خواہشِ نا تمام

افسانہ نگار : محمد قمر سلیم

, خواہشِ نا تمام

’امّی مجھے شادی نہیں کرنی ہے۔آپ سمجھتی کیوں نہیں۔ ‘صنوبر نے جھنجلاتے ہوئے کہا۔
’بیٹا،لڑکی کااصل گھر اس کی سسرال ہوتا ہے۔یہ دستور ہے اور یہی ہوتا آرہا ہے۔‘اس کی ماں نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’امی نہ میں دستور کے خلاف ہوں اور نہ ہی مجھے سسرال لفظ سے نفرت ہے۔‘اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
’بیٹا ، تیری قسمت ہے جو اتنا اچھا رشتہ مل گیا ۔‘ماں نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔
’امی آپ کیوں ضد کر رہی ہیں؟ کیا میں آپ لوگوں پر بوجھ ہوں ؟‘وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی۔
’نہیں میرے لال،ایسا نہیں۔میں یہ چاہتی ہوں تیرا گھر بس جائے ۔‘اس کی ماں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’امی یہ آپ کہہ رہی ہیں۔گھر اور میرا!اس سر زمین پر کتنے گھر بسے ہیں اب تک۔‘اس کا چہرہ غصّہ سے لال ہو رہا تھا۔
’بیٹا، اللہ جس حال میں رکھے گا ہم خوش ہیں۔پھر کل کس نے دیکھا ہے ۔ہو سکتا ہے حالات بدل جائیں۔ہمیں ہمیشہ اچھا ہی سوچنا چاہیے۔‘وہ اسے سمجھانے لگیں۔
’امی، کیسے اچھا سوچوں۔میں نے تو جب سے ہوش سنبھالا ہے ، سب کچھ اجڑتے ہوئے ہی دیکھا ہے، بربادی اور تباہی دیکھی ہے۔ پتھر دیکھیں ہیں، خون دیکھا ہے۔لوگوں کو سسکتے اور مرتے دیکھا ہے۔میرے کانوں میں صرف گولیوں اور دھماکوں کی آوازیں گونجتی ہیں۔ میری آنکھوں نے صرف تڑپتے ہوئے انسانوں کو دیکھا ہے ۔لاشوں کے انبار دیکھے ہیں۔بیواؤں کی آہ و زاری سنی ہے۔ماؤں کے آنسو دیکھے ہیں ۔بہنوں کی بھیگی ہوئی پلکیں دیکھی ہیں۔باپ کا دھونکتا ہوا سینہ دیکھا ہے ، بھائی کا غصہ اور شوہر کی لاچاری دیکھی ہے ۔ اتنا سب کچھ دیکھ کر بھی میں اچھا سوچوں۔ناممکن ہے امی ناممکن۔‘
’کیا ملا ہے آپ کو۔ میں اپنا بھائی کھوچکی ہوں۔ ان دونوںکو دیکھ رہی ہیں، امی! میرے ابو ،میری بہن، زندہ لاشیں ہیں۔ میرے ابو کی آنکھ کبھی سوکھتی ہی نہیں، پتھرا گئیں ہیں ان کی آنکھیں۔ ان پتھروں سے اب خون کے آنسوبہتے ہیں۔ اور یہ عنبر ! پتھر کی مورت بن گئی ہے۔‘اس نے بہت جذباتی ہوتے ہوئے کہااور اپنی ماں سے چپٹ کر رونے لگی۔


صنوبر کی شادی ہوگئی تھی ۔ماں کی ضد کے آگے اسے جھکنا ہی پڑا۔
’عادل ،پلیز نہیں ۔مان جاؤ پلیز ۔مجھے یہ سب کچھ اچھا نہیں لگ رہا ہے۔‘
’ صنوبر یہ تمہیںکیاہو گیا ہے۔ایسا نہیں ہوتا ہے۔‘
’میں کیا کروں۔نہیں چاہیے ہے مجھے ۔میں اس حال میں اچھی ہوںاور پھر تم ہو نہ۔بس تم ساتھ نبھانا۔‘
’تم پاگل ہوگئی ہو۔تمہاری سوچ غلط ہے۔یہ سب زندگی کی حقیقت ہے۔‘
’میں تمہارے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔پلیز مجھے مت پریشان کرو، رحم کرومیرے اوپر، مجھے سونے دو‘


کئی دن سے عا دل اس سے رسماً بات کر رہا تھا۔صبح نو بجے آفس جانا۔شام چھ بجے تک واپس آنا۔چائے پی کر اپنا کام کرنے بیٹھ جاتا تھا۔صنوبراس کے پاس کچھ دیر بیٹھتی لیکن دونوں کے ہونٹوں نے ہلنے کی قسم کھائی تھی ۔دونوں نے چہکنا بند کردیا تھا۔
ایسالگ رہا تھا جیسے جنم جنم کے گونگے ہوں۔ کچھ دنوں سے ان کے گھر کا ماحول ہی بدل گیا تھا۔ عادل بضد تھا اور صنوبرکسی بھی قیمت پر
راضی نہیں تھی۔
صنوبر عادل کے لیے چائے لیکر آئی اور اپنی خاموشی توڑتی ہوئی بولی،’اتنا ناراض ہوکہ میری طرف منھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ رہے ہو۔ کیا وہی سب کچھ ہے ۔کیا ہم اس کے بنا نہیں رہ سکتے ۔‘وہ چپ ہی رہا ۔


کچھ دنوںمیں پھرسب کچھ معمول پر آگیا تھا۔ وہ بہت خوش تھا ۔خوشیوں کے لمحات جیتے ہوئے انھیں ابھی دو مہینے بھی نہیں ہوئے تھے کہ پوری ریاست فوج کے حوالے کردی گئی ۔ٹیلیفون ،موبائل، انٹر نیٹ ، ٹی وی سب کچھ بند۔شہروں کی رفتار تھم گئی تھی ۔ سڑکیں سونی تھیں۔ ہر گھر ماتم کدہ بن گیا تھا ۔چپے چپے پرفوج کی اجارہ داری تھی۔
یہ ایسا لاک ڈاؤن تھا کہ پرندہ بھی کھلی ہوا میںسانس نہیں لے سکتا تھا۔باہر والوں سے ان کا ناتا ٹوٹ چکا تھا۔انھیں ڈاکٹر تو کیا ضروری اشیا بھی نصیب نہیں ہو رہی تھیں۔ اس کے رہ رہ کر درد اٹھ رہا تھا۔درد سے جب تھوڑی سی راحت ملتی وہ عادل کی طرف دیکھتی ۔ نظریں ملتے ہی عادل ندامت کے مارے نظریں جھکا لیتااور وہ اس کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی، ’تم کیوں نادم ہو رہے ہو۔عادل مجھے خواہشات سے ڈر نہیں لگتا ہے۔ مجھے ڈر لگتا ہے سنّاٹے سے، ڈر لگتا ہے اند ھیروں سے، ڈر لگتا ہے جگہ جگہ پھیلے ہوئے بھیڑیوں سے ، ڈر لگتا ہے کال کو ٹھری سے۔سوچو جب وہ کال کوٹھری سے باہر نکلے گی تو کیا آفتاب کی چکا چوندھ اسے نصیب ہوگی ؟کیا تمہیں یقین ہے کہ مرجھاتی ہوئی شام اس کا نصیب نہیں بنے گی۔نہیں معلوم نا۔‘


وہ کچھ نہیں بولا،سر جھکائے سوچتا ہی رہا۔اسے بھی اب ڈر لگنے لگا تھا۔’اب کیا ہوگا ؟ کیا وہ کال کوٹھری سے باہر نہیں آ پائے گی ۔کہیں مرجھاتی ہوئی شام اس کا نصیب تو نہیں بن جائے گی۔میں ایسا کیوں سوچ رہا ہوں ، یہ ضروری تو نہیں ہے کہ ایسا ہی ہو لیکن ان حالات میں اس سے زیادہ اور کیا سوچ سکتا ہوں۔ میں نے اپنی ضد کی وجہ سے صنوبر کو کتنی مشکلوں میں ڈال دیا ہے۔ کیسے سہے گی وہ اتنی اذیت ۔ وہ تڑپ رہی ہے اور میں صرف اسے دیکھنے اور نادم ہونے کے علاوہ کچھ کر بھی نہیں پا رہا ہوں۔میں نے پہلے کیو ں نہیں سوچا تھا۔ صنوبر تو کہہ ہی رہی تھی یہ خواہشات کی سر زمین نہیں ہے۔یہاں خواہشات پالنا بہت بڑا گناہ ہے اور میں اس گناہ کا مرتکب ہوں۔‘


وہ تڑپتی رہی ۔رات بھر تڑپی اور سب بے بس و لاچار ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ یا تو اس کا درد اتنا بڑھ گیا تھاکہ خود خاموش ہو گیا یا پھر اس کی قوت برداشت اتنی بڑھی کہ سہن کی تمام حدیں پار کر گئی لیکن اس کے خوف کی حدود کو وسعت مل گئی تھی۔ دروازے پر ذرا سی بھی آہٹ ہوتی وہ کانپ جاتی تھی۔وہ اپنی چادر سے اپنے بدن کو اس طرح چھپانے کی کوشش کرتی جیسے وہ کال کوٹھری پر ہزاروں پردے ڈال کر مضبوط قفل لگا رہی ہو، مگر پھر سہم جاتی، اتنے قفل لگنے کے بعدکہیں وہ تازی ہوا کو نہ ترس جائے اور اگر اسے ہواکے جھونکوں کے لمس محسو س نہیں ہوئے تو کیا ۔۔۔نہیں، نہیں ! ایسا نہیں ہوگا ۔
اُدھرعنبر کی ما ں عنبر کو اپنی گود میں لیے گم سم بیٹھی تھیں اوروہ اپنے پلنگ پر بیٹھا بے بس نگاہوں سے دونوں کودیکھ رہا تھا۔اس کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو رواں تھے۔چند مہینوں میں ہی سب کچھ بدل گیا تھا۔اس دن وہ اپنے بیٹے اورداماد کے ساتھ صنوبر کا رشتہ دیکھ کر واپس آرہا تھاکہ اس کے گاؤں سے کچھ میل دور چیک پوسٹ پر اس کے بیٹے اور داماد کی کچھ پولس والوںسے تکرار ہو گئی تھی ،


نوبت مارپیٹ تک پہنچ گئی ۔ بڑی مشکل سے اس نے معاملے کو رفع دفع کیا۔ان کی گاڑی کچھ دور ہی گئی ہوگی کہ ایک گشتی جیپ نے انھیں رکنے کا اشارہ کیا۔ اس کے بیٹے نے گاڑی نہیں روکی۔ تیز رفتاری سے ان کی گاڑی سڑک پر دوڑ رہی تھی کہ اچانک اسے بریک لگانے پڑے۔ سڑ ک پر(Barricades) بیریکیڈس لگے ہوئے تھے۔جیسے ہی گاڑی رکی ،سامنے سے ان پر گولیوں کی بوچھار شروع ہوگئی۔اس کے بیٹے اور داماد نے وہیں دم توڑ دیا تھا۔وہ پیچھے کی سیٹ پر تھا اور نیچے جھک کر گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا ہی تھا کہ پیچھے سے آتی ہوئی جیپ سے کئی گولیاں اس کی کمر میں لگیں۔ وہ لڑکھڑا کر گر گیا۔کچھ گھنٹوں میں ہی ٹی وی چینلوں پر خبر گشت کرنے لگی کہ ایک مڈھ بھیڑ میں پولس نے دو خونخوار دہشت گردوں کو مار گرایا اور ان کے تیسرے ساتھی کو سول اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے جہاں اس
سے پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ چھے مہینے تک اس کا علاج چلا۔ زہر بدن میں پھیلنے کے ڈر سے مجبوراًڈاکٹروں کو اس کی دونوں ٹانگیں کاٹنا پڑیں۔وہ ابھی اپنے غم سے ابھرا بھی نہیں تھا کہ اسے عنبرکے مرے ہوئے بیٹے کی پیدائش کی خبر ملی۔اس صدمے نے اسے بری طرح توڑ دیا تھا۔


وہ سیب کا بہت بڑا کاروباری تھا اور سماج میں عزت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا ۔ اپنے رسوخ کی بنا پر اس پرآگے کی کارروائی نہیں ہوئی ۔اسپتال سے واپسی پر جیسے ہی وہ گھر میں گھسا ،گھر نے اس سے اس کی آواز بھی چھین لی۔وہ عنبر کی حالت برداشت نہیں کر سکا۔اس کے شوہرکی موت اور مردہ بیٹے کی پیدائش کے بعدسسرال والوں نے عنبر کو اس کے میکے بھیج دیا تھا۔عنبر اس دن سے ہی پتھر کی مو رت بن گئی تھی۔اس کے ساتھ ہی اس کے باپ نے بھی پلنگ پکڑ لیا تھا اور وہی اس کا مسکن بن گیا تھا۔بس پلنگ پر بیٹھے بیٹھے اداسی اور مایوسی کے سائے میںدن بھر گذار دیتا تھا۔ابھی بھی اس کی حالت غیر تھی۔ اچانک عنبر کی ماں دہاڑے مار مارکر ر ونے لگی۔ سیاسی لاک ڈاؤن اپنے عروج پر تھا۔ لوگوں میںخوف وحراس اتنا پھیلا ہوا تھا کہ پاس پڑوس کے لوگ اس کے رونے کی آوازیں سن کر بھی جلدی نہیں آئے۔پڑوس کی ایک دو عورتیں آئیں۔وہ اپنی چھاتی پیٹ پیٹ کر رو رہی تھی۔عنبر ہمیشہ کے لیے خامو ش ہو چکی تھی۔ پڑوس کے زرگر چاچا گلیوں میں چھپتے چھپاتے پیدل کئی کلو میٹر کا سفر طے کرکے تین گھنٹے میں صنوبر کے گھر پہنچے اور اسے عنبر کی موت کی خبر دی۔


صنوبر اورعادل کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ انتطامیہ سے اجازت لیتے۔وہ فوجیوں کی نظروں سے بچتے ہوئے اورتنگ گلیوں سے ہوتے ہوئے گھر پہنچے۔انھیں گھر پہنچتے پہنچتے شام ہوگئی تھی۔صنوبر اپنی ماں سے لپٹ کر بری طرح رو رہی تھی اور اس کی ماں بے حال تھی۔ رات ہو رہی تھی ، پڑوسیوں کے مشورے سے میت کوگھر میں ہی دفنایا جا رہا تھا۔ آدھے چاند کی مدھم مدھم روشنی نے آنگن کو اس لائق بنا دیا تھا کہ میت کو دفنایا جا سکے۔ اندھیروں میں ہر وقت بھیڑیوں کے آنے کا خطرہ رہتا تھا۔یوں تو بھیڑیے دن میں بھی آجاتے تھے لیکن رات بہت خوفناک ہوجاتی تھی۔ا بھی سب لوگ گھر کے آنگن میں قبر کھودکر عنبر کو قبر میں اتار ہی رہے تھے کہ تبھی کچھ بھیڑیے اندر گھس آئے ۔لوگوں اور بھیڑیوں میں جھڑپ شروع ہوگئی ۔ صنوبر سے وہ چیخیں نہیں سنی جا رہی تھیں اس نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے ۔منظر اتنا خوفناک تھا کہ اس نے آنکھیں بھی بند کر لیں اور وہ چیخنا چاہ رہی تھی لیکن اس کی زبان گنگ ہوگئی تھی۔بڑی مشکل سے ان لوگوں نے بھیڑیوں سے لاش چھینی اور جلدی جلدی عنبر کو دفنا دیا۔


صنوبر بہت ڈر گئی تھی۔وہ بیٹھے بیٹھے خیالوںمیں گم ہو جاتی تھی اور ڈر کی شدت سے کانپنے لگتی تھی۔نہ جانے کیاکیا خیالات اس کے ذہن میں آنے لگے۔ کہیں میرے خواب پورے ہونے سے پہلے چکنا چور تو نہیں ہو جائیں گے۔نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا وہ بے خیالی میں چیخ پڑتی تھی ۔ میرا شوہر اپنے گھر پہنچا یا نہیں۔کہیں بھیڑیے اسے بھی تو نہیں کھا جائیں گے۔ کہیں میں بھی تو۔۔۔نہیں میرے اللہ میرے اوپر رحم کر ۔
اس نے بنا کسی طبی سہولت کے پورے نو مہینے گذار دیے تھے۔وہ اس کی ۔خاطرہر تکلیف برداشت کرتی رہی ۔جان لیوادرد سہتی رہی لیکن آج درد نے اس کی جان لینے کی ٹھان رکھی تھی۔وہ تڑپ رہی تھی۔کبھی سر تو کبھی پیر پٹکتی۔اس کی ماں کے بھی ہوش اڑ گئے
تھے۔وہ ادھر ادھر دیکھتی ہوئی زرگر چاچا کے گھر گئیں اور چاچی کو بلا کر لائیں۔چاچی نے صنوبر اور اس کی ماںکو دلاسہ دیا۔


’بیٹا صنوبر، بس تھوڑا اور، ہاں بیٹا تھوڑااور۔‘چاچی اس کے پیٹ پر ہاتھوں سے دباؤ ڈال رہی تھیں اور صنوبر کی ماں اس کا سر سہلارہی تھیں،’بس میرے لال بس۔تھوڑا اور صبرکر میری بچی۔‘
اور آخر کار خواہش کال کوٹھری سے باہر آ گئی۔صنوبر نے بے پناہ حسین بچی کو جنم دیا تھا۔ بے مثال کشمیری حسن ۔خبرملتے ہی عادل اپنی سسرال پہنچا۔ جیسے ہی وہ اس کے پاس بیٹھا، صنوبر نے بچی کو دیتے ہوئے کہا،’یہ لو تمہاری خواہش نا تمام۔‘ باپ نے بیٹی کا نام حسن آرا رکھ دیا۔
وہ دونوں بہت خوش تھے۔حسن آرا ان کی زندگی میں خوشیوں کا خزانہ لیکر آئی تھی۔ وہ دنیا و مافیا سے بے خبر اس کے سہارے خوشیوں سے جھومتے رہے لیکن ۔۔۔ عادل اور صنوبر غم کی شدت سے تڑپ اٹھے۔’یا اللہ ! یہ کیا ہو گیا۔‘ حسن آرا نہ تو سن سکتی تھی، نہ ہی دیکھ سکتی تھی اور نہ ہی بول سکتی تھی ۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں