کردار پر شاعری

کردار پر شاعری شخیت

میرے کردار میں مضمر ہے تمہارا کردار
دیکھ کر کیوں میری تصویر خفا ہو تم لوگ
اختر مسلمی

نئے کردار آتے جا رہے ہیں
مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے
صابر دت

رہ گئے کتنے کردار بھیتر میرے
مرے بھیتر مرا قافلہ رہ گیا
نوین جوشی

مرا ہوا میں وہ کردار ہوں کہانی کا
جو جی رہا ہے کہانی طویل کرتے ہوئے
آلوک مشرا

وہی تو مرکزی کردار ہے کہانی کا
اسی پہ ختم ہے تاثیر بے وفائی کی
اقبال اشہر

کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں
نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا
افتخار عارف

جانے کس کردار کی کائی میرے گھر میں آ پہنچی
اب تو ظفرؔ چلنا ہے مشکل آنگن کی چکنائی میں
ظفر حمیدی

کردار پر شاعری

تو اپنی مرضی کے سبھی کردار آزما لے
مرے بغیر اب تری کہانی نہیں چلے گی
اظہر ادیب

خاموش سہی مرکزی کردار تو ہم تھے
پھر کیسے بھلا تیری کہانی سے نکلتے
سلیم کوثر

سبھی کردار تھک کر سو گئے ہیں
مگر اب تک کہانی چل رہی ہے
خاور جیلانی

چیخ اٹھتا ہے دفعتاً کردار
جب کوئی شخص بد گماں ہو جائے
احمد اشفاق

کردار دیکھنا ہے تو صورت نہ دیکھیے
ملتا نہیں زمیں کا پتا آسمان سے
فہیم گورکھپوری

کردار پر شاعری

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں
نامعلوم

کوئی کردار ادا کرتا ہے قیمت اس کی
جب کہانی کو نیا موڑ دیا جاتا ہے
اظہر نواز

ایک کردار نیا روز جیا کرتا ہوں
مجھ کو شاعر نہ کہو ایک اداکار ہوں میں
تری پراری

کون مصلوب ہوا حسن کا کردار کہ ہم
شہرت عشق میں بدنام ہوا یار کہ ہم
مسعود قریشی

کردار پر شاعری

تھے جس کا مرکزی کردار ایک عمر تلک
پتہ چلا کہ اسی داستاں کے تھے ہی نہیں
خوشبیر سنگھ شاد

ابھی سے مت مرے کردار کو مرا ہوا جان
ترے فسانے میں ذکر آئے گا دوبارا مرا
عبدالرحمان واصف

دیکھتا ہے کون بابرؔ کس کا کیا کردار ہے
جس سے جو منسوب قصہ ہو گیا تو ہو گیا
فیض عالم بابر

لگتا ہے جدا سب سے کردار وسیمؔ اس کا
وہ شہر محبت کا باشندہ نظر آئے
وسیم ملک

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں