خان محبوب طرزی : ایک مختصر جائزہ

خان محبوب طرزی : ایک مختصر جائزہ
خان محبوب طرزی : ایک مختصر جائزہ

مضمون نگار : حمیراعالیہ
lafznamaweb@gmail.com

ڈاکٹر عمیر منظر ادبی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ وہ جتنے باکمال تخلیق کار ہیں اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ محقق ہیں۔ وہ جتنی جانفشانی اور لگن سے کام کرتے ہیں وہ ہم جیسے تحقیقی کام کرنے والے طلباء کے لئے مثال ہے۔


میں گذشتہ دو برسوں سے ڈاکٹر صاحب کو خان محبوب طرزی پہ کام کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔شاید یہ اس سے بھی پہلے سے جاری تھا۔ انہوں نے ایک ایسے ادیب کی تحاریر کو یکجا کیا ہے جس سے نئی نسل تقریبا ناواقف ہے۔


کتاب کی ابتدا شمس الرحمن فاروقی کے پیش لفظ سے ہوتی ہے جو خود اپنے آپ میں ایک سند اور اعزاز ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر عمیر منظر نے ایک طویل دیباچہ لکھا ہے جس میں خان محبوب طرزی کی سوانح کے ساتھ ان کے فن پہ بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ علاوہ ازیں حروف تہجی کے اعتبار سے طرزی کے ناولوں کی مکمل فہرست بھی شامل ہے۔


ڈاکٹر صاحب نے اظہار تشکر کے نام سے الگ عنوان قائم کیا ہے اور پوری ایمانداری سے ان تمام سورسز کا شکریہ ادا کیا ہے جو اس تحقیق میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔( میں بھی ہوں😁)
ڈاکٹر صاحب نے اس تحقیق کو سات ابواب میں تقسیم کیا ہے۔
پہلا باب خان محبوب طرزی کے ‘احوال و کوائف’ پہ مشتمل ہے۔ جس میں مختلف ناقدین و اہل قلم کے مضامین شامل ہیں۔ان میں سید احتشام حسین، نورالحسن ہاشمی،نسیم انہونوی اور حفیظ نعمانی جیسے نام بھی شامل ہیں۔
دوسرا باب ‘طرزی کا فکشن’ ہے جس میں طرزی کے فنِ ناول نگاری پہ لکھے ہوئے مختلف مضامین شامل ہیں۔


تیسرے باب میں ‘ناولوں سے متعلق طرزی کی تحریریں’ ہیں۔ اس باب میں طرزی کے دس ناولوں پہ لکھے گئے پیش لفظ و دیباچے شامل ہیں۔
چوتھا باب ‘طرزی کے ناولوں پہ مقدمے اور رائیں’ پہ مشتمل ہے۔
پانچویں،چھٹے اور ساتویں باب میں طرزی کی مختلف تحاریر ہیں جن میں تحقیقی تحاریر،افسانے اورکچھ دیگر متفرق تحاریر شامل ہیں۔
یہ کتاب ڈاکٹر عمیر منظر کی تحقیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آجکل جب کہ کاپی پیسٹ پی ایچ ڈی(تحقیق) اپنے عروج پہ ہے تو ڈاکٹر صاحب کا یہ تحقیقی کارنامہ ہم سب کے لئے ایک نمونہ ہے جس کی روشنی میں ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ایک محقق کی کیا ذمہ داریاں و فرائض ہوتے ہیں نیز ایک معیاری کام کیسے کیا جاتا ہے۔


جاسوسی،مہماتی،سائنس فکشن و تحیرخیز رومانی ناولوں کے شوقین احباب کو خان محبوب طرزی سے واقفیت ضرور حاصل کرنی چاہئے۔لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے اس بسیار نویس فکشن نگار کو ادب میں وہ جگہ نہیں دی گئی جس کے وہ حقدار تھے لیکن اب امید ہے کہ ڈاکٹر عمیر منظر کے اس وقیع کام کے بعد اربابِ نقد طرزی کی ادب میں جگہ متعین ضرور کریں گے۔

شیئر کریں
حمیرا عالیہ کا تعلق لکھنؤ سے ہے ۔ یہ شعبہ اردو،لکھنؤ یونیورسٹی سے ریسرچ کر رہی ہیں

کمنٹ کریں