خون کے رشتے

مصنف ۔ عبدالغفار

, خون کے رشتے

ہر صبح ظفرصاحب فجر کی نماز کے بعد کبوتروں کو دانہ کھلایا کرتے تھے۔ کبھی دو یا تین کبوتر کم ہوجاتے اور کبھی دو یا تین کبوتر زیادہ ہوجاتے۔ جس دن کم ہو جاتے، ان کی بےچینی بڑھ جاتی اور جس دن بڑھ جاتے انکا دل باغ باغ ہوجاتا ۔
انکی صحت کا راز صبح کی آب و ہوا اور کبوتروں کے ساتھ تفریح میں چھپا تھا۔ لیکن ایک حادثے کے بعد یہ سب بے سود ثابت ہوا اور ظفر صاحب دل کا روگ لگا بیٹھے۔


ظفرصاحب کی طبیعت اب پہلے سے بہتر تھی۔ یہی وجہ تھی کہ کئی دنوں بعد ، وہ آج کام سے باہر نکلے تھے اور اب جب واپس لوٹے تو گھر کے تمام افراد کو اپنے کمرے میں بلایا۔
بھائی اب کیسی طبیعت ہے آپ کی!
سعدیہ بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنے بھائی کی خیریت پوچھی!
سعدیہ بیگم ان کی اکلوتی بہن تھیں، جو بھری جوانی میں ہی بیوہ ہو چکی تھیں۔ چونکہ ظفرصاحب کی اہلیہ بھی رحلت فرما چکی تھیں ، اسلئے سعدیہ بیگم دس بارہ سالوں سے اپنے بھائی کے گھر رہکر اپنی بیٹی اور ظفرصاحب کے دو بیٹوں کی پرورش کر رہی تھیں۔
ظفرصاحب نے بہن کو جواب دیا –


سب خیریت ہے ،آپ یہاں آکر میرے ساتھ بیٹھیں …
ظفرصاحب نے قریب پڑی فائل کو اٹھایا اور سعدیہ بیگم کے لئے صوفے پر جگہ بنائی۔
جیسے ہی سعدیہ بیگم بیٹھیں، ظفرصاحب نے اپنی بات شروع کردی۔
سعدیہ بیگم کی بیٹی عصمت اور انکے دونوں بیٹے شہنور اور صامح سوالیہ نظروں سے ظفرصاحب کی طرف دیکھ رہے تھے …
ظفر صاحب ۔
میں نے آپ سب کو یہاں ایک اہم مسئلے پر گفتگو کرنے کے لئے بلایا ہے۔ دل کا دوسرا دورہ پڑنے کے بعد سے ،اب میری زندگی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا ۔ لہذا ، جو کچھ بھی میرے پاس ہے وہ میں آپ لوگوں میں تقسیم کر دینا چاہتا ہوں تاکہ میرے بعد جائیداد کے لئے کوئی تنازعہ نہ رہے ۔


جونہی بات ختم ہوئی ، انہوں نے ہر ایک کے چہرے کو سرسری طور پر دیکھا۔
سعدیہ۔
اللہ نہ کرے بھائی، آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ اللہ آپ کو طویل زندگی عطا کرے اور آپ کا سایہ ہم سب پر ہمیشہ قائم رہے۔
ظفر ۔ یقینا زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ، لیکن اپنی اولاد سے ملی ذلت کے بعد ، مجھے نہیں لگتا کہ میں بہت لمبے عرصے تک لوگوں کی حقارت بھری نگاہوں کا سامنا کر پاونگا۔ اس لئے مجھے یہ سب کرنا پڑ رہا ہے۔ میرے جیتے جی میرے بیٹے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرسکیں اس لئے بھی یہ کام ضروری ہے۔
پھر سعدیہ بیگم نے ظفرصاحب کے چہرے پر ایک تشویشناک نظر ڈالی اور ذہن میں سوچا کہ پتہ نہیں انکے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ کہیں بھائی اپنا وعدہ بھول تو نہیں گئے!!
سعدیہ بیگم نے کہا – بھائی ، یہ سب شہنور اور سامح ہی کا تو ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھائیں گے …
ظفر۔
میں چاہتا ہوں کہ یہ دونوں میری زندگی میں ہی اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں … اور آپ یہ بھی سن لیں کہ میں اپنا وعدہ بھولا نہیں ہوں۔ لیکن اب ، بدلتے صورتحال کے پیش نظر ، اس کا انحصار شہنور پر ہوگا کہ آیا وہ عصمت سے شادی کرنا چاہتا ہے یا نہیں! کیونکہ اب بچوں پر رشتہ مسلط کرنے کا وقت نہیں رہا ۔
شہنور ۔ مگر ابو جان ، یہ سب کرنے کی کیا ضرورت؟ جائیداد آپ ہی کے نام پر رہے ،پھر بھی تو ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکتے ہیں!
ظفر – اتنے بڑے کاروبار کو سنبھالنے کے لئے اب میری ہڈیوں میں طاقت نہی رہی۔ لہذا ، میں آپ دونوں کو یہ ساری ذمہ داری دے رہا ہوں تاکہ آپ اسے سنبھال سکیں …


یہ کہتے ہوئے ظفرصاحب نے کاغذات کی طرف دیکھا اور ان کو الگ الگ چھانٹنا شروع کر دیا۔
ظفر۔ میں نے سارے کاروبار اور یہاں کی زمینوں کو آپ دونوں بھائیوں میں برابر برابر تقسیم کررہا ہوں ۔ انکے کاغذات بھی مکمل کرا دیئے ہیں ۔ اور یہ گھر اپنی بہن سعدیہ بیگم کے نام زمین کے ساتھ کر رہا ہوں۔ یہ ان کا حق ہے اور علی گڑھ کی جائیداد عصمت کے نام کر رہا ہوں …
ظفرصاحب نے سعدیہ بیگم کو دستاویزات حوالے کرتے ہوئے شہنور اور سامح کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔
سامح اپنی پیدائش کے ساتھ ہی ماں کی محبت سے محروم ہونے کی وجہ سے کم گو تھا ، لیکن شہنور بچپن ہی سے ضدی اور خودسر تھا۔ شہنور نے صوفیہ کے حقوق سلب ہوتے دیکھ کر خاموش رہنا مناسب نہیں سمجھا اور اس پر اعتراض ظاہر کیا۔
شہنور۔ لیکن ابو ، صوفیہ !!!
آپ نے صوفیہ کے بجائے عصمت کو علی گڑھ کی پراپرٹی کا مالک کیوں بنا دیا !!! جب آل ریڈی فوفی کو اتنا بڑا مکان اور زمین دے ہی رہے ہیں تو پھر عصمت کو الگ سے دینے کی کیا ضرورت ہے !!!
دوسری طرف سعدیہ بیگم کو شہنور اور عصمت کے رشتے کو، شہنور پر چھوڑنے سے ناگواری محسوس ہوئی لیکن وہ اپنے بھائی کے سامنے کچھ کہنے کی جرات نہیں کرسکیں ۔
ظفرصاحب نے شہنور کو سخت الفاظ میں متنبہ کرتے ہوئے کہا۔
ظفر – جب صوفیہ نے اولاد ہونے کا حق ادا نہیں کیا تو اس کا میرے گھر یا کاروبار میں کوئی حصہ بھی نہیں ہوگا۔ اور جو اس کا ساتھ دے گا ، اس کا بھی مجھ سے کوئی رشتہ نہیں ہوگا۔
ظفر صاحب کی تنبیہ کے باوجود بھی ، شہنور نے کہنا جاری رکھا –
ابو پلیز … یقینا ، آپ کو صوفیہ کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہئے ، لیکن آپ کو اسکا حق ضرور دینا چاہیے ۔ یہ اللہ کا حکم ہے. ورنہ اللہ کے یہاں آپ کی پکڑ ہوگی۔ اور اگر آپ اپنی ضد پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو میں اپنے حصے کی زمین صوفیہ کے نام کر دونگا.
ظفرصاحب نے سخت لہجے میں کہا – آپ سب یہاں سے جاسکتے ہیں ، اور خود اٹھ کر دروازے کے پاس چلے گئے تاکہ یہ لوگ باہر نکل جائیں اور وہ دروازہ اندر سے بند کردیں۔
سب خاموشی سے باہر نکل گئے ۔


ظفرصاحب اس قصبے کے سب سے بڑے تاجر ٹھرے۔ یہاں کے علاوہ دو اور قصبوں میں انکا سیمنٹ کا کاروبار تھا۔
صوفیہ انکی ، شہنور اور سامح کے بیچ کی بیٹی تھی جو نازوں میں پلی بڑھی تھی۔ بن ماں کی بیٹی ہونے کی وجہ سے وہ باپ سے سب کچھ منوا لیتی تھی۔
تین سال پہلے ، بیس لاکھ روپے خرچ کرکے ، ظفر صاحب نے ایم بی بی ایس میں صوفیہ کا داخلہ کرایا تھا۔
ایک مہینہ پہلے، صوفیہ نے والد صاحب کو بتائے بغیر ابو سفیان نامی ڈاکٹر سے شادی کر لیا تھا ۔ جیسے ہی یہ خبر ظفر صاحب کو ملی، انہیں دل کا دورہ پڑ گیا ۔ وہ دس دنوں تک آئی سی یو میں رہے، پھر پورے 21 دنوں بعد ڈسچارج ہو کر گھر واپس لوٹے تھے ۔


مسلسل دوسرے سال ، صوفیہ نے ڈسٹنکسن مارکس لا کر اپنے کلاس فیلو ابو سفیان کی برابری کی تھی۔ پھر انعامات تقسیم کر نے کی تقریب میں دونوں کو ایک ساتھ اسٹیج پر بلایا گیا ۔ دونوں کو ایک ساتھ انعامات سے بھی نوازا گیا۔
اس کے بعد ابو سفیان سے چند الفاظ بولنے کو کہا گیا۔ ابو سفیان نے اپنے خطاب کے دوران ہی صوفیہ کو شادی کے لئے پرپوز کر دیا ۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اسکی والدہ محض دو چار دنوں کی مہمان ہیں۔ اور ان کی دیرینہ خواہش ہے کہ وہ مرنے سے قبل اپنی بہو کا چہرہ دیکھ سکیں ۔
صوفیہ نے وہاں موجود طلباء ، ڈاکٹروں اور پروفیسرز کے دباؤ میں، فوری نکاح کے لئے اپنی رضامندی دے دی۔ یہاں لڑکپن کا جذبہ اس کے حواس پر حاوی ہو گیا اور وہ اپنے والد کی خواہشات کو یکسر نظر انداز کر بیٹھی۔


خون کے رشتوں پر جذباتی رشتوں کو مسلط کرنا اب اسکے لئے بھاری پڑ رہا تھا.
ظفرصاحب نے صوفیہ کی شادی کے حوالے سے بہت سارے ارمان پال رکھے تھے۔ انہوں نے اپنے دوست عرفان صاحب کے نیورو سرجن بیٹے ڈاکٹر حامد سے صوفیہ کے نکاح کا وعدہ کر رکھا تھا ۔ لیکن صوفیہ نے اپنی من مانی کر کے انکے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا تھا.
دوسری طرف ، صوفیہ اپنے اس عمل پر شرمندہ تھی اور والد کا سامنا کرنے کے خوف سے، وہ انکی تیمارداری کے لئے بھی نہیں آ سکی. لیکن اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا اور خون کا رشتہ خاک میں مل چکا تھا۔
اگلی صبح پھر میراتھن گفت و شنید چلی ۔ ظفرصاحب اپنی ضد پر ڈٹے رہے ، اور شہنور اپنی ضد پر ڈٹا رہا۔
پھر ، عرفان صاحب کو بلایا گیا ، جو ظفر صاحب کے خاص دوست تھے اور انکی ہر بات مانتے تھے۔


عرفان صاحب نے وضاحت کیا کہ اس عمر میں اب دل پر زیادہ بوجھ لینا درست نہیں ہے۔ اب جنہیں جینا ہے ، وہ سمجھیں کہ کس طرح جینا ہے۔ ہم مرنے والے لوگ ٹھرے۔ ہمیں کیا! کبوتروں کو دانا کھلاتے رہنا ہے۔ چاہے ان کی تعداد بڑھے یا گھٹے۔
بہرحال متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ علی گڑھ کی زمینیں عصمت کے بجائے صوفیہ کے نام کر دی جائیں اور اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رشتہ منقطع کر لیا جائے. بدلے میں شہنور عصمت سے شادی کرلے۔
اس طرح جس عصمت کو باپ کا سایہ نصیب نہیں ہو سکا تھا ، اسے قدرت نے پھلدار درخت نصیب فرما دیا.
اس طرح سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔ ایک بھائی اپنی بہن کے حقوق کا محافظ بنا تو ایک باپ اپنے اصولوں پر قائم رہا۔ صوفیہ کو اسکی نادانی کی سزا ملی اور والد اپنے رب کی گرفت سے بھی محفوظ رہا ۔

شیئر کریں
1 Comment
  1. Avatar

    اسلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
    آپکا کوئی مجموعہ شائع ہوا ے؟

    Reply

کمنٹ کریں