اسلام میں خواتین کے حقوق

Women Islam

خدا مردوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور ان کے ساتھ ان کی بہترین صلاحیت کو اہمیت دے کر ان کی تعریف کریں: “اور ان کے ساتھ مہربانی سے پیش آئیں اور اخلاص و محبت سے زندگی بسر کریں …” (قرآن 4:19)

خدا کے رسول نے کہا ، مومنوں میں سب سے بہترین وہ مومن ہے جوکردار و اخلاص میں بہتر ہے۔ آپ میں سے بہترین وہ ہیں جو اپنی خواتین کے لئے بہترین ہیں۔ رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک شوہر کے ساتھ اپنی بیوی کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے ایک مسلمان کا اچھاکردار ہی اسکے اچھے ایمان کا عکاس ہے۔

کیا اسلام میں خواتین کو محکوم ، ذلیل ، مظلوم سمجھا جاتا ہے ؟ لیکن سچ کیا ہے؟کیا لاکھوں مسلمان واقعی جابر ہیں ؟ یا یہ کہ ان غلط فہمیوں کو متعصب میڈیا نے گھڑا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ چودہ سو سال قبل ، اسلام نے خواتین کو وہ حقوق دیئے جو مغرب میں خواتین نے حال ہی میں حاصل کئے ہیں ۔ 1930 کی دہائی میں خواتین نے اینی آزادی کا مشاہدہ کیا ، “پچھلے بیس سالوں میں ہی عیسائیوں نے عورت کے جائیداد پہ ان کے حق کو تسلیم کیا ہے ، جبکہ اسلام نے ہر زمانے سے اس حق کو تسلیم کیا ہے ۔ یہ کہنا ایک بہتان ہے کہ اسلام خواتین کو آزادی نہیں دیتا ۔ ان کو ایک چہار دیواری میں قید دیکھنا چاہتا ہے ۔ ” (محمد کی زندگی اور تعلیمات ، 1932)۔

مرد و خواتین سب ایک ہی شخص یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے پیدا ہوئے۔ اسلام ان دونوں کو ہی مساوی حق دیتا ہے ۔

مساوی انعام اور مساوی احتساب

مرد اور خواتین ایک ہی طرح سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں ، یعنی وہ ایک ہی خدا (اللہ) کی عبادت کرتے ہیں ، ان کے عبادت کا طریقہ کار بھی یکساں ہے ۔دونوں ایک ہی صحیفے پر عمل کرتے ہیں اور ایک ہی عقائد رکھتے ہیں۔ اللہ (تمام مخلوقات کے ایک حقیقی خدا کے لئے عربی کا لفظ) ، تمام انسانوں کے ساتھ منصفانہ اور مساوات کی بات کہتا ہے۔ اللہ پاک قرآن کی بہت ساری آیات میں مردوں اور عورتوں دونوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور اجر کی بات کرتا ہے ۔

“اللہ نے مومنوں یعنی مردوں اور عورتوں دونوں سے ، ان باغوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، وہ ان میں آباد رہیں گے ، اور دائمی طور پہ ان نعمتوں سے برابری کے حق پہ لطف اندوز ہوں گے ۔” قرآن 9:72

“میں کبھی بھی کسی مرد اور عورت کی نیکیوں کو ضائع نہیں ہونے دوں گا۔ مرد اور عورت ایک دوسرے سے ہیں۔” قرآن 3: 195

ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ اجر ایک شخص کے اعمال پر منحصر ہے نہ کہ کسی کی جنس پر۔ کسی فرد کو کس طرح سے نوازا جاتا ہے اور اس کے ساتھ کیسا انصاف کیا جاتا ہے اس میں صنف کوئی کردار ادا نہیں کرتا۔

اگر ہم اسلام کا موازنہ دوسرے مذاہب سے کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام دوسرے مذاہب کے تقابل میں جنس کو اہمیت نہیں دیتا ۔ مثال کے طور پر ، اسلام اس نظریے کو مسترد کرتا ہے کہ حرام درخت سے کھانے کے لئے حوا آدم کے مقابلے میں زیادہ ذمہ دار ہے۔ اسلام کے مطابق ، آدم اور حوا دونوں نے گناہ کیا ، دونوں نے توبہ کی اور خدا نے ان دونوں کو معاف کردیا۔

علم کے برابر حق

اسلام نےعلم حاصل کرنے کے لئے مرد اور خواتین دونوں کو یکساں طور پہ جدوجہد کرنے کے لئے کہا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، “تعلیم ہر مسلمان کے لئے لازمی ہے۔”

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عظیم خواتین مسلم اسکالرز موجود تھیں۔ کچھ ان کے کنبے سے تھیں اور کچھ ان کے ساتھی کے کنبے سے یا ان کی بیٹیاں تھیں۔ ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں جن کے ذریعہ اسلامی قانون کا ایک چوتھائی حصہ پیش کیا گیا ۔

دیگر خواتین فقہ کی عظیم اسکالر تھیں اور ان کی طالب علمی کے طور پر مشہور مرد اسکالرز تھے۔

شریک حیات کا انتخاب کرنے کا مساوی حق

پہلی بار دنیا کی تاریخ میں اسلام نے خواتین کو شریک حیات کا انتخاب کرنے کا حق دیا ۔ مزید برآں ، بہت سارے لوگوں میں یہ تاثر عام ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کو شادی پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ ایک ثقافتی عمل ہے ، اور اس کی اسلام میں کوئی پابندی نہیں ہے۔ در حقیقت شادی میں جبر کی سخت ممانعت ہے۔

ایک عورت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا ، “میرے والد نے معاشرتی سطح بلند کرنے کے لئے میری شادی ایک کزن سے کی ہے اور مجھے اس شادی پر مجبور کیا گیا۔” نبی نے لڑکی کے والد کو بلایا اور پھر اس کی موجودگی میں بچی کو شادی بیاہ رکھنے یا نکاح ختم کرنے کا آپشن دیا۔ اس نے جواب دیا ، “یا اللہ کے رسول ، میں نے اپنے والد کے فیصلے کو قبول کرلیا ہے ، لیکن میں دوسری عورتوں کو یہ دکھانا چاہتی تھی کہ انہیں زبردستی شادی کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔”

مساوی لیکن مختلف

اگرچہ عام اصول کے طور پر مرد اور خواتین کے مساوی حقوق ہیں ، لیکن ان کو دیئے گئے مخصوص حقوق اور ذمہ داریاں یکساں نہیں ہیں۔ مرد اور خواتین کے تکمیلی حقوق اور ذمہ داریاں الگ الگ ہیں۔

بیرونی اور داخلی جسمانی اختلافات کو چھوڑ کر سائنس دان جانتے ہیں کہ مرد اور خواتین کے دماغ ، زبان اور معلومات، جذبات پر عمل کرنے کے طور طریقوں میں اور بھی کئی لطیف فرق موجود ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک سماجی حیاتیات کے ماہر ایڈورڈ او ولسن نے کہا ہے کہ عورتیں دوسری چیزوں کے علاوہ زبانی مہارت ، ہمدردی اور معاشرتی مہارت میں بھی مردوں سے بہتر ہوتی ہیں ، جبکہ مرد آزادی ، غلبہ ، مقامی اور ریاضی میں اعلی ہوتے ہیں۔

دونوں جنسوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا اور ان کے اختلافات کو نظر انداز کرنا بیوقوفی ہے ۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ مرد اور خواتین کے یکساں تکمیلی عمل ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے مختلف کردار ہیں کیونکہ یہ ان کی فطرت کے ساتھ موزوں ہے۔ خدا فرماتا ہے:

“اور مرد مادہ کی طرح نہیں ہے۔” قرآن 3:36

“کیا وہی نہیں جس نے پیدا کیا ، وہ نہیں جانتا؟ اور وہ نہایت ہی مہربان اور خبردار ہے۔” قرآن 67: 14

فیملی یونٹ

خدا نے مرد و خواتین کو الگ الگ کردار ،ذہانت، مہارت اور ذمہ داریوں کے ساتھ پیدا کیا۔ ان خصوصیات کو فوقیت دینا یا کمتر سمجھنا سراسر غلط ہے ۔ بلکہ اسے تخصص کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہئے ۔ اسلام میں ، کنبہ کی مرکزی اہمیت ہے۔ مرد خاندان کی معاشی بہبود کے لئے ذمہ دار ہے جبکہ عورت کنبہ کی جسمانی ، تعلیمی اور جذباتی تندرستی میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ اسے مقابلے کی بجائے تعاون سمجھنا چاہئے۔ اپنی باہمی ذمہ داریوں کو صحیع طریقت سے نبھانے سے ، مضبوط خاندان بنائے جاتے ہیں اور اسی سے مضبوط معاشرے تشکیل پاتے ہیں۔

نیز ، جذباتی طور پر ، مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے بغیر خوشحال زندگی نہیں گزار سکتے ۔ اللہ تعالیٰ یہ بات بہت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔

“وہ آپ کے لئے لباس ہیں اور آپ ان کے لئے لباس ہیں۔” قرآن 2: 187

شوہر تعلقات میں محبت اور مہربانی

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بھی اپنی شریک حیات کے ساتھ بہترین سلوک کرنے کی ترغیب دی ، “تم میں سے بہترین وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ بہترین سلوک کریں۔”

“اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے مردوں کو عورتوں کے بطن سے پیدا کیا تاکہ تم ان کی اہمیت تسلیم کرو اور ان کے ساتھ سکون سے رہو۔ اس نے تمہارے دلوں کے مابین محبت اور رحمت رکھی ہے ، بیشک اس میں غور کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔” قرآن 30:21

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک بار پوچھا گیا کہ آپ کے گھر میں نبی کریم کا طرز عمل کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا ، “وہ گھر میں آپ میں سے ایک شخص کی طرح تھے ، وہ انتہائی نرم مزاج اور انتہائی سخی تھے۔ وہ گھر کے عام کام کاج میں اپنی بیویوں کو مدد دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ انہوں نے اپنے کپڑے بھی خود سئے جو عام طور پہ عورتوں کے کام ہیں ۔ انہوں نے ازواج مطہرات کے ہر طرح کے کام میں مدد فرمائی ” ۔

لب لباب

دور اسلام سے پہلے لڑکیوں کا پیدا ہونا شرمناک سمجھا جاتا تھا ، بچیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا ، اس سےجسم فروشی بہت بڑھ جاتی تھی ، طلاق کا حق صرف شوہر کے ہاتھ میں تھا ۔ میراث صرف مضبوط لوگوں کا حق تھا، اور ظلم و ستم بڑے پیمانے پر تھا۔ اسلام نے ان سماجی برائیوں کو ختم کیا۔ اب بھی ، “ترقی یافتہ ممالک” میں ، خواتین کو عزت ، وقار اور عزت نہیں دی جاتی ہے ، عورت اور مرد سے برابر کام لئے جاتے ہیں مگر یکساں تنخواہ نہیں دی جاتی ۔ تاہم ، اسلام عورتوں نے کو بے عزت اور ذلت آمیز زندگی سے باہر نکالا ۔ ان کی اہمیت تسلیم کی ۔ مشرق وسطی کے کچھ ممالک یا مسلم خاندانوں میں خواتین کے ساتھ بد سلوکی کی وجہ ثقافتی عوامل ہیں نہ کہ اسلام ۔ ہاں یہ سچ ہے کہ کچھ مسلمان غلط طریقے سے اسلام پیروی کرتے ہیں ۔ اگر یہ ایک جابر مذہب ہے تو پوری دنیا میں بہت ساری خواتین اپنی مرضی سے اسلام میں داخل کیوں ہوتی ہیں؟

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں