نظم : کسان آندولن

ڈاکٹر صالحہ صدیقی

, نظم : کسان آندولن

جن ہاتھوں میں ہل ہوتے تھے
اب دھرنا دینے بیٹھے ہیں
جن کی مشکل کو حل کرنا تھا
وہ لاٹھی ڈنڈا کھاتے ہیں
کانٹے بچھا کر راہوں میں
پانی برسا کر راہوں میں
گولی چلا کر سینے میں
کہتے ہیں چلو ہم بات کریں
تمہارے مسئلے کا کوئی
نیاحل تلاش کریں
جو لب ہمیشہ خا موش رہے
آج بولے تو آتنکی کہلاتے ہیں
یہ کون سا ہندستان ہے
یہ کو ن سی سرکار ہے
جہاں نا بولنے کی آزادی ہے
نہ کوئی مریادا ہے
جہاں گونگے بہرے لوگوں کے
ہاتھوں میں تیر کمان ہے
جہاں ظلم حکومت کرتی ہے
جہاں نا انصافیوں کا بول بالا ہے
جہاں بنا سوچے روز نیا
قانون بنایا جاتا ہے
اعلان جاری کر کے اسے
جبرا َ لادا جاتا ہے
نہ کوئی سننے والا ہے
نہ کوئی سمجھنے والا ہے
نہ کوئی ساتھ دینے والا ہے
اپنے ہی ملک میںآج کسان
لاوارث ماراجاتا ہے


سنویدھان ہمارا لوٹا دو


سالوں کی کڑی محنت سے
ہر دیش کے پھولوں کا رس چرا کر
بھیم نے جسے بنایا سنوارا
وہ سنویدھان ہمارا لوٹا دو………
جہاں نہ کوئی بھید بھاؤ ہے
جہاں ہر کسی کا مقام ہے
جہاں مذہب کی نہ بیڑی ہے
نہ اونچ نیچ کا کھیل ہے
جہاں ہر انسان کو
انسان ہونے کا حق ہے
وہ سنویدھان ہمارا لوٹا دو………
جہاں بھائی چارگی کا پیغام ہے
جہاں ہم سب صرف
بھارت واسی ہے
جہاں انیکتا میں ایکتا کی طاقت ہے
جہاں صرف پیار ہی پیار ہے
وہ سنویدھان ہمارا لوٹا دو………
کیوں آگ لگا رہے ہو ،ہمارے ملک میں ؟
کیوں نفرت پھیلا رہے ہو ہم سب میں ؟
کیوں ہمارے سنویدھان کو چھین رہے ہو ہم سے ؟
کیوں توڑ مروڑ رہے ہو ،ملک کے قانون کو؟
کیوں برباد کر رہے ہو ہمارے گلشن کو؟
ہم خوش ہے اپنے ملک میں !
ہم سب بھائی بھائی ہے
مت بگاڑوں اس چمن کی صورت کو
ہمیں جینے دو
وہ سنویدھان ہمارا لوٹا دو………


نظم : لکیر


تم ٹھہرو ذرا …….
کہ میں تمہاری چھاؤں میں
تھوڑا سا آرام کر لوں
تھکان سے چور میری بوجھل آنکھیں
ایک قدم بھی آگے بڑھنے میں قاصر ہے
تم ٹھہرو ذرا …….
کہ اب پیاس کی شدت سے
میری زبان لپٹی جا رہی ہے
کہ انگلیوں سے زمیں پر لکھ دوں پانی
تم ٹھہرو ذرا …….
کہ اب ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے
اس سے پہلے کہ
یہ جہاں خلأ میں ڈوب جائے
یا میرے وجود کو نست و نابوت کر دے
میں تمہارے سائے کے اوٹ میں چھپ کر
ایک دیوار کھڑی کر دینا چاہتی ہوں
تم ٹھہرو ذرا …….
بس اک بار رک جاؤ
کہ وقت………
اپنی تیز رفتاری سے بھاگا جا رہا ہے
میں وقت اور سانسوں کے درمیاں
ایک لکیر کھینچ دوں …
—–
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
ڈاکٹر صالحہ صدیقی کی پیدائش اعظم گڑھ یو۔پی کی ہے یہ الہٰ آباد میں مقیم ہیں ۔ابتدائی تعلیم مدرستہ البنات،منگراواں،اعظم گڑھ میں حاصل کی انہوں نےپی ۔ایچ۔ڈی کی ڈگری جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی (موضوع : علامہ اقبال کی اردو شاعری میں ڈرامائی عناصر:نگراں وجیہ الدین شہپر رسول )سے حاصل کی ۔ مرتب کئی کتابیں مرتب کی ہیں جن میں اردو ادب میں تانیثیت کی مختلف جہتیں ، ضیائے اردو ’’ضیاء ؔ فتح آبادی ‘‘ ،نیاز نامہ ’’نیاز جیراج پوری :حیات و جہات قابل ذکر ہیں ۔ تصنیفات : علامہ اقبال کی زندگی پر مبنی ڈراما ’’ علامہ ‘‘ تراجم (اردو سے ہندی ) :’’ضیاء فتح آبادی کا افسانوی مجموعہ ‘‘ سورج ڈوب گیاکا (2017)میں ہندی ترجمہ ڈراما ’’علامہ ‘‘ کا ہندی ترجمہ (2017)میں کیا۔ زیر اشاعت : مضامین کا مجموعہ ’’دیداور‘‘مضامین کا مجموعہ ’’نوشتہ‘‘ ، کہانیوں کا مجموعہ ’’حکایات صالحہ ‘‘ بچوں کی کہانیوں کا مجموعہ۔ تحقیقی کام ’’منظوم ڈراما ‘‘، نظموں کا مجموعہ ’’خامہ‘‘ ، خواتین مضامین کا مجموعہ اعزازات و انعامات :اتر پردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ 2015’’ڈراما علامہ پہلے ایڈیشن کے لیے،ریاستی سطحی ’’اردو خدمت گار ایوارڈ 2015‘‘احمد نگر ،ضلع اردو ساہتیہ پریشد وہفت روزہ مخدوم ،سنگم نیر۔ ( اردو ادب میں تانیثیت کی مختلف جہتیں کے لیے )،لپ کیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے ’’جہانگیری اردو لٹریری ایوارڈ ‘‘ 2015(ڈراما علامہ کے لیے )،اتر پردیش اردو اکادمی انعام ’’نیاز نامہ ‘‘ کے لیے،نوجوان قلمکار اقبال ایوارڈانہیں ان کے سوشل ورک کے لیے ہندستان کی کئی این جی اونے انھیں اعزاز ات سے نوازا ہے۔

کمنٹ کریں