افسانچہ: خودکشی

Read Urdu story on the topic of suside. You can read famous Urdu stories, fiction, and articles on Whatsapp Status. Best and popular Urdu literature can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

افسانہ نگار : شمشیرعلی شعلہ
کانکی نارہ ، مغربی بنگال

خودکشی, افسانچہ: خودکشی

آجکل خودکشی کا رجحان اس قدر بڑھ گیا ھے کی ہر ہفتے خودکشی کا کوئی نہ کوئی واقعہ سامنے آتارہتاھے.کوئ خانہ داری کی پریشانیوں سے خودکشی کررہاھے،کاروبار میں نقصان ہونے پر، فصل تباہ ہونے پر.کوئ پیار میں ناکام ہونے پر . کسی کا امتحان کا پرچا خراب ہوگیاتو کوئ قرض کے بوجھ تلے دب کر.الغرض خودکشی کا یہ سلسلہ چل پڑاھے.اور ان سب کا خمیارہ میٹرو ریلوے کو بھگتنا پڑرہاھے.آئے دن کوئ نہ کوئ چھلانگ لگاکر میٹرو ریل کے نیچے آجاتاھے.اس بات سے محکمہ ریلوے پریشان ھے کہ ان واردات کو کیسے روکاجائے.
محکمہ ریلوے کے افسران نے ایک ہنگامی میٹنگ بلائ.اور میٹرو کے تمام فورس کو حاضر ہونےکوکہا.تمام لوگ اکٹھا ہوئے.افسر بہت غصّے میں تھا.اس نے چاروں طرف دیکھااورکہناشروع کیا.


“بڑے افسوس کی بات ھے,اتنے سارے نوجوانوں کی موجودگی میں میٹرو میں کوئ چھلانگ لگاکر خودکشی کر لیتاھے.اور آپ لوگ کچھ نہیں کرپارہےہیں. ہمارے محکمے کی کتنی بدنامی ہورہی ھے.”
“سر! مسافروں کی بھیڑمیں کون خودکشی کی نیت سے کھڑاھے,بھلا اس بات کا پتہ ہمیں کیسے چلےگا”ایک جوان نے سوال کیا.
“پتہ آپکو لگاناہوگا.آپ لوگوں کے چہرے پڑھکر اندازہ لگاسکتے ہیں کہ وہ کس حال میں ھے.ایسی واردات کو روکنا آپ لوگوں کی ڈیوٹی ھے.ہم کوتاہی برداشت نہیں کریں گے.محکمے کی بدنامی ہمیں برداشت نہیں.”افسر غصّے میں بڑبڑاتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا اور دروازے کی جانب بڑھ گیا.تمام جوان ایک دوسرے کا منھ تکنے لگے.


“ارے بھائ! بڑے صاحب بڑے غصّے میں تھے.”جوان نے کہا.
“غصّہ ہوکر کیا کرینگے.ہم لوگ تو اپنی ڈیوٹی بخوبی انجام دے رہے ہیں.اگر کوئ چھلانگ لگاکر خودکشی کرے تو بھلا ہملوگ کیا کر سکتے ہیں؟”ایک دوسرے میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں.”
“ایسا کیاجائے کہ ریلوے سرکار سے اپیل کریں کہ پلیٹ فارم پر ہر ایک مسافر پر ایک جوان تعینات کی جائے,جو مسافروں کا چہرہ پڑھتا رہے.”سب جوان ہنسنے لگے.
“یہ ہنسنے کی بات نہیں ھے. صاحب کا غصّہ ہم ان خودکشی کرنے والوں پر اتارینگے,جو خودکشی کی نیت سے چھلانگ لگاناچاہتاہو.”
“ہاں! یہ ٹھیک رہےگا.آج ہی سےہم سب الرٹ ہوجائیں اور پلیٹ فرم پر گھوم گھوم کر مسافروں کا جائزہ لیاجائے.”


ریلوے کے جوان چوکنا ہوکر پلیٹ فارم کے چاروں جانب جائزہ لیکر اپنی ڈیوٹی کرنے لگے.پلیٹ فارم پر کافی بھیڑ تھی.ٹرین کے آنےکا وقت ہو چلاتھا.اچانک ایک نوجوان شخص پلیٹ فارم کے نیچے کودنا چاہاکہ پولیس کا ایک نوجوان نے اسے دھر دبوچا.پھر کیا تھا.اس پرمار پڑنے لگی.دوسرے جوان بھی آکر ھاتھ صاف کرنے لگے.وہ چیختارہا چلاّتا رہا.مگر سننے والا کوئ نہیں.وہ پلیٹ فارم پر گر پڑا.پھر بھی جوانوں کا غصّہ ٹھنڈا نہیں ہوا.بیچارہ ادھ مرا سا ہو گیا اور کراہتے ہوئےبولا.”
“سر! میں نے پاکٹ سے موبائل نکالا تو میرا بٹوا لائن میں گرگیا اسی کو میں اُٹھانےکے لئے لائن میں اترناجاہا.”اتنا کہکر وہ دم توڑدیا.ایک نوجوان نے لائن

مں جھانکا تو وہاں بٹوا پٹا تھا.
“اب کا ہوگا.یہ تو مر گیا.”جوانوں میں کاناپھوسی ہونے لگی.
“گھبڑانے ک بات نہیں.ٹرین آئےگی تو حل نکل آئےگا.”
اچانک ٹرین آتی دیکھائ پڑی.جیسے ہی ٹرین قریب آئی,اس مردے جسم کو لائن مں پھینک دیا.اور ہیڈکوارٹر کو فون لگایا.
“سر ! ابھی ابھی ایک مسافر چھلانگ لگاکر خودکشی کربیٹھا.ہملوگ اسے بچانے کی بہت کوشش کی مگر.وہ…..”
“ٹھیک ھے! لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دو.”ہیڈکورٹر سے حکم آیا.

شیئر کریں

کمنٹ کریں