خالص کہانیوں کا فنکار۔ اقبال حسن آزاد

مضمون نگار:ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی،پٹنہ

, خالص کہانیوں کا فنکار۔ اقبال حسن آزاد

اقبال حسن آزاد کا پہلا افسانوی مجموعہ’’قطرہ قطرہ احساس ‘‘۱۹۸۷ء میں منظر عام پر آیا تھا مگر وہ کہانیاں ۱۹۷۷ سے ہی لکھ رہے ہیں ۔ظاہر ہے کہ یہ ایسا دور تھا جب تجریدی اور علامتی افسانوں نے عام کہانی پڑھنے والوں کو اردو کہانی سے بے زار کر دیا تھا ۔نو جوان قارئین اردو کی شاعری اور ہندی کہانیاں پڑھنا پسند کر تے تھے کیونکہ اردو افسانے غیر دلچسپ ،معمہ نما اور عصری حقائق سے تقریباًبے گانہ ہو گئے تھے۔اور حد تو یہ ہے کہ اس رو میں غیاث احمد گدی ،سلام بن رزاق،شوکت حیات،قمر احسن اور حسین الحق جیسے اہم نام بھی بہ گئے تھے۔ایسے میں جس قافلے نے اردو کہانی کو اس کا منصب بحال کرنے کے لئے راہ اعتدال اختیار کیا اس میں اقبال حسن آزاد بھی شامل تھے۔افسانے کے بدلتے ہوئے چاپوں کی آواز ان کی کہانیوںمیں بھی بخوبی سنی جا سکتی ہے۔کیونکہ انہوں نے تمام وقتی تجربات سے دور رہ کر پلاٹ،کردار،فضااور ماحول کی عکاسی میں یک جہتی ،توازن اور گہرائی پیدا کرنے کی کو شش کی اور افسانہ کے تارو پود میں رومانیت و واقعیت کے ذریعہ جمالیاتی وحدت اور کیف پیدا کیا ہے۔


افسانے کے سلسلے میں اقبال حسن آزاد کا معیار یہ ہے کہ کہانی میں کہانی پن کا عنصر ہر حال میں بر قرار رہنا چاہئے۔چنانچہ ایک حساس اور باشعور فنکار کی طرح وہ اپنی کہانیوں میں عصری مسائل،زندگی کی داخلی و خارجی کیفیات اور ہر لمحہ بدلتی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں تو افسانے کے کہانی پن کو علمیت اور ایمائیت کے بوجھ تلے دبنے سے بچاکر رکھتے ہیں ۔ان کی کہانیوں کا تعلق ہماری تہذیب و ثقافت سے بہت گہرا ہے مگر یہ کہانیاں تہذیب اور فیشن کی بے ضابطگی ، بے اصولی اور آزادروی کو ظاہر کرنے کے لئے وجود میں نہیں آئیں،بلکہ اس دھڑکتے ہوئے دل اور بے چین روح کو افسانوی حقیقت میں پیش کرتی ہیں جو انسانیت کے سینے میں پرورش پاتی ہے۔اسی لئے انہوں نے مثالی کرداروں کو منتخب کر کے کہانی کے تانے بانے بنے ہیں۔ان کے کردار حسن و عشق اور مسائل زندگی سے بر سر پیکار ہونے کے باوجود ہندستانی آداب وتہذیب کے علمبردار نظر آتے ہیں۔مردم گزیدہ ،چاندی کے تار،بس یہیں تک،نہیں ممی نہیں،ٹکٹ،گھڑی ،بھول،ڈوبتا ابھرتا آدمی اور شوپیس جیسی کہانیاںاپنے کرداروں کے تعلق سے پہلی قرات میں یہی تاثر پیدا کرتی ہیں۔


اقبال حسن آزاد کے افسانے تہذیبی شکست و ریخت ،تشدد،استحصال اور فرد کے منافقانہ رویوں کو بے لاگ اور حقیقت پسندانہ انداز میں نمایاں کر تے ہیں جو افسانہ نگار کی انسانی نفسیات سے گہر ی واقفیت اور زبان وبیان کے ہنر مندانہ برتائو کی وجہ سے متاثر کن اور فکر انگیز گئے ہیں۔افسانے میں موضوع کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہوتا،موضوع کے ساتھ افسانہ نگار کے ٹریٹمنٹ کا مسئلہ بڑا ہوتاہے ،یعنی کہانی کہنے کا فن ۔ہر چند کہ طرز اظہار(کہانی کہنے کا فن)مقصود بالذات نہیں ہوتا مگر مقصد کی دریافت کا غالب وسیلہ یہی ہوتاہے۔آزاد کی کہانیوں کے مطالعے کا حاصل یہی ہے کہ ان کے یہاں اظہار کی کئی صورتیں در آئی ہیں۔انہوں نے علامات و استعارات سے بھی ضرورتاًکام لیاہے اور تمثیلات کی راہیں بھی نکالی ہیں مگر ان کا غالب رجحان شفاف بیانیہ کا رہاہے۔الفاظ پر دسترس ہو تو ہر طریقے سے قاری کو گرفت میں لیا جا سکتا ہے ۔اقبال حسن آزاد کو بلا شبہ لفظوں پر دسترس حاصل ہے۔
جہاں تک موضوع کا تعلق ہے اقبال کے افسانوں میں وہ سب کچھ ہے جو ہماری زندگی کو متاثر کر رہاہے۔وہ ہمارے عہد کے مسائل اور مزاج سے باخبر ہیں ۔ان کی نگاہیں حالات و واقعات سے گزر کر ان اسرارو رموز تک جا پہنچتی ہیں جہاں عام نگاہیں نہیں پہنچ سکتیں ۔وہ زندگی کی سادہ اور سچی قدروں کی ترجمانی حرف و احساس کے فنکارانہ امتزاج کے ساتھ کر تے ہیں۔چشم نگراں،بے خواب، رونے والے،مردم گزیدہ،زندگی اس پل ،بھول بھلیاں ،گرفت،بے سبب،پیچ در پیچ اور لامکاں جیسے افسانوںمیں ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی سے متعلق مسائل ،فرد کی محرومیاں،افلاس،محنت کا استحصال ،روز مرہ زندگی کے دکھ سکھ اور انسانی رویوں کے مختلف شیڈس دکھائی دیتے ہیں۔اس لئے فرد اور معاشرے کے درمیان ایک گہرے اور بامعنی رشتے کی تلاش و جستجو ان کے افسانوں کی شناخت بن جا تی ہے
اقبال کے بعض افسانوں میں انسانی نفسیات کا بڑا گہرا مطالعہ ملتا ہے۔ایسا لگتا ہے انہوں نے کردارکو اپنے آس پاس دیکھا ہے اور اس کا مشاہدہ شب وروز کر کے نتیجہ اخذ کیا ہے۔ایسی کہانیوں میں لاشعور یا تحت شعور میں دبی چنگاری شعلہ بن کر پھوٹتی ہے اور کردار کی پوری شخصیت کو متاثر کر ڈالتی ہے۔پیچ در پیچ ،گرفت،بھول ،بھول بھلیاں،شجرہ اور چشم نگراں وغیرہ افسانے ایسے ہی نفسیاتی مطالعے سے عبارت ہیں۔اقبال کی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ افسانوں کی تلاش میں ادھر ادھر نہیں بھٹکتے بلکہ اپنے ارد گرد اور آس پاس کے ان واقعات و معاملات کو افسانوں میں ڈھالتے ہیں جو ان کی نظروں کے سامنے سے گزرتے ہیں اسی لئے ان کے افسانوں میں مشاہدے اور مطالعے کا وصف نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔

مشاہدے کی صفت ہی ان کے یہاں تخلیقیت کے نئے سوتے پیدا کر تی ہے۔مثال کے طور پر افسانہ ’’مردم گزیدہ‘‘ہی لیجئے جسے افسانہ نگار نے اپنے دوسرے مجموعے کا سرنامہ بھی بنایاہے۔کہانی میں ایک مسئلہ ہے کرائے کے مکان کی تلاش!ظاہر ہے ایسے معاملات اکثر و بیشتر لوگوں کے مشاہدے کا حصہ بنتے ہیں۔مگر اس عام مسئلے کے پس پردہ منافقت اور دو چہرگی کو ظاہر کرنا ہر فرد کے بس کی بات نہیں۔اقبال حسن آزاد نے اس عام مسئلے کو بنیاد بناکر انسان کی سگ خصلتی کو بڑے متوازن اور موثر طور پر پیش کیاہے۔اخلاقی دیوالیہ پن اور انسانی خود غرضی کا بصیرت انگیز تاثر ایک مختصر افسانے کے حوالے سے شاید ہی اس سے بہتر کہیں اور پایا گیاہو۔لطف تو یہ ہے کہ یہ کہانی خارجی اور داخلی دونوں سطحوں پر معنویت سے بھر پور ہے۔علامت و تہداری کے متلاشی قارئین کے لئے اس میں کردار کو گھیرے ہوئے کتے سماج میں جینے والے منافق اور دہری پالیسی پر عمل پیرا اشخاص کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ہر جگہ سیدھے سادے کمزور لوگوں پر چڑھ دوڑنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔مگر جب انہیں کرارا جواب ملتا ہے تو دم دباکر بھاگ نکلتے ہیں۔کرائے کا مکان در اصل منزل یا مقصد کی تلاش ہے جس میں انسان کو ناموافق اور ٹیڑھے میڑھے راستوں سے دوچار ہونا پڑسکتاہے۔افسانہ نگار سبق دیتاہے کہ ایسے ناموافق حالات کے سامنے سپر ڈالنے کے بجائے ان کا مقابلہ کر کے بہادری کا ثبوت دیناچاہئے کہ ناموافق حالات دم دباکر بھاگنے پر مجبور ہو جائیں۔


’’ڈرئیے مت!یہ صرف بھونکتے ہیں کاٹتے نہیں۔آجائیے گیٹ کے اندر آجائیے‘‘
اس نے ایک لمحے کو نگاہیں اٹھاکر مالک مکان کو دیکھا۔مالک مکان اطمینان کے ساتھ کھڑا تھا ۔ادھر کتے تھے کہ کاٹ کھانے کے موڈ میں تھے اور وہ کالا کتا تو بالکل قریب آگیا تھا۔اس وقت وہ بالکل نہتا تھا۔پہلے اس نے بازو ہلاہلا کر شی شی ہش ہش کر کے انہیں ہٹانے کی کو شش کی لیکن اس کی اس حرکت سے کتے اور جوش میں آگئے ۔اسے سڑک کے کنارے ایک بڑی سی اینٹ پڑی دکھائی دی ۔اگر وہ کسی طرح اینٹ تک پہنچ سکتا تو؟۔۔۔۔۔۔تب اس نے بڑی سرعت کے ساتھ پینٹ کی بیلٹ کھولی اور اسے زور زور سے ہوا میں گھمانے لگا اور پھر بیلٹ کا بکلس ایک کتے کی تھوتھنی سے ٹکرایاتھا۔کتے کے منہ سے کریہ چیخ نکلی ۔وہ تیزی سے مڑا اور دم دباکر چیں چیں کر نے لگا۔دوسرے کتے بھی جھجھک جھجھک پیچھے ہٹنے لگے ۔اس نے لپک کر اینٹ اٹھائی اور تاک کر اس کالے کتے کے منہ پر مارا جو ان کا سر غنہ تھا۔کتے کا سر چکراگیا اور بھیانک چیخ کے ساتھ پچھلی ٹانگوںپر الٹ گیا۔اس کے پسپا ہوتے ہی میدان صاف ہو گیااور سبھی دم دباکر بھاگنے لگے۔ اس نے حقارت کے ساتھ ڈھیلوں کو سڑک کے کنارے پھینکا اور واپسی کے لئے مڑگیا۔‘‘(مردم گزیدہ)


ایسا لگتاہے کردار کو وہاں موجود ہر شخص اپنے رویئے سے کتا نظر آنے لگا تھا کیونکہ بجائے اس کی مدد کرنے کے سب اپنی اپنی تفریحوں میں گم تھے اور اس کی لڑائی کو تماشہ سمجھ کر لطف لے رہے تھے۔معاشرے میں موجود ذلالت ،خود غرضی اور اخلاقی دیوالئے پن کی مثال یہ کہانی اپنے جملوں ،مکالموں اور اختصار کے باعث فکر انگیز اور تہدار ہو گئی ہے۔قاری خارجی یاداخلی کسی سطح کا ہو وہ اس کہانی سے پوری طرح لطف اندوز ہوتاہے اور اس کی معنویت اسے دیر تک اپنی دنیا میں گم رکھتی ہے۔


یوں تو اقبال حسن آزاد سیکڑوں افسانے لکھ چکے ہیں مگر ان کے چند افسانے اپنی افادیت ،حسن بیان اور متحرک کرداروں کی وجہ سے حافظے میں بس جانے اور افسانہ نگاری کے ہر تذکرے میں شامل ہونے کا حق رکھتے ہیں مثلاً’’سوختہ ساماں‘‘جو اردو زبان اور اردو تہذیب کی زوال پذیری کی آئینہ داری کرنے والا منفردافسانہ ہے۔اپنی زبان اور تہذیب سے کٹ کر نئی نسل کس مقام پر پہنچ گئی ہے اس کا اندازہ اس وقت ہوتاہے جب اردو مکتب میں درس دینے والا استاد بھی ’’دیوان‘‘نام کی چیز سے ناواقف نظر آتا ہے اور پوچھے جانے پربڑی معصومیت سے یہ بتاتاہے کہ
’’ہاں کچھ کتابیں تو تھیں بڑی پرانی ۔۔۔۔۔فارسی اردو کی۔۔۔۔ان کا کاغذ ایک دم نیلا پڑگیا تھا۔۔۔۔میں نے ردی سمجھ کر جلا دیا‘‘


یہ ایک بلیغ جملہ ہے جو خوبصورتی مگر طنز کے ساتھ اپنے ملک میں اردو زبان کی حالت اور اس کے مستقبل کی طرف اشارہ کر رہاہے کہ جب اردو سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی اردو زبان و تہذیب (دیوان)سے نابلد ہو جائیں گے تو اردو کی زندگی اور بقا کا ذمے دار کون ہوگا؟افسانہ ’’بے خواب‘‘میں بھی مصنف نے اپنی تہذیب کے بے برگ وبار ہونے کا المیہ ایسی ہی خوب صورتی سے پیش کیا ہے۔مگر ساتھ میں دہشت گردی ،مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے المیے اور کرب کو بھی بڑی تہ داری اور ایمائیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔دہشت گردی اور فسادات کے پس منظر میں ’’نہیں ممی نہیں‘‘بھی اہمیت کی حامل کہانی ہے جس میں ایک بچہ ماں کی کوکھ سے باہر آنے میں ڈررہاہے کیونکہ وہ ایسی دنیا میں قدم نہیں رکھنا چاہتاجو دہشت گردی ،حیوانیت اور ظلم و ستم کا منبع بن چکی ہے۔۔۔افسانہ نگار کو اپنی تہذیب ،اپنی زبان اور اپنی قوم کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت کے ساتھ ہمدردی ہے اس لئے وہ اپنی بقا کے ساتھ عالم انسانیت کی بقا اور ترقی کا بھی خواہاں ہے۔اور یہ یقینابڑی بات ،بڑا ذہن ہے۔


اقبال کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑی بڑی کہانیاں مثلاًگھڑی ،ٹکٹ،چشم نگراں ،ڈوبتا ابھرتا آدمی اور بھول وغیرہ اردو کی خالص کہانیاں ہیں جو ہر طرح کی تہداری ۔ابہام اور ایمائیت سے خالی ہیں اور سیدھے سچے اردو کے قارئین کو کسی نہ کسی سبق آموز کیفیت سے دو چار کرتی ہیں۔’’گھڑی‘‘بیٹے کے لئے باپ کی محبت ہے جسے وہ ہمیشہ سرگرم دیکھنا چاہتاہے تو ’’ٹکٹ‘‘بدلتے معاشرے اور سماج کی ذہنیت کو پیش کرتاہے جہاں ہر فرد اپنی دنیا میں گم ،فرائض سے منہ پھیر کر زندگی جینا چاہتاہے۔’’بھول ‘‘بدلتی ہوئی قدروں کا اشاریہ ہے جہاں باپ کی موت کے فوراً بعد افراد خانہ مکان کے بٹوارے میں ایسے کھوئے ہیں کہ ماں کے وجود کو فراموش کر بیٹھے ۔جب بچہ ’’دادی‘‘کی یاد دلاتاہے تو بڑی معصومیت سے بیٹا کہتاہے’’ارے اماں؟اماں کو تو ہم بھول ہی گئے تھے‘‘۔۔’’ڈوبتا ابھرتا آدمی ‘‘بھی ایسی ہی قدروں کا المیہ ہے جس میں ایک فرد دولت ،حسن اور دنیا داری میں اپنے محسنوں ،مربیوں کو بھول جاتاہے۔ایک پوسٹ پر امید وار کی حیثیت سے ایک طرف اہلیت و صلاحیت والا اس کا منہ بولا بھائی ہے جس کے والد نے اس کی پرورش وپرداخت کر کے زندگی عطاکی۔اس کی ماں بہنوں نے اسے بیٹے اور بھائی کاپیار دیا تو دوسری طرف بیوی کا خالہ زاد بھائی ہے جس کی سفارش بیوی (شگفتہ)کر چکی ہے۔


’’اس کے سامنے ایک ان دیکھا ترازو تھا ،ایک پلڑے پر ماسٹر صاحب تھے،آپاتھیں ،سومو تھا۔دوسرے پلڑے پر شگفتہ۔کبھی دونوںپلڑے برابر ہو جاتے،پھر کبھی ایک پلڑا جھک جاتاکبھی دوسرا۔۔۔۔دروازے پر آہٹ ہوئی ۔۔۔۔شگفتہ پھر چلی آئی ۔بھرے بھرے رسیلے ہونٹ اور سلیو لیس نائٹی سے جھانکتے دودھیا رنگ کے گول گول دست وبازو۔اسے اس طرح پریشان دیکھ کروہ اس کے قریب آگئی۔اور اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر دھیرے دھیرے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔اسے لگا جیسے وہ مکھن میں سماتاجارہاہے۔اسے بڑا سکون محسوس ہوااور پھر رفتہ رفتہ غیر محسوس طریقے سے ماسٹر صاحب،آپا اور سومو ترازو کے پلڑے سے غائب ہونے لگے اور دوسراپلڑا جس پر صرف شگفتہ تھی جھکتا چلاگیا،جھکتا چلاگیا۔(ڈوبتا ابھرتا آدمی)


انسانی نفسیات کے تجزیے کے ساتھ ساتھ اقدار کی شکست اور فرض سے بے توجہی کی نمائندہ یہ کہانی زبان کے اعتبار سے بھی قارئین کو محظوظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔سیماب اکبر آبادی نے کہاتھا’’افسانہ ہم اس کو کہتے ہیں جس میں زیادہ سے زیادہ نفسیاتی اور حقیقی باتیں ہوںجسے انسان کی روز مرہ زندگی سے گہرا تعلق ہو۔جس میں مشاہدات اور تجربات کو سادہ بیانی کے ساتھ پیش کیا گیا ہو۔جس میں واقعیت ہو اور جو انسانی فطرت اور ماحول کے لحاظ سے صداقت پر مبنی ہو‘‘۔اقبال حسن آزاد کی کہانیاں مذکورہ تمام اوصاف کو بڑی خوبی سے اپنے اندر سموئے رہتی ہیں۔کم و بیش ہر افسانے میں انسانی نفسیات کا عمدہ تجزیہ موجود ہے اور ہر کہانی روزمرہ زندگی کے کسی نہ کسی پہلو سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔واقعیت اور صداقت تو اتنی ہے کہ ہر کہانی پر حقیقت کا گمان گزرتاہے۔اسی لئے اقدار کی شکست و ریخت کا منظر نامہ ہو یا انسانی احساسات و جذبات کے آئینے دکھاتاکوئی پر پیچ مسئلہ ،اپنی خوب صورت زبان اور پیش کش سے قاری کے ذوق کا سامان فراہم کرتاہے۔


مختصر یہ کہ اقبال حسن آزاد کی کہانیوں کا فن سیدھا سادہ ہے ۔انہوں نے ہیئت یا اسلوب کا کوئی تجربہ نہیں کیا۔ان کی بے ساختہ تحریریں ان کی پہچان ہیں ۔ان کے کردار ہماری آپ کی طرح بولتے اور سانس لیتے ہیں۔موضوعات میں جو تنوع ہے وہ معتبر ہے۔انہوں نے مختلف اسالیب سے کہا نیوں کو قوت بخشاہے مگر ہر اسلوب روایتی ،ترسیلی اور شفاف ہے۔کہیں تاثرکی فضا قائم ہوتی ہے تو کہیں آپ بیتی اور سوانح کا انداز کارفرماہے۔کہیں رپورتاژ کے انداز نے دلچسپی پیدا کی ہے تو کہیں سیدھا سچا بیانیہ قاری کو باندھے رکھتاہے۔ان کا ہنر ان کی خوش اسلوبی ہے۔ان کے پاس لہجہ بھی ہے ،زبان بھی ۔اختصار بھی ہے اور جامعیت بھی ،جو ان کی کہانیوں میں موپاساں کی خوبی پیدا کرتی ہے۔اسی خوبی نے ان کی کہانیوں میں وہ بے ساختگی اور کشش پیدا کی ہے جو ہماری دادی نانی کی کہانیوں میں ہوا کرتی تھی ۔اسی لئے مجھے محسوس ہوتاہے کہ اقبال حسن آزاد کی کہانیاں اردو کی ’’خالص کہانیاں‘‘ہیں جو اپنے جلو میں روایت اور تہذیب کے پھول کھلاتی ہیں اور ہمارے دل میں خوشبو بن کر اتر جاتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیئر کریں
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی بھارت میں اردو فکشن کی تنقید کا ایک سنجیدہ اور معتبر نام ہے۔ان کی پیدائش یکم اپریل ۱۹۷۲ء کو گیا (بہار) میں ایک عالم دین مولانا عبدالبر اعظمی کے گھر میں ہوئی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم والد گرامی سے ہی حاصل کی ،اس کے بعد مگدھ یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔جون ۲۰۰۳ء میں ان کا تقرر شعبٔہ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی میں ہوا،جہاں ابھی وہ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسرتدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کے مضامین ملک و بیرون ملک کے موقر رسائل و جرائد میں شایع ہوتے رہے ہیں اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے درمیان توجہ اور انہماک سے پڑھے جاتے رہے ہیں۔ان کی اب تک چھ کتابیں (۱)ضیائے اشرفیہ،۱۹۹۰ء(۲)اسلام کا معاشرتی نظام،۱۹۹۲ء(اردو کے نثری اسالیب،۱۹۹۹ء(۴)فرات،مطالعہ ومحاسبہ،۲۰۰۴ء(۵)اردو ناول کے اسالیب،۲۰۰۶ء(۶)اور جہان فکشن،۲۰۰۸ء شایع ہو چکی ہیں۔ان میں اردو ناول کے اسالیب اور جہان فکشن کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ،بالخصوص اردو ناول کے اسالیب کو اترپردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے اول انعامات سے او ر جہان فکشن کو بہار اردو اکادمی کے اول انعام سے نوازا گیا۔پروفیسر وہاب اشرفی نے ’’تاریخ ادب اردو‘‘ میں اول الذکر کتاب کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ ’’کم ازکم میری نگاہ سے ایسا تحقیقی اور تنقیدی کام نہیں گذرا۔یہ تحقیقی و تنقیدی اعتبار سے نئے جہات سے مملوہے‘‘۔ڈاکٹر اعظمی اردو کی قومی اور بین الاقوامی مجلسوں ،سیمیناروں اور جلسوں میں شرکت کرکے بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔

کمنٹ کریں