مستنصر حسین تارڑ : خواب زاروں کا مصور اور داستان گو

, مستنصر حسین تارڑ : خواب زاروں کا مصور اور داستان گو

مضمون نگار : مشرف عالم ذوقی

کسی زمانے میں خراسان ادب و تصوف کا مرکز تھا، شیخ فرید الدین عطار کا تعلق عظیم خراسان کے نیشا بور سے تھا۔۔۔ شیخ فرید الدین جو پیشے سے عطار بھی تھے ، ایک دن اپنا مطب بند کر دیا اور دور دراز کے مقامات بغداد، بصرہ، کوفہ، مکہ، مدینہ، دمشق، خوارزم، ترکستان اور ہندوستان کی سیر کو نکل گئے۔۔۔ اب وہ نظریاتی طور پر صوفیائے کرام کے انداز میں ڈھل چکے تھے۔۔ وجد کی کیفیت تھی۔۔ نور کا گہوارہ تھا۔۔۔ ایک روایت مشہور ہے ، حضرت خواجہ شیخ فرید الدین عطار کسی کام میں مصروف تھے ۔۔۔۔ ایک درویش آیا۔۔۔ حضرت مصروف رہے۔۔۔ درویش کی طرف توجہ نہ دی۔۔۔ درویش نے سوال کیا۔۔۔ اے شیخ تم مرو گے کیسے ؟ جواب ملا، جس انداز میں تم مرو گے۔۔۔ درویش مسکرایا۔۔ زور سے الله کہا۔۔۔ حضرت نے دیکھا ، درویش اپنی جان الله کے سپرد کر چکا تھا۔۔۔ اس واقعہ کا اثر ہوا۔۔۔ اور یاد الله میں سفر کو نکل گئے۔۔ ہائے ، کیا لوگ تھے کیسے کیسے کرشمے اور معجزے ہوا کرتے تھے۔۔ تاریخ میں کچھ بادشاہوں کے نام ہفت اقلیم کی دولت رہی۔۔ تارڑ کو، شیخ فرید الدین کے فیض کی دولت نصیب ہوئی۔۔۔ تارڑ اپنے مرشد کی بات پر عمل کیسے نہیں کرتے۔۔۔ سفر کو نکلے۔۔۔ ساری دنیا کی سیر کی۔۔۔ اردو زبان کو سفر ناموں کا بیش قیمت تحفہ دیا۔۔ ان کے ناول کشف سے نکلے ، افق تک پھیل گئے۔۔ وہ لکھتے گئے ، لکھتے گئے ، لیکن وہ مقام باقی تھا ، جہاں سے مرشد کی یادوں نے فیض کا چشمہ جاری کیا تھا۔۔ منطق الطیر جدید اسی چشمہ کا نام تھا جس کے بارے میں تارڑ نے لکھا :
” پرندوں کی بولیاں میرے کانوں میں پھونکنے والے مرشد عطار کے نام۔۔”
کہ جسم و جاں میں ابال آئے نہ خواب زاروں میں روشنی تھی۔۔۔
مجھے کس کی تلاش ہے ، نہیں معلوم۔۔۔ مگر یہ ایک خوف زدہ کرنے والا خواب تھا۔۔ پانچویں جنگ عظیم اور دنیا ختم۔۔ زمین کے اندر پگھلی چٹانوں کا سیال اور سطح زمین پر ابلتا لاوا سرد ہو کر ٹھوس شکل اختیار کرچکا تھا۔۔ آتشی چٹانیں زمین کے اندرونی حصے میں پائے جانے والے مادوں سے تیار ہورہی تھیں، نہ درخت ، نہ چرند پرند ، نہ ندیاں ، نہ انسان۔۔۔ ایک دھماکہ اور سب کچھ ختم۔۔ میری بے چین روح کچھ تلاش کر رہی ہے۔۔ کہیں کچھ نہیں، مگر دور ایک ہیولا۔۔۔ روح رقص کرتی ہوئی قریب آتی ہے۔۔ پشت سے صاف ہے کہ کوئی انسانی سایۂ ہے۔۔ سر پر ہیٹ، دنیا ختم ہو گیی مگر یہ کون ہے …؟ کون ہے ؟


میں۔۔۔
آہ ،، وہ ایک آتشی پتھر پر اسٹائل سے بیٹھا تھا۔۔ غول بیابانی۔۔ ایک دھیمی آواز ابھری۔۔ روح الجھ گیی ۔۔خضر سمجھے ہو جسے غول بیابانی ہے۔۔ غلط امید کے جنگل میں تھکا مارے گا۔۔۔ روح نے پھر تعاقب کیا۔۔ اب کچھ آوازیں صاف تھیں۔۔۔ اندلس ، خانہ بدوش، نانگا پربت، نیپال نگری، سنولیک، کالاش، سنہری اُلو کا شہر، ماسکو، نیو یارک، ہالینڈ،الاسکا ہائی وے، لاہور، یارقند، سندھ، آسٹریلیا … استنبول .. وہ بولتا جا رہا تھا۔۔۔
اس نے ہاف پینٹ سے پاؤں باہر نکالے۔۔۔ پہلی بار محسوس ہوا ، کوئی بدنصیب ہے جو دنیا کے تباہ ہونے پر حیران ہے۔۔ روح اب سامنے تھی اور حیرت زدہ، اوہ۔۔۔ یہاں بھی ..؟ اس ویرانے کو بھی نہیں بھولا۔۔ یہاں بھی سفر نامہ لکھنے آ گیا۔۔ پچاس سے زاید سفر نامہ لکھنے کے بعد بھی اس کی تلاش ختم نہیں ہوئی۔۔ مستنصر حسین تارڑ۔۔۔ وہ چٹانوں کے گرم سیال سے دنیا کی تباہی کا سفر نامہ لکھنے آیا تھا۔۔۔۔
کچھ برس گزر گئے۔۔۔ رات آٹھ بجے فون کی گھنٹی بجی ،، ایک کھنکھناتی ہوئی آواز طلسم کدے سے نکلی۔۔ میرے حواس پر چھا گئی، میں کچھ بولنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ مگر میری آواز الجھ گئی تھی
تبسم نے پوچھا۔۔ کون تھے ؟ اور تم کن لفظوں میں بات کر رہے تھے۔۔۔
اہ۔۔ مجھے یاد ہے۔۔۔ ٹھہرو۔۔۔ مجھے سوچنے دو ، ہاں میں کچھ کہہ رہا تھا۔۔۔ اونچے اونچے درخت جزیرہ کا دودھیا رنگ ، مورتیاں، وادی سندھ ، روح کے بھید، غزال شب ، ڈاکیہ .. شاید جلاہا بھی ، سفید رنگ کے پکھیرو، مامن ماسا، سرسوتی، گھاگرا، پکلی، سمرو، چولستان کا دریا ، سرسوتی ، آریاء، دراوڑین، پڑپہ کی تہذیب، مہر گڑھ اور موین جوڈرو۔۔۔
کیا بک رہے ہو۔۔؟
ہاں اور۔۔ منطق الطیر جدید، ان کی آواز صاف تھی۔۔۔ اور میں سب کچھ سن رہا تھا نیشاپور کا فریدالدین۔۔سیمرغ کی تلاش، وادیء تلاش، وادیء الفت، ہدہد ، اور۔۔ چار چیزیں تھیں جو ہر دسمبر میں بلاتی تھیں..
کس کو ..؟
میں خواب سے نکلا۔۔ تارڑصاحب کو، اور کس کو۔۔ دو تین بار ان سے گفتگو ہوئی مگر۔۔ وجدان کی تلاش میں ، میں ٹلہ جوگیاں کی طرف نکل جاتا۔۔ جہاں دنیا کی مختلف مختلف سمتوں سے سات پرندے آ چکے تھے۔۔ آٹھواں پرندہ میں تھا۔۔ کیا بولتا۔۔ کیسے بولتا۔۔ پاکستانی ادیب اور میرے دوست یونس خان نے شکایت کی ، تارڑ صاحب سے آپ بات کیوں نہیں کرتے۔۔ ان سے کیا کہتا کہ جب وہ بولتے ہیں ، میں نیشا پور ، سات پرندوں کی تلاش میں نکل جاتا ہوں اور ان کی آواز مجھے سنایی نہیں دیتی۔۔۔


احمد شاہ ابدالی فارسی میں کئی نظموں کے مصنف بھی تھے۔۔۔ ان کی ایک نظم ہے، قوم ک محبت جس میں انہوں نے لکھا : خون کے ذریعہ ، ہم آپ کی محبت میں غرق ہیں۔۔۔ نوجوان آپ کی خاطر اپنے سر کھو دیتے ہیں۔۔۔ میں آپ کے پاس آیا ہوں اور میرے دل کو سکون ملا ہے۔۔۔ تجھ سے دور ، غم میرے دل سے سانپ کی طرح لپٹ گیا۔۔۔ میں دہلی کا تخت بھول جاتا ہوں جب مجھے اپنی خوبصورت پختون خوا کی پہاڑی چوٹی یاد آتی ہے۔۔۔ اگر مجھے دنیا اور آپ کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا ، میں تمہارے بنجر صحراؤں کو اپنا دعوی کرنے میں دریغ نہیں کروں گا۔۔ میں خوبصورت پختون خوا کی پہاڑی چوٹی کی جگہ اس مقام کو دیکھتا ہوں جہاں تارڑ رہتے ہیں۔۔ جہاں آٹھواں پرندہ عشق کی خاک سے پیدا ہو کر محوِ پرواز ہے۔۔۔ مشہور فکشن نگار اقبال خورشید سے باتیں کرتے ہوئے تارڑ صاحب نے بتایا ، عطار میرے مرشد ہیں، میں پچاس سال سے اُن کے پرندوں کے عشق میں مبتلا ہوں، تو ان کا ایک تازہ ترجمہ انگریزی میں ہوا، اور انگریزی میں ترجمے ہوتے رہے ہیں۔۔ جیسے رومی کا پہلے بھی ترجمہ ہوا تھا، مگر بعد میں جو ترجمہ ہوا، اس کی وجہ سے اُنھیں دنیا کا سب سے بڑا صوفی قرار دیا گیا۔۔ تو ” منطق الطیر ” کے پہلے بھی تراجم ہوئے، مگر جو تازہ ہوا، وہ میں نے پڑھا، تو میرے ذہن میں آیا کہ جیسے پرانی داستانوں کو بار بار لکھا جاتا ہے، ہیر رانجھا اور مرزا صاحباں کو بار بار لکھا گیا، تو یہ بھی ایک کلاسیک ہے، اس کی بھی پیروی کرنی چاہیے..۔ گو فریدالدین عطار کے نقش قدم پر چلنا، اپنے پیروں کو جلانے کے مترادف ہے…


مستنصر حسین تارڑ ماضی ، حال ، مستقبل کا مصور۔۔ ہمارا ماضی کیا تھا ؟کیا ہے ؟ کیا ہمارا مستقبل تابناک نہیں ہے؟ تاریکی کی حیرانیاں اور غول بیابانی۔۔ ٹلہ جوگیاں سے نکلا ایک قافلہ اور مشہور فلسفی بھرتری ہری کے عشق میں سما گیا۔۔ گرو نانک کے نغمے سنے۔۔ بدھ کی حیرانیوں کو چکھا۔۔ رانجھے کے چھدے ہوئے کان دیکھیے۔۔ ہیر کی آنکھوں کے موتی چنے۔۔ ایک پرندہ کوہ طُور سے برآمد ہوا۔۔ ایک غار حرا کی روشنی سے نکلا ، ایک مسیح کی صلیب سے پیدا ہوا، زرتشت کے آتش کدے کی آگ ٹھنڈی ہو کر بجھ گیی تو ایک پرندہ اس راکھ سے نکلا۔۔ فرات کے پانی اور قراہ العین طاہرہ کے بدن سے سرخ آگ نکلی اور ایک پرندہ یہاں بھی جنما۔۔ اس نے کرشن کی موسیقی کو گلے لگایا ، رومی ، حافظ ، رسول حمزہ ٹوف ، خلیل جبران ، شمس تبریز سے عشق کیا اور اس کا ہر ناول تلہ جوگیاں کے کھل جا سم سم سے عشق کے مکالمے کے ساتھ وجود میں آیا۔۔ ساری مستی شراب کی سی ہے۔۔
” خس وخاشاک زمانے ” کو ہی لیجئے ، تارڑ کا ایک ایسا شاہکار جس کے بغیر اردو ناولوں پر گفتگو ممکن ہی نہیں ہے۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ کو پڑھتے ہوئے ایک وسیع دنیا آباد ہے…. کیا ایسی کردار نگاری وہ لوگ کرسکتے ہیں جو صرف تجربے کا دم بھرتے ہیں؟ میرا جواب ہے نہیں…. کیونکہ یہاں ہوا یا خلا میں معلق تحریر نہیں ہے۔۔۔ یہاں زندگی کو پیش کرنے کی جرات کی گئی ہے۔۔۔ جو زیادہ مشکل کام ہے اور جنہیں یہ ہنر نہیں آتا وہ تجربے سے کام چلاتے ہیں۔۔۔ چونکا دینے والی کہانیاں اب ماضی کا افسانہ بن چکی ہیں۔۔۔ ادب محض لفظوں کی بھول بھلیاں کا نام نہیں…. یہاں منہ میں چھالے اگانے ہوتے ہیں۔۔۔ لہو تھوکنا پڑتا ہے…. زندگی قربان کرنی ہوتی ہے…. اور مستنصر حسین کی طرح زندہ کرداروں سے نئے فلسفوں کی دھوپ چرانی ہوتی ہے۔۔۔ وہ داستانوں کا تعاقب کرتا ہے۔۔ اسکی انگلیاں حسین ، نا آفریدہ مکالموں سے کھیلتی ہیں۔۔ جب وہ بہاو لکھتا ہے ، تو تخیل اور مرشد کا سایۂ اسے سندھ کی تھذیب میں لے جاتا ہے۔۔ کیا اس زمانے کے مکالموں کو زندگی دینا آسان ہے ؟ کون سا درخت کیسا ہوتا ہے ؟ درختوں کی کھالیں ، شاخیں ، پتے ، وہ جزیات کو اپنے تخیل سے آسان بنا دیتا ہے۔۔ وہ اس وقت کے گھروں کے حال لکھتا ہے ، عشق کے فسانے سے گزرتا ہے ، اور وادی سندھ کا ہر زرہ روشن ہو جاتا ہے۔۔ ناول نہیں معجزہ کہئے۔۔ وہ لکھتا نہیں ، معجزہ کرتا ہے۔۔


” وہ جو میز کے پیچھے بیٹھے تھے ، حیرت ہے کہ انہوں نے سامنے کچھ دھیان نہ کیا ، اپنے سامنے کھڑے گھڑ سوار کی جانب کچھ دھیان نہ کیا کہ یہ وہ لمحہ تھا جب اُس اروڑے نے ایک دستاویز پر دستخط کرکے اُسے سرکا کر اپنے برابر بیٹھے بونے کے آگے کیا اور قلم اُس جانب بڑھا دیا اور اُس قلم کو تھامتے نہ تو اُس بونے کی انگلیاں لرزیں ، نہ ہی ان انگلیوں کی پوروں میں سے غیرت اور حیا کی کوئی سرخی پھوٹی ، اگر کوئی دیکھ سکتا تو اس قلم کے اندر جو سیاہی تھی اُس کا کلیجہ بھی کٹ گیا اور وہ خون میں بدل گئی۔۔۔ ” ( خس و خاشاک زمانے )
کیا ہم ان اندھی بستیوں میں رہتے ہیں ، جہاں چھوٹے چھوٹے نہ دکھایی دینے والے بونوں کی حکومت ہے ، جو خس و خاشاک زمانے میں برق رفتاری سے کود پھاند کرتے ہوئے ہماری تھذیب کا نقش بن جاتے ہیں۔۔ تھذیبی تصادم کا صدیوں پرانا کھیل اس ناول میں نئے زاویہ سے آیا ہے۔۔ پہلے ہندوستان تقسیم ہوا۔۔ پھر پاکستان کے دو حصّے ہوئے۔۔ نفرت کی داستانوں نے خس و خاشاک کے ڈھیر پر کھرے ملکوں کی تقدیر لکھی۔۔ اور اس سے پہلے تارڑ نے وادی سندھ کے بہاؤ کو دیکھا۔۔ بجھی ہوئی راکھ کو دیکھا۔۔ پیار کے پہلے شہر کو آواز دی۔۔ محبتوں کے سفیر نے سفر ناموں کے بھی ڈھیر لگا دیے۔۔۔ اردو تو کجا دوسری زبانوں میں بھی شاید اتنے عمدہ سفر نامے مشکل سے ملیں۔۔ اردو میں ، سفر ناموں کی تاریخ میں تارڑ کے بعد مجھے صرف لالی چودھری کا نام نظر آتا ہے لیکن لالی کے پاس کچھ مضامین اور ایک کتاب سے زیادہ سرمایہ نہیں۔۔
خلیل جبران کی ایک مشہور کہانی ہے ، جنگ اور امن ، تین کتے دھوپ میں ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔۔۔ پہلے کتے نے آنکھیں بند کیں ، وہ خواب میں بولنے لگا ، ” یہ واقعتا خوشی کی بات ہے کہ کتا راج میں رہنا ہے۔۔۔ سوچو کہ ہم کتنی آسانی سے سمندر کے نیچے ، زمین اور آسمان کے اوپر گھومتے ہیں۔۔ کتوں کی سہولت کے لئے ہم ایجاد کرتے ہیں۔۔۔ ہم صرف اپنی آنکھوں پر ہی نہیں ، اپنی آنکھوں ، کانوں اور ناک پر بھی فوکس کرتے ہیں۔۔۔
دوسرے کتے نے کہا ، ” ہم فنون لطیفہ کے بارے میں زیادہ حساس ہوچکے ہیں۔۔۔ ہم اپنے باپ دادا سے زیادہ سر اور تال سے چاند کی طرف دیکھ کر بھونکنا چاہتے ہیں۔۔۔ پانی میں ہمارا سایہ ہمیں پہلے کی نسبت زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے۔۔۔
تیسرے کتے نے کہا ، ” مجھےجو چیز زیادہ پسند ہے وہ یہ ہے کہ لڑے بغیر ہم خاموشی سے بات کرتے ہیں ۔ اسی دوران ، کتوں نے دیکھا کہ کتا پکڑنے والا ان کی طرف آ رہا ہے۔۔


تینوں کتے اچھل کر گلی میں آگئے۔۔۔ بھاگتے ہوئے ، تیسرے کتے نے کہا ، ” خدا کا نام لو اور کسی طرح اپنی جان بچاؤ۔۔۔ تہذیب ہمارے پیچھے ہے۔۔۔
وہ تہذیبوں کا محافظ ہے۔۔ تصادم سے نہیں گھبراتا۔۔ اس نے صدیوں کی آگ ، دھوپ ، اور تمازت کو شدت سے محسوس کیا ہے۔۔ وہ تاریخ ، ماضی ، سسٹم سے بھی دو دو ہاتھ کرتا ہے۔۔ اس کے ایک ہاتھ میں ناول کی کائنات اور دوسرے میں سفر کا خزانہ ہے۔۔
” صدیوں پر محیط ناول خس وخاشاک زمانے میں تارڑ آزادی اور غلام فضا دونوں ایام میں اسی روشنی کو تلاش کرتے رہے۔۔۔ وہ بونے تو نظر آئے۔۔۔ جو کنواں کی گہرائیوں سے نکل کر بختے کو تقسیم کا خوف دکھا رہے تھے۔۔۔ لیکن ایک تقسیم کے بعد بھی تقسیم کا سلسلہ بند کہاں ہوا۔۔ ہندو پاک کے ڈراﺅنے خواب سے نکل کر یہ داستان سقوط بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، عراق کے پس منظر میں جب اپنے ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں دکھاتی ہے، تو ارتقا، سائنس اور تیزی سے بھاگتی نئی دنیا کا خوف ذہن ودل پر طاری ہوتا ہے۔۔ تارر کے پاس لفظیات کا خزانہ ہے۔۔ ہزاروں مثالیں، تشبیہیں ایسی ہیں جو اس سے پہلے مغرب کے کسی ناول کا حصہ بھی نہیں بنیں۔۔۔ یہاں کچھ بھی مغرب سے مستعار نہیں، یہاں داستانی رنگ ہے۔۔۔ اور ذلیل ہونے کے لیے ہماری، آپ کی خوفناک دنیا منتظر…. اس میں صدیاں قید ہیں۔۔۔ اور صدیوں کو قلمبند کرنے کے لیے، جس غیر معمولی زبان، اسلوب اور لہجے کی ضرورت تھی، تارڑ کے پاس یہ خزانہ موجود تھا۔۔۔ وہ آتش پرستی سے حجاب پیدا کرتا ہے۔۔۔ اسے بلخ کے کھنڈروں سے گونجتی آوازیں سنایی دیتی ہیں۔۔ وہ ان آوازوں کا تعاقب کرتا ہے۔۔ وہ کوہ طور کی تلاش میں نکلتا ہے ، افسانوں کے بھید پاتا ہے۔۔ وہ بدھ کے آٹھویں نروان سے موکش چراتا ہے، عیسی کی صلیب میں صدیوں پہلے کی چیخوں کو یکجا کرتا ہے۔ غار حرا کے شگافوں سے بے چین روح کا سراغ پاتا ہے۔۔ وہ سات سمندر ، سات افلاک اور سات پرندوں میں سما جاتا ہے۔۔ یہاں عطار کا چشمہ جاری ہے۔۔ وہ وجدان اور تخلیقی ویژن سے کولاز تیار کرتا ہے۔۔
وہ برسوں سے ، مدتوں سے یہی کر رہا ہے ..
میں خود سے پوچھتا ہوں۔۔ کیا تم اسے جانتے ہو ؟
جواب ملتا ہے۔۔ زندگی کا بھید۔۔ وہ آھستہ آھستہ بھید کی گرہیں کھول رہا ہے۔۔۔!!


شیئر کریں
نام : مشرف عالم ذوقی پیدائش : 24/ مارچ 1963 وطن : آرہ (بہار) والد کا نام : مشکور عالم بصیری والدہ کا نام : سکینہ خاتون شریکِ حیات : تبسم فاطمہ اولاد : عکاشہ عالم

کمنٹ کریں