خس و خاشاک زمانے

مضمون نگار :محمد عباس

خس و خاشاک زمانے

ناول کی صنف اس عورت کی طرح ہے جو بیک وقت محبت بھی کرتی ہے اور اپنے مرد کے لیے Possesiveبھی ہوتی ہے۔ شوہر کے ساتھ ساتھ اپنے رشتہ داروں ، اپنے دوستوں اور اپنی اولاد کے لیے بھی اپنی محبت کی دولت لٹاتی رہتی ہے لیکن اپنے شوہر کو اپنے علاوہ کسی اور کا نہیں ہونے دیتی۔ ناول اپنے دامن میں زندگی کا ہر پہلو سمیٹنے کا حوصلہ رکھتا ہے لیکن ناول نگار کو ایک پل کے لیے بھی دھیان ہٹانے نہیں دیتا۔ ناول نگار ناول شروع کرنے کے بعد اس زاویے ، اس نقطۂ نظر کا تابع ہو جاتا ہے جس کے تحت اس نے ناول شروع کیا ہے۔ کہانی اور کردار جو ساتھ لے کر چلا ہے، اس میں اپنی مرضی سے کوئی چیز نہیں ڈال سکتا۔ Hunger, Love in time of Cholera, My name is red, Blindness, Grapes of wrath, Independdant people, Zorba the greek, Steppenwolf, The Trial, بیسویں صدی کے وہ مشہور ناول ہیں جنہوں نے اپنی مرضی کے علاوہ کسی اور چیز پر توجہ نہ رکھی اور ناول کی چار سوسالہ تاریخ میں روشن ابواب کے عنوان ٹھہرے۔ ہمارے ہاں ناول نگار اس نکتے کو نہیں سمجھتے۔ اردو میں گزشتہ 120سال سے ناول ایک مقبولِ عام فارمولے کے تحت چلتے ہیںاور ناول نگار اسی فارمولے کے مطابق ناول لکھتے چلے جانے کو ناول کی کامیابی سمجھتے ہیں۔ناول کی روایت میں ندرتِ واقعہ ، بیان کی چستی اور ماحول کا زندہ عکس سبھی کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔


گو کہ اس دوران کچھ منفرد مزاج کے ناول بھی سامنے آئے ہیں لیکن زیادہ تر ناول اسی فارمولے کے تحت جنم لیتے ہیں۔فارمولا یہ ہے کہ پہلے ناول کا سیاسی پس منظر چنا جائے، کہ کس دور کے سیاسی واقعات کو ناول کے ماحول کے طور پر استعمال کیا جائے۔ جب یہ ماحول طے ہو جاتا ہے تو چند مٹی کے مادھو کرداروں کو گھڑ کر ، کہانی کے تاروں میں پرو دیا جاتا ہے۔ محبت، انتقام، دشمنی، کاروباری رقابت، ہوس کاری، فن کی ناقدری اور قدیم اقدار کا نوحہ ایسے ناولوں کے من پسند موضوع ہوتے ہیں۔ اگر کہانی میں دلچسپی کا عنصر کم ہونے لگے ، کردار بے جان ہونے لگیں تو اسے دلچسپ بنانے کے لیے جا بجا سیاسی واقعات کا تذکرہ ، ان کے اسباب پر لعن طعن کر کے مروجہ ادبی نقطۂ نظر سے مصنوعی انسان دوستی کے تصورات کا علم لہراتے ہوئے قاری کو ناول میں دانش فراہم کرنے کا فریضہ سر انجام دیا جاتا ہے۔ ناول کی فنی کمزوریوں کو اس کی فکری لیپا پوتی سے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جہاں کہانی ماٹھی پڑی اور اندازہ ہوا کہ قاری بیزار ہونے لگے گا ، جھٹ پٹ تاریخ کا ایک بڑا ڈھلوانی موڑناول کے سامنے لے آتے ہیں اور ناول کی رفتار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ناول کے واقعات کا دھارا خارجی حالات کا تابع ہوتا ہے نہ کہ اندرونی بنت کا لازمی نتیجہ۔ اکثر بڑے ناول نگار من مرضی کے تحت واقعات کا ایک سلسلہ ختم ہوجانے پر(جو تاریخ کے کسی خاص موڑ پر پیش آتے ہیں) واقعاتی سلسلے کو ایک جست لگوا کر اسے کسی اور خاص بڑے تاریخی موڑ پر لے جاپھینکتے ہیں۔ انہی تاریخی واقعات کی فقاریہ پر ناول کے لخت لخت بدن کو کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آگ کا دریا میں لگائی گئی زمانی جستیں، اداس نسلیں اورنادار لوگ میں ایک واقعہ سے دوسرے واقعہ کا سفر سبھی ہمارے سامنے ہیں۔ناول نگار کا تخیل بانجھ ہونے پر اپنے کرداروں کے لیے واقعات تخلیق نہیں کر پاتا تو انہیں اپنے تاریخی علم کی بنیاد پر تعمیر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ (اکثر یہ خیال آتا ہے کہ اگر1940, 1931, 1919, 1906, 1857 2001, 1999, 1998,1988, 1977, 1971, 1965, 1947, وغیرہ جیسے واقعات پیش نہ آتے تو شاید ہمارے ہاں ناول لکھا ہی نہ جاتا ۔ یا پھر شاید صحیح معنی میں ناول لکھا جاتا۔ ) جس کردار کے ساتھ قاری کی ذہنی و جذباتی وابستگی پیدا نہ کی جا سکے، جس کردار کی داخلی زندگی کا ہزار رنگ عکس تخلیق نہ ہو سکے، اسے فوراً ان سیاسی حالات کے تھپیڑوں میں پہنچا دیا جاتا ہے تا کہ قاری کا دل اس کا غم و اندوہ دیکھ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ (جیسے فتح محمد ۔55سال تک کی عمر ہوئی، ناول میں نہیں آیالیکن عین پلٹن میدان میں پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالتے وقت اس کی موت کا منظر قاری کو اشک بار کرنے آ جاتا ہے،مقصد وہ منظر دکھانا تھا ۔ ) اور پھر بھی اگر شک ہو کہ اس غازے سے یہ بے رونقی چھپ نہ پائے گی تو زبان کی پوشاک اس قدر دیدہ زیب پہنا دی جاتی ہے کہ دیکھنے والی آنکھ دنگ رہ جائے۔ ایسے خوبصورت اور دلکش الفاظ کے ستارے ٹانکتے ہوئے، مرصع جملوں سے کشیدہ کاری کی جاتی ہے کہ نظر ان کی دلفریبی میں الجھ کر رہ جاتی ہے اور ناول کے بدن کی خامیاں نظر سے پنہاں رہتی ہیں۔اگر یہ تاریخی پس منظر مختصرہو، چھوٹاہو تو اردو والے اس ناول کو چھوٹا ناول کہتے ہیں اورناول کے بڑا ہونے کی دلیل یہ ٹھہرتی ہے کہ وہ زمانی لحاظ سے تاریخ کے بڑے دائرے پر محیط ہے ۔’’ آگ کا دریا‘‘، ’’اداس نسلیں‘‘، ’’دشتِ سوس‘‘،’’ راکھ‘‘، ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ بڑے ناول ہیں جب کہ’’ آنگن‘‘، ’’شامِ اودھ‘‘،’’ خونِ جگر ہونے تک‘‘،’’ خلیج‘‘ چھوٹے ناول ہیں۔


ہم لوگ ناول کی اس روایت کے شناسا ہیں ہی نہیں جہاں 1600صفحات کے ناول Remembring the things pastکو جتنا بڑا ناول سمجھا جاتا ہے، اسی طرح سو صفحات کے The Outsiderکو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ David CopperfieldاورThe Old man and the seaکو ایک ہی فنی روایت کے دو شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ Grapes of wrathاور Of mice and menایک ہی فنکار کی مختلف قلبی واردادتیں گنی جاتی ہیں۔ادھر ہمارے ہاں بڑا ناول لکھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اول تو 600صفحات سے زیادہ ضخامت رکھتا ہو اور اس کا زمانی دورانیہ بھی کم از کم100سال کے قریب ہونا چاہیے۔ اس فارمولے کو بڑے ناول کی تخلیق اور مقبولیت دونوں کے لیے تیرِ بہدف سمجھا جاتا ہے۔اس کھانستے فارمولے پر لکھا گیا ناول’’خس و خاشاک زمانے ‘‘ مستنصر صاحب کاایسا ناول ہے جو لکھنے کی چالیس سال کی مشق کا نتیجہ ہے۔مستنصر حسین تارڑ نے عمر بھر بہت لکھا ہے۔ ان کے لیے یوں کسی ناول کے،بڑے سائز کے ساڑھے سات سو صفحات سیاہ کر دینا چنداں مشکل نہیں۔ بیزار کن سفروں کے اکتا دینے والے شب و روز کو اپنے قلم کی شوخی سے 35کے قریب سفرناموں میں بدل دینے والے مصنف کے لیے ناول میں دلچسپی پیدا کرنا بھی مشکل کام نہیں۔ زبان کی طراری سے ہر جملے کو ہفت رنگ بناتے چلے جانا بھی ان جیسے کہنہ مشق کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنی دلچسپی اور زبان کی چستی کے ہوتے ہوئے بھی یہ ناول ، ناول بن پایا ہے یا نہیں۔


ناول کے آغاز میں ہی بوجھل دہرائی احساس دلاتی ہے کہ اس ناول کے پلاٹ پر ذرا بھی محنت نہیں کی گئی ورنہ واقعات کا چھ چھ دفعہ ذکر نہ کیا جاتا اور وہ بھی ایسے واقعات جن کا ناول کے مجموعی بہائو سے کوئی گہرا تعلق ہی نہیں۔ پھر کہانی کا پہلا حصہ زیادہ تر اسی فارمولے پر لکھا گیا ہے جو اوپر بیان ہوا ہے۔ گائوں کے رہنے والے لوگوں کی زندگی کو دلچسپ اور با معنی بنانے کے لیے تاریخ کا سہارا لیا گیا۔ 1947، 1965اور 1971کے تاریخی واقعات کو ناول کے اندر گھسیٹ کر لایا گیا۔ یہی ترکیب ناول کے دوسرے حصے میں بھی کارفرما ہے جہاں ضیاء الحق کے دورِ آمریت کے حالات ،2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹرکی تباہی کے واقعے اور ڈنمارک میں بننے والے کارٹونی خاکوں کے خلاف مذہبی لوگوں کے احتجاج کو کھپایا گیا ہے ۔ ان واقعات کو ناول کے اندر لے آنے کا عمل بہت ہی سادہ ہے اور یہی سادگی ناول کے پورے ماحول کو خراب کرتی ہے۔ فتح محمد 55سال کا ادھیڑ عمر شخص ہے، پورے ناول میں اس کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا، بس ماں امرت کور/ کنیز فاطمہ کی یادوں کے آنگن میں اس کا سایہ نظر آتا ہے۔ ناول نگار نے 1971ء میں مشرقی پاکستان کا سقوط دکھانا تھا تو اس کردار کو اپنا آلۂ کار بنا لیا اور وہ جو 55سال تک ناول میں نہیں آیا تھا، اس کے مرنے کا پورا منظر اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ دکھایا جاتا ہے۔ یہاں اصل مقصد کردار کی موت دکھانا کم اور سانحہ مشرقی پاکستان کے فیصلہ کن مرحلے کی تصویر کھینچنا زیادہ تھا۔ اسی طرح کا دوسرا کردار روشن ہے جو 60سے اوپر کا ہو چکا ہے اور ناول میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا لیکن لاہور (اور عمومی طور پر پاکستان) میں بڑھتی ہوئی مذہبی جنونیت کا عکس دکھانے کے لیے اس کردار کو بپھرے ہوئے ہجوم کے سامنے لا کھڑا کیا گیا اور ہجوم نے اس پراتنا تشدد کیا کہ وہ موقع پر دم توڑ گیا۔ یہاں بھی مقصد کردار کی دردناک موت پر رلانا نہ تھا بلکہ مذہبی جنونیت کا تماشا دکھانا مقصود تھا۔تیسرا کردار انعام اللہ ہے جس کا پہلا ذکر ہی اس وقت آتا ہے جب ورلڈ ٹریڈ سنٹر تباہ ہوتے وقت ایک آدمی اوپرکی کسی منزل سے اس کی ٹیکسی پر گرتا ہے۔صاف نظر آتا ہے کہ یہ واقعات ناول کا ضروری حصہ نہیں ہیں، بس ان کی ’’نیوز ویلیو ‘‘کے مطابق انہیں ناول کے اندر ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔ اس عمل پر تین اعتراض بنتے ہیں۔ ایک تو یہ واقعات ناول کا ناگزیر حصہ نہیں ہیں، دوسرے ان کرداروں کے ذریعے بیان کرنے سے کوئی المیاتی احساس نہیں ہوتا، گو کہ کردار مر رہے ہیں لیکن ناول کے اندر سائے کی شکل میں زندہ رہنے والے کردار کی موت المیے کا سبب بھی نہیں سکتی۔ تیسرا اعتراض سب سے جاندار ہے کہ ان واقعات کو بیان کرنے کا انداز بہت ہی صحافیانہ قسم کا ہے ۔ گویا ایک واقعہ رونما ہوا ہے اور لکھنے والا اس کی ’آنکھوں دیکھا حال‘ قسم کی رپورٹنگ کررہا ہے۔ اگر ادبی انداز میں بیان کر کے واقعے کی کوئی نئی تعبیر سامنے لائی جائے ، تب بھی ان پر اعتراض ختم ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورت میں تو ان واقعات کی حیثیت ناول کے اندر بے معنی ہے۔


جس طرح ڈرامے میں ، ڈرامائی مفاہمتوں میں سے سب سے اہم مفاہمت ’چوتھی دیوار‘ ہوتی ہے ، اسی طرح ناول میں بھی ایک مفاہمت ناول اور قاری کے درمیان ہوتی ہے کہ ہر ناول ایک نئی دنیا ، ایک نیا ماحول لے کر آئے گا جس میں کسی دوسرے ناول کا سایہ نہیں پڑے گا۔ اور خاص طور پر ایک ہی ناول نگار کے مختلف ناول ایک دوسرے کے اثر سے آزاد رہیں تو کامیاب ہوتے ہیں۔ ہر ناول اپنی جگہ ایک الگ اور خود مختار دنیا ہوتا ہے۔ مستنصر اس مفاہمت کو اکثر توڑ دیتے ہیں اور اس ناول میں تو انہوں نے ملغوبہ سا بنا کے رکھ دیا ہے جو بہت چبھتا ہے۔ ان کے تمام پرانے ناولوں کے مشہور کردار، مشہور جملے، اثر انگیز واقعات اور ماحول گھوم گھوم کر اس ناول میں پیش ہو رہا ہے۔ یہ کمزوری بھی دو سطح رکھتی ہے، ایک دانستہ اور ایک نادانستہ۔ دانستہ تو وہ جگہیں ہیں جہاں مستنصر اپنے پرانے ناولوں کے کرداروں اور ان کے بولے گئے جملوںکا ذکر کرتے ہیں۔ مثلا’’راکھ‘‘ کے مشہور جملے ’چار مرغابیاں جن کا خوشی سے کوئی تعلق نہیں‘کا بار بار اتنا ذکر کیا گیا کہ پڑھنے والا تنگ پڑنے لگتا ہے۔ پھر پاروشنی، پکلی اور مورکا ذکر’ بہائو‘ کی یاد دلاتا ہے۔انہیں پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے مستنصر اپنے پہلے ناولوںکے سحر سے خود بھی نہیں نکلے اور اپنے قاری کو بھی نہیں نکالنا چاہتے۔ نادانستہ سطح وہ حصے ہیں جہاں مستنصر کے قلم سے وہ واقعات ذرا رنگ بدل کر بیان ہوئے جو وہ پہلے ناولوں میںبیان کر چکے ہیں۔ مثلاً ’’پکھیرو‘‘کا مردار کے اوپر گِدھوں کی یلغار کا منظر،’’ قلعہ جنگی‘‘ کا قلعہ جنگی کی تباہی کا منظر، ’’راکھ‘‘ میں پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں بنگالی عوام کے قتل کا منظر، ’’راکھ‘‘ میں کامونکی سے آگے ہندو ،سکھ مہاجرین کی ٹرین کٹ جانے کا منظر۔ یہ سبھی مناظر ’’خس و خاشاک زمانے ‘‘میں جب پیش ہوتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ مستنصر کا قلم اب خود کو دہرانے لگا ہے ۔


ناول میں کردار نگاری کا پہلو خاص طور پر بحث کے قابل ہے۔ اس کے مثبت پہلو تو اسی مضمون کے آخر پر گنوائے جائیں گے البتہ یہاں اس کے منفی پہلوشمار کئے جائیں گے۔مستنصر کے ہاں خارج کی صورت حال دکھانے کی پرزور خواہش کرداروں پر خواہ مخواہ کا بوجھ ڈالنے پر منتج ہوتی ہے جو بوجھ اٹھانے کی ان کرداروں میں سکت ہوتی ہی نہیں ہے۔ امیر بخش جو ایک عام سا آدمی ہے اور فرد کی حیثیت سے اوپر اٹھتا دکھائی نہیں دیتا، وہ سقوطِ مشرقی پاکستان سے پہلے کے حالات دیکھ کر انتہا درجے کا ردِعمل دکھاتا ہے ۔ اس سے قبل اس کے منہ سے وطن کی محبت کے متعلق جملہ تک نہیں نکلا اور یک دم وہ ملکی صورتحال پر ایسے کڑھتا اور روتا ہے جیسے اس کی عمر بھر کی کمائی لٹ گئی ہو۔ پھر بخت جہاں جیسا بے شرم آدمی جو اپنی بھتیجیوں کو بیچنے پر تل گیا تھا، اسے ہزاروں میل دور وقوع پذیر ہوتے واقعے پر اتنا درد کیسے ہو گیا کہ وہ روحانی شکل میں گھوڑی پر بیٹھا ، پلٹن میدان میں جا پہنچا۔ یہی صورت انعام اللہ کے ساتھ ہے جو عراق اور افغانستان پر ہونے والی بمباری سے اتنا دکھی ہو گیا ہے کہ اس معاشرے سے انتقا م لینا چاہتا ہے جس نے اسے مشکل وقت میں پناہ دی تھی۔ سب سے مضحکہ خیز کردار تو راجندر سنگھ کا ہے جو لہناں سنگھ کا بیٹا ہے۔ اس کے متعلق صرف ایک مرتبہ لہناں سنگھ بتاتا ہے کہ وہ فوج میں بھرتی ہو گیا ہے ۔ دوبارہ اس کا ذکر بالواسطہ آتا ہے اور ایسے انداز میں کہ اس فلمی اتفاق اور مصنف کی اپج پر قاری اَش اَش کر اٹھتا ہے ۔ لکھا ہے:


’’اس (فتح محمد) نے بہت سی جنگیں لڑی تھیں… انگریز سرکار کے لیے برما کے محاذ پر…اپنے وطن کے لیے65ء میں … جب سیالکوٹ کے محاذ پر چونڈہ کی جنگ میں وہ دشمن کو للکارتا ان ہندوستانیوں کو پنجابی میں بے دریغ اور بہت بلیغ گالیاں دے رہا تھا تو دوسری جانب کسی مورچہ بند سکھ فوجی نے یہ تو سوچا ہو گا کہ دوسری جانب کون ہے جو ہمیں ایسی گالیاں دے رہا ہے جو صرف سکھ ہی دے سکتے ہیں اور وہ فوجی اس کا سوتیلا بھائی راجندر سنگھ تھا پر وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘ (ص: 396)


کردار نگاری کا ایک اورکمزور پہلو یہ ہے کہ مستنصر ناول کے بہائو میں کئی کرداروں کو فراموش کر گئے۔ دلاری بائی جو صاحباں کے پیداہونے کی رات، مجرے میں بخت جہاں پر دل و جان سے فدا ہورہی تھی، بعد میں نظر ہی نہیں آتی۔ یہی حال مہنداں کا ہے جو تھانیدار خوشی محمد گوندل کی بیوی ہے اور امیر بخش کو دیکھ کر اس پر لٹو ہو جاتی ہے۔ اس کے انداز سے لگتا ہے کہ بہت جلد امیر بخش کی طرف دوڑی آئے گی لیکن ناول میں اس کا دوبارہ ذکر تک نہیں آتا۔ عزیزجہان کو ذکر بھی گول کر دیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی بیوی پشپی بھی غائب ہی رہی۔ پہلے حصے کے اختتام پر جب پچھلی نسل کے سارے کردار ختم کر کے اگلی نسل کی تفصیلی کہانی شروع کی جانی ہے تب ص:350پر تین اہم کردار یکے بعد دیگرے بھگتا دیے گئے۔ یوں جیسے وہ ناول پر بوجھ بن گئے ہوں اور اب انہیں جھٹک کر پھینک دیا گیا ہو۔


چار لوگوں کو پکڑ کر ان کی زندگی کے موٹے موٹے واقعات کے سہارے ایک سرے سے آخری سرے تک بیان کر نے سے کردار نگاری کا حق ادا نہیں ہوتا اور نہ کسی بڑے تاریخی موڑ پر کردار کو کھڑا کر کے اس کا ردِعمل دکھانے سے کردار کی ساکھ بنتی ہے۔ کردار کو ایسے موڑ پر لاکھڑا کرنا بہت آسان راستہ ہے اور کوئی اناڑی بھی یہ کر سکتا ہے ۔ اجتماعی واقعات و حادثات جن کے متعلق تاریخ ، اخبار، دستاویزات، ذرائع ابلاغ ، فوٹو ، فلمیں سبھی کچھ موجود ہو، وہاں کردار کو پہنچا کر دو چار قسم کے کتابی تبصرے کرنے سے کردار کی انفرادیت سامنے نہیں آ سکتی۔ ناول میں کردار تب بنتا ہے جب اس کی آنکھ سے خارج کو دکھانے کی بجائے فن کی آنکھ سے اس کے داخل میں اتر کر دیکھا جائے۔ چھوٹے چھوٹے معاملات پر اس کا ردِ عمل ، اس کے محسوسات کو دیکھنے سے کردار کی تخلیق مکمل ہوتی ہے۔ ایسا کردار اگر عام سی موت بھی مرے تو المیہ محسوس ہوتا ہے اور روشن یا فتح محمد کی طرح کا بے جان کردار بے شک پوری قوم کو رلادینے والے موقع پر موت کا شکار بنے، تب بھی المیے کا احساس جنم نہیں لیتا۔


ہمارے ناول نگاروںکا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ناول کی ہیئت اور کرداروں کے تقاضے کو نظر انداز کرکے قاری کو دیگر بہت سی چیزیں بتانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قاری cssکا امتحان دینے کے لیے جنرل نالج کی کتاب کی بجائے ان کا ناول پڑھے تو نسبتاً زیادہ نمبر لینے میں کامیاب ہو۔ انہیں تحریکِ پاکستان کے تمام اہم واقعات دکھانے کا شوق بھی اتنا ہی ہے جتنا قیامِ پاکستان کے بعد کے حالات کی تصویر کشی کا لپکا ہے۔ بلکہ یہ رواج اس قدر پھیل چکا ہے کہ اگر کسی واقعے پر ناول نہیں لکھا گیا ،یا اس کا کسی ناول میں تذکرہ نہیں ہو سکا تو اسے اردو ناول کی معذوری سمجھا جاتا ہے اور ناقدین اس واقعے پر بات کرتے ہوئے عذر خواہ ہو جاتے ہیں۔ خارج کی پیش کش کا اندھا جذبہ اردو ناول کو بہت خراب کر چکا ہے اور ناول نگار اس پر سے توجہ ہٹاتے ہی نہیں۔ حالانکہ ناول تو ڈان کیہوٹے کا حمق ہے جو تمام موجود ادبی معیارات کو مضحک ٹھوکروں میں اڑاتا جاتا ہے۔ ناول تو روبن سن کروسو کے حوصلے کا نام ہے جو تنکہ تنکہ کر کے ایک نئی دینا تعمیر کرتا ہے۔ناول تو ایما بوواری کی چاہت ہے جو کسی بندھن اور کسی نتیجے کی پروا نہیں کرتی اور اپنی لہر میں چلتی جاتی ہے۔ ناول تو جوزف ہیلر کا قہقہہ ہے جو جنگِ عظیم دوم جیسے ہولناک واقعے پر حاوی ہو کر اپنی گونج رکھتا ہے۔ ناول تو لیکسنس کی برفانی دنیا کا نام ہے جہاں اپنی مرضی سے جینے والے آزاد لوگ رہتے ہیں۔ ناول تو کنڈیرا کی شرارت کا نام ہے جو انسانی جذبات کی گہرائیوں میں اتر کر ایک انوکھی دنیا کی ترکیب کرتی ہے۔ہمارے ہاں ناول کو خارج کی دنیا سے یوں مخصوص کر دیا گیا ہے کہ اصل ناول تخلیق ہوتے ہوتے رہ جاتا ہے۔


ناول کے لیے سب سے اہم اس کا ماحول اور اس کی فضا ہے۔ دنیا کے ہر بڑے ناول کی فضا دوسرے ناولوں سے بالکل الگ ہوتی ہے۔ مستنصر نے اس ناول میں جاندار ماحول تخلیق کرنے پر محنت نہیں کی۔ صرف چیزوں اور جگہوں کے نام لکھ دینے سے ماحول نہیں بنتا، ان میں احساس بھی شامل کرنا پڑتا ہے۔ لاہور، امریکہ اور کینیڈا جو ناول کے غالب حصوں کا محلِ وقوع ہیں ، وہ تو مناسب انداز سے تخلیق ہو ہی نہیںپائے، گائوں کی فضا بھی مستنصر پوری طرح نہیں جما سکے۔ کنویں کی کھدائی، دلاری بائی کے مجرے کے مناظر جاندار ہیں اس کے علاوہ کوئی اور منظر پر کشش ہے اور نہ ہی وہ گائوں کی فضا کو زندہ کر سکے ہیں۔ یوں لگتا ہے بخت جہاں،کنیز فاطمہ، بہشت بی بی اورنور بیگم کے علاوہ گائوں میں کوئی رہتا ہی نہیں۔ گائوں چپ اور ساکت لگتا ہے۔


اگر ناول کا لفظی مطلب انوکھا ہے تو ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ حقیقی معنی میں ناول نہیں کہلا سکتا۔ یہ ناول کے پرانے فارمولے پر لکھی ہوئی کہانی ہے۔ اس میںبہت کچھ بھرتی کا ہے، کافی ایک حصہ ناول کے مجموعی مزاج کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا اور محض خارج کے حالات دکھانے کے شوق میں لکھ دیا گیا۔ کئی جگہوں پر جوچشم کشا واقعات دکھائے گئے، وہ پہلے کسی دوسرے ناول میںمستنصر صاحب خود ہی دکھا چکے ہیں۔ایسی صورت میں اس ناول کو ایک منفرد یا اعلیٰ مقام نہیں حاصل ہو سکتا۔ یہ رواروی میں لکھا گیا ایک ناول ہے جو اردو کے گھڑے گھڑائے فارمولے پر چل کر لکھ دیا گیا ہے۔ ہم اسے بہ آسانی مستنصر حسین تارڑکے اسلوب کا ایک عام سا ناول کہہ سکتے ہیں۔
٭٭٭
مندرجہ بالا تمام نقائص ناول کے بنیادی ڈھانچے میں ہیں جو اکثر تحریر سے پہلے ڈیزائن ہو جاتا ہے۔ البتہ ان کے علاوہ ناول کچھ ایسی خوبیوں سے مالا مال ہے جو کسی بھی اچھے ناول کے لیے لازمی ہیں۔ حیرت ہوتی ہے مستنصر صاحب کے زرخیز دماغ پر کہ عمر کے اس حصے میں بھی ان کا تخیل اس طرح زرخیز اور خلّاق ہے جیسے’’ نکلے تیری تلاش میں‘‘ لکھتے وقت تھا۔ اس ناول میں ان کی تین خوبیوں کی داد نہ دینا سراسر زیادتی ہو گی۔ زبان ، کردار اور واقعہ کی گھڑت۔ زبان کی زرخیزی کا یہ عالم ہے کہ ہزاروں صفحات لکھنے کے بعد بھی کہولت طاری نہیں ہوئی اور ایک ترو تازہ زبان کے ذریعے ایک پورا جہان تخلیق کر دیا۔بہت سی جگہوں پر یہ نظر آتا ہے کہ انہوں نے کوشش کر کے بہت محنت سے یہ زبان تخلیق کی ہے لیکن اس کے باوجود قابلِ داد ہے کہ ہمارے ہاں جواں عمری میں ہی پوری محنت کے باوجود لوگ خشک اور کانٹے دار زبان کے تھوہر ہی پیدا کر پاتے ہیں۔ یہ زبان اپنی جگہ پر ناول کے کل بیانیے کے لیے ناگزیر نہیں تھی اور کئی جگہوں پر اس کی شوخ رنگت بہت کھَلتی ہے ۔ اکثر جگہوں پر انہوں نے کچھ زیادہ ہی رنگ صرف کر دیے ۔ کئی دفعہ جملوں کے اندر استعمال شدہ اسمائے صفات کی کثرت بتاتی ہے کہ بیانیے کے تقاضے کے بغیر انہیں استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثلاً


’’ایک بچھڑ جانے والی ماں کا جدائی کا مارا ہوا بدن کیسا ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ لپٹ کر پہلے تو جان چلی جاتی ہے اور پھر اس جان میں جان آ جاتی ہے۔ اس کے بدن کی مہک میں کوہِ طور کی روشن جھاڑی سلگتی ہے۔ عیسیٰ کی ہتھیلیوں میں ٹھونکی جانے والی میخوں سے رِسنے والے خون کی مہک ہوتی ہے… یعقوب کی گریہ کناں آنکھوں کی نابینائی ہوتی ہے… مہاتما گاندھی بدھ کے برگد کے پتوں کی ٹھنڈک بھری ہریاول ہوتی ہے… کرشن کی بانسری کی مدھر تانیں اس کے …ماں کے بدن میں سے کونپلوں کی مانند پھوٹتی میرا کے بھجن گاتی ہیں۔‘‘(ص:218)


’’صدیاں بیت چکی تھیں،ا ن گنت کائناتیں منہدم ہو کر پھر سے وجود میں آ چکی تھیں جب وہسلر کے کوہستانی قصبے سے پرے ایک کنوارے جنگل میں درختوں کے تنوں سے تعمیر شدہ ایک ہَٹ کے باہر… اس سے کچھ فاصلے پر ایک ان چھوئی شام کے سرمئی نیم اندہیارے میں ڈوبتی جھیل کے کنارے … جہاں ایک نئے آدم کا ظہور ہوا تھا… وہ اس جھیل کے پانیوں پر عکس ہوتے سرمئی ہو چکے درختوں کو تک رہا تھا…اس کے اعضاء مضمحل ہو چکے تھے…‘‘(ص:464)
صاف نظر آتا ہے کہ زبان یہاں اس بیانیے کو سہارا دینے کی کوشش ہے جس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے اور جس کے پاس بتانے کو کچھ بھی خاص نہیں ہے۔ پورا ناول پرانے ، گھسے پٹے فارمولے پر لکھتے ہوئے ایک ان کے پاس زبان کا سہارا تھا جس کے ذریعے وہ ایک نیا ذائقہ پیدا کرسکتے تھے اور انہوں نے کردکھایا۔البتہ یہ الگ بات کہ یہ شاعری نہیںہے ، ناول ہے، یہاں زبان صرف اپنے بل بوتے پر اچھا بیانیہ تخلیق نہیں کرسکتی۔ واضح نظر آجاتا ہے کہ زبان کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔


کردار کی تخلیق ان کے ہاں تنوع کی حامل ہے۔ مستنصر حیران کن حد تک وسیع انسانی تجربہ رکھتے ہیں کہ ان کے ہاں ہر ناول میں کئی شاندار کردار جنم لیتے ہیں۔’’خس و خاشاک زمانے ‘‘ پر مندرجہ بالا اعتراضات جو کردار کے حوالے سے کیے گئے، وہ ناول کے اندر کرداروں کی مجموعی حیثیت سے تھے اور یہ دیکھا گیا کہ ناول میں ان کے کئی کردار صحیح طرح پیش نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود’’خس و خاشاک زمانے ‘‘ میں کئی کردار ایسے ہیں جوجو اپنی اپنی جگہ ایک الگ داخلی دنیا رکھتے ہیں ۔ یہ کردار نہ تو کسی پچھلے کردار کا سایہ اپنے اوپر رکھتے ہیں اورنہ ہی ان کی انفرادیت کسی طرح ادھوری رہتی ہے۔ پوری طرح مکمل کردار ہمارے سامنے آتے ہیں۔ سرو سانسی اور شباہت دو ایسے کردار ہیں جو اس ناول کی یادگار تخلیق ہیں۔ ان کے علاوہ محمد جہان،بخت جہاں ، امیر بخش اور انعام اللہ کے کرداروں میں ایک ایسی دلکشی موجود ہے جو ناول کو رونق بخشتی ہے۔ اچھو شیخ گو کہ محض ایک سایہ ہے مگر پھر بھی ناول کو کئی جگہوں پر معنویت عطا کرتا ہے۔


واقعہ گھڑنے کی صلاحیت مستنصر اپنے سفرناموں میں بھی پوری اردو دنیا سے منوا چکے ہیں۔ ان کے ہاں یہ صلاحیت اردو کے سبھی ناول نگاروں کی نسبت زیادہ ہے ۔ اس ناول میں گو کہ اس صلاحیت میں کچھ کمی نظر آتی ہے۔ ماہلو کے قصے میں خاص طور پر یہ کمی محسوس ہوتی ہے جب بے رونق قصے کو طول دے کر اپنی معجز نگار زبان کے ذریعے بیان کرنے کے بعد، جب دیکھتے ہیں کہ قصے کا اعتبار قائم نہیں ہو پایا تو ہانپتے ہوئے کہتے ہیں:
’’ماہلوکا یہ قصّہ بے شک ایک داستان، ایک تصوراتی لوک کہانی لگتی ہے۔ لیکن ایسا ہوا تھا اور بلا مبالغہ سو فی صد ایسا ہی ہوا تھا۔‘‘(ص:46)


دلاری بائی کا قصہ بھی ناول کے صفحات پر ادھورا کھڑا ہے۔ دلاری بائی جو بخت جہان کو دیکھ دیکھ کے اپنے ایمان سے ڈول رہی تھی، پھر دوبارہ ناول میں اس کا ذکر تک نہ آیا۔ امرت کور کے دبائے ہوئے زیور کس نے نکالے، وہ سوال بھی تشنہ ہی رہا۔البتہ بہت سے قصے ایسے ہیں جو پوری دلچسپی رکھتے ہیں۔کنویں کی کھدائی، گردوارے پر مہاجرین کا حملہ، سرو سانسی کا بھاٹی گیٹ سے نیولہ پکڑنے کے قصے انتہا درجے کی دلچسپی کے حامل ہیں۔


مستنصر صاحب غنیمت ہیں کہ اردو دنیا میں ان کا زرخیز ذہن ناولوں کا ایک وسیع ذخیرہ جمع کرتا جا رہا ہے اور ان کے سبھی ناولوں میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہے کہ انہیں کوئی بھی قاری پوری دلچسپی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے۔ ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ سے لے کر ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ تک سبھی ناول اردو کے عام قاری سے لے کر خاص قاری تک سبھی لطف لے کر پڑھتے بھی ہیں اور انہیں داد بھی دیتے ہیں۔ اس حوالے سے وہ اردو دنیا میں اپنا نمایاں مقام رکھتے ہیں کہ جہاں کسی مصنف کے پاس محض ایک آدھ (اکثر کے پاس تو وہ بھی نہیں)ناول ہی قابلِ ذکر ہوتا ہے وہاں مستنصرکئی شاندار ناول لکھ چکے ہیں۔ اردو ناول کی تاریخ میں ان کا یہ سرمایہ ہمیشہ ایک الگ باب کا متقاضی رہے گا۔
٭٭٭

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں