کس بات پہ نازاں ہو ؟

کالم نگار : مشرف عالم ذوقی

, کس بات پہ نازاں ہو ؟

کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دو ہزار چوبیس کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کا رہنا مشکل ہو جائے گا ؟ کیوں مشکل ہوگا ؟ اس لئے کہ فسطائیت مسلمانوں کا خاتمہ چاہتی ہے ؟ اور تیس کروڑ کی آبادی آسانی سے ختم کر دی جائیگی ؟ جن مسلمانوں نے تقسیم کے بعد بھی ہندوستان میں رہنا منظور کیا ، وہ ماچس کی ٹیلی یا پٹاخوں کی آواز سے ڈر جائیں گے ؟ میں کچھ دیر پہلے لوہری کا ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا .


لوہری موسمِ سرما کی لمبی راتوں کے اختتام کی علامت ہے ۔ .لوہری کا تہوار مکر سنکرتی کے ایک دن قبل منایا جاتا ہے۔ یہ پنجابیوں کے مشہور تہواروں میں سے ایک ہے۔ اس تہوار کے جشن کے پیچھے ایک مشہور لوک کہانی بھی ہے کہ مکر سنکرتی کے دن ، کنس نے لوہیٹا نامی ایک راکشس کو اس ارادے سے گوکل بھیجا کہ وہ سری کرشن کو مار ڈالے .مگر کرشن نے راکشس کو مار ڈالا . لوہری کا دن تھا اور جوش میں ڈوبے ہوئے کسان تھے . لکڑیوں کی چتا سلگ رہی تھی . زرعی قانون دھو دھو کر کے جل رہے تھے . کسان رقص کر رہے تھے . بوڑھی کسان عورتیں اس موقع پر حکمرانوں کے مرنے کی دعا یں مانگ رہی تھیں . قانون راکشس بن گئے اور لوہری کے موقع پر کسانوں نے قانون کو آگ کے حوالہ کر کے اپنا احتجاج درج کیا . ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا . انقلاب کی چیخ آسمانوں میں شگاف کر چکی ہے . اب ان کے خوف زدہ ہونے کی باری ہے ، جو اب تک ہمیں خوفزدہ کر کے حکومت کرتے رہے . اقتدار میں آنے سے قبل مودی اپنی ہر جذباتی تقریر میں یہ اشارہ دیا کرتے تھے کہ میں ملک کو جھکنے نہیں دونگا۔ اب ملک بیمار اور اس قدر جھک چکا ہے کہ مزید جھکنے کے لئے تیار نہیں .غور کیجئے تو سیاست کی موجودہ حقیقت یہی ہے کہ ہر جھوٹ کو حقیقت بنا کر نیی تاریخ کے صفحات لکھے جا رہے ہیں۔ آر ایس ایس ایک ایسی تنظیم، جس نے ملک کی آزادی میں سب سے نمایاں کردار ادا کیا۔ ویر ساورکر، نتھو رام گوڈسے ہندوستان کے ویر سپوت بلکہ سنیاسی منش تھے۔ گاندھی نہرو انگریزوں کے مخبر تھے۔ ملک کو تقسیم کرانے میں ان دونوں کا کردار رہا۔ اس ملک میں مسلمانوں نے کویی قابل ذکر کارنامہ کبھی انجام نہیں دیا۔ مسلمان کبھی حب الوطن نہیں رہے۔ آنے والے وقت میں ہمارے بچے اسی نیی تاریخ کو ہندوستان کی اصل تاریخ سمجھیں گے۔ گوڈسے کے مندر بن چکے.اب گوڈسے اسٹڈی سنٹر بن رہا ہے . کون بنا رہا ہے ؟ غداری کس کو کہتے ہیں ؟ گاندھی کے ملک میں گوڈسے کے پجاریوں کو جہاں جیل کی سلاخوں کے درمیان ہونا چاہیے ، انھیں منصب اور تمغے دیے جا رہے ہیں . کیا کانگریس بے قصور ہے ؟٢٠٠٢ گجرات مسلم کشی کے کچھ برس بعد ہی یو پی اے کی حکومت آ گیی تھی۔ یو پی اے نے دس برس حکومت کی۔ گجرات دنگے کے ثبوت موجود تھے۔ ویڈیو کے علاوہ گجرات دنگوں پر انگریزی اور دیگر زبانوں میں کافی کتابیں شایع ہو چکی تھیں۔ کچھ کتابوں کو پڑھنے کا موقع مجھے بھی ملا۔ دن تاریخ کے ساتھ سیاہ دن کے سیاہ کارناموں کی حقیقت صاف صاف بیان کی گیی تھی۔ کس نے کب جلوس نکالے۔ جلوس کی قیادت کی۔ کب کس نے فرمان جاری کیا کہ مسلمانوں کو کھل کر ہلاک کرو۔ امت شاہ، مودی، مایا کوڈنانی اور بہت سے نام تھے، جن کی پوری فہرست میڈیا والوں کے پاس تھی۔ کیا دس برس فیصلہ سنانے کے لیے کافی نہیں ہوتے ؟ آخر یو پی اے کی حکومت ملزمین کو سزا سنانے کے لیے اتنی مجبور کیوں تھی کہ ثبوت ختم کر دیے گئے ؟ ملزم اور گنہگار پنجرے سے واپس آ گئے .


ہندوستانی مسلمان اس مٹی کا بنا ہے کہ ہر ظلم اور بربریت کی ہر آندھی سے گزرنے کے بعد وہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور صابر ہو جاتا ہے .ہندوستانی مسلمان اب یہ سمجھ چکا ہے کہ ملک کے جمہوری وقار کو قایم رکھنے کی ذمہ داری اب اس کے بھی سر آ گی ہے . وہ یہ بھی جان چکا ہے کہ جمہوریت اور اظہار راہے کی آزادی کے لیے اسے ہندوستان کے بڑے اکثریتی طبقے اور مکمل طور پر کسانوں کی حمایت بھی حاصل ہے .ہندوستانی مسلمان یہ بھی جانتا ہے کہ عام اکثریت آر ایس ایس حکومت کی نا کامیوں کو سمجھ چکی ہے .ہندوستان غلام تھا تو یہ طبقہ انگریزوں کے ساتھ تھا .انگریزوں کے اقتدار کی بنیاد تھی کہ ہندو مسلم کو ایک نہ ہونے دو .اب ملک کے ستر فیصد کسان بھی اس اصلیت کو جان چکے ہیں .
ابھی لوہری جلی ہے . زرعی قانون کا راکشس جلا ہے . اب مزید راکشسوں کے جلنے کی باری ہے اور ملک کا کسان اس کے لئے کمر باندھ چکا ہے

شیئر کریں
نام : مشرف عالم ذوقی پیدائش : 24/ مارچ 1963 وطن : آرہ (بہار) والد کا نام : مشکور عالم بصیری والدہ کا نام : سکینہ خاتون شریکِ حیات : تبسم فاطمہ اولاد : عکاشہ عالم

کمنٹ کریں