فروری کو ہی یومِ یکجہتیءکشمیر کیوں ؟

کالم نگار : گل بخشالوی

, فروری کو ہی یومِ یکجہتیءکشمیر کیوں ؟

5 فروری کا دن پاکستان کے طول و عرض میں سیاسی اور مذہبی جما عتیں مقبوضہ کشمیر میں بسنے والوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر منایاجاتاہے کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف پاکستان میں احتجاجی جلسے جلوس اور سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ تاریخ کے طالب علم کھاریاں بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر چوہدری بشارت ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان میں اس دن کو منانے کی ابتداءکب اور کیسے ہوئی اور کس شخصیت نے سب سے پہلے ریاستی سطح پر اس دن کو منانے کا مطالبہ پیش کیا۔ مقبوضہ کشمیر کے کٹ پتلی وزیرِ اعلیٰ شیخ عبداللہ نے مشرقی پاکستان پر بھارت کے قبضے کے بعد پاکستان کو کمزور سمجھتے ہوئے بھارت کی وزیرِ اعظم اندارا گاند ھی سے 25فروری 1975کو تعاون کا اعلان کیا اور مقبوضہ کشمیر کے وزیر ِ ِ ِ اعلیٰ بن گئے،


پاکستان کے و زیر ِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اندرا گاند ھی اور شیخ عبداللہ کے معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے مظفر آباد میں ایک عظیم الشان جلسہ عام میں کشمیریوں سے پاکستان کی اظہار ِ یکجہتی کے لئے 28فروری 1975کو مقبوضہ اور آزادکشمیر میں پیئہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ۔ کشمیریوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے پیغام پر لبیک کہتے ہوئے پیئہ جام ہڑتال کی تاریخ رقم کرتے ہوئے جانوروں کو پانی تک نہیں پلایا ، لیکن ذوالفقار علی بھٹو کی حکمرانی پر ضیاءالحق نے شب خون مارا ۔ اور ذوالفقار علی بھٹو کے ہر احسن اقدام کو دفن کر دیا ، مارشل لاءدور میں یوم ِیکجہتی ءکشمیر کو بھی بھٹو د شمنی میں نظر انداز کر دیا گیا!
پاکستان کی پہلی مسلمان خاتون وزیر ِ اعظم بے نظیر بھٹو نے اقتدار میں آکر کشمیریوں کے ساتھ رقم کی گئی تاریخ کو زندہ کرنا چاہا لیکن اس وقت پنجاب کے وزیر ِ اعلیٰ میاں محمد نواز شریف نہیں چاہتے تھے کہ بھٹو ایک بار پھر اپنی لکھی ہوئی تاریخ میں زندہ ہو جائے تو اس وقت کے امیر جماعتِ اسلامی قاضی حسین احمد نے وزیرِ اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو اس بات پر قائل کر لیا کہ اگر میاں محمد نواز شریف کو 28 فروری سے اختلاف ہے تو ہم پاکستانی یوم ِیکجہتی ¾ءکشمیر 5 فروری کو منا لیتے ہیں


چونکہ مقصد نیک تھا تمام لوگ مان گئے ۔بے نظیر بھٹو نے قومی یکجہتی کے لئے تجویز سے اتفاق کیا اور میاں محمد نواز شریف بھی خاموش ہو گئے اس طرح پہلی مرتبہ 5فروری 1990 میں کشمیریوں سے تجدید عہد کا دن دھوم دھام سے منایا گیا۔
بلاوا کشمیر کا
مسلمانو! اُٹھو کشمیر ماں دھرتی کا یہ پیغام آیا ہے
وہ کہتی ہے میرے بیٹو!
مرے آنگن میں ظلم وجبر کے شعلے بھڑک اُٹھے
میں مقتل ہوں
مرے بچوں کے سر نیزوں پہ آکر رقص میں دیکھو
تمہارے پھول سے بھائی
لہو میں ڈوب کر وادی میں مل کر گیت گاتے ہیں
وہ کہتے ہیں ،ہمارے خون سے کشمیر میں مہکے گی آزادی
میرے بیٹو چلے آؤ
تمہاری پھول بہنوں کے سروں سے چھن گئے آنچل
پریشاں ہوں
میں اپنی بیٹوں کی لُٹتی عصمت کب تلک دیکھوں
میرے بیٹو چلے آؤ
لکھو تاریخ اپنے خون سے میرے مقدر کی
یہی ہے وقت آزادی ،وگرنہ دشمن کشمیر برہم ہے
وہ میرے پھول سے بچوں کا قتل عام کردیں گے
مری شہزادیوں کو نوچ ڈالیں گے
تو پھر کیسے کہو گے تم
کہ ہے کشمیر پاکستان کی شہ رگ

شیئر کریں
والدین کا دیا ہوا نام : سبحان الدین ۔ قلمی نام : گل بخشالوی ۔ تعلیم : میٹرک ( پرائیویٹ ) پیدائش 30مئی 1952 ۔ مقام ِ پیدائش : بخشالی ضلع مردان،خیبر پختونخواہ ۔مادری زبان : پشتو شاعر کالم نگار ادب دوست ، ناظم اعلیٰ قلم قافلہ کھاریاں۔ ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز1984ء حال مقیم کھاریاں شہر ضلع گجرات پنجاب (پاکستان)

کمنٹ کریں