خوف پر شاعری

woman in gray tank top covering her face with her hand
Photo by Andrea Piacquadio on <a href="https://www.pexels.com/photo/woman-in-gray-tank-top-covering-her-face-with-her-hand-3812752/" rel="nofollow">Pexels.com</a>


خدا سے ڈرتے تو خوف خدا نہ کرتے ہم
کہ یاد بت سے حرم میں بکا نہ کرتے ہم
قلق میرٹھی

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا
وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا


ہوش آنے کا تھا جو خوف مجھے
مے کدے سے نہ عمر بھر نکلا
جلیل مانک پوری

اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف
ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم
نامعلوم

خوف آتا ہے اپنے سائے سے
ہجر کے کس مقام پر ہوں میں
سراج فیصل خان

خوف پر شاعری

کیا موسموں کے ٹوٹتے رشتوں کا خوف ہے
شیشے سجا لیے ہیں سبھی نے دکان پر
سید عارف

عجیب خوف کا عالم ہے اپنے چاروں طرف
سفر میں لگتا ہے یہ آخری سفر تو نہیں
سید ریاض رحیم

میں نے کہا تھا مجھ کو اندھیرے کا خوف ہے
اس نے یہ سن کے آج مرا گھر جلا دیا
سیما غزل


اک دوسرے سے خوف کی شدت تھی اس قدر
کل رات اپنے آپ سے میں خود لپٹ گیا
فرحت عباس

حادثوں کے خوف سے احساس کی حد میں نہ تھا
ورنہ نفس مطمئن سفاک ہوتا غالباً
راہی فدائی

دور تک پھیلا ہوا ہے ایک انجانا سا خوف
اس سے پہلے یہ سمندر اس قدر برہم نہ تھا
شمیم فاروقی

خوف پر شاعری

خط تو بھیجا ہے پر اب خوف یہی ہے دل میں
میں نے کیا اس کو لکھا اور وہ کیا سمجھے گا
مجنوں عظیم آبادی

کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوف خزاں
بلبل اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے
ماہ لقا چندا

نہ خوف برق نہ خوف شرر لگے ہے مجھے
خود اپنے باغ کو پھولوں سے ڈر لگے ہے مجھے
ملک زادہ منظور احمد


خوف دوزخ سے کبھی خواہش جنت سے کبھی
مجھ کو اس طرز عبادت پہ ہنسی آتی ہے
نامعلوم

فطرت میں آدمی کی ہے مبہم سا ایک خوف
اس خوف کا کسی نے خدا نام رکھ دیا
گوپال متل

قمرؔ ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی
چلے ہو چاندنی شب میں انہیں بلانے کو
قمر جلالوی


حالات سے خوف کھا رہا ہوں
شیشے کے محل بنا رہا ہوں
قتیل شفائی

خوف غرقاب ہو گیا فیصلؔ
اب سمندر پہ چل رہا ہوں میں
فیصل عجمی

خوف ہر گھر سے جھانکتا ہوگا
شہر اک دشت بے صدا ہوگا
منیر سیفی

دونوں کے دل میں خوف تھا میدان جنگ میں
دونوں کا خوف فاصلہ تھا درمیان کا
محمد علوی

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں