شاعر : محمد طیب برگچھیاوی,سیتامڑھی

, خوف تھا

مجھ سے ملنے میں صنم رسوائیوں کا خوف تھا
آپ کو توبھیڑکی پرچھائیوں کا خوف تھا

دشمنوں کی چال سے مجھ کو نہیں لگتا تھا ڈر
نا سمجھ کی کی ہوئی اچھائیوں کا خوف تھا

ہم سمندر پار کر لیتے تھے یوں ہی تیر کر
موج کا نا تو ہمیں گہرائیوں کا خوف تھا

راہ میں کوئی کہیں خنجر نہ مارے پیٹھ پر
ہم کو دوجوں کا نہیں بس بھائیوں کا خوف تھا

جانِ جاں جب سے ملے ہو مجھ سے خوش رہتا ہوں میں
پہلے مجھ کو بھی صنم تنہائیوں کا خوف تھا

خود سے ہی ان کھائیوں کے پار جانا ہے مجھے
ہر ستارے کو کبھی جن کھائیوں کا خوف تھا

قد و قامت خوب ہو طیب جڑیں ہوں کھوکھلی
مجھ کو ایسے پیڑ کی اونچائیوں کا خوف تھا
٭٭٭٭٭
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں