خدا پر شاعری

خدا پہ شاعری
خدا پہ شاعری

خدا کی ذات میں تخلیق کاروں کی دلچسپی عام انسانوں سے ذرا مختلف نوعیت کی رہی ہے ۔ وہ بعض تخلیقی لمحوں میں اس سے لڑتے ہیں ، جھگڑتے ہیں ، اس کے وجود اوراس کی خودمختاری پرسوال بناتے ہیں اوربعض لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب خدا کی ذات کا انکشاف ہی ان کے تخلیقی لمحوں کا حاصل ہوتا ہے۔ صوفی شعرا کے یہاں خدا سے رازونیاز اوراس سے مکالمے کی ایک دلچسپ فضا بھی ملتی ہے۔ آپ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اوردیکھئے کہ ایک انسان کے خدا سے تعلق کی صورتیں کتنی متنوع ہیں ۔


خدا سے ڈرتے تو خوف خدا نہ کرتے ہم
کہ یاد بت سے حرم میں بکا نہ کرتے ہم
قلق میرٹھی

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا
وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا
نامعلوم

خدا کو کام تو سونپے ہیں میں نے سب لیکن
رہے ہے خوف مجھے واں کی بے نیازی کا
میر تقی میر


کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے
امیر مینائی

سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیں
جس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا کہتے ہیں
سدرشن فاکر

عاشقی سے ملے گا اے زاہد
بندگی سے خدا نہیں ملتا
داغ دہلوی

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے
اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے
حیدر علی آتش


خدا ایسے احساس کا نام ہے
رہے سامنے اور دکھائی نہ دے
بشیر بدر

بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے
تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا
اکبر الہ آبادی

اتنا خالی تھا اندروں میرا
کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں
جون ایلیا

وفا جس سے کی بے وفا ہو گیا
جسے بت بنایا خدا ہو گیا
حفیظ جالندھری


خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔ
یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد
اکبر الہ آبادی

مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈنے کی نہ تھی
مجھ میں کھویا رہا خدا میرا
جون ایلیا

اس بھروسے پہ کر رہا ہوں گناہ
بخش دینا تو تیری فطرت ہے
نامعلوم

دل میں بندوں کے بہت خوف خدا تھا پہلے
یہ زمانہ کبھی اتنا نہ برا تھا پہلے
موج فتح گڑھی

کوئی جنت تو کوئی قرب خدا مناگتا ہے
تیرا درویش مگر ،تیری رضا مانگتا ہے
 اویس احمد ویسی

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں