ضبط ولادت/ خاندانی منصوبہ بندی اور اسلام

مضمون نگار : اعزاز کیانی

, ضبط ولادت/ خاندانی منصوبہ بندی اور اسلام

انسانی تاریخ کا ہر نیا عہد اپنے ساتھ کچھ نئے مباحث و سوالات لیکر آتا ہے. زمانی تغیر سے پیدا ہونے والے یہ مباحث و سوالات اہل علم و عوام میں ایک عرصہ تک زیر بحث رہتے ہیں اور انکے حل کی تلاش کی سعی بھی پیہم جاری رہتی ہے.
انہی مباحث میں ایک بحث جس کا حل اس وقت مطلوب ہے وہ ضبط ولادت کی شریعی حثیت ہے.
ہمارے ہاں اس مبحث میں دو غالب مواقف پائے جاتے ہیں. ایک جانب کے موقف کے نزدیک ضبط ولادت کی ہر صورت ( ما سوائے چند متعین انتہائی صورتوں کے ) اور ہر طریقہ عند السلام مکروہ و حرام یا کم از کم نا پسندیدہ ضرور ہے. دوسری طرف کے موقف کے مطابق ضبط ولادت کی ہر صورت و ہر طریقہ نہ صرف مخصوص حالات میں بلکہ عمومی حالات میں بھی بالکل جائز و درست ہے بلکہ اس عہد کی ضرورت ہے.


میرے نزدیک اسلام نےمتعین طور پر ضبط ولادت یا خاندانی منصوبہ بندی کی علت و حرمت کو موضوع ہی نہیں بنایا ہے.
خاندانی منصوبہ بندی کی ممانعت میں عموماً جن آیات سے استدلال کیا جاتا ہے وہ سورہ انعام کی آیت 151 اور سورہ اسراء کی کی آیت 17 ہے. اگر ان دونوں آیات کی تلخیص کی جائے تو ان دونوں کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو اسلیے کہ رزق دینے والا اللہ ہے.
میرے نزدیک یہ دونوں آیات قتل نفس سے متعلق ہیں یعنی ایک ایسی جان, جو وجود میں آ چکی ہو, چاہے یہ وجود اس دنیا میں ہو یا شکم مادر میں ( اسقاط حمل) کو رزق کے خوف سے قتل کرنے کی ممانعت کی جا رہی ہے.
جہاں تک اللہ تعالی کے رازق ہونے کا مطلب ہے تو لاریب کے رازق حقیقی اللہ ہی ہے لیکن اللہ تعالی نے یہ دنیا کوشش و محنت کے اصول پر قائم کی ہے. اللہ تعالیٰ کے رازق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ رزق کا مبداء اللہ تعالی ہی کا یے جس سے ہر فرد کو بمطابق اسکی محنت و کوشش کے عطا کیا جائے گا.
میرے نزدیک ان آیات کا اطلاق استقرار حمل سے قبل کی کسی مانع حمل تدبیر پر نہیں ہوتا بلکہ ان آیات کے مصداق دراصل وہ واقعات ہیں جو آئے روز ہم اخبارات میں دیکھتے اور پڑھتے ہیں کہ فلاں مرد یا عورت نے بوجہ افلاس و غربت بچوں کو قتل کر دیا اور ازاں بعد خود کشی کر لی ہے. یہی رائے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے بھی اختیار کی ہے کہ مختلف مانع حمل طریقوں اور کوششوں پر قتل اولاد کا اطلاق نہیں ہوتا ہے( لیکن اسقاط حمل بہرحال اقدام قتل ہے)


ضبط ولادت کی ممانعت کے لیے دوسرا استدلال روایات سے قائم کیا جاتا ہے. ان روایات کو دو انواع میں تقسیم کیا جا سکتا ہے.
پہلی نوع ان احادیث کی ہے جن میں رسول اللہ نے اولاد کے قتل کو شرک کے بعد دوسرا بڑا گناہ قرار دیا ہے. میرےنزدیک ان روایات کی نوعیت بھی مندرجہ بالا آیات کی سی ہے یعنی ان احادیث میں قتل سے مراد کسی زندہ انسانی جان کا قتل ہے.
دوسری نوع ان روایات کی ہے جن میں اصحاب رسول سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ کے زمانے میں ضبط ولادت کے لیے ایک تدبیر اختیار کرتے تھے. رسول اللہ کے سامنے جب اس تدبیر کا ذکر کیا گیا تھا آپ نے اسکی بابت کچھ مواقع پر استفہامی انداز میں پوچھا کیا تم یہ کرتے? اور ایک موقع پر خود ایک صحابی کو فرمایا کہ یہ تدبیر اختیار کرو.
ان تمام روایات کا اگر جائزہ لیا جائے تو کسی ایک روایت میں بھی رسول اللہ ص نے اسکو حرام قرار نہیں دیا بلکہ صریحاً ممانعت بھی نہیں کی ہے. آپ ان مواقع پر مجرد اتنا ہی فرماتے تھے کہ جس جان کا آنا مقدر ہے وہ آ کر رہے گی ( بخاری, مسلم , مسند احمد) . حالانکہ رسالت مآب کا عام طریقہ یہ ہے کہ وہ جن چیزوں کو مبادیات دین سے متصادم و مختلف جانتے تھے تو انکو حرمت نہ صرف سر عام فرما دیتے تھے بلکہ انکے لیے انتہائی واضح الفاظ استعمال کرتے تھے.


یہ تمام اشہاد اسی جانب راہنمائی کرتے ہیں کہ اسلام نے خاندانی منصوبہ بندی یا ضبط ولادت کو متعین طور پر موضوع ہی نہیں بنایا اور نہ اولاد کے کم سے کم یا زہادہ سے زیادہ تعدد کو موضوع بنایا بلکہ یہ امر بھی ان بجنسہ ان امور کے ہے جن میں انسان عقل خداد کی روشنی میں فیصلہ کرے گا.
میرے نزدیک خاندانی منصوبہ بندی خاندان کی فطری ضرورت ہے اسلیے کوئی بھی انسان ( یا زوجین) پیہم بچوں کی پیدائش کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ازدواجی زندگی کے اگلے مرحلے میں خاندانی منصوبہ بندی زوجین کی فطری مجبوری بن جاتی ہے.
خاندانی منصوبہ بندی کی دو بنیادی صورتیں ہیں. صورت اول میں خاندان کے ادارے کے منصوبہ ساز و منتظم ( زوجین) فیصلہ کریں گے کہ وہ کتنے بچوں کے متحمل ہو سکتے ہیں. بچوں کی پیدائش کے فیصلے میں تنہا رزق ہی بنائے فیصلہ نہیں ہے بلکہ بچوں کی تعلیم, تربیت, نگہداشت، ضروریات و سہولیات زندگی، زوجین کی مالی استطاعت ،انکی مجموعی ذمے داریوں و مصروفیات، طب و صحت کے مسائل اور دیگر مادی اسباب و وعوامل کو ملحوظ رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا.


دوسری صورت یہ ہے کہ اگر کوئی معاشرہ زیادتی آبادی کے مسئلے سے دوجار ہے اور آبادی کی یہ زیادتی مجموعی ریاست نظم میں عدم توازن کی وجہ بن رہی ہے تو اس صورت میں بھی اس کا فیصلہ کیا جائے گا. چنانچہ اقبال نے بھی زیادتی آبادی کے مسئلے کی بابت ایک موقع پر فرمایا تھا کہ آبادی کی کمی کا ایک طریقہ فطری ہے یعنی قدرتی آفسات و اموات لیکن اسکے علاوہ انسانی سطح پر ہمیں زیادی آبادی کے مسئلے کے سدباب کے لیے کم سنی کی شادی اور کثرت ازدواج کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئیے.
اس پورے مسئلے کی ایک دوسری صورت بھی ہے اور وہ یہ اگر زوجین یہ سمجھتے ہیں کہ وہ نسبتاً زیادہ بچوں کے متحمل ہو سکتے ہیں اور معاشرے میں زیادتی آبادی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں تو میرے نزدیک اصولی، قانونی اور اخلاقی طور پر ان لر بھی کوئی تحدید نہیں لگائی جا سکتی اس لیے کہ خاندانی منصوبہ بندی خاندانی ادارے کے منصوبہ سازوں کا استحقاق ہے
——
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں