طلسم کدہ ہے یہ “خون کا رنگ”

مضمون نگار : ثمینہ سید

, طلسم کدہ ہے یہ “خون کا رنگ”

ارشد منیم کا تعلق بھارت (پنجاب) سے ہے.انہیں پنجاب کے افسانوی ادب کا وارث کہا جاتا ہے.
ارشد منیم کی کتاب بارہ افسانوں اور نو افسانچوں پہ مشتمل ہے.دیدہ زیب سرورق اپنے نام “خون کا رنگ” کی پوری عکاسی کرتا ہوا نظر آرہا ہے.
انتساب اپنی شریکِ حیات کے نام کر کے انہوں نے اپنی محبت اور وفا کا ثبوت دیا.کبھی بھی کوئی ایک اکیلا انسان مکمل نہیں ہوتا اسکی زندگی چلانے اور صلاحیتیں نکھارنے میں بہت سے اپنے معاون ہوتے ہیں.بڑی بات تو یہ ہے کہ ان اپنوں کے ساتھ کا اعتراف کرلیا جائے .انہیں کریڈٹ دیا جائے.


ارشد منیم کی افسانوی صلاحیت اور سمجھ بوجھ کو ان کے استادمحمد بشیر مالیر کوٹلوی نے اپنے مضمون میں خوب سراہا ہے.
“ارشد سماج سے اٹھتی ہوئی چنگاریوں کو اپنی پوروں سے چنتے ہیں.اور اپنے قلم کی نوک سے انہیں الاؤ بننے سے روکتے ہیں.”
اور وہ کہتے ہیں کہ” اچھا افسانہ لکھنے کے لیے گہرا مطالعہ ضروری ہے.مطالعے سے افسانہ نگار کا ذہن کھلتا ہے اسے تخلیق کے لیے تحریک ملتی ہے”


سچ ہے کہ اچھا افسانہ ہو یا شاعری ہمارے اندر سے پھوٹتی ضرور ہے لیکن اسے نمو پانے ,پھلنے پھولنے اور اپنا منفرد رنگ اور اسلوب بنانے کے لیے موافق فضا کی اشد ضرورت ہوتی ہے.جس عہد میں آپ جی رہے ہیں,سانس لے رہے ہیں.اس عہد کے مسائل اور تقاضوں کے ساتھ چلنا ضروری ہے.اپنے عہد کے مدعوں پہ لکھنا اور اپنی رائے دینا ضروری ہے.قلم ہر چیز سے زیادہ طاقتور ہے .بس اسے کس سمت چلانا ہے یہ سمجھ ہونی چاہیے.اور یہ ارشد منیم کے قلم اور قرطاس دونوں میں سلجھاؤ ہے,شائستگی ہے.وہ جن مسائل پہ دل جلاتے ہیں,کڑھتے ہیں انہیں قلم کے سپرد کر کے ہی شانت ہوتے ہیں.
ارشد منیم نے اپنی سمت کا تعین کر لیا ہے.انکا اسلوب پختہ اور دو ٹوک ہے.وہ خیالات کو انکے خالص روپ میں ڈھالتے ہیں.منافقت,ملاوٹ اور مبالغہ آرائی نہیں کرتے.وہ اپنے کرداروں کو جیتے ہیں.انکے کرب سے گزرتے ہیں.


بہت اچھا افسانہ لکھنے کے باوجود ان میں بلا کی انکساری ہے.وہ اپنے سینے پہ سجے اعزازات پہ خوش ضرور ہیں فخر سے انکا ذکر کرتے ہیں کہ پاکستان کی آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن نے انہیں ایوارڈ سے نوازا.اور انکے افسانے انڈو پاک کے معیاری جرائد میں چھپتے رہتے ہیں .لیکن وہ اپنے کام پہ مغرور نہیں ہیں.ان کے اندر “میں ” نام کو نہیں یہی وجہ ہے کہ انکا نام ادب کے افق پہ روشن ستارے کی مانند چمک رہا ہے.


پہلے افسانے”خون کا رنگ “نے ہی انکے پکے ,کھرے اسلوب کی دھاک بٹھا دی.کس مہارت سے انہوں نے کوٹھوں پہ پلنے اور پنپنے والی “گندگی” سے اپنی مرضی کا ہیرا نکالا.ایک ہی فقرے نے پورا منظر بدل ڈالا.جب زمین پہ سوئے بچوں کو دیکھ کر مرکزی کردار جو ایک افسانہ نگار ہے اس نے سوالیہ نظروں سے بیڈ پہ بیٹھی عورت کو دیکھا.تو وہ بولی.
“ہاں بابو یہ ان عورتوں کے بچے ہیں جنہیں آپ یہاں مسکراتا دیکھ رہے ہیں.”
یہ سن کر میں سوچنے لگا کہ سارے ملک میں فسادات ہوتے رہتے ہیں.لوگ دھرم کے نام پر لڑ لڑ کر روز مرتے رہتے ہیں.اگر کسی نے قومی یکجہتی دیکھنی ہے تو یہاں آکر دیکھے.ان بےخود سوئے بچوں کو دیکھ کر کوئی نہیں بتا سکتا کہ ان میں سے رحیم کا خون کون ہے اور رام کا کون.


دوسرے افسانے “حسبِ ضرورت “میں ایک اہم سماجی مسئلے کی طرف اشارہ ہے.جو کہ بہت ہی اہم ہے.جب والدین بوڑھے ہوجاتے ہیں تو اولاد کو ان کے مرنے کی آس لگ جاتی ہے. اگر دونوں میں سے کوئی ایک نہ رہے تو دوسرا بہت تکلیف میں چلا جاتا ہے.میاں بیوی ہی ایک دوسرے کی ضرورتوں کو بغیر کہے جانتے اور پورا کرتے ہیں کوئی اور نہیں کرسکتا.
افسانہ “بیٹا ” کا نام میرے خیال میں تو بیٹی ہونا چاہیے تھا .جو گاؤں سے شہر کمانے کے لیے آئی لیکن نوکریاں تو اچھے پڑھے لکھوں کو نہیں ملتیں.تو وہ بیچاری اپنا جسم بیچ کر بوڑھے والدین کو سنبھال رہی تھی.یہ ہمت,قربانی اور حوصلہ بیٹی کا ہی ہوتا ہے.ہاں یہ بات اپنی جگہ درست کہ والدین ہمیشہ بیٹے کی حسرت کرتے ہیں.


“پرماتما” مکافاتِ عمل کی کہانی ہے.ڈاکٹر جسے مسیحائی سونپی گئی ہے.کبھی کبھار انکی پیسے سے محبت اور خود غرضی کسی کے پیاروں کی جان لینے کا باعث بن جاتی ہے
“منتظر”. میں بہت حساس مذہبی مسئلے پر لکھا.اکثر مسلم مرد غصے میں طلاق دے کر بعد میں واویلا شروع کردیتے ہیں کہ غلطی ہوگئی.اور تلافی کا راستہ یعنی”حلالہ” کانٹوں بھرا راستہ ہے.مصنف نے خوب اچھی کہانی نبھائی. انسانی جذبات کی منہ زوری اپنی جگہ ایک حقیقت ہے.اور جو ایک بار ٹھکرا دے عورت کا دل اسے پھر اسی محبت سے قبول نہیں کرپاتا.
اسکے بعد “خواہش” میں بلوغت کی عمر میں بچوں کا والدین کے رویوں سے الجھنا اور رومانس کی طرف مائل ہونا.بعض اوقات جنسی تلذذ کا حد سے بڑھ جانا زندگی اور اخلاقیات تباہ کردیتا ہے.


خاموشی” بہترین افسانہ ہے ایڈز کی وجہ سے شوہر کی خاموشی بیوی کی جان لے گئی.
ارشد منیم ماہر نفسیات کی طرح چھوٹی چھوٹی خواہشات اور احساسات کو زبان دینا جانتے ہیں یہی ان کے ایک بڑا افسانہ نگار ہونے کی علامت ہے.
“احساسِ جرم “ایک بہترین کہانی .سسپنس اور درد و کرب سے بھری ہوئی. جو لوگ بیٹیاں پیدا ہونے سے پہلے ہی مار دیتے ہیں ان کے لیے ایک عبرتناک سبق.بیٹے کے ہاتھوں اولڈ ہاؤس پہنچے تو احساس ہوا.کہ بیٹیاں کتنی قیمتی اور ماں باپ کو سنبھالنے والی ہوتی ہیں.
“بکاؤ” اور “سوال کی صلیب” سماج میں پلنے والےلالچ اقر دولت کے طمع جیسے ناسور سے جڑیں کھوکھلی ہوتی دکھا رہے ہیں .ارشد منیم کی موضوع پر گرفت لاجواب ہے. تجسس,جملے منظر نگاری بہت ہی عمدہ ہے.ان کے مختصر عنوانات اپنے اندر احساسات کا ایک جہان بسائے ہوئے ہیں.


“سپوت,پہچان اور انکے بعد ان کے افسانچے اس قدر اچھوتے موضوعات اور منفرد انداز کے ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے وہ کس کمال سے بڑی سے بڑی بات اختصار کے سانچے میں ڈھالتے ہیں.
بیٹے,خبر,ہنر,کشش,رنگین مزاج,ندامت اور خیرخواہ لاجواب اور یاد رہ جانے والے ,قاری کو دیر تک اپنے اثر میں رکھنے والے افسانچے ہیں.
خون کا رنگ بھی کیسے کیسے رنگ بدلتا ہے یہ ارشد منیم کے معیاری اسلوبِ بیاں نے خوب اچھی طرح دکھا دیا.
ارشد منیم کو ایسی بہترین کتاب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتی ہوں.اللہ پاک ان کو ڈھیروں کامیابیوں اور عزت و وقار سے نوازے .آمین

شیئر کریں

کمنٹ کریں