مہنگے کپڑوں، تیز خوشبوئوں، نسلی برتری، سماجی حیثیت اور قیمتی گاڑیوں کے فخر کے اسیر تھے۔ جو بغیر کسی ٹھوس وجہ کے خود کو برتر اور دوسروں کو کمتر خیال کرتے تھے۔ انکے ہاتھوں میں شیشے کے چھوٹے بڑے رنگین ٹکڑے چمکتے تھے جس پر کھلی ہوئی عورتیں ہنستی مسکراتی، کھلکھلاتی اپنے جنسی افعال میں سرگرم نظر آتی تھیں اور وہ مقامی عورتوں کو بھی اسی طرح کے منطقوں میں دیکھنے کے تمنائی تھے۔ مگر یہ ٹھس قسم کی عورتیں کپڑوں، جوتوں، کھانوںاور مہنگے ہینڈ بیگزسے آگے ہی نہیں بڑھتی تھیں۔۔میرے خیالات کی رو کہیں اور نکل رہی تھی۔


دیکھ لیں کامی صاحب، پھر آپ کہتے ہیں کہ ہم ان کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔،،
میں اس کی بات سے زمانہ حال میں واپس آیا اور ارد گرد کے منظر نامے پر نظر کرنے لگا۔ فے اپنا کھانا ختم کرچکا تھا اور کرسی کی پشت سے کمر ٹکا کر چڈے چوڑے کیے بیٹھا تھا اور کولڈ ڈرنک کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے رہا تھا۔
ان گدھیوں کواگر کسی مقام پر روکا نہ جائے اور لگام نہ ڈالی جائے تو یہ ننگی ہو کر بازاروں میں نکل جائیں گی کہ آئو مجھے دیکھو، مجھ سے میری باتیں کرو۔،،
ارے نہیں یار اب ایسا بھی نہیں ہے، عورتوں کو توجہ اچھی لگتی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں۔،، میں نے کہنے کی کوشش کی۔
ابے نئیں بھائی آپ پتہ نہیں کون سے زمانے کی باتیں کرتے ہیں۔ ھورز اور سلٹس کا زمانہ ہے یہ جناب۔،،
ھورز اور سلٹس تو ہر زمانے میں رہی ہیں، بس نام اور مقامات تبدیل ہوتے ہیں۔،، میں نے کہا مگر کسی نے میری بات کو کوئی توجہ نہیں دی۔ میں کچھ کہے بغیر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
مسالہ دار چکن بریانی سے حظ اٹھاتے، کولڈ ڈرنکس کی بوتلوں سے چسڑ چسڑ کرکے آخری قطرہ تک نچوڑتے، ہر عورت کو ہوس ناک نگاہوں سے تاڑتے، رانیں کھجاتے اور فحش فقرے اچھالتے ان مردوں کی زبانوں پر مرچیلی اور مشہور عورتوں کے نام تھے اور ہر نام کے ساتھ ان کی زبانیں چٹخارے بھرتیں اور ہونٹوں سے دبی دبی سسکاریاں بر آمد ہو کر سارے میں پھیلتی تھیں۔ انہیں جو عورت اچھی لگتی تھی اس کا مقام بھی ان کے نزدیک ایک ہی تھا اور جو اچھی نہیں تھی اس کا بھی وہی مقام تھا مگر غلیظ گالیوں کے تڑکے کے ساتھ۔۔ میں کچھ کہے بغیر اٹھا اور کینٹین سے باہر نکل گیا۔


یہ کینٹین اس کثیر المنزلہ عمارت کے بیسمنٹ میں واقع ہے اور ہمارے ڈیپارٹمنٹ تک جانے کے لیے بائیں طرف واقع بیس بائیس سیڑھیاں چڑھ کے جانا پڑتا ہے۔ کینٹین سے نکلا تو سامنے سے ایک برقعے میں ملبوس اور ایک جینز پوش خاتون چٹاخ پٹاخ باتیں کرتی چلی آرہی تھیں، چند قدم چلنے کے بعد ان کا رخ سیڑھیوں کی طرف ہوگیا اور میں ایک لمحے کو رک گیا۔ وہ بے نیازی سے آگے بڑھیں اور سڑھیاں چڑھنے لگیں، برقعہ پوش خاتون کے ٹخنوں پر نظر پڑی تو اندر اس نے بھی جینز ہی پہن رکھی تھی اور سینڈل سے جھانکتی اس کی گلابی ایڑھیاں پائوں پر زور پڑنے کے باعث مزید لال گلابی ہو کر جگ مگ جگ مگ کرتی تھیں۔ ۔ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے کچھ فاصلہ رکھ کر آہستگی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ یہاں یہ بتانے کی قطعی ضرورت نہیں کہ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی عورتوں کے کسے ہوئے بھاری بھرکم کولہوں سے کشش کی کیسی یکساں شعاعیں پھوٹتی تھیں جو بار بار دھیان کھینچتی تھیں۔ میری نگاہیں کبھی ایک کو دیکھتیں اور کبھی دوسری کو، برقعے اور جینز سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ کشش کی لہریں دونوں طرف سے یکساں برآمد ہورہی تھیں۔ اندر پھر وہی کشش اور گریز کا دو رُخا پہیہ چلنے لگا تھا۔ میں حتی االامکان ان سے گریز کرتا ہوا، ذرا فاصلہ رکھ کر سیڑھیاں چڑھتا گیا اور اپنے ڈیپارٹمنٹ میں جا کر حسبِ معمول کام میں مصروف ہوگیا۔
شام کو دفتر سے چھٹی کے بعد گھر پہنچ کر دروازہ بجایا تو نو سالہ بھانجی نے دروازہ کھولا اور لہک کر سلام کرتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھادیا۔


السلام علیکم ماموں صاحب۔۔۔۔
میں نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے سلام کا جواب دیا۔
لڑکیاں سب سے ہاتھ نہیں ملاتیں سویٹو۔۔۔،،
آپ تو میرے ماموں صاحب ہیں۔،، اس نے منہ بسورا۔
جی میری جان، اماں بھی آئی ہیں تمہاری؟
میں نے پیار سے اس کا گال سہلایا اور ڈرائنگ روم میں آ کر صوفے پر بیٹھ گیا۔
مما، نانو کے ساتھ کسی کام سے گئی ہیں، آجائیں گی ابھی۔،، وہ باہر کا دروازہ بند کرکے میرے پیچھے پیچھے ڈرائنگ روم میں آگئی۔ چھوٹی بہن نے پانی کا گلاس اور چائے کا کپ میرے سامنے میز پر رکھتے ہوئے سلام کیا اور اپنا رخ بھانجی کی طرف موڑتے ہوئے بولی۔۔
ماموں صاحب کو تنگ مت کرنا۔،،
نہیں، ہماری گڑیا تنگ نہیں کرتی، بہت پیاری بیٹی ہے۔،، میں نے پانی پی کر گلاس میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
بھانجی میرے قریب آ کر کھڑی ہوگئی۔۔ مامی اپنی امی کے گھر گئی ہیں؟
ہاں جی، آپ بتائو کیسا چل رہا ہے سب۔،، میں ںے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اس نے بھی جینز پہن رکھی تھی اور چھوٹی سی ٹی شرٹ۔
میں ٹھیک، چھوٹی لالہ بتارہی تھیں ٹوٹو اور اس کی امی نانی کے گھر گئی ہیں۔،،
وہ اپنی دونوں خالائوں کو لالہ بولتی ہے۔
ہاں جی، صحیح بتایا ہے آپ کی چھوٹی لالہ نے۔،، میں نے مسکرا کر اس کا سر سہلایا۔
کب تک آئیں گی مامی اور ٹوٹو؟ وہ میری گود میں آنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
میں نے اسے گود میں بیٹھنے سے پہلے ہی بازوئوں سے تھاما اور خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔۔
آجائیں گی جب ان کا دل چاہے گا۔،،
آپ کچھ کہتے نہیں انہیں؟
ارے، کہنا کیا ہے، خود ہی آجائیں گی دو ایک روز میں۔۔،، میں جیب سے فون نکال کر کانٹیکٹ لسٹ دیکھنے لگا۔
بیویوں کو تو اپنے شوہر کے گھر ہی رہنا چاہیے ناں۔۔،، اس نے پھر میرا بازو پکڑ کر کھینچا۔
میں اس کے اس فقرے سے چونک گیا۔
حد ہے بھئی، کہاں سے سیکھتی ہو تم یہ اتنی بڑی بڑی باتیں؟
دور ہٹو ذرا، چائے پینے دو، گرم ہے بہت۔۔۔،، میں نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔
سیکھنی کہاں سے ہیں، سارا دن اپنی اماں اور دادی کے ساتھ بیٹھ کر ساس بہو والے ڈرامے جو دیکھتی ہے۔،،
میرے کچھ کہنے سے قبل ہی بہن نے کہا جو ڈائننگ ٹیبل پر پڑی اضافی اشیا سمیٹ رہی تھی۔
ہی ہی ہی ہی ہی ہی۔۔۔،، وہ بلا سبب ہنسنے لگی۔
آپ کی اماں بھی تو لاتی ہیں ہر ویک اینڈ پر آپ کو نانی کے گھر، پھر ہماری ٹوٹو پر اعتراض کیوں؟ میں نے مسکراتے ہوئے اس سے پوچھا۔
نہیں، میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔،، وہ تھوڑی سی کھسیانی ہوگئی۔
کچھ لکھتی پڑھتی بھی ہو یا بس ڈراموں پر ہی دھیان ہے سارا؟ میں نے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے کہا۔
نئییییییں۔۔۔۔۔ صبح اسکول جاتی ہوں اور شام کو مما پڑھاتی ہیں۔،، اس نے نئیں کو لمبا کھینچتے ہوئے کہا۔
شاباش، لکھنے پڑھنے پر ہی دھیان دو گڑیا، یہی سب سے بہترین کام ہے۔،،
ماموں میری ٹاک ٹاک دیکھیں ناں۔۔۔۔،، اس نے اپنے فون میں ایک ویڈیو چلا کر فون میرے سامنے کردیا اور پھر میرے قریب ہونے لگی۔
جی بیٹا، بہت اچھی ہے۔،، میں نے سرسری سے نظر اس پر ڈالی، وہ کسی فلمی گانے پر ناچ رہی تھی۔
دیکھیں تو ماموں۔۔۔۔ اور بھی ہیں بہت اچھی اچھی۔۔،، وہ ایک بار پھر میری گود میں گھسنے کی کوشش کرنے لگی۔
جان اب آپ بڑی ہو رہی ہو، ایسے گودی میں مت گھسا کرو۔،،میںنے چائے ختم کرکے خالی کپ میز پر رکھا اور پیار سے اس کا سر سہلاتے ہوئے ایکبار پھر اسے خود سے دور کیا۔
ماااااموں سااااااااااب۔۔۔۔۔ وہ ذرا سا دور ہو کرخفگی سے میری طرف دیکھنے لگی۔
اچھا یاد دلایا تم نے سویٹو، آپ اپنی لالہ کے پاس بیٹھ کر باتیں کرو، ہم ذرا اپنی بیگم کو فون کرکے پتہ کرتے ہیں کہ کب تک آئیں گی ٹوٹو اور اس کی امی۔۔۔،، میں نے بیگم کا نمبر ملا کر فون اپنے کان سے لگالیا۔
وہ وہیں کھڑی رہ کر میری طرف دیکھنے لگی اور میں اسے نظر انداز کرتا ہُوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
٭٭٭٭٭٭


شیئر کریں
سید کامی شاہ معروف شاعر اور افسانہ نگار ہیں، گاہے گاہے ادبی مضامین اور کالم بھی لکھتے ہیں، ایک طویل عرصے سے اس دشت کی سیاحی میں مشغول ہیں، ان کی شاعری کے اب تک دو مجموعہ کلام اشاعت پذیر ہوچکے ہیں، پہلی کتاب تجھ بن ذات ادھوری ہے کہ نام سے دو ہزار آٹھ میں شائع ہوئی جبکہ دوسری کتاب قدیم کے نام سے دو ہزار اٹھارہ میں شائع ہوئی۔ کئی شعری انتخابات کا حصہ بھی بن چکے ہیں۔ افسانے، مضامین، کالم اور شاعری کثیر تعداد میں ملکی و غیر جرائد میں اشاعت پذیر ہوتی رہتی ہے۔ سید کامی شاہ پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں، اخبارات و جرائد میں طویل عرصے تک صحافیانہ ذمہ داریاں نبھانے کے بعد الیکٹرانک میڈیا میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں۔ اردو زبان کے ایک کثیر الاشاعت جریدے گوسپ کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں برقی صحافت بھی پڑھاتے رہے ہیں۔ آج کل ایک نجی میڈیا ہائوس میں ویب پروڈیوسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تخلیقی میدان میں اپنی کہانیوں کی کتاب کاف کہانی، شاعری کے مجموعے وجود سے آگے اور ناول کشش کا پھل پر کام کررہے ہیں۔ عصری شعرا و ادبا پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ تازہ کامی کے نام سے زیرِ طبع ہے۔
2 کمنٹ
  1. Avatar

    عمدہ افسانہ

    Reply
  2. Avatar

    بہت عمدہ افسانہ ہے، ۔ ایک عام موضوع، عام باتیں ، لیکن کامی کے برجستہ فقروں ،اور شفاف منظر کشی نے اسے اہم بنا دیا۔

    Reply

کمنٹ کریں